یمن اور امریکی سینیٹ کا بل - حبیب الرحمن

''بی بی سی کی تازہ ترین خبر کے مطابق امریکی سینیٹ نے ایک ایسا قانون منظور کر لیا ہے جس میں امریکہ کو یمن کی جنگ میں سعودی عرب کی مدد کو ختم کرنے کا کہا گیا ہے۔ یہ قانون سینیٹ نے 46 کے مقابلے میں 56 ووٹوں سے منظور کر لیا ہے۔ سینیٹ میں اس پر ووٹنگ پارٹی وابستگی سے بالاتر ہو کر گئی ہے۔ جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ اگر ایوان نمائندگان نے بھی اسے پاس کردیا تو وہ اسے ویٹو کر دیں گے۔

پچھلے چند مہینوں میں امریکی سینیٹ نے دوسری مرتبہ یمن کی جنگ میں سعودی عرب کی حمایت ختم کرنے کا قانون منظور کیا ہے۔ سینیٹ نے دسمبر میں بھی ایسی قرارداد منظور کی تھی جسے ایوان نمائندگان نے جہاں اس وقت ریپبلکن پارٹی کو اکثریت حاصل تھی، منظور نہیں کیا تھا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اب جبکہ ایون نمائندگان میں ڈیموکریٹ پارٹی کی اکثریت ہو چکی ہے، اس قانون کو منظور کر لیا جائے گا۔ دو ہزار پندرہ میں شروع ہونے والی جنگ میں اب تک ہزاروں یمنی ہلاک ہو چکے ہیں کئی لاکھ کو قحط جیسی صورتحال کا سامنا ہے۔ اس بات کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے یمن میں غذائی قلت کی وجہ سے 85000 بچے جاں بحق ہو چکے ہیں۔

امریکہ اس جنگ میں سعودی عرب کو اسلحہ کی فراہم کے علاوہ عرب اتحاد کو فضائی حملوں کے لیے انٹیلی جینس فراہم کرتا ہے۔ سینیٹ کی قرارداد میں یمن میں جاری جنگ میں امریکہ کے لیے سعودی عرب کی امداد کو تیس روز کے اندر بند کرنے کا کہا گیا ہے۔ سعودی صحافی جمال خشوگجی کی موت کے بعد کئی امریکی قانون ساز یمن میں ہونے والی اموات پر اعتراض کر رہے ہیں اور سعودی عرب کی سربراہی میں قائم اتحاد کی مدد ختم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ امریکی سینٹ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان پر جمال خشوگجی کے قتل کا الزام عائد کر چکی ہے اور وہ امریکی صدر کے ردعمل سے ناراض ہے۔ سعودی عرب جمال خشوگجی کے قتل کےالزام کی تردید کرتا ہے۔ صدر ٹرمپ سعودی عرب کو اہم اتحادی قرار دیتا ہے اوراس کے خلاف کسی قسم کی تادیبی کارروائی کی مخالفت کرتا ہے"۔

یمن میں ہونے والی جنگ پرانے سلاطین کی طرز کی ایک جنگ ہے جس میں ہوتا یہ تھا کہ کچھ سرداروں یا سلاطین کا ایک دوسرے سے گہرا قلبی یا مفاداتی تعلق ہوا کرتا تھا۔ جب بھی کوئی ابتلا کسی اتحادی پر پڑتی تو وہ اپنے دوسرے اتحادی کو مدد کیلئے پکارتا اور پھر گھمسان کا رن پڑجاتا۔ جنگ آخری فیصلے تک جاری رہتی یہاں تک کہ جس کی مدد کی جارہی ہو اس کاتخت و تاج یا تو تاراج ہوجاتا تھا یا پھر اسے واپس مل جاتا تھا۔ کچھ اسی قسم کے حالات یمن کی اس بے مقصد لڑائی کے پسِ پشت ہیں۔ نہ تو یہاں مذہب بنیاد ہے اور نہ ہی کسی کافر ملک سے ایک ملک کو تحفظ دینا مقصود ہے بلکہ ایک ایسی حکومت جو سعودیہ کو بہت پسند تھی اس کے خلاف اندرونی مداخلت کو کچلنے کیلئے ایک بہت بڑا اسلامی ملک دنیا کی سب سے بڑی طاقت کا سہارا لیکر ان باغیوں کا قلع قمع کرنے کیلئے میدان جنگ میں آدھمکا ہے جو پہلی (پسندیدہ) حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ جب کوئی کسی کے عام خاندانی معاملات میں بھی داخل ہونے کی کوشش کرتا ہے تو گویا وہ اس بات کی دعوت دے رہا ہوتا ہے دیگر اڑوس پڑوس کے لوگ بھی اپنے اپنے تعلق اور مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے معاملات کو اپنے اپنے انداز سے دیکھیں اور خاندان کے اس جھگڑے سے اپنے اپنے حصے کا مفاد حاصل کریں، اس نقطہ نظر کو سامنے رکھا جائے تو یہ بات سمجھنے میں کوئی دقت نہیں ہوگی کہ یمن کی جنگ میں صرف ایک سعودی حکومت ہی شریک نظر نہیں آئے گی بلکہ جس جس کے مفادات بھی اس جنگ کے جاری رہنے یا ختم ہوجانے میں وابستہ ہوں گے، وہ تمام اسلامی و غیر اسلامی ممالک اس میں کھل کر یا پسِ پردہ شریک نظر آئیں گے۔ اگر سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لیا جائے تو جو جو ممالک اس میں شریک ہیں ان کا اس شرکت سے صرف اور صرف نفع ہی نفع ہے لیکن اگر نقصانِ عظیم کسی کے حصے میں آرہا ہے تو وہ صرف اور صرف یمن کا اور یمن میں بسنے والے عوام کا ہے جو مر بھی رہے ہیں، بھوک اور افلاس کا شکاربھی ہو رہے ہیں، ان کے شہر بھی تباہ ہو رہے ہیں اور ان کیلئے عرصہ حیات بھی تنگ سے تنگ ہوتا جارہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   حجاز ریلوے سے حرمین ریلوے تک‬ - عدیل سلیم جملانہ

جنگیں ہوں اور ان کا کوئی واضح مقصد بھی نگاہوں کے سامنے نہیں ہو تو بات عقل و سمجھ سے آگے کی ہو جاتی ہے۔ ایک ایسی حکومت کو تحفظ دینے کیلئے جس کو خود اندرونی بغاوتوں کا سامنا ہو، ایک ناقابل فہم بات ہے۔ کسی بھی ملک کے حالات اگر ایسی صورت حال اختیار کرلین کہ تخت و تاج خطرے میں پڑ جائے تو یہ امر کسی بھی حکومت کی کوتاہی کی جانب اشارہ کرتا نظر آتا ہے۔ یہاں یہ بات سمجھنا بہت ضروری ہے کہ کسی بھی ملک کی حکومت کو باہر کے سہارے پر کبھی تا دیر نہیں چلایا جاسکتا۔ افغانستان اس کا سب سے بڑا ثبوت ہے جس کو پہلے روس کی مدد سے چلانے کی کوشش کی۔ سخت ناکامی کے بعد امریکہ نے کوشش کی کہ وہ اپنے مرضی کی حکومت کو آکسیجن دے لیکن اب خود کا یہ عالم ہے کہ اسی کو مصنوئی عمل تنفس کی ضرورت محسوس ہونے لگی ہے۔ کسی بھی جسم کو اس کا اندرونی مضبوط دفاعی نظام ہی زندہ رکھ سکتا ہے اگر وہ توانا نہیں ہوگا تو بیرونی ساری امدادیں بے معنیٰ ہی ہو کر رہ جایا کرتی ہیں۔ ایسے ہی مریض کو ایڈز کا مریض کہا جاتا ہے کیونکہ اس کا اندرونی دفاعی نظام تباہ ہو چکا ہوتا ہے اور وہ کسی بھی بیماری کے بیرونی حملے سے بچاؤ کے قابل نہیں رہتا۔ اس بات کو سامنے رکھا جائے سعودی حکومت کا موجودہ اقدام نہ صرف بے حقیقت اور کھوکھلا ہے بلکہ ظالمانہ بھی ہے۔ جس جنگ کے نتیجے میں اب تک 85000 بچے محض غذائی قلت کا شکار ہوکر مر چکے ہوں تو دیگر نقصانات کا کوئی بھی اندازہ لگالیا جائے وہ اس نقصان کے آگے ہیچ ہے۔

یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ سعودی عرب جس ملک (امریکہ) کی مدد حاصل کر رہا ہے وہ ہتھیاروں کی فراہمی کے علاوہ اور کیا ہے؟۔ یہ ہتھیار نہ تو وہ مفت دے رہا ہے اور نہ ہی ان ہتھیاروں کو چلانے والے۔ طلب اور رسد کے قانون کے مطابق وہ ان ہتھیاروں کی قیمت لگاربھی رہا ہے اور ہاتھ کے ہاتھ وصول بھی کر رہا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ طلب میں اضافہ ہی ہوتا جائے گا اور رسد میں ہاتھ کھینچ کر رکھنے پر قیمت منھ مانگی ہوتی جائے گی۔ پھر امریکہ اس بات کا پابند تو نہیں کہ وہ ہتھیاروں کی رسد میں طلب کا پابند ہی ہو، وہ جب چاہے گا رسد ہی نہیں بلکہ فراہم کئے گئے ہتھیاروں کو اپنے ہی ملک میں بیٹھے بیٹھے ناقابل استعمال بنانے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ نیز یہ کہ تاجر کبھی گاہک کا نہیں دولت کا دوست ہوتا ہے اس لئے جہاں سے بھی اس کو زیادہ پیشکش ہو وہ تھالی کے بیگن کی طرح اسی جانب اپنا رخ موڑ لیتا ہے۔ وہ اپنا رخ کب موڑے گا اس کیلئے کوئی بات بھی بہانہ بن سکتی ہے۔ صحافی " جمال خشوگجی " کا قتل اس کی ایک بڑی مثال ہے۔ محض اس واقعے کو بہانہ بنا کر صدر ٹرمپ کی آنکھیں بدلی بدلی سی نظر آنے لگی ہیں۔ ان کو یمن میں غذائی قلت کی وجہ سے ہلاک ہونے والے ہزاروں بچوں کی ہلاکت کا ذرا بھی غم نہیں لیکن ایک " جمال خشوگجی " لاکھوں ہلاکتوں پر بھاری ہیں۔ مقصد یہی ہے کہ یہ ساری جنگیں مفادات کی جنگیں ہوتی ہیں جن کو چھیڑنے کیلئے کوئی بھی بہانہ بنایا جاسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   بالاکوٹ حملے کے بعد چند سنگین سوالات - الطاف حسن قریشی

یمن کی جنگ آنے والے دنوں میں کیا رخ اختیار کرتی ہے یہ تو وقت ہی بتائے گا لیکن لگتا یہی ہے کہ مسلم دنیا نے اپنی تباہی کے اسباب مکمل کر لئے ہیں۔ ایک طویل عرصے سے جو بات سامنے آرہی ہے وہ یہی ہے کہ سارا عالم کفر نہایت آرام و سکون سے ہے اور ایک دوسرے سے تمام تر مختلف ہونے کے باوجود یک دگر ہے لیکن وہ ملت جس کا دعویٰ امن کا ہے، سلامتی کا ہے اور آشتی کا ہے وہ پوری عالم میں ایک دوسرے سے دست و گریبان ہے۔ جن کا خدا ایک، رسول ایک اور قرآن بھی ایک وہ کہیں سے کہیں بھی ایک نظر نہیں آتے۔ مسلم دنیا کے سارے ممالک اپنی اپنی دھن میں مست اور ایک دوسرے سے بر سر پیکار دکھائی دیتے ہیں اور اس پر قیامت یہ کہ ہر مشکل میں (خدا نخواستہ) مشکل کشا عالم کفر کو ہی خیال کرکے مدد کیلئے پکارتے ہیں اور پھر فرعون وقت ان کو جیسا مشورہ دیتا ہے اس پر ایمان لے آتے ہیں۔

مسلمان ممالک کی مشترکہ فوج بنانا، ان کیلئے دنیا کا جدید سے جدید اسلحہ فراہم کرنا اور ان کے بنائے ہر منصوبے پر آنکھیں بند کرکے عمل کرنا اس کی سب سی بڑی مثال ہے۔ یہ ایک ایسی غلامانہ ذہنیت ہے جو پورے عالم اسلام کو تباہی و بربادی کی جانب دھکیل رہی ہے لیکن اپنے انجام سے بالکل بے پرواہ ہر مسلمان ملک اُس کی پیروی کئے جا رہا ہے۔ جب تک مسلم امہ وطنیت کی محدود سوچوں سے باہر نہیں آئے گی ہم مسلمان زمینی سرحدوں کے اسیر ہوکرایمان اور اسلام کو پس پشت ڈالتے رہیں گے اور اسلام کی بجائے زمینی سرحدوں پر اپنا اپنا لہو بہا کر یہ سمجھتے رہیں گے کہ اپنے اللہ کو راضی کر رہے ہیں۔ علامہ اقبال ٹھیک فرماتے ہیں کہ
ان تازہ خداؤں سے بڑا سب سے وطن ہے
جو پیرہن اس کا ہے وہ ملت کا کفن ہے

وطن سے محبت ایک فطری عمل ہے لیکن اس محبت کو ایمان سے افضل نہیں ہونا چاہیے اس لئے جہاں بھی اس کے نتیجے میں کسی مسلمان ملک کے مسلمان بھائی کے خون کے بہنے کا اندیشہ ہو وہاں بہت سوچ سمجھ کر دفاع کے حق کو استعمال کرنے کی ضرورت ہے اس لئے کہ مسلمان کے ہاتھ سے صرف مسلمان کا خون ہی محفوظ نہیں ہونا چاہیے بلکہ کسی ایک انسان کا خون بھی ناحق نہیں بہنا چاہیے یہی منشائے خداوندی ہے اوریہی اولین شرط اسلام ہے۔