دینی تعلیم و تعلم اور موجودہ معاشرہ - مولانا عبدالمتین

معاشرے میں عام طور پر دینی ماحول اور دین کے حوالے سے تعلیم و تعلم کا نقشہ بہت محدود ہے، جس کی صورت یہ ہے کہ دینی تعلیم کو صرف ناظرہ کی حد تک ضروری سمجھا جاتا ہے۔ دینی تعلیم کے حوالے سے والدین کی فکر مندی نہ ہونے کے برابر ہے اور جن کی ہے بھی تو محدود فکر کی حد تک، جس میں زیادہ سے زیادہ بچے کا ناظرہ اور نماز کلمے کا شعور آجانا کافی سمجھا جاتا ہے۔ دینی تعلیم کا مقصد صرف درس نظامی ،حفظ قرآن یا ایم اے اسلامیات کو سمجھا جاتا ہے۔

اگرچہ فی زمانہ بعض عصری اداروں میں اس کمی کو پورا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن اس میں بھی بہت سی انتظامی کوتاہیوں کے باعث خاطر خواہ نتائج بالکل بھی دیکھنے کو نہیں مل رہے، مثلا اسکولز میں ناظرہ کا اہتمام شروع کیا گیا لیکن ناظرہ پڑھانے والوں کا درست انتظام نہیں کیا جاتا، اسکولز میں دینیات کا اہتمام ہے لیکن اس کو سمجھنے کا رجحان نہ ہونے کے برابر جس میں اکثر طلبہ رٹ رٹانے کو ہی مقصود سمجھتے رہتے ہیں جس کا ایک بڑا سبب استاذ کی عدم توجہ و ناقص کار کردگی ہے۔

اسی طرح اسکولز میں جوامع الکلم احادیث، ادعیہ مسنونہ،نماز اور چھ کلمے وغیرہ پڑھائے جاتے ہیں لیکن اکثر طلبہ عبارات تک غلط پڑھ رہے ہوتے ہیں یا بہت جلد بھول جاتے ہیں باقی سمجھنا سمجھانا تو دور کی بات اور اپنی اسکول لائف سے باہر ان امور کو تھامے رہنے کا تصور تک بھی ان کے ذہن میں نہیں آتا اور نہ ہی ان کے حلیے یا سوچ فکر سے ان امور کی اہمیت کا رنگ دیکھنے کونصیب ہوتا ہے۔ ان تمام معاملات کی ایک اہم وجہ اسکول انتظامیہ ہے جو طلبہ کی تربیت، اساتذہ کی ناقص تقرری، طلبہ کے بھرمار اور اپنے عصری نصاب کو بے جا اہمیت دینے کے باوجود بھی اس سے مفید نتائج اخذ نہیں کر پارہی۔ اس کے علاوہ دینی تعلیم کے حوالے سے ایک بہت بڑا مغالطہ یہ ہے کہ اسے اپنی روز مرہ زندگی کی ضرورت سمجھا ہی نہیں جاتا یہی وجہ ہے کہ پاکی ناپاکی،حلال حرام،جائز ناجائز کی فکر اپنی عام زندگی میں بالکل بھی دیکھنے کو نہیں ملتی ہاں اگر ملتی ہے بھی تو فقط عبادات و رسمیات کی حد تک، باقی معاشرت، اخلاقیات، معاملات، تعلیمات، تجارت کے حوالے سے حد درجہ غفلت کا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   کالج یونیورسٹی طالبات کو بھٹکنے سے کیسے بچائیں - عاصمہ شفیع

اپنی روز مرہ زندگی میں دین کا عمومی رنگ و چال وچلن دیکھنے کو نہیں ملتا نہ ہی ایسا کچھ ضروری سمجھا جاتا ہے اور خاص کر معاشرت کے حوالے سے جس قدر مغربی تہذیب ہم میں رائج و پیوست ہوچکی ہے اس سے یہ اندازہ کرنا بھی مشکل معلوم ہوجاتا ہے کہ ہم کسی اسلامی معاشرے کا حصہ ہیں بھی یا نہیں تا آنکہ کوئی نکاح یا جنازے کا ماحول دیکھنے کو ملے۔

جہالت کی انتہاء اس حد پار کرچکی ہے کہ طلاق جیسے حساس مسئلے کو بھی اب تک سمجھا نہیں جاسکا لہذا لگاتار طلاق پہ طلاقیں دی جارہی ہیں بغیر کچھ سوچے سمجھے اور طلاق کا صحیح طریقہ تک معلوم کرنے کی نوبت نہیں آتی۔ بازاروں میں اپنی وضع قطع سے مکمل دین دار دکھلائے دینے والے بہت سے ساتھی بھی دین کی ان بنیادی جزئیات تک سے واقف نہیں جو سودے کو حلال حرام کر سکتی ہے اور نہ ہی کسی بے کس اور بے روزگار کو یہ پوچھنے کی نوبت آتی ہے کہ میں بینک سے سودی لین دین یا وہاں نوکری کرسکتا ہوں۔

رسول اللہ ﷺ کی سرت طیبہ کے ہم نام لیوا تو ہیں لیکن اس مدنی ریاست کی معاشرت کا نقشہ سمجھنا ہمارے لیے ضروری نہیں رہا کیونکہ ہم آنکھ بند کر کے مغربی تہذیب کی پیروکاری میں لگے ہوئے ہیں ، اگر یہی سلسلہ چلتا ریا تو وہ دن دور نہیں کہ اس لکیر کی فقیری ہمیں گھاٹے کے سودے سے دوچار کردے۔

اس بات کو بہت آسانی سے سمجھا جاسکتا ہے کہ اقامت دین کی عمارت جب تک ان جزئیات کے پایوں پر قابو نہیں کرپاتی تب تک اس کا قیام ایک خام خیالی سے زیادہ کچھ نہیں لہذا ضرورت ہے کہ اپنے ارد گرد کے معاشرے کو ایسی دینی تعلیم و تربیت دی جائے جس سے ان کی زندگی کا ڈھانچہ بدل سکے اور وہ فقط ایک جماعتی کارکن یا تحریکی فردکی حد تک نہ ہو بلکہ اس کا جذبہ اپنی عام زندگی بدلنے کا ہو۔

یہ بھی پڑھیں:   موسم گرما کی تعطیلات اور والدین - محمد سلیم جباری

لہذا ضرورت ہے کہ تعلیم و تعلم کے مستقل ایسے حلقے قائم کیے جائیں جو براہ راست لوگوں کو دین کی بنیادی اور اہم تعلیمات دینے میں اہم کردار ادا کرسکیں اور اس خدمت کے لیے ائمہ مساجد اور وہ تمام نوجوان فضلاء ہمت کرسکتے ہیں جو اپنی ذمہ داری کا بھرپور احساس رکھتے ہیں اور اس کے پورا کرنے کے لیے غور و فکر میں لگے رہتے ہیں۔ یقینا اس تعلیم و تعلم اور تربیت کے عمل میں شریک ہونے والوں میں کوئی مزدور ہوگا،کوئی عصری اداروں کا طالب علم،کوئی تاجر کوئی بے روزگار کوئی شادی شدہ کوئی وکیل کوئی حافظ کوئی کسی خاندان کا سربراہ کوئی کسی سیاسی پارٹی کا رکن وغیرہ وغیرہ ۔اگر بغور دیکھا جائے جب ان سب کے سامنے ہم دین کا واضح آسان اور ممکن العمل ڈھانچہ عقیدہ،قرآن و حدیث،سیرت ،بنیادی فقہ اور تاریخ اسلام کی صورت میں رکھیں گے تو ان مختلف الحال افراد کے ذریعے کتنے گھرانوں،کتنے ادروں،کتنی دکانوں میں تبدیلی کے آثار پیدا ہوں گے ان شاء اللہ۔

اگر اسی نہج پر اس تعلیم و تعلم اور تربیت کے خلا کو پر کیا جائے جس کا فی الحال کسی ادارے سے پر ہوجانا ممکن نظر نہیں آرہا کیونکہ مدارس، اسکول اور اعلی عصری ادارے جن اوقات کا مطالبہ کرتے ہیں وہ یقینا ان مصروف حضرات کے لیےممکن نہیں اور نہ ہی کوئی تحریک اتنی آسانی سے ان امور پر توجہ دلاسکتی ہے اور نہ ہی یہ ممکن ہے کہ ہر کوئی کسی نہ کسی جماعت کا حصہ بنے ،سو اس کے ازالے کی یہی صورت معقول معلوم ہوتی ہے کہ ہر مصروف شخص اپنے رات کے اوقات میں سے کچھ وقت نکال کر مستقل بنیاد پر اس کے لیے تیاری کرے اور اپنے اوقات کو آگے پیچھے کر کے چھوٹی موٹی قربانی دے کر اس کے لیے کم از کم دو سال کا عرصہ نکال لے۔

پھر وقت آئے کہ دس بیس سال بعد کسی علاقے کے اگر 50 افراد بھی اس پراسیس سے گزر جائیں تو موجودہ جہالت کے نقشے میں بڑی حد تبدیلی آجائے گی اور اقامت دین کا تصور اور اس کی محنت کا ایک بہت بڑا میدان ہموار ہوسکے گا ان شاء اللہ ۔