جماعت اسلامی کشمیر پر پابندی کیوں لگائی گئی؟ غازی سہیل خان

گزشتہ ماہ کی ۲۲؍ اور ۲۳؍فروری کی درمیانی رات، جب ساری دنیا محو خواب تھی، اسی دوران ریاست جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی جانب سے شبینہ کریک ڈائون کے دوران جماعت اسلامی جموں و کشمیر اور دیگر دینی تنظیموں کے قائدین کی بڑے پیمانے پر گرفتاری عمل میں لائی گئی۔ سنیچر کی صبح واضح طور پر وادی میں سرسیمگی پھیلی ہوئی دیکھی جا رہی تھی، جبکہ سوشل میڈیا پر یہ خبریں گشت کر رہی تھیں کہ فلاں جگہ فلاں کو رات کی تاریکی میں گرفتار کیا گیا۔ وادیٔ کشمیر میں رات کے دوران گرفتاریاں، پکڑ دھکڑ وغیرہ کوئی نئی بات نہیں، تاہم اس تازہ کارروائی کے حوالے سے کشمیری عوام اس لیے حیرت زدہ ہوئی، کیونکہ جماعت اسلامی جموں و کشمیر سے وابستہ کئی کارکنان اور ضلعی و تحصیلی نظم کے ساتھ ساتھ امیر جماعت ڈاکٹر عبدالحمید فیاض کی گرفتاری عمل میں لائی گئی تھی۔ اس گرفتاری کو طول دیتے ہوئے انتظامیہ نے جماعت سے وابستہ کارکنان کے ساتھ علیل زعمائے جماعت کو بھی گرفتار کرنے کا سلسلہ تیز کر دیا۔ اس کے ٹھیک ایک ہفتے کے بعد یعنی 28 فروری کی شام حکومت ہند کی اندرونی معاملات کی وزارت کی طرف سے غیر متوقع حکمنامہ آیا کہ ’’جماعت اسلامی جموں و کشمیر بھارت کی سالمیت اور عوامی امن کے لیے خطرہ ہے، تنظیم کا عسکری جماعتوں کے ساتھ قریب کا تعلق ہے اور یہ ملک میں تخریبی کارروائیاں بھی انجام دیتی ہے، اس لیے اس تنظیم کو بھارتی قانون (unlawful activities act 1967) کے تحت غیر قانونی سرگرمیوں کے تحت پانچ سال تک کی پابندی عائد کی جاتی ہے۔‘‘ اس غیر جمہوری اور غیر اخلاقی حکم نامے پر جہاں مزاحمتی لیڈران نے برہمی کا اظہار کیا، وہیں ریاست جموں کشمیر کی کئی ہند نواز سیاسی جماعتوں نے بھی اسے غیرآئینی اور غیر جمہوری قرار دیا۔

جماعت اسلامی پر پابندی کے فیصلے کے حوالے سے جہاں جموں کشمیر کے عوام میں شدید قسم کا غم و غصہ پایا جا رہا ہے، وہیں تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بی جے پی کا جماعت پر پابندی کا یہ حکم نامہ پنج سالہ ناکامیوں کو چھپانے کے لیے ایک الیکشن اسٹنٹ (Election Stunt)ہے، اوریہ پارٹی دیش بھکتی کے نام پر، عوام کے جذبات سے کھیل کر انتخابات میں کامیابی حاصل کرنا چاہتی ہے۔ چونکہ بی جے پی نے 2014ء میں بھارتی عوام سے بہت سارے دعوے اور وعدے کیے، جن میں بھک مری، بےروزگار ی کے خاتمے کے ساتھ رام مندر کے نرمان(تعمیر)، جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت یعنی دفعہ 370 اور دفعہ 35A کی تنسیخ، کشمیر سے مزاحمت پسند قائدین کو جیلوں میں بند اور پاکستان کو باقی دنیا سے الگ تھلگ کرنے کے نام پر ووٹ حاصل کیے تھے، لیکن ساری دنیا نے یہ دیکھ لیا کہ بی جے پی ان سارے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام ہو گئی۔ امن وامان قائم ہونے کے بجائے بھارت کی اقلیتوں کا جینا دو بھر کر دیا گیا، دلت طبقے اور مسلمانوں کو شدید مشکلات میں پھنسا دیا گیا۔ گائے کے نام پر مسلمانوں کو نہ صرف خوفزدہ کیا گیا بلکہ محض گائے کا گوشت رکھنے کے شک میں یوپی کے اخلاق احمد جیسے درجنوں معصوم لوگوں کو جنونیوں کے ذریعے بڑی ہی بےدردی کے ساتھ موت کے گھاٹ اُتار دیا۔ نوٹ بندی کر کے ایک ایک دانے کے لیے غریب عوام کو ترسایا گیا، جس میں دو سوسے زائد لوگ اپنی جان گنوا بیٹھے۔ GST کا اطلاق کر کے بھارت کے چھوٹے کاروباری طبقے کو مزید ترقی و روزگار سے ہی محروم کر دیا۔ جبکہ کشمیر کے مسئلہ کے پائیدار حل کے لیے بی جے پی پوری طرح سے ناکام ہو گئی۔

کشمیریوں پر بےانتہا مظالم ڈھائے جا رہے ہیں، پکڑ دھکڑ کا سلسلہ دراز سے دراز تر ہو تا جا رہا ہے، PSA اور AFSAPA جیسے کالے قوانین کی آڑ میں کشمیریوں کو انتقام گیری کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ کشمیر میں بھارتی مظالم کا سنجیدہ نوٹس لیتے ہوئے اقوام متحدہ نے بھارت اور پاکستان پر دباؤ بڑھایا ہے کہ کشمیر تنازعہ حل کیا جائے، اسی طرح امریکہ بھی اس مسئلہ کے حوالے سے بار بار اپنی تشویش کا اظہار کر چکا ہے۔ حال ہی میں سشما سورا ج کے او آئی سی اجلاس میں شرکت کے باوجود ایک قرارداد کے ذریعے بھارت سے کشمیر میں مظالم بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ اسی دوران یورپی پارلیمنٹ نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ کشمیر میں مظالم بند کردے۔ یہ 2007ء کے بعد پہلا موقع ہے جب پورپی پارلیمنٹ میں مسئلہ کشمیرپر بات کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں:   رک جائیے، پلیز رک جائیے - عامر ہزاروی

14فروری کو پلوامہ میں ایک مشتبہ فدائین حملے میں چالیس سے زیادہ فورسز اہلکار مارے گئے جس کے نتیجے میں کشمیریوں اور پاکستان کو سبق سکھانے کی خاطر حُب الوطنی کے نام پر بھارت کی جنتا کے جذبات کا خوب استعمال کر کے اپنے زرخرید میڈیا کے ذریعہ سے خوب منفی پروپیگنڈہ کیا گیا۔ بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے بھی میڈیا کے جنگی جنون کو آنے والے الیکشن کے لیے استعمال کرنے کا اچھا موقع پاتے ہی رات کی تاریکی میں پاکستان کے خیبر پختونخواہ کے بالاکوٹ علاقے میں ایک ہزار کلو وزنی بارود گرا کر بھارت کی عوام کو حسب معمول بیوقوف بنا کر جشن منانے کا موقع فراہم کرنا چاہا مگر پاکستان کی بروقت جوابی کارروائی نے اس پر پانی پھیر دیا۔

میڈیا رپورٹوں کے مطابق اس ساری ناکامی کو چھپانے کی خاطر نریندرمودی نے جماعت اسلامی جموں و کشمیر کو اپنے سیاسی مفادات کی بھینٹ چڑھا کر بھارتی جمہورت کو ایک اور بار پھر داغدارکر ڈالا۔ جماعت اسلامی پر پابندی کوئی نئی بات نہیں، اس سے پہلے بھی دو بار جماعت پر پابندی لگائی جا چکی ہے۔ 1975ء میں ایمرجنسی کے دوران شیخ محمد عبداللہ نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا کہ جماعت کو صفحہ ہستی سے مٹایا جائے، لیکن تاریخ رقم طراز ہے کہ جماعت اپنی پوری قوت کے ساتھ میدان عمل میں آکر پھر سرگرم ہو گئی۔ اس کے بعد 1979ء میں ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کی سزا بھی جماعت اسلامی جموں و کشمیر کو بھگتنا پڑی جس دوران جماعت سے وابستہ کارکنان کو چُن چُن کر مارا گیا۔ اس سے وابستہ افراد کی جائیدادکو تباہ کیا گیا، گھر جلائے گئے، باغات کاٹے گئے، اتنا ہی نہیں بلکہ جماعت کے بانی مولانا مودودی ؒکی تفسیر تفہیم القرآن کو یہ کہہ کر جلایا گیا کہ یہ ’’مودودی قرآن‘‘ ہے۔ ریاست میں عسکری دور کی شروعات کے ساتھ ہی جماعت اسلامی ایک بار پھر آزمائش سے دوچار کر دی گئی۔ اس دور کی حکومتوں نے اپنے کارندوں کی مدد سے جماعت سے وابستہ کارکنان کو بڑی ہی بے دردی کے ساتھ قتل کیا، تاہم ان حالات میں بھی جماعت نے صبر و ثبات کا مظاہرہ کیا۔ اسی طرح 1990ء میں جماعت پر عسکریت کا لیبل لگا کر پابندی لگا دی گئی۔

تاہم جماعت نے روز اول سے ہی بغیر کسی رنگ و نسل ذات پات کے انسانیت کی خدمت کی ہے۔ جماعت کے ہر حلقہ میں بیت المال کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جہاں بیواؤں، یتیموں، محتاجوں اور مساکین کی مدد کی جاتی ہے۔ جماعت سے وابستہ کارکنان نے ہزاروں پوائنٹ خون جموں و کشمیر کے ضرورت مندوں کو عطیہ کیا۔ گزشتہ سال صورہ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ میں مفت ایمبولنس کی سہولیات کا غریب و مجبور عوام کے لیے وقف کرنا ہو یا مفلوک مریضوں کی دوائیاں اور دیگر علاج کے لیے پیسہ صرف کرنا، جماعت نے خدمت خلق میں ناقابل یقین کارنامے انجام دیے ہیں۔ جن میں ستر کی دہائی میں زلزلوں سے متاثرہ علاقہ بڈگام کے عوام کی آبادکاری ہو یا یاری پورہ میں آتشردگی سے متاثرہ پنڈت برادری کے لیے امدادی سامان کے ذریعے ان کو راحت پہنچانا، سرینگر ہو یا جموں، کپواڑہ ہو یا کشتواڑ، غرض جموں و کشمیر کی مفلوک الحال انسانیت پر لگے زخموں پر مرہم کا کام کر کے خدمت خلق کے شعبہ میں سبقت حاصل کی ہے۔ 2014ء میں کشمیر میں قیامت خیز سیلاب میں جہاں جماعت کے ایک عام کارکن نے جانفشانی سے کام کیا وہیں جماعت کے زعماء، اعلی مناصب پر فائز ارکان، ڈاکٹرز اور انجینئرز نے سیلاب زدگان کی راحت رسانی اور سرینگر شہر میں گلی گلی جا کر صفائی مہم میں حصہ لے کر خدمت خلق کی تاریخ میں ایک روشن باب رقم کیا۔ اسی طرح تعلیم کے میدان میں جماعت نے قابل رشک کام انجام دیا ہے۔ تین سو سے زائد اسکولوں میں جماعت کے کارکنان اور رفقاء نہایت کم معاوضہ لے کر جموں و کشمیر میں ناخواندگی کے خلاف فیصلہ کن جنگ لڑ رہے ہیں۔ جماعت کے اسکولوں میں ہزاروں یتیم بچوں کو مفت تعلیم کے ساتھ وردی اور کتابیں تک فراہم کی جاتی ہیں، ان تعلیمی اداروں نے سماج کو ہزاروں کی تعداد میں ڈاکٹرز، انجینئرز، وکیل، سیاست دان عطا کیے ہیں جو آج انسانیت کی خدمت میں پیش پیش ہیں۔ بھلا ایسی دینی، سیاسی اور سماجی تنظیم کا دہشت گردی کے ساتھ کیا واسطہ؟ جو جماعت امن کی داعی ہو، دنیا کے مظلوم انسانوں کے درد و غم میں شریک ہو، وہ انسانیت کے لیے خطرہ کیسے بن سکتی ہے؟

یہ بھی پڑھیں:   عمران خان کے دورہ امریکہ کا مثبت پہلو - حبیب الرحمن

جماعت پر پابندی کے بعد آئے روز مختلف الخیال لوگوں کے مذمتی بیانات آرہے ہیں اور سماج کے ایک حساس طبقے کا یہ بھی کہنا ہے کہ کسی نظم کو تو قید کیا جا سکتا ہے، لیکن کسی نظریے کو قید کرنا ابھی تک کوئی نہیں کر سکا اور نہ ہی مستقبل میں کر سکے گا۔ جماعت ایک نظریاتی تحریک اور فکر ہے، ایک سوچ ہے جس کو قید کرنا ناممکنات میں سے ہے۔ نظریہ کبھی مرتا نہیں۔ اس طرح کے غیر جمہوری اور غیر اخلاقی اقدامات کی وجہ سے یہ نظریہ اور پھیلے گا، اس کے ساتھ اور لوگوں کی ہمدردیاں وابستہ ہوں گی۔

جماعت اسلامی کوکشمیر میں ہی نہیں بلکہ ساری دنیا میں انسانی جذبات کی امین اور مظلوموں کی آواز مانا جا تا ہے، وہ چاہے مسلم ہو یا غیرمسلم، جماعت نے ہر ایک کو انسانیت کی نظر سے دیکھ کر مدد کی ہے۔ کشمیر کے حساس طبقے کا یہ بھی کہنا ہے کہ جماعت انسانیت دوست نظریہ رکھتی ہے، اور اس پر پابندی کے سنگین نتائج نکل سکتے ہیں جیسا کہ ماضی میں ہوا ہے کہ کس طرح سے انتخابات میں دھاندلی اور جماعت پر مظالم کی وجہ سے محمد یوسف شاہ کو سید صلاح الدین بننا پڑا۔ جمہوری نظام میں کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ کسی جمہوری جماعت کی political space کو ختم کر کے اپنے نظریے کو پھلانے کی کوشش کرے۔ پابندی تو ان تنظیموں پر لگنی چاہے جو نیشنلزم اور دیش بھکتی کے نام پر انسانیت کو مار کاٹ رہے ہیں، جو ہاتھوں میں ننگی تلواریں لے کر سر عام گھوم پھر رہے ہیں۔ اسلسلے میں دلی سرکار کو چاہیے کہ اگر وہ کشمیر میں سماجی اور سیاسی میدان میں امن دیکھنا چاہتی ہے تو اسے بغیر کسی شرط کے جماعت سے پابندی ہٹا کر سارے قائدین اور کارکنان کو رہا کر دینا چاہے۔ طاقت کے بل بوتے پہ کسی نظریہ کو دبانا یا کسی نظم کو در زنداں کرنا کوئی عقل مندی نہیں، اور نہ ہی اس طرح کی لاحاصل مشق سے جمہوریت اور انسانیت کی پاسداری کا دم بھرنے والوں کو کچھ حاصل ہونے والا ہے۔