تنقید کی ادب میں اہمیت کیا ہے؟ سید شاہ زمان شمسی

تنقید عربی کا لفظ ہے جو نقد سے ماخوذ ہے جس کے لغوی معنی " کھرے اور کھوٹے کو پرکھنا" ہے۔ اصطلاح میں اس کا مطلب کسی ادیب یا شاعر کے فن پارے کے حسن و قبح (خوبیوں اور خامیوں) کا احاطہ کرتے ہوئے اس کا مقام و مرتبہ متعین کرنا ہے۔ خوبیوں اور خامیوں کی نشان دہی کر کے یہ ثابت کرنا مقصود ہوتا ہے کہ شاعر یا ادیب نے موضوع کے لحاظ سے اپنی تخلیقی کاوش کے ساتھ کس حد تک انصاف کیا۔ مختصر یہ کہ فن تنقید وہ فن ہے جس میں کسی فنکار کے تخلیق کردہ ادب پارے پر اصول و قواعد اور حق و انصاف کی روشنی سے بغیر کسی رعایت اور طرف داری کے آزادانہ فیصلہ صادر کیا جائے تاکہ تخلیق کار کے ادب پارے کی پرکھ تول کر کے اچھائی اور برائی کی نشان دہی کی جا سکے۔ نقص بیان کرنے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ ادیب یا شاعر کانٹ چھانٹ کر کے مناسب لفظوں کا انتخاب کرے تاکہ تحریر میں مزید حسن پیدا ہو۔ اس پرکھ تول کی بدولت قارئین میں ذوق سلیم پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

"ٹی ایس ایلیٹ" لکھتا ہے کہ تنقید فکر کا وہ شعبہ ہے جو یا تو یہ دریافت کرتا ہے کہ شاعری کیا ہے؟ اس کے وظائف و فوائد محسوسات اور کیفیت سے کیسے لطف لیا جا سکتا ہے؟ یہ کن خواہشات کو تسکین پہنچاتی ہے؟ شاعر شاعری کیوں کرتا ہے؟ اور لوگ اسے کیوں پڑھتے ہیں۔

یہ ایک خالص علمی موضوع سہی مگر اس سے دست و گریباں ہونے کے لیے ادبی سوجھ بوجھ بہت ضروری ہے۔ فن کا ہر نقاد نابغہ یعنی کہ بے حد ذہین نہیں ہوتا بلکہ فن کار خود فن کا فطری نقاد ثابت ہوتا ہے۔ اس ضمن میں ارسطو نے یونانی ڈراموں کے مطالعہ پر آرٹ کے بنیادی اصول وضع کیے جو آج تک مسلم ہیں۔ یہ درست ہے کہ ان کی تعبیریں ہوئیں انہیں گھٹایا بڑھایا گیا مگر خود ان کو جھٹلایا نہیں جا سکا۔

یہ بھی پڑھیں:   ترکوں کی ایک بہت ہی خوبصورت عادت "ادب سے عروج کی داستان"

اس کے سامنے دو مقاصد تھے: کسی ادب پارے کا تجزیہ اور اس کی جانچ یعنی تجزیات میں تمیز کرنا اور ان کی قدر معلوم کرنا۔ اس کے لیے ایک تجربے اور اس کے اظہار کی ماہیت کو سمجھنا ضروری تھا۔ چنانچہ ایک نقاد کے لیے ارسطو نے یہ سوال اٹھائے تا کہ وہ ادب پاروں کو زیر بحث لا سکے: 1۔ فن کار نے کیا کہنا چاہا؟ 2۔ اس کا اظہار کیسے کیا ہے؟ 3- جو کچھ کہا ہے اس کی قدر و قیمت کیا ہے؟

ان سوالوں کا جواب دینے سے پہلے ایک نقاد کے لیے خود زندگی کی گوناگوں دلچسپیوں تلخیوں اور اس کے مختلف قسم کے پہلووں سے واقف ہونا ضروری ہے ادبی مسائل کی سمجھ اور فن کار کی گہری نظر یہ دونوں ضروری اوصاف ہیں۔

تخلیق خواہ وہ کسی بھی مدرسہ فکر سے تعلق رکھتی ہو نقاد اپنی نگاہ بصیرت اور فنی صلاحیتوں سے ایک مخصوص تجربے کو ایک بار پھر زندہ کرتا ہے کیونکہ تنقید لکھنے اور پڑھنے والے کے درمیان رابطہ اتحاد پیدا کرتی ہے۔ دونوں کو ایک دوسرے کے قریب لاتی ہے۔ فن کیونکہ جمالیاتی لطف بخشتا ہے ایک فن پارہ جو ہمیں مکمل وحدت یعنی حسن کا احساس نہیں دیتا ناقابل قدر ہے۔ کسی دل کش چیز کو محسوس کر کے خوبصورت خیال ضبط تحریر کرنا یہ وہ عمل ہے جس میں ذہنی مشقت کے ساتھ ساتھ تجربات اور حوادث زمانہ سے گزر کے قوت مشاہدہ سے واقعات کو گہری نظروں سے دیکھا جاتا ہے۔

یہ سارا عمل تخیل کے ذریعے ہوتا ہے تخیل نہ صرف راہ دکھاتا ہے بلکہ اس راہ پر ٹھیک طرح چلاتا اور پرواز کا رخ بھی مقرر کرتا ہے اکثر اوقات درد آمیز کیفیات سے جو حسن پیدا ہوتا ہے وہ احساس بھی قلم کار کو لکھنے کے لیے اکسایا کرتا ہے۔ ادب اور شاعری کو تنقید کے سانچے سے گزارنا نہایت ضروری ہوتا ہے بقول احمد سرور اچھی تنقید محض معلومات ہی فراہم نہیں کرتی بلکہ وہ سب کام کرتی ہے جو ایک مورخ ماہر نفسیات ایک شاعر اور پیغمبر کرتا ہے۔ تنقید ذہن میں روشنی کرتی ہے اور یہ روشنی اتنی ضروری ہے کہ بعض اوقات اس کی عدم موجودگی میں تخلیقی جوہر میں کسی شے کی کمی محسوس ہوتی ہے۔"

ٹیگز