’’اقبال اور شیکسپئیر‘‘، ایک جائزہ - ڈاکٹر سید اختر جعفری

’’اقبال اور شیکسپئر‘‘ معروف اقبال شناس اعجازالحق اعجاز کی تازہ تصنیف ہے جو حال ہی میں ’’عکس‘‘ سے شائع ہوئی ہے۔ یہ ایک معرکہ آرا کام ہے۔ اقبال اور شیکسپئیر کے تقابلی مطالعے کی اس سے قبل مثال نہیں ملتی۔ اعجازالحق اعجاز اقبال کے حوالے سے ہمیشہ نئے اور اچھوتے موضوعات پر خامہ فرسائی کرتے ہیں۔ ادب میں ایسے مطالعات کی اشد ضرورت ہے۔

قدرت کے اس آفاقی کلیے سے دنیا کا کوئی بھی ادب مستثنیٰ نہیں ہے کہ ہر ادب نے کوئی نہ کوئی ایسا تخلیق کار پیدا کیا ہے جس نے اُس ادب میں فکری اور فنی اعتبار سے انقلاب برپا کیا، ادب کو وسعت اور عظمت عطا کی، اور دنیا کے ادب میں اس کے لیے مقام پیدا کیا اور اس تخلیق کار کی شہرت اپنے ملک یا علاقے کی سرحدیں عبور کرکے عالم میں چار دانگ پھیل گئی۔ لہذا جب تک دنیا میں اس کی تخلیقات قائم رہیں گی، اُس کا نام بھی ہمیشہ زندہ رہے گا۔

ایسے تخلیق کاروں نے اپنی زبان کے ادب کی سرزمین میں ایسے نقوش پا چھوڑے ہیں کہ جن پر چل کر آنے والی نسلیں منزل مقصود تک پہنچی ہیں اور اُس کے ملک کے باشندے اپنے فن کار یا تخلیق کار پر ہمیشہ نازاں رہے ہیں کہ اُن کی دھرتی نے ایسی عظیم شخصیت کو جنم دیا ہے جس نے علمی و ادبی دنیا میں میں اُن کا سر فخر سے بلند کر دیا۔

ایسی عظیم شخصیات پر اگر نظر ڈالی جائے تو عربی ادب میں امراؤ القیس اور ابوالقاسم الشہابی ، فارسی ادب میں مولانا روم اور فردوسی طوسی، اردو میں مرزا غالب اور علامہ محمد اقبال، سنسکرت میں تلسی داس اور ویاس، روسی ادب میں چیخوف اور ٹالسٹائی، فرانسیسی ادب میں موپساں اور بودلئیر، انگریزی ادب میں ولیم شیکسپئیر اور ورڈزورتھ کے نام لیے جا سکتے ہیں۔

یہ ایسی نام ور اور قد آور شخصیات ہیں جنھوں نے اپنے قلم سے ادب کے بہتے ہوئے سمندر کا رُخ تبدیل کر دیا اور ادب کو ایسی نئی راہوں اور قدروں سے رُوشناس کرایا جن میں آفاقیت اور ابدیت کے عناصر بدرجہ اتم موجود ہیں ، کیوں کہ ادب نہ صرف قارئین کے ادبی ذوق کی تسکین کا سامان مہیا کرتا ہے بلکہ پوری دنیا اور انسانیت کے لیے ایسا آفاقی پیغام بھی دیتا ہے جس میں انسان کی روحانی اور مادی ترقی کے ساتھ ساتھ اُس کی فطری صلاحیتوں میں بالیدگی اور نکھار پیدا ہوتا ہے۔

اگر بنظر غائر جائزہ لیا جائے تو ولیم شیکسپئیر اور علامہ محمد اقبال کی شاعری ایسے ہی دو عناصر آفاقیت اور ابدیت سے مملو ہے۔ حالانکہ دونوں شاعروں کے مابین زمانی اور مکانی بُعد موجود ہے مگر نابغوں کے درمیان تقابلی مطالعے کے معاملے میں زمانی اور مکانی بُعد کوئی معنی نہیں رکھتا۔ اقبال اور شیکسپئیر دونوں ہی پر میر کا یہ شعر صادق آتا ہے:


مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں

تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں


گردش افلاک ہی ایسے حالات و واقعات کو وجود میں لاتی ہے جو نابغہ روزگار کے ظہور کے لیے ماحول پیدا کرتے ہیں۔ اور اس ظہور کے لیے زمان و مکاں کی کوئی قدغن نہیں ہوتی ہے۔

ولیم شیکسپئیر نے سولھویں صدی عیسوی (۱۵۶۴ء تا ۱۶۱۶ء) میں انگلستان کے ایک چھوٹے سے قصبے سٹراٹفورڈ میں جنم لیا۔ یہ قصبہ دریائے ایون (Avon) کے کنارے آباد تھا۔ ولیم شیکسپئیر کے والد جان شیکسپئیر معمولی کسان تھے اور ساتھ ساتھ تجارت بھی کرتے تھے۔ یہ ملکہ الزبتھ اول کی حکومت کا زمانہ تھا ۔ اُس زمانے میں انگریزی ادب اور مذہب کی راہیں ایک دوسرے سے جدا ہو چکی تھیں اور ادب نے اپنی علیحدہ حیثیت منوا لی تھی اور وہ تفنن طبع اور جمالیاتی حسیات کی تسکین کا موثر ذریعہ بن چکا تھا۔ اس دور کی ڈراما نگاری پر یونانی اور اطالوی اثرات بہت زیادہ تھے ۔ شیکسپئیر نے بھی ان اثرات کو قبول کیا اوربن جانسن اور کرسٹوفر مارلو کی دوستی سے بھی اس نے بہت استفادہ کیا مگر اس کے ساتھ ساتھ اپنی الگ انفرادی حیثیت کو بھی اپنی خداد اد تخلیقی صلاحیتوں کے بل بوتے پر منوانا شروع کر دیا اور جلد ہی شاعری اور ڈراما نگاری میں وہ طرح ِنو کا موجد بن گیا۔ اُس نے عشقیہ مضامین کے ساتھ ساتھ سماجی، معاشرتی، اورسیاسی مسائل کو بھی موضوعِ سخن بنایا اور اپنی جدت طبع سے اُن میں نُدرت پیدا کی۔ شیکسپئیر کی تصانیف میں آفاقیت اور ابدیت کے عناصر بدرجہ اتم پائے جاتے ہیں۔

بظاہر علامہ اقبال اور ولیم شیکسپئیر کے درمیان بعد المشرقین نظر آتا ہے ۔ ایک مشرق ہے تو دوسرا مغرب ۔ ایک آزاد مشرب ہے تو دوسرا مذہب کا دلدادہ ۔ ایک کا عشق عارضی اور فانی تو دوسرے کا عشق بے مثال اور لا فانی ۔ ایک کے نزدیک موت فنا کا نام ہے تو دوسرے کے نزدیک موت ایک حیات ِ ابدی ۔ ان خیالات اور حالات کے اختلاف کے باوجود ولیم شیکسپئیر اور علامہ اقبال کے مابین مشترک اقدار کا تلاش کرنا اور پھر اُن کا موازنہ کرنا کوہ ِ بے ستوں سے جوئے شیر لانے اور ناممکن کو ممکن بنانے کے مترادف ہے لیکن اس دنیا میں علم کی شمع کے پروانوں اور دیوانوں کی کوئی کمی نہیں ہے۔ وہ جانتے بوجھتے ہوئے بھی اس شمع کی روشنی کو قائم و دائم رکھنے کے لیے اپنی جان پر کھیل جاتے ہیں۔

میری نگاہ میں محمد اعجاز الحق (اعجاز) علم کی شمع کے ایسے ہی ایک پروانے ہیں۔ انھوں نے اس روشنی کی دوامیت کے لیے تحقیق کے تپتے ہوئے ریگستانوں میں ننگے پائوں سفر کیا ہے، بہت سے کتب خانوں کی خاک چھانی ہے، اصل ماخذات کے گہرے سمندروں میں غوطہ زن ہوئے ہیں اور پاتال سے گوہر آبدار تلاش کر کے لائے ہیں جن کی آب و تاب ہمیشہ قائم رہے گی۔ انھوں نے مذکورہ دونوں شعرا کی تصانیف کا ژرف بینی سے مطالعہ کیا ہے اور اُن کے تصورات اور نظریات کا نہ صرف محاکمہ پیش کیا ہے بلکہ اُن کے پس منظری محرکات کا بھی نہایت موزوں انداز میں تجزیہ کیا ہے، نیز اُن کے فنی محاسن کی تفصیلات بہت باریک بینی سے پیش کی ہیں۔ اس تصنیف میں محقق اور نقاد پہلو بہ پہلو چلتے نظر آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مقالے میں کہیں جھول نظر نہیں آتا۔ تصنیف کا اُسلوب بے حد عالمانہ ہے۔ اس میں فصاحت کے ساتھ ساتھ بلاغت بھی موجود ہے۔ یہ اقبالیاتی ادب میں ایک گراں قدر اضافہ ہے۔