تھر کی پیاسی دھرتی کے لیے الخدمت کے تحفے - زبیر منصوری

برسوں بعد الخدمت فاؤنڈیشن سے اعجاز اللہ بھائی کا فون آیا۔ کہنے لگے: “زبیر بھائی تھر چلنا ہے، وہاں الخدمت کے بڑے اسپتال کا افتتاح ہے، اور آپ کی “پیاسا تھر” کے نام سے تحریریں اس سارے کام کی بنیادوں میں موجود ہیں، آپ بھی چلیں اور کچھ ان دنوں کی یادیں تازہ کر دیں۔”

اعجاز اللہ یار کیا یاد دلا دیا۔
پلکیں بھیگ گئیں۔۔!
وہ دن کہ جب انسانیت کے اس عمر رسیدہ خادم نعمت اللہ خان کے ساتھ کہ جب ابھی دنیا میٹھی نیند کی آغوش میں ہوتی تھی، ہم تھر کے سفر کو روانہ ہوتے تھے اور پھر جون جولائی کے تپتے دن اس دشت کی سیاحی میں گزرتے تھے۔ کنوؤں کی درخواستوں پر خود گاؤں گاؤں پہنچ کر تصدیق اور پھر متعلقہ جگہ پر چلچلاتی دھوپ میں مصلی بچھا کر دو رکعت نفل اور پھر گڑگڑا کر دعا کہ: ''مولا ان کا پانی میٹھا کر دے۔ مولا تیری بندیاں ہیں، دیوں سے میلوں دور سے یہ گدلا پانی بھر کر لاتی ہیں، انہیں آسانی دے دے۔ اور پھر ان سینکڑوں کنوؤں سے میٹھا پانی نکلتے سب نے دیکھا۔

کیا یاد دلا دیا کہ جب 1997ء کی ایک سہ پہر ہماری جیپ ایک دور افتادہ گاؤں میں داخل ہو رہی تھی تو بچے ہمیں دیکھ کر ڈر کر بھاگ گئے تھے، گھروں میں جا چھپے تھے۔ پوچھا ایسا کیوں؟ تو ایک بڑا مسکرا کر بولا “سائیں! انہوں نے بیل دیکھا ہے، بکری اور اونٹ دیکھا ہے، آج پہلی بار یہ عجیب سی چیز، جیپ شور مچاتی خود بخود چلتی اپنے گاؤں میں آتی دیکھی ہے تو بھاگ کر ماؤں کے پاس چھپ گئے ہیں۔'' الہی ہم کس زمانے کے تھر کو دیکھ رہے تھے۔

وہیں ایک گھنے درخت کے نیچے سستانے کو رکے تو ساتھی نے کیلے کے چھلکوں کی تھیلی پھینک دی۔ کچھ دیر بعد عجیب منظر دیکھ کر ہم سب آبدیدہ ہو گئے۔ دور بچے ایک دوسرے سے وہ چھلکے چھین کر کھانے اور چوسنے کی کوشش کر رہے تھے۔ صحرا جہاں دو وقت کی گندم دستیاب نہ تھی، وہاں یہ پھلوں کے پھینکے ہوئے چھلکے ان کے لیے نعمت تھے۔ الخدمت فاؤنڈیشن نے وہاں ان بچوں کو تعلیم دینے کے لیے “ایک استاد ایک کمرہ ایک اسکول” کا “چونرا اسکول اپروجیکٹ“ اور گاؤں کے کچھ لوگوں کو بکریاں دے کر “روزگار پروجیکٹ” کا آغاز کیا۔

مجھے یاد ہے پہلی بار نعمت اللہ صاحب قحط میں تھر کو گندم دینے آئے تھے کہ تھریوں کو دل ہی دے بیٹھے۔ وہ امیر کراچی رہے یا سٹی ناظم کراچی، دل ان کا وہیں کہیں کسی بیمار کی تیمارداری، کسی بھوکے کا پیٹ بھرنے یا کسی کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے ہی میں لگا رہتا تھا۔ اور سچ تو یہ ہے کہ اللہ بھی کمال غیب سے ان بندوں کے لیے راستے بناتا تھا۔

حاجی نذیر صاحب برطانیہ کے ڈونر تھے۔ پہلی بار رابطہ ہوا تو سخت ناراض تھے۔ بولے پچھلی بار بلوچستان کی ایک این جی او کو کنوؤں کے لیے پیسے دیے تو انہوں نے ڈبل کیبن گاڑی خرید لی۔ اب میں خود آپ کے ساتھ تھر جا کر آپ کا کام پہلے دیکھ کر آؤں گا۔ ہم مسکرائے کہ ہمیں بھلا اور کیا چاہیے؟ وہ خاص طور پر اس کے لیے برطانیہ سے آئے اور پھر جب انھون نے تھر میں کام دیکھا تو اب تک الخدمت فاؤنڈیشن کو مختلف مدات میں کروڑوں دے چکے ہیں۔ ان کے سفر کے دوران ایک کچے صحرائی راستے سے گزرتے ہوئے انھوں نے دیکھا کہ کچھ لوگ ہاتھوں سے سینکڑوں فٹ گہرائی سے پانی کھینچ کر زمین سیراب کر رہے ہیں۔ پوچھا یہ ایسا کیوں کر رہے ہیں؟ مقامی ساتھی نے کہا کہ سائیں! ان کے پاس کوئی اونٹ یا گدھا نہیں ہے، اس لیے یہ بیچارے اس طرح تھوڑی سی گندم اگانے کا سامان کرتے ہیں، وہ افسردہ ہوگئے، حساس آدمی تھے، بولے اس جگہ کا نام نوٹ کر لیں، میری طرف سے انھیں ایک اونٹ خرید دیں۔ واہ مولاتیرے رنگ! ان غریبوں نے نہ جانے کس گھڑی بےبسی سے تیری طرف نظریں اٹھا کر مدد مانگی ہوگی۔ اللہ نے کہاں سے بندہ چلایا اور کہاں کس ویرانے میں اس کے دل میں نرمی ڈال کر ان کی ضرورت پوری فرما دی۔

کہتے ہیں بندہ جیسا ہو اسے ویسے لوگ مل جاتے ہیں۔ خان صاحب نے خدمت کا سفر شروع کیا تو ان کا کارواں بنتا چلاگیا۔ ڈاکٹر فیاض جیسے دیوانے ہوں یا ڈاکٹر خالد مشتاق جیسے دُھن کے پکے، اعجاز اللہ جیسے پس منظر میں رہ کر منظر بدلنے والے لوگ ہوں یا پھر راشد قریشی جیسے ہر دم تیار ساتھی، الخدمت کا قافلہ رواں دواں ہے۔

اب تھر میں لگنے والا یہ ننھا پوداکتنا بڑا ہو گیا ہے؟ ایک سال میں ایک اسپتال میں 70000 مریضوں کو دیکھا جا چکا ہے، 4300 پانی کے منصوبے تکمیل پا چکے ہیں، بیسیوں اسکولوں کے بعد اب جانوروں کااسپتال، بچوں کے لیے ہاسٹل، اور نہ جانے کیا کیا کچھ اعجاز اللہ کے ذہن اور الخدمت فاؤنڈیشن کے منصوبوں میں شامل ہے۔ الخدمت کے نام ایک شعر:


رہے یوں ہی جگمگاتا ترا آفتاب قسمت

تری صبح روز روشن کبھی شام تک نہ پہنچے