ریاست مدینہ کے نعرے کا فریب - صہیب جمال

دورِ عمر فاروق رضی اللّٰہ تعالیٰ، وہ تمام صحابہ کرام رضوان اللّٰہ اجمعین کی زندگیاں، ان کا طرز حکومت، کتاب میں رہ جانے والے مضمون لگتے ہیں، مجھے سب خواب لگتے ہیں، مجھے سب اب دوبارہ رونما نہ ہونے والے قصّے لگتے ہیں، پھر سادگی اختیار نہ کرنا دھوکہ لگتا ہے، مجھے حکمرانوں کی تسلّیاں مذاق اڑانے کے مترادف لگتی ہیں۔

ساڑھے بائیس لاکھ مربع میل پر پھیلی مملکت کا خلیفہ اور اس کے گورنر کیا تھے؟کیسے رہتے تھے؟ کیا نہیں تھا ان کے پاس، عراق کے خزانے، فارس کے سنہری محل، عرب کے گھوڑے، مصر کے کنگن، آرمینیا کے میوہ جات، یروشلم کی تعمیرات۔ مگر گذارا کس پر کیا، ایک خچر، ایک اونٹ، ایک حجرہ، دو لباس ایک گرمی کا ایک سردی کا، اور بیت المال سے پیٹ بھرنے کی غذا۔ اگر کوئی گورنر تجاوز کرتا تو خود پہنچ کر سزا دیتے اور معزول کرتے۔ دنیا عمر رضی اللّٰہ تعالیٰ کی ٹھوکروں پر تھی، نیل بھی فرمانبردار تھا، میدان جہاد میں عام سپاہی کی طرح خیمے میں بڑے بڑے مندوبین سے ملتے۔

کل پاکستان کی سب سے بڑی صوبائی اسمبلی نے ممبران کی تنخواہیں اور مراعات میں دو لاکھ تک کا اضافہ کیا۔ وزیر اعلیٰ کو مستقل گھر جو ان کے انتقال کے بعد ان کے بچوں کی ملکیت ہوگا وہ قانون پاس ہوا۔ اپوزیشن بھی خوش، کسی نے ایک آواز نہیں نکالی، کسی نے ذرا سی چوں نہیں کی۔

ایک طرف بھینسیں بیچتے ہو، پرانی گاڑیاں فروخت کرتے ہو، بچت، سادگی کا ڈرامہ کرتے ہو۔ حج پر فیس بڑھاتے ہو، نئے نئے ٹیکس لگاتے ہو، عوام سے پیسے ان ممبران کی عیاشی کے لیے گھسیٹے جا رہے ہیں؟ ان کی عیاشی کے لیے ہماری جیبیں خالی کی جا رہی ہیں؟

اورنج ٹرین منصوبہ بند کر کے اربوں کا نقصان ہوتا ہے، کڈنی ہسپتال پر کام روک کر عوام کو چھ ارب کا ٹیکہ لگا دیا، پشاور میٹرو کو سفید ہاتھی بنا دیا، اس میں بھی اربوں لوٹ لیے۔ کل جناب معیشت کے جادوگر، جن کے جادوئی ہاتھوں کے قصّے دوہزار تیرہ سے سن رہے تھے، کہ وہ جس دن خزانے کے پاس کھڑے ہوکر کہیں گے "کھل جا سم سم " تو ملک میں خوشحالی کی بارش ہوگی، ان کرشمہ ساز کا کل کہنا تھا "عوام مہنگائی کی وجہ سے اور چیخیں گے۔" عین اسی دن پنجاب اسمبلی میں خوشی کے شادیانے بج گئے۔

یہ بھی پڑھیں:   دو گندے ہو چکے، ایک ناکام - ایاز امیر

جب قرونِ اولیٰ میں کسی کو حکمرانی یا عہدہ ملتا تھا وہ رویا کرتے تھے، بےہوش ہو جاتے تھے، ان کے ساتھی ان کو مبارکباد نہیں ان کو استقامت کی دعا دیتے تھے۔ کیونکہ ان کو پتہ ہوتا تھا کہ اب ان پر امت کا بوجھ آگیا ہے، پھر ان کے لباس موٹے ہوجاتے، ادھوری پِسی ہوئی روٹی غذا ہوتی تھی، راتیں جاگتے گذرتیں، آخرت میں جوابدہی کا خوف ہوتا۔

یہاں ایک طرف مدینہ کی ریاست کا نعرہ، دوسری طرف یہ مراعات بڑھانے کا بل، اگر آپ کا ایک قدم بھی مدینہ کی ریاست کی طرف ہوتا تو ہم آپ کے ساتھ ہوتے، آپ کا رخ تو کیا آپ کی نگاہوں کا رخ بھی مدینہ کی ریاست کی طرف نہیں۔ مدینہ کی ریاست میں کافر کی جان بھی قیمتی تھی جس کے ضامن میرے آقا صلّی اللّٰہ علیہ وسلم تھے، یہاں تو ساہیوال میں معصوم مارے گئے اور آپ کہتے رہے "قطر سے واپس آجاؤں، پھر انصاف کریں گے۔"
آخر میں اندھے مقلدوں کو سلام