عمران خان سے تھوڑا سا گِلہ - حنیف سمانا

ہم نے عمران خان کے لیے بڑی گالیاں کھائیں۔ بڑے لوگوں کی مخالفت مول لی۔ نون لیگ، پیپلز پارٹی، جمیعت، جماعت، ایم کیو ایم ۔۔۔ غرض ہر پارٹی کے ہمدردوں کو ناراض کیا۔ نہ صرف فیس بک پر بلکہ حقیقی زندگی میں بھی اپنی ذاتی دوستیاں خراب کیں۔ کچھ تو رشتے داروں کو بھی خود سے دور کیا۔

اور یہ سب کچھ کسی ذاتی غرض یا مالی مفاد کے لیے نہیں کیا بلکہ صرف اور صرف ملک و ملّت کے فائدے کے لیے کیا۔ ہمیں یہ خوش گمانی تھی کہ عمران پِچھلوں سے مختلف ہوں گے۔ وہ اس قوم کے حقیقی مسیحا ثابت ہوں گے۔ وہ لُوٹی ہوئی دولت واپس لائیں گے۔ وہ مراعات یافتہ طبقے سے لے کر عام آدمی کو دیں گے۔

مگر۔۔۔
مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اب تک ہماری توقعات پوری نہیں ہو پائیں۔ بہرحال ہم نے اب بھی امید کا دامن نہیں چھوڑا۔ ابھی بھی زیادہ دیر نہیں ہوئی۔

مجھے اُس وقت بڑی تکلیف ہوئی جب میں نے رؤف کلاسرہ اور عامر متین کے پروگرام "مقابل" میں یہ خبر سنی کہ پنجاب اسمبلی کے ممبران اور سابق وزرائے اعلی کی مراعات میں بے پناہ اضافہ کیا گیا ہے۔ وزرائے اعلی منظور وٹو، پرویز الہی، نواز شریف، شہباز شریف اور دیگر کو دو دو گاڑیاں دی گئی ہیں اور دس دس گارڈ بھی۔ اُس کی دیگر تفصیلات تو بڑی ہوشرُبا ہیں اور اس ملک کے غریب آدمی کے لیے نہایت ہی تکلیف دہ بھی۔

یہ کام اگر آصف زرداری یا نوازشریف کے دور میں ہوتا تو اتنی تکلیف نہ ہوتی، چونکہ وہ تو عادی تھے، اس غریب قوم کی دولت کو دونوں ہاتھوں سے لُوٹنے اور لُٹانے کے ۔۔۔ مگر عمران خان! عمران خان کے دور میں یہ سب کچھ؟

میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ "تُو خدا ہے نا میرا عشق فرشتوں جیسا" کے مصداق ہم نہ شخصیت پرست ہیں اور نہ ہی ذہنی غلام۔ عمران خان ہمارا روحانی پیشوا نہیں۔ ناقابلِ تنقید بھی نہیں۔ اور پھر عدم نے کہا ہے۔


اگر عمران نے وہی سب کچھ کرنا ہے جو پچھلے کرتے تھے تو پھر پچھلے ہی بھلے۔ کم از کم اُن کو کُھل کر چور ڈاکو تو کہا جاسکتا تھا۔

میں وزیرِ اعظم پاکستان سے درخواست کرتا ہوں کہ پنجاب اسمبلی ممبران کی تنخواہوں میں اور وزرائے اعلی کی مراعات میں اضافے کے فیصلے کو واپس لیا جائے۔ اس وقت ملک تکلیف میں ہے۔ ہم یہ عیاشی افورڈ نہیں کرسکتے۔