جدید ریاستِ مدینہ اور جے آئی ٹی کی بھول بھلیاں- خالد مسعود خان

خیر سے اپنے میر تقی میرؔ صاحب نے تو سادگی کی بنا پر اپنی بیماری کا موجب بننے والے عطار کے لونڈے سے ہی دوا لے لی تھی؛ تاہم جیسے ہی میرؔ کو اپنی اس سادگی نما حماقت کا احساس ہوا انہوں نے نہ صرف اپنی اس سادگی کا برملا اعتراف کیا بلکہ اسے شعر میں ڈھال کر سدا کے لیے امر کر دیا۔ میرؔ کا شعر یوں تھا ؎
میر کیا سادہ ہیں، بیمار ہوئے جس کے سبب
اسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں
تاہم سانحہ ساہیوال کے بعد جو ہوا وہ سادگی نہیں ہوشیاری اور چالاکی تھی کہ قاتلوں کی تفتیش پر انہی کے بھائی بندوں کو متعین کر دیا گیا۔ اسلحہ تبدیل ہوا، جائے وقوعہ پر شواہد بدلے گئے، گولیوں کے خول بدل دیئے گئے، سی ٹی ڈی اہلکاروں نے اپنی گاڑی پر خود فائرنگ کی۔ یہ سب کچھ فرانزک ٹیسٹ میں سامنے آ گیا۔ لیکن یہ سب کچھ کیسے ہوا؟ یہ سب صرف اس وجہ سے ہوا کہ جے آئی ٹی ساری کی ساری پولیس کے افسران پر مشتمل تھی اور پولیس میں ''پیٹی بھائی‘‘ کی ایک اصطلاح سدا سے مستعمل ہے۔

اور نہ صرف مستعمل ہے بلکہ حقیقت اور سچائی کی بنیاد پر ہی بنی ہوئی ہے۔ کوئی پولیس افسر کسی بھائی بند پولیس افسر کو ایمانداری سے احتساب کے کٹہرے میں نہیں لاتا کہ کل کلاں یہ وقت اس پر بھی آ سکتا ہے اور وہ ایسی کوئی ''غلط روایت‘‘ قائم نہیں کرنا چاہتا جس کی متوقع زد میں کبھی ان کے خود آ جانے کا اندیشہ ہو۔ سو ایسے واقعات میں جب قاتلوں کی تفتیش بھی ان کے پیٹی بھائیوں کے سپرد کی جاتی ہے تو یہ سادگی کے باعث نہیں ہوتا۔ ہماری پولیس میر تقی میرؔ کی مانند سادہ نہیں کہ باعثِ بیماری عطار کے لونڈے سے ہی دوا لینے چل پڑے۔ ہماری پولیس یہ کام چالاکی اور ہوشیاری کے باعث کرتی ہے اور تقریباً ہر بار ہی اپنی اس عقلمندی کے باعث مشکل مقام سے بخیر و خوبی سرخرو ہو کر نکلتی ہے۔ ساہیوال میں بھی بالکل یہی کچھ ہوا۔ پانچ پولیس اہلکاروں پر ملبہ ڈال دیا گیا اور سارے کے سارے افسران صاف بچ نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔

اس سارے کام کی تفتیش اگر ایمانداری اور طریقے سے کی جاتی تو چوبیس گھنٹے کی مار تھی۔ اس دوران نہ تو شواہد تبدیل ہوتے اور نہ ہی اسلحہ سے متعلق چیزیں تبدیل کی جا سکتیں۔ فرانزک ٹیسٹ میں گولیوں کے خالی خول اور گولی کا وہ اگلا حصہ جو جا کر ہدف پر لگتا ہے اور جسے Projectile کہتے ہیں‘ دونوں بڑی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ گولی کے خالی خول کے پچھلے حصے پر، جہاں فائر پن ضرب لگاتی ہے اور گولی چلتی ہے‘ اس فائر پن کی ضرب والا نشان بڑا اہم ہوتا ہے اور فرانزک ٹیسٹ میں خول پر لگی فائر پن کی ضرب سے پتا چلایا جا سکتا ہے کہ یہ کس رائفل، پستول، ریوالور یا بندوق کی فائر پن کا نشان ہے (اگر وہی اسلحہ پیش کیا جائے) اگر اسلحہ تبدیل ہو جائے یا صرف مطلوبہ اسلحے کی فائر پن ہی بدل دی جائے تو یہ ثابت نہیں کیا جا سکتا کہ یہ فائر اس اسلحہ سے کیا گیا ہے‘ جس اسلحہ سے حقیقتاً گولی چلائی گئی تھی‘ کیونکہ اس چیز کو ثابت کرنے والی اصل چیز یعنی فائر پن ہی تبدیل ہو چکی ہو تو ثبوت ملنا نا ممکن ہو جاتا ہے۔ فائر پن کو تبدیل کرنا کسی بھی ایسے شخص کے لیے جو صرف اس رائفل یا اسلحہ کو کھولنا اور دوبارہ جوڑنا جانتا ہے‘ بائیں ہاتھ کا کھیل ہے اور یہ کام چند منٹوں میں کیا جا سکتا ہے اور اگر اس تبدیل شدہ فائر پن سے ایک دو خالی فائر کر دیئے جائیں اور اس فائر پن پر بارود کے ذرات لگ جائیں تو پھر یہ ثابت کرنا کہ اس رائفل کی فائر پن تبدیل کی گئی بہت ہی مشکل ہو جاتا ہے۔

دوسرا سب سے بڑا ثبوت، بلکہ سب سے اہم ثبوت گولی کا اگلا حصہ یعنی Projectile ہوتا ہے جس پر فائر کیے جانے والے اسلحہ کی نالی کے اندر کے چکر یعنی Groves کے نشانات لگے ہوتے ہیں۔ ہر نالی کے اندر والے یہ Groves اپنا اپنا علیحدہ نشان چھوڑتے ہیں اور اگر فائر کی جانے والی رائفل اپنی اصل نالی کے ساتھ پیش کی جائے تو اس سے فائر کرکے اس کے پروجیکٹائل کا فرانزک ٹیسٹ کرکے اسے جرم میں استعمال ہونے والے پروجیکٹائلز کے ساتھ موازنہ کرکے استعمال ہونے والا اصل ہتھیار شناخت کیا جا سکتا ہے‘ لیکن اگر ریکارڈ میں ردوبدل کرکے ان اہلکاروں کو جاری ہونے والا اسلحہ اسی بور کے دوسرے ہتھیار سے تبدیل کر دیا جائے تو ثابت کرنا بالکل ہی ناممکن ہو جاتا ہے کہ فائرنگ کرنے والا کون تھا؟ اگر اس ہتھیار کو پورا کا پورا تبدیل نہ کیا جائے اور صرف نالی تبدیل کر دی جائے تو بھی اس کا ثابت کرنا ناممکنات میں ہو جاتا ہے۔ اسلحہ کو ریکارڈ میں ردوبدل کے ذریعے تبدیل کرنا بھلا پولیس کے لیے کیا مشکل ہے؟ جبکہ سارا ریکارڈ انہوں نے خود ہی بنانا اور تبدیل کرنا ہے۔ ویسے ایک بھیدی نے بتایا کہ عموماً پولیس اور سی ٹی ڈی اہلکاروں کو اسلحہ جاری کرتے وقت اس کو نمبروں کے حساب سے ان کے سپرد کرنے کے بجائے صرف ہتھیار کے نام سے اور بور سے جاری کر دیا جاتا ہے مثلاً SMG-9mm درج کرکے اسے نو ملی میٹر کیلیبر کی سب مشین گن جاری کر دی گئی۔ اس وقوعہ والی فورس کے زیر استعمال 9mm کی SMG کو کسی دوسری پٹرولنگ پارٹی کو جاری کی گئی 9mm کی SMG سے تبدیل کر دیا جائے تو سارے ثبوتوں کا دھڑن تختہ ہو جائے گا۔

شک کا فائدہ ہمیشہ ملزم کو ہی جاتا ہے۔ اب اگر خول تبدیل ہو جائیں اور چلائی گئی گولیوں کے پروجیکٹائل دوسرے پیش کر دیئے جائیں۔ فائر پن بدل دی جائے یا بیرل تبدیل ہو جائے تو یہ ثابت نہیں کیا جا سکتا کہ فائر اسی اسلحہ سے کیا گیا ہے جو اس روز سی ٹی ڈی اہلکاروں کے پاس تھا۔ یہ تو صرف ایک پہلو تھا۔ دوسرا پہلو بڑا خطرناک ہے اور وہ انتظامی ہے۔ جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ میں سارا ملبہ پانچ چھوٹے اہلکاروں پر ڈال کر سارے افسروں کو بری الذمہ قرار دے دیا ہے‘ حتیٰ کہ آئی جی کو بھی، جس نے پہلے چار اغوا کاروں کو اور پھر دہشت گردوں کو مارنے کی خبر دی۔ لیکن سب سے خطرناک اور اہم بات یہ ہے سارے افسروں کی بریت یہ ثابت کرتی ہے یہ سارا کام صرف انہی پانچ اہلکاروں کا ہے‘ جنہوں نے فائرنگ کی تھی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ انہوں نے یہ سارا آپریشن کسی اوپر کے حکم کے بغیر کیا تھا۔

کوئی ''چین آف کمانڈ‘‘ سرے سے موجود ہی نہ تھی۔ اگر ایسی صورتحال ہے تو ایک فورس پر افسروں کا کیا کنٹرول ہے؟ اگر کنٹرول نہیں تو وہ بے گناہ نہیں ٹھہرائے جا سکتے بلکہ یہ ایک سانحے سے بھی زیادہ سنگین جرم اور انتہائی خوفناک صورتحال ہے کہ رائفل بردار پولیس اہلکار یا سی ٹی ڈی کا اہلکار جسے چاہے، جب چاہے اور جہاں چاہے اپنی صوابدید پر گولی مار سکتا ہے۔ بعد میں جے آئی ٹی بنے یا عدالتی کمیشن، جانے والی جان کو تو واپس نہیں لایا جا سکتا۔ ہاں امدادی رقم دی جا سکتی ہے اور یہ رقم بھی کوئی اپنے پلے سے نہیں‘ ہمارے ٹیکسوں کی رقم سے دیتا ہے۔ یعنی حلوائی کی دکان پر نانا جی کی فاتحہ دلوائی جاتی ہے۔
قوم کی یادداشت بڑی کمزور ہے۔ چار دن گزر گئے تو ہر سانحہ طاقِ نسیاں پر رکھ کر بھول بھال جاتی ہے۔ سانحہ ساہیوال کا بھی یہی حال ہوتا نظر آ رہا ہے۔ حکمرانوں کا حکم نہ جانا جائے تو ایس پی پاکپتن کو رات دس بجے بھی معطل کر دیا جاتا ہے اور ادھر یہ عالم ہے کہ چار افراد دن دیہاڑے برسر عام ریاستی بربریت کا شکار ہوتے ہیں اور سی ٹی ڈی کا ڈی آئی جی معطلی کے محض چند دن بعد ہی اپنی اسی سابقہ پوسٹ پر بحال ہو گیا ہے۔ ڈھٹائی کا یہ عالم ہے کہ اسے مظلوموں کی اشک شوئی کی غرض سے کسی دوسری جگہ پر بھی پوسٹ نہیں کیا گیا۔ معطلی تو دور کی بات ہے۔
جے آئی ٹی کا سارا زور ایک داڑھی والے مقتول کو دہشت گرد ثابت کرنے پر لگا ہوا ہے۔ تین بے گناہوں کا خون زرق خاک ہو گیا ہے اور ریاست مدینہ‘ جو کبھی دجلہ کے کنارے کتا بھوکا مرنے پر حکمران کی جوابدہی کا نام تھا‘ ہمارے ہاں پہنچی ہے تو جے آئی ٹی کی بھول بھلیوں میں کہیں کھو گئی ہے۔