خوشید ندیم کا وہ کالم جو اخبار میں شائع نہ ہو سکا

ایک مختلف منظر میرے سامنے تھا۔ ایک لمحے کو تو میں ٹھٹھک کے رہ گیا۔ ”کیا یہ وہی مسجد ہے؟“ میں نے اپنے آپ سے سوال کیا۔ کوئی پوسٹر نہ کوئی بینر۔ کہیں جہاد میں شرکت کی ترغیب نہ چندے کی اپیل۔ وہ خاردار تاریں بھی کہیں نہیں تھیں جنہوں نے مسجد کو ایک قلعے کی شناخت دے رکھی تھی۔ کوئی مسلح محافظ نہ مخصوص حلیے کے نوجوان۔ اور ہاں یہاں تو ایک کتابوں کی دکان بھی تھی، مسجد کے بڑے دروازے کی بائیں سمت۔ آج تو وہ بھی نہیں تھی۔ کل جب میں یہاں سے گزرا تو سب کچھ وہی تھا جو برسوں سے دیکھ رہا ہوں۔ محض ایک دن میں اتنی بڑی تبدیلی؟

مسجد میں داخل ہوا تو ایک اور درِ حیرت کھل گیا۔ دروازے کے ساتھ ایک اشتہار آویزاں تھا۔ اس پر ایک صاحب کا نام لکھا تھا جن کا تعلق محکمہ اوقاف سے بتایا گیا تھا۔ یہ بھی لکھا تھا کہ آئندہ وہ یہاں نماز جمعہ کی امامت کریں گے اور وہی خطبہ جمعہ بھی دیں گے۔ جمعہ کی نماز پڑھی تو وہ بھی ایک مختلف ماحول میں۔ نہ جذبات کی وہ گرمی کہ محاذِ جنگ کا رخ کرنے کو جی چاہے اور نہ وہ ولولہ انگیز خطاب جو صورِ اسرافیل کی طرح زمین ہلا دے۔ پرسکون لہجے میں خطبہ اور قرات۔ حیرت سے سوچتا رہا: جو تبدیلی مجھ جیسے مہمان کا ذہن قبول نہیں کر رہا، وہ یہاں کے مستقل مکینوں نے کیسے قبول کر لی، جو اب کہیں دکھائی نہیں دے رہے تھے؟

یہ سوال بے وجہ نہیں تھا۔ میری یادداشت سے نواز شریف دور کے وہ دن محو نہیں ہوئے جب اِن کالعدم تنظیموں پر اسی طرح پابندی لگی تھی۔ پابندی کے بعد، میں نے اسی مسجد میں جمعہ کی نماز پڑھی۔ خطیب کا غیظ و غضب مجھے آج تک نہیں بھولا۔ لاؤڈ سپیکر اُن کی بلند آہنگی کے سامنے اعترافِ عجز کر رہا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت ملک میں وہ لوگ حکمران ہیں جن کا دین سے کوئی تعلق ہے نہ ملکی مفاد سے۔ سادہ لفظوں میں مودی کا یار ملک کا وزیراعظم ہے۔ دلیل یہ ہے کہ آج ان تنظیموں پر پابندی لگا دی گئی جنہوں نے کشمیر کی آزادی کے لیے علمِ جہاد بلند کیا۔

اُن دنوں ایک ’دفاعِ پاکستان کونسل‘ بھی ہوا کر تی تھی۔ کونسل کی قیادت حکومت کے اس خلافِ دین و ملت اقدام پر برہم تھی۔ ایک شمشیر بے نیام جو دین کے دشمنوں کے سر پر تنی رہتی تھی۔ کونسل کا خیال تھا کہ امتِ مسلمہ کے مسائل کا حل جہاد بمعنی قتال ہی ہے۔ عزت مآب شیخ رشید بھی اس کے سٹیج کی زینت بنتے اور بتاتے کہ جہاد ہی سے مسئلہ کشمیر حل کیا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   پلوامہ حملہ؛ پاکستان اب کیا کرے - ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

اس بار لیکن سب توپیں خاموش ہیں۔ جن پر پابندی لگی وہ بھی اور جو ان کے ہم نوا تھے وہ بھی۔ یہی نہیں، وہ اب ہمیں بتا رہے ہیں کہ عمران خان اگر ’کشمیریوں کے قاتل‘ مودی کو پیغامِ محبت بھیج رہے ہیں تو انھوں نے یہ ریاست مدینہ ہی سے اخذ کیا ہے۔ اور یہ بھی کہ بھارت کے ساتھ مسائل کا حل جہاد نہیں، امن ہے جس کے لیے حکومت پُرجوش ہے۔ یہ سب دین کی تعلیمات کے عین مطابق ہے اور ریاست مدینہ سے ماخوذ ہے۔ کوئی تفصیلی دلائل جاننا چاہے تو برادرِ محترم امیر حمزہ کا کالم پڑھ لے جو 8 مارچ کو ”دنیا“ میں شائع ہوا۔

برادرم نے لکھا: ”میرے وزیراعظم نے ابھینندن کو عزت افزائی کے ساتھ واپس بھیجا ہے تو مدینے کی ریاست سے اخذ کر کے ایک جنگی باب نمایاں کیا ہے جو جنگ کے دوران نمودار ہوا ہے۔“ آپ نے مزید لکھا ہے: ”ہندوستان میں پاکستان سے بڑھ کر تعداد میں مسلمان ہیں۔ امن پسند ہندو بڑی تعداد میں ہیں۔ تین کروڑ مسیحی ہیں۔ سکھ اور دیگر موجود ہیں۔ لہذا ہماری پہلی اور آخری چوائس امن ہے، سلامتی ہے اور صرف امن ہے۔ پُرامن برصغیر زندہ باد“۔ جناب امیر حمزہ نے بتایا ہے کہ ہم امن کے لیے پابہ رکاب ہیں مگر جارحیت پر شہادت کی موت کے لیے تیار۔”

تو کیا خیالات، طرزِ عمل یوں پلک جھپکنے میں بدل سکتے ہیں؟ کیا ایک ہی فعل کی دو تاویلات ہو سکتی ہیں؟ کیا ہم کسی انسان کے دل کا حال جان سکتے ہیں؟ یہ کیسے ممکن ہے کہ یک ہی سمت میں اٹھا ہوا ایک قدم محمود ہو اور دوسرا مذموم؟ کیا اس دنیا میں کوئی ایسا بھی ہے جو یوں لمحہ بھر میں سب کچھ بدل دینے کی طاقت رکھتا ہو؟ جو ایک ساعت میں قلبِ ماہیت کر دے؟

سوالات نے یلغار کی تو خیال آیا کہ ایسا پہلے بھی ہو چکا۔ ایک خادم حسین رضوی بھی تھے۔ وہ قومی افق پر نمودار ہوئے تو ایک بھونچال آگیا۔ فضا مذہبی نغمات سے معمور ہو گئی۔ دین سے محبت کا ساگر بہنے لگا۔ ایک دن وہ دارالخلافہ کے صدر دروازے پر قابض ہوگئے۔ پھر مظاہرین اس شان سے رخصت ہوئے کہ فتح کا پھریرا ان کے ہاتھ میں تھا جو 2018ء کے انتخابات پر بھی سایہ فگن رہا۔ ماشاءاللہ بائیس لاکھ ووٹ لیے اور اپنا مشن مکمل کیا۔ ختم ِنبوت میں نقب لگانے والوں کو ان کے گھر کیا، جیل پہنچا دیا۔

اسی نعرے اور جذبے کے ساتھ، وہ ایک بار پھر نکلے۔ انہیں یاد نہیں رہا کہ اب ’نیا پاکستان‘ وجود میں آ چکا ہے۔ اس بار کہیں استقبال نہیں ہوا۔ اگر استقبال کیا تو پولیس نے۔ آج وہ جہاں بھی ہیں، آرام سے ہیں اور ملک بھی آرام سے ہے۔ حکومت کے جوابی اقدام سے دین کو کوئی نقصان پہنچا نہ ملت کو۔ حکمران دین دشمن قرار پائے نہ یہ مذہبی ہیرو۔ یہ واقعات ذہن میں تازہ ہوئے تو ایک نئے سوال میں ڈھل گئے: اگر پہلے یہ قلبِ ماہیت ہو سکتی ہے تو اب کیوں نہیں؟

یہ بھی پڑھیں:   کشمیری اپنی جلاوطن حکومت بنائیں - اسداللہ غالب

قرآن مجید نے اللہ تعالیٰ کی یہ قدرت بتائی ہے کہ وہ جب کسی بات کا ارادہ کر لیتا ہے تو اسباب کا محتاج نہیں ہوتا۔ وہ کہتا ہے ’ہو جا‘ اور ہو جاتا ہے۔ کن، فیکون۔ کائنات کی وسعتیں اس کے سامنے سمٹ جاتی ہیں کہ وہی تو اس کائنات کا خالق ہے۔ اسی کے اشارے سے ہوائیں چلتی اور ٹھہرتی ہیں۔ موسم آتے اور موسم جاتے ہیں۔ وہ سورج کو حکم دیتا ہے تو زمین پر دھوپ کی چادر تن جاتی ہے۔ وہ فیصلہ کرتا ہے تو آسمان سے آبشاریں رواں ہو جاتی ہیں۔ اس کے ارادے اور نفاذ میں کوئی قوت حائل نہیں ہوتی۔ کن، فیکون۔

کیا انسانی معاشروں میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے؟ کیا یہاں بھی کسی قوت کے پاس یہ اختیار ہے کہ جب چاہے انسانوں کے خیالات بدل جائیں؟ وہ چاہے تو طبلِ جنگ بجاتے ہاتھ، اچانک بربط کی تاروں پر امن کا نغمہ چھیڑ دیں؟ وہ چاہیں تو زبانیں شعلے اگلنے لگیں اور وہ چاہے تو انہی زبانوں سے پھول جھڑنے لگیں؟ گویا کن فیکون کا علامتی اظہار بن جائیں؟

اہلِ تصوف کہتے ہیں کہ ایسے لوگ ہوتے ہیں۔ انہیں وہ ’رجال الغیب‘ کہتے ہیں۔ وہ مامور ہیں کہ جب چاہیں، زلزلہ برپا کر دیں۔ کسی جہاز کو حادثے سے دوچار کر دیں۔ پلک جھپکنے میں سب کچھ بدل ڈالیں۔ آج نئے پاکستان میں ہم اپنی آنکھوں سے دنیا کو بدلتا دیکھ رہے ہیں۔ جو ناخوب تھا، بتدریج نہیں، یک دم خوب میں بدل رہا ہے۔ دل بدل رہے ہیں، خیالات بدل رہے ہیں، حالات بدل رہے ہیں۔

تو کیا نئے پاکستان میں زمام ِکار ''رجال الغیب'' کے ہاتھ میں ہے؟ عمران خان روحانیت کے بہت قائل ہیں۔ کیا یہ اسی کی جلوہ آرائی ہے کہ دل پھر رہے ہیں اور پرانے لوگ نئی شخصیات میں ڈھل رہے ہیں؟ ہم عقل کے غلاموں کے پاس اِن سوالوں کے جواب نہیں ہیں۔ ہم یہ گواہی ضرور دے سکتے ہیں کہ ہم نے دن رات میں لوگ اور نظریات بدلتے دیکھے ہیں۔ اب کوئی صاحبِ نظر ہی یہ معمہ سلجھا سکتا ہے۔ عقل مندوں کے بارے میں اقبال بھی کہہ گئے ہیں: ترا علاج نظر کے سوا کچھ اور نہیں