یہ ملاقات بڑی دیر کے بعد آئی ہے - جویریہ سعید

فراق کا گھاؤ تازہ ہو تو درد ناقابل برداشت ہوتا ہے۔ روح سارے بدن سے کھنچ کر دل میں سمٹ آتی ہے۔ سارا وجود درد سے دہرا ہوجاتا ہے۔ اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس درد کا درماں موت کے سوا کچھ اور نہیں۔ مگر پھر علم ہوتا ہے کہ یہ جان کنی اتنی آسانی سے تکمیل کو پہنچنے والی نہیں۔ زخم پر کھرنڈ جمنے لگتی ہے۔ روح تڑپ تڑپ کر تھک جاتی ہے۔ احساسات سن ہونے لگتے ہیں اور شعور اردگرد متوجہ ہونا شروع ہوتا ہے۔

اگلے مرحلے میں شعور وجود کو گھسیٹ کر زندگی کے جھمیلوں میں مصروف کرنے کی کوششوں میں لگ جاتا ہے۔ مگر جب جب تنہائی میسر آئے اور دل پہلو سے نکل کر پلنگ کے سرہانے آن بیٹھے اور آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر گفتگو کرنے لگے تو زخم کی دبی دبی سی ٹیسیں ایک بار پھر یوں بپھرتی ہوئی لہروں میں تبدیل ہونے لگتی ہیں کہ لگتا ہے ابھی کل ہی تو ہاتھ چھوٹا تھا۔

ایام فراق میں ایک بہت بڑا جھٹکا امید کی وجہ سے لگتا ہے۔ ابتدائی ایام میں بات بے بات ہی امید بندھنے لگتی ہے۔ ہوا کے جھونکے ، گلی سے آنے والی قدموں کی چاپ، دروازے کا کھٹکا، کسی کی شباہت، کوئی آواز دل کی دھڑکنوں کو بے ترتیب کرتی ہے۔ مگر کئی بار امید بندھ کر ٹوٹ جاۓ تو الیوژن کا ادراک ہوتا ہے اور پھر دھوکا ہی امید کا معنوی ترجمہ بن جاتا ہے۔

ہجر کے ایام اور طویل ہوجائیں تو اس درد کی عادت ہوجاتی ہے۔ اس کے ساتھ رہنا آجاتا ہے۔ ریفلیکسز متحرک ہوجاتے ہیں کہ کون سی چیزیں کھرنڈ کو ادھیڑیں گی، درد کتنی دیر رہے گا، کیفیت کیا ہوگی اور اعصاب کب تھک کر نڈھال ہوجائیں گے تو درد کا احساس جاتا رہے گا۔ علم ہوجاۓ تو خوف اور اضطراب کم ہوجاتا ہے اور اسے ہی رہنا بسنا مینج کرنا کہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   مفہوم محبت - میاں جمشید

اس طویل سناٹے کے بعد اگر حقیقا وصل کا اشارہ ہو تو سوچیے کہ وجود کس طرح سراپا انتظار بنتا ہوگا۔ مگر یہ انتظار بڑا انوکھا ہےکہ دل کو امید کے معنی ازسر نو تبدیل کرنا سکھانا ہے۔ شعور خود کو امید سے حتی الوسع لاپرواہ ظاہر کرتا ہے، مگر وہ ایک شاخ نہال غم جسے دل کہیں ، اس کی تازگی وجود کی گہرائیوں میں جوار بھاٹا اٹھا دیتی ہے۔

ہجر کی طویل رات گزار لینے پر وصل کا اشارہ بڑی محنت سے جماۓ وجود کے اندر کس طرح زلزلے برپا کرتا ہے، امید اور دھوکے کی جنگ سناٹے کی تہوں میں کیسا شور اٹھاتی ہے، وجود پر جمی برف کے اندر کیسے الاؤ دہک اٹھتا ہے، یہ بیان کرنے کو کئی صفحے کالے کیے جاسکتے ہیں۔ مگر شاعر کی خوبی یہ ہے کہ وہ دو مصرعوں میں یا چند اشعار میں یہ ساری داستان بیان کردیتا ہے۔ اور محسوس کرنے والے کے لیے کئی دنوں تک وجد میں رہنے کا سامان ہو جاتا ہے۔ ان اشعار میں آرزو سلگتی ہے مگر ہوس کا شائبہ نہیں ہوتا۔

یہ انتظار کی کسک کی کہانی ہے مگر جس کا انتظار ہے، اس کہانی میں اس کا تذکرہ ہی نہیں۔ اور اسی لیے بہت سے لوگ کسی نہ کسی لحاظ سے انہیں خود سے متعلق پاتے ہیں۔ اور انہیں یہ اپنی کہانی معلوم ہوتے ہیں۔ دو دن گذرے ، یہ اشعار اسی طرح ایک دوسرے عالم کی سیر کروا رہے ہیں۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ یہ وصل عین اس لمحے نصیب ہوگا جب سانس کی آخری ڈور ٹوٹے گی۔

Comments

جویریہ سعید

جویریہ سعید

جویریہ سعید کینیڈا میں رہائش پذیر ہیں. طب اور نفسیات کی تعلیم حاصل کی ہے. ادب، مذہب اور سماجیات دلچسپی کے موضوعات ہیں. لکھنا پڑھنا سیکھنا اور معاشرے کے لیے رضاکارانہ خدمات انجام دیتے رہنا ان کے خصوصی مشاغل ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.