کیا طلاق گالی ہے؟ تزئین حسن

اس مضمون کا مقصد قران میں بار بار مذکور ایک موضوع 'طلاق' کے حوالے سے موجودہ مسلم معاشروں میں جو غیر اسلامی رویہ اور لاعلمی پائی جاتی ہے اور جن کی پیروی دین سمجھ کر کی جاتی ہے کی نشان دہی خود قرانی آیات کی روشنی میں کرنا ہے۔ ہندو معاشرے کی اقدار کو ایک طرف رکھ کر اگر کھلے ذہن سے قرآن کا مطالعہ کیا جائے تو صاف محسوس ہوگا کہ طلاق عورت پر ظلم نہیں بلکہ ناگزیرصورت حال میں زوجین کا حق ہے۔ صرف اسلام ہی وہ واحد الہامی مذہب ہے جو طلاق کو جائز ہی نہیں کرتا بلکہ اسے نہایت آسان بھی بناتا ہے۔ آئیے قرآن کے مصنف کی حکمتیں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ بات واضح رہے کہ اس مضمون کا مقصد لوگوں کو طلاق کی ترغیب دینا نہیں بلکہ جہاں مصالحت ممکن نہ ہو، وہاں کسی زیادتی یا حدود الله کی پامالی سے بچنے کے لیے قران جو احکامات دیتا ہے وہ سامنے لانا ہے۔

شادی کے وقت اس کی عمر سترہ سال تھی اور وہ ساتویں جماعت میں پڑھتی تھی۔ شادی کے بعد اسے علم ہوا کہ اس کا وجیہ، تعلیم یافتہ اور بظاہر سلجھا ہوا اٹھارہ سالہ شوہر اس کے ساتھ رہنا نہیں چاہتا تھا۔ اس نے بڑی مشکل سے سسرال میں ایک سال گزارا۔ اس میں بھی مشکل سے تین ماہ شوہر ساتھ رہا۔ پھر وہ ایک لمبے عرصے کے لیے گھر چھوڑ کر چلا گیا۔ جاتے وقت اس سے کہہ گیا کہ وہ اس کا انتظار نہ کرے۔ وہ اپنے میکے واپس آ گئی۔ اس کا باپ اور بعد ازاں بھائی اس کی پڑھائی اور دیگر اخراجات برداشت کرتے رہے۔ یہاں تک کے تعلیم مکمل کر نے کے بعد ٹیچرز ٹریننگ کر کے وہ سرکاری اسکول میں پڑھانے لگی۔ اس دوران جب اسے خبر ملتی کہ اس کا شوہر سسرال آیا ہے یا آنے والا ہے، وہ سسرال پہنچ جاتی، مگر شوہر اسے دیکھتے ہی گھر چھوڑ کر چلا جاتا۔ آخرکار اس نے ہار مان لی۔ یشودہ بین نامی اس بھارتی ناری کی عمر اب سڑسٹھ سال ہو چکی ہے، مگر پچاس سال تک شادی شدہ زندگی بغیر کسی رفاقت اور مالی معاونت کے گزارنے کے بعد وہ آج بھی دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کی قانونی بیوی ہے۔ قانوناً وہ طلاق لے سکتی ہے مگر اس کے سماج میں طلاق کو بہت برا سمجھا جاتا ہے۔ ستم ظریفی یہ بھی ہے کہ مودی بھی پچھلے پچاس سال سے ازدواجی طور پر تنہا زندگی گزار رہے ہیں۔

پچھلے دنوں انڈیا میں تین طلاق کے مسئلے پر بڑا ہنگامہ ہوا، بہت سے مسلمان اسلام میں طلاق کے اتنا آسان ہونے پر دفاعی پوزیشن پر آ گئے۔ عام طور سے ہندو تہذیب کے زیر اثر برصغیر کے مسلمانوں میں بھی طلاق کو عورت پر ظلم اور اس کے گھر والوں کے لیے بدنامی کا با عث سمجھا جاتا ہے، اور اسی وجہ سے بعض استثنائی صورتوں کو چھوڑ کرعورت ہر طرح کا ظلم برداشت کر کے معاشرے کے طعنوں سے بچنے کے لیے اپنی آخری سانس تک اپنا گھر بچانے کی کوشش کرتی ہے اور اس کے گھر والے بھی اسے یہی مشورہ دیتے ہیں۔ لیکن کیا 'ہر صورت میں گزارا' اس دنیا کے خالق کا بھی منشا ہے؟ دیکھا جائے تو طلاق کا آپشن ایک عورت کے لیے الله کی رحمت ہے۔ مجھے یاد پڑتا ہے مولانا مودودی نے تفہیم القرآن میں آج سے کوئی ستر سال پیشتر یہ لکھا ہے کہ اگر مرد عورت کو پسند نہیں کرتا (اور کسی وجہ سے علیحدگی بھی اختیار نہیں کر سکتا) تو اگر جاہل یا کم پڑھا لکھا ہے تو عورت کے ساتھ مارپیٹ یا گالم گلوچ کرے گا اور اگر پڑھا لکھا ہے تو طعنوں کی مار مارے گا۔ (مولانا کے الفاظ مختلف ہو سکتے ہیں، مفہوم کچھ ایسا ہی ہے) دونوں صورتوں میں عورت روز مرے گی اور روز جیے گی۔ کیا ایسی صورتحال میں دونوں فریقین کی زندگی کو ہمیشہ کے لیے جہنم بنانے کے بجائے سہولت سے علیحدگی بہتر نہیں؟ یہی قرآن کی تعلیمات کا منشا ہے لیکن اس لفظ سے ہم نے ایسے خوفناک تصورات وابستہ کر دیے ہیں کہ ہمارے معاشرے کی ایک مسلمان عورت مر جانا، جسمانی تعذیب، ذہنی ٹارچر یہاں تک کہ ہندو مت کی ماننے والی یشودہ بین کی طرح پچاس سال تک تنہا زندگی، سب کچھ برداشت کر لیتی ہے، لیکن علیحدگی کا نہیں سوچتی۔ حالانکہ جس دین کے ہم ماننے والے ہیں اس کو ہم تک پہنچانے والے نے جن خاتون کا انتخاب کیا انھوں نے طلاق کو اپنے لیے پسند کیا۔ تذکار صحابیات اٹھا کر دیکھیں تو ان میں سے بہت سی طلاق یافتہ تھیں اور تقریباً سب کی متعدد شادیاں بھی ہو چکی تھیں۔ لیکن ان خواتین کے ساتھ کوئی کلنک کا ٹیکا وابستہ نہیں تھا۔ یہ بھی یاد رہے کہ صرف اسلام ہی وہ الہامی دین ہے جو طلاق کی اجازت دیتا ہے، اور نہ صرف اجازت دیتا ہے بلکہ اسے نہایت آسان بھی بناتا ہے۔ قرآن یہاں تک صراحت کرتا ہے کہ اگر بیوی اپنے شوہر کو کچھ مال دے کر بھی اس سے علیحدگی اختیار کرنا چاہے تو کوئی مضائقہ نہیں۔ اہل بصیرت کو اس پر بھی غور کرنا چاہیے، الله کی کتاب اور اس کے رسول کی سیرت اس کے لیے کوئی شرط بھی مقرر نہیں کرتی۔ یہاں تک کہ شیر خور بچے کی موجودگی یا حمل کے دوران طلاق کے بھی مسائل صراحت کے ساتھ قران میں مذکور ہیں۔

خوش اسلوبی سے الگ ہو جانے کی سیرت میں مثال ملتی ہے۔
ہم برصغیر کے مسلمان عموماً طلاق کو عورت پر ظلم گردانتے ہیں لیکن اگر ہم سیرت اور اسلامی تاریخ اٹھا کر دیکھنے تو ہمیں بارہا اس کی مثالیں ملتی ہیں کہ کسی وجہ سے اگر میاں بیوی ایک ساتھ نہ رہ سکے تو خوش اسلوبی سے الگ ہو گئے۔ قرآن اور حدیث کے مطابق اگر الله کی حدود پر قائم نہ رہنے کا اندیشہ ہو تو اپنی مرضی سے علیحدگی اختیار کرنا عورت کے لیے بھی جائز ہے۔ ام المؤمنین حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کی آنحضرت صلیٰ الله علیہ وسلم کے منہ بولے بیٹے حضرت زید رضی الله عنہ سے شادی اور اپنی مرضی سے علیحدگی اختیار کرنا، عورت کے اس حق کے استعمال کی درخشندہ مثال ہے جو قرآن اور اللہ کا دین اسے دیتا ہے- سیرت کے واقعات بتاتے ہیں کہ ان کی شادی آنحضرت کی مرضی سے ہوئی تھی۔ ان کا طلاق کا مطالبہ اس لیے نہیں تھا کہ حضرت زید انھیں خدانخواستہ مارتے پیٹتے تھے یا گھر کا خرچہ نہیں اٹھاتے تھے یا طعنے دیتے تھے، بلکہ صرف اس لیے تھا کہ حضرت زینب رضی اللہ عنہا اپنے اعلیٰ خاندانی پس منظر اور حضرت زید رضی اللہ کے ماضی میں غلام رہنے کے باعث ان کے ساتھ ایڈجسٹ نہیں کر سکیں۔ باری تعالیٰ نے ان کے اس فیصلے کی توثیق کی،لیکن آج ہمارے معاشرے کا کیا چلن ہے؟ کیا یہ ناگزیر صورت میں ہی سہی، کسی بھی عورت کو طلاق کے مطالبے کا حق دیتا ہے؟ اور کیا اس مطالبے کے بعد عورت معاشرے کی نگاہ میں پسندیدہ رہتی ہے؟ ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت زینب اتنی پسندیدہ تھیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں خدا کی مرضی سے اپنی رفاقت کے لیے چنا۔ قرآن یا حدیث میں ہمیں کہیں حضرت زینب رضی اللہ عنہ کی ہم آہنگی اپنے شوہر سے نہ ہونے پر ناپسندیدہ انداز میں تبصرہ نہیں ملتا۔

اسی طرح جدید مملکت سعودیہ کو قائم کرنے والے شاہ عبدالعزیز نے ایک خاتون کو طلاق دینے کے بعد ان سے دوبارہ شادی کی۔ یہ خاتون درمیان میں شاہ کے ایک چھوٹے بھائی کی زوجیت میں رہیں۔ یہ وہی خاتون تھیں جنھوں نے دوسری دفعہ نکاح میں شاہ کے سات بیٹوں کو جنم دیا جو بعد ازاں سدیری برادران کہلائے، اور شاہی خاندان کی طاقتور ترین شاخ کے طور پر ابھرے، جن کے بیٹوں میں شاہ فہد، شاہ سلمان کے علاوہ دو ولی عہد اور پوتوں میں موجودہ اور سابقہ ولی عہد شامل رہے ہیں۔ یہ واقعات بھی ہمیں ہندوستانی مائنڈ سیٹ کے مطابق عجیب محسوس ہو سکتے ہیں لیکن بہرحال ان میں کوئی غیر شرعی بات نہیں۔

اسلام ایک فطری مذہب ہے، اس نے شادی اور طلاق دونوں کو بہت آسان کیا ہے۔ کیا وجہ ہے کہ قرآن دوسرے احکامات اور موضوعات کے مقابلے میں طلاق کو اتنا زیر بحث لاتا ہے؟ ناپسندیدہ قرار دینے کے باوجود آخر طلاق کو جائز کیوں قرار دیا گیا ہے؟ ہندو معاشرے کی اقدار کو ایک طرف رکھ کر اگر کھلے ذہن سے قرآن کا مطالعہ کیا جائے تو صاف محسوس ہوگا کہ طلاق ظلم نہیں، ناگزیر صورت حال میں زوجین کا حق ہے۔ دوسرے درجنوں مذاہب کے مقابلے میں صرف اسلام ہی فرد کو یہ آزادی دیتا ہے۔ آخر کیوں؟ اس لیے کہ اسلام فرد کی آزادی کا قائل ہے۔ کثیر تعداد میں قرانی آیات کو ایک طرف رکھ کرطلاق کو عملاً حرام قرار دینے والوں کا استدلال یہ ہوتا ہے کہ طلاق اللہ کے نزدیک تمام حلال کاموں میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ ہے (ابوداؤد)۔ دراصل ہم نے ہندووانہ کلچر کے ذہنی غلبہ کی وجہ سے اس حدیث کو جواز بنا کر جو طلاق کو حلال نہیں، صرف نا پسندیدہ قرار دے رہی ہے، طلاق کو عملاً لڑکے اور لڑکی، دونوں فریقین کے لیے تقریبا ً حرام قرار دے دیا ہے، حالانکہ حدیث کے الفاظ بلکل واضح ہیں۔

ہندو سنسکار (طریقہ زندگی) میں طلاق کا کوئی تصور نہیں۔ اس کے علاوہ کسی دوسرے مذہب کے صحیفوں میں زوجین کی قانونی علیحدگی کا کوئی تصور اگر ہے تو مجھے اس کا علم نہیں۔ کیتھولک مذہب میں یہ ممنوع ہے۔ مگر اسلام دنیا کا واحد مذہب ہے جو شادی کو انتہائی مقدس قرار دینے کے باوجود میاں بیوی کو ناگزیر صورت حال میں نہ صرف قانونی علیحدگی کی اجازت دیتا ہے بلکہ اس کے طریق کار اور طلاق یا خلع کی صورت میں عورتوں کے حقوق کو بھی کھول کھول کر واضح کرتا ہے۔ اس معاملے کو وہ معاشرتی اقدار یا مرد کی اخلاقیات پر نہیں چھوڑتا۔ یہ واضح رہے کہ اس مضمون کا مقصد تین طلاق کے مسئلے کو زیر بحث لانا نہیں۔ نہ ہی مسلمانوں کو طلاق کی ترغیب دلانا ہے بلکہ قرآنی تعلیمات کی روشنی میں طلاق کے حوالے سے مسلم معاشروں کے غیر اسلامی رویوں کی نشان دہی کرنا ہے۔ آئیے قرانی آیات کی روشنی میں دیکھتے ہیں کہ اس ناپسندیدہ کام کو جائز قرار دینے میں انسان کے خالق اور قرآن کے مصنف کی کیا حکمتیں ہیں۔

زوجین کے ساتھ رہنے کا مقصد ایک دوسرے سے سکون حاصل کرنا ہے۔
سورۂ روم آیت نمبر ٢١ میں قرآن یہ بات واضح کرتا ہے کہ زوجین کا ایک ساتھ رہنے کا مقصد ایک دوسرے سے سکون اور محبت حاصل کرنا ہے۔ "اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمھارے لیے تمھاری ہی جنس سے بیویاں بنائیں تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو اور تمھارے درمیان محبّت اور رحمت پیدا کردی، یقیناً اس میں بہت سی نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو غور و فکر کرتے ہیں۔"

یہ بنیادی نکتہ ذہن میں رکھنا اس لیے ضروری ہے کہ ہماری شادیوں میں سب کچھ دیکھا جاتا ہے سوائے اس ایک نکتے کے۔ شادی سے پیشتر جہیز، بری، لڑکی کا سگھڑاپا اور لڑکے کی تنخواہ، لڑکے لڑکی کی تعلیم، ذات پات سب کچھ زیربحث آتا ہے، اگر نہیں آتا تو یہ کہ یہ دونوں ایک دوسرے کے لیے پیار محبت کے جذبات رکھ سکیں گے یا نہیں؟ اکثر یہ بات دیکھی گئی ہے کہ لڑکے کی والدہ ماجدہ لڑکی والوں سے یہ پوچھتی ہوئی نظر آتی ہے کہ ہمارے بیٹے کو فلاں ڈش بہت پسند ہے، وہ لڑکی کو بنانی آتی ہے یا نہیں؟ لیکن انھیں والدہ کو اس بات سے قطعاً کوئی غرض نہیں ہوتی کے ان کے بیٹے کی اپنی شریک حیات سے ذہنی ہم آہنگی کیسے ہوگی اور نہ ہوگی تو وہ خوش کیسے رہے گا؟ شادی کے بعد لڑکے سے بجا طور پر مسلم معاشروں میں یہ امید رکھی جاتی ہے کہ کہ وہ گھرانے کے مالی معاملات کی ذمہ داری اٹھائیں گے اور لڑکی گھر کے کاموں کی ذمہ داری، اور عموماً یہ دونوں اپنے فرائض کی انجام دہی سے غفلت نہیں برتتے، لیکن اس کے ساتھ انہیں اس یاد دہانی کی ضرورت ہے کہ شادی کا مقصد سکون اور محبت ہے اور ذہنی ہم آہنگی کو بڑھا نے کے لیے بھی ان کو قریب کرنے کی ضرورت ہے جسے ہمارے ہاں قطعی نظرانداز کیا جاتا ہے۔

مسائل اس وقت کھڑے ہوتے ہیں جب زندگی کی روٹین میں یہ محبت کم ہونا شروع ہو جائے، یا ایک دوسرے سے بہت سی امیدیں وابستہ کر لی جائیں، یا کسی وجہ سے زوجین اپنی ذمہ داریاں نہ اٹھا سکیں، یا آس پاس کے لوگوں کی دخل اندازی موجود ہو، انڈرسٹینڈنگ کے فقدان کی وجہ سے تلخیاں شروع ہوتی ہیں۔ اور ایک فریق اور کبھی کبھی دونوں فریقین بالآخر علیحدگی کے بارے میں سوچنا شروع کر دیتا ہے۔ اس سوچ کی وجہ کچھ بھی ہو، اللہ کی کتاب علیحدگی تک نوبت آنے سے پہلے مصالحت پر زور دیتی ہے۔ یہاں تک کہ حقوق و فرائض کی کمی بیشی پر بھی۔

قران مصالحت کی کوشش کا طریقہ کار بتاتا ہے
سورۂ نساء آیت نمبر ٣٥ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: "اور اگر تم لوگوں کو کہیں میاں اور بیوی کے تعلقات بگڑ جانے کا اندیشہ ہو تو ایک حَکم مرد کے رشتہ داروں میں سے اور ایک عورت کے رشتہ داروں میں سے مقرر کرو، وہ دونوں اصلاح کرنا چاہیں گے تو اللہ اُن کے درمیان موافقت کی صورت نکال دے گا، اللہ سب کچھ جانتا ہے اور باخبر ہے"

حقوق کی کمی بیشی پر مصالحت
اسی طرح زوجین کو یہ بھی ترغیب دلوائی گئی کہ حقوق کی کمی بیشی پر بھی مصالحت کر سکتے ہو تو کر لو، مثلاً اگر شوہر دوسری شادی کر لے اور پہلی بیوی علیحدگی نہ چاہتی ہو تو وہ اپنا کوئی حق چھوڑ دے یا اگر مرد مالی ذمہ داری نہ اٹھا سکے تو عورت اس میں معاون ہوجائے، اور مالی ذمہ داری اٹھانے کے ساتھ گھر کا انتظام اگر عورت خوش اسلوبی سے چلا رہی ہے تو مرد اسے منتظم مان لے۔ یا اگر عورت خدمت نہ کر سکتی ہو تو مرد علیحدگی سے بچنے کے لیے اس پر راضی ہو جائے-" جب کسی عورت کو اپنے شوہر سے بدسلوکی یا بےرخی کا خطرہ ہو تو کوئی مضائقہ نہیں اگر میاں اور بیوی (کچھ حقوق کی کمی بیشی پر) آپس میں صلح کر لیں، صلح بہرحال بہتر ہے، نفس تنگ دلی کے طرف جلدی مائل ہو جاتے ہیں، لیکن اگر تم لوگ احسان سے پیش آؤ اور خدا ترسی سے کام لو تو یقین رکھو کہ اللہ تمہارے اس طرز عمل سے بےخبر نہ ہوگا" ( سورہ النساء، آیت 128)

علیحدگی کی صورت میں زوجین کو ایک دوسرے سے غنی کرنے کا وعدہ کرتا ہے
سورۂ بقرہ آیت نمبر ٢٢٧ میں کہا گیا کہ اللہ تمہیں دیکھ رہا ہے کہ علیحدگی میں تم کیا طرز عمل اختیار کرتے ہو؟ "اور اگر اُنھوں نے طلاق ہی کی ٹھان لی ہو تو جانے رہیں کہ اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔"

لیکن اس مصالحت کے بعد بھی اگر ایک فریق کسی بھی طرح ساتھ رہنے پر راضی نہ ہو، چاہے وہ عورت ہو یا مرد، تو اللہ اس بات کی گارنٹی دے رہا ہے کہ وہ دونوں کو ایک دوسرے کی محتاجی سے آزاد کر دے گا۔ سورۂ نساء آیات نمبر ١٣٠ میں ارشاد بار تعالیٰ ہے: "لیکن اگر زوجین ایک دوسرے سے الگ ہی ہو جائیں تو اللہ اپنی وسیع قدرت سے ہر ایک کو دوسرے کی محتاجی سے بے نیاز کر دے گا اللہ کا دامن بہت کشادہ ہے اور وہ دانا و بینا ہے۔"

یہ وہ آیت ہے جسے نہ جانے کیوں ہمارے مذہبی علماء زیر بحث لانے میں ہچکچاتے ہیں۔ ہمارے ذہن اتنے مفلوج ہو چکے ہیں کہ ہم قرآن کے واضح احکامات کو نظر انداز کرتے ہیں بلکہ دین کے نام پر قران کی تعلیمات سے متصادم باتیں دروس میں بھی دہراتے ہیں۔ یہ بات یاد رہے کہ عام طور سے طلاق کا فیصلہ مرد کرتا ہے، عورت ہر صورت میں اپنے گھر کو بچانا چاہتی ہے۔

الله کی حدود پر قائم نہ رہ سکنے کا اندیشہ ہو تو طلاق بہتر ہے
قرآن اور حدیث جن الفاظ میں طلاق کی ضرورت کو بیان کرتے ہیں اس پر ذرا غور کریں۔ وہ یہ نہیں کہتے کہ فلاں عورت بہت بری ہے یا فلاں مرد بہت برا ہے اس لیے طلاق لو۔ اس کے بجائے وہ کہتا ہے اگر زوجین کو اللہ کی حدود کی پامالی کا اندیشہ ہو تو وہ علیحدہ ہو سکتے ہیں۔ سورۂ بقرہ آیات نمبر ٢٢٩ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: "طلاق دو بار ہے پھر یا تو سیدھی طرح عورت کو روک لیا جائے یا بھلے طریقے سے اس کو رخصت کر دیا جائے اور رخصت کر تے ہوئے ایسا کرنا تمہارے لیے جائز نہیں ہے کہ جو کچھ تم انہیں دے چکے ہو، اُس میں سے کچھ واپس لے لو البتہ یہ صورت مستثنیٰ ہے کہ زوجین کو اللہ کے حدود پر قائم نہ رہ سکنے کا اندیشہ ہو ایسی صورت میں اگر تمہیں یہ خوف ہو کہ وہ دونوں حدود الٰہی پر قائم نہ رہیں گے، تو اُن دونوں کے درمیان یہ معاملہ ہو جانے میں مضائقہ نہیں کہ عورت اپنے شوہر کو کچھ معاوضہ دے کر علیحدگی حاصل کر لے یہ اللہ کے مقرر کردہ حدود ہیں، اِن سے تجاوز نہ کرو اور جو لوگ حدود الٰہی سے تجاوز کریں، وہی ظالم ہیں۔"

یہ بھی پڑھیں:   مسابقت - بشری تسنیم ڈاکٹر

سبحان اللہ کیا خوبصورت الفاظ ہیں: زوجین کو اللہ کے حدود پر قائم نہ رہ سکنے کا اندیشہ ہو، ایسی صورت میں اگر تمہیں یہ خوف ہو کہ وہ دونوں حدود الٰہی پر قائم نہ رہیں گے۔ آنکھیں کھول کر ہم ان آیات کو پڑھیں تو انسانی نفسیات پر اتنا حقیقت پر مبنی تبصرہ انسان کا خالق ہی کر سکتا تھا۔ اسے ساتویں صدی میں اس بات کا احساس تھا کہ بعض ناگزیر صورتوں میں مرد اور عورت کے گناہ یا غیر اخلاقی طرزعمل کا شکار ہونے کا اندیشہ ہو سکتا ہے۔ اور ایسی سورتوں میں طلاق ناگزیر ہی نہیں، دونوں فریقین کی آئندہ زندگی کے لیے خوش آئند بھی ثابت ہوگی۔

یاد رہے یہاں عورت سے بھی یہ کہا جا رہا ہے کہ وہ اللہ کی حدود کی پامالی کا خوف محسوس کر رہی ہے تو کچھ دے دلا کر جان چھڑائے، بجائے ایسے رشتے میں رہنے کے جس میں گناہ کا اندیشہ ہو۔ اس کے علاوہ اگر ایک دوسرے کے حقوق خوش دلی سے ادا نہ کر سکنا بھی دراصل حدود پر قائم نہ رہنا ہے، یا زبانی کلامی تلخی کا بہت زیادہ بڑھ جانا جو دراصل ذہنی کیفیت ہی کا آئینہ دار ہوتا ہے۔

یہ بات یاد رہے کہ خلع یا علیحدگی عورت کی خواہش پر ہو تو مذہبی تعلیمات کے مطابق عورت کو مہر کی رقم واپس کرنی پڑتی ہے۔ یہ چیز اتنی اہم ہے کہ فتح مکہ سے پہلے مسلمان عورتیں جن کے شوہر کافر تھے، انھیں مکہ والوں کو لوٹانے کی ممانعت آگئی تھی، مگر اس کے ساتھ ان کے مہر لوٹانے کا بھی حکم تھا۔

شرعی علیحدگی کی تین سورتیں
یہاں ایک بہت اہم شرعی مسئلے کو سمجھنا بہت ضروری ہے کہ علیحدگی کی تین صورتیں ہوتی ہیں: ایک طلاق جو مرد کی خواہش پر ہوتی ہے اور جس کا مرد کو اختیار ہے۔ دوسری خلع� یہ عورت کی خواہش پر ہوتی ہے لیکن اس کا اختیار بھی مرد ہی کو دیا گیا ہے۔ اگر مرد نہ چاہے تو وہ خلع نہ دے۔ لیکن ایک تیسری صورت بھی موجود ہے جو فسخ نکاح کہلاتی ہے اور یہ اس صورت میں ہے جب عورت کی خواہش کے باوجود مرد خلع دینے پر راضی نہ ہو۔ فسخ نکاح عدالت کے ذریعے ہوتی ہے اور اس کے لیے صرف عورت کا اظہار کافی ہے کہ وہ بہ رضا و رغبت اس مرد کے ساتھ رہنا نہیں چاہتی۔ صحیح بخاری کی حدیث ہے: حبیبہ بنت سہل راضی الله انحضرت صلیٰ الله علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں کہ میرے شوہر ثابت بن قیس میں مذہب اور کردار کے حوالے سے کوئی خرابی نہیں پاتی، لیکن مجھے ڈر ہے کہ [اگر ان کے ساتھ رہی تو] میں اللہ کی نعمتوں کی نا شکری ہو جاؤں گی- اللہ کے رسول نے ان سے صرف یہ پوچھا کیا تم [مہر میں ملا ہوا] باغ ثابت کو واپس کرنے کو تیار ہو؟ انہوں نے اثبات میں جواب دیا تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نکاح کو ختم کر دیا۔

نامعلوم کن وجوہات کی بناء پر ہمارے معاشرے میں خلع کی اصطلاح کا اک غلط تصور رائج ہو گیا ہے کہ فسخ نکاح کو خلع کہا جانے لگا۔ پچھلے دنوں میں ایک کثیر الاشاعتی قومی اخبار میں یہ پڑھ کر حیران رہ گئی کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کے مطابق مرد کی مرضی کے بغیر خلع نہیں ہو سکتی۔ اگر مرد خلع کے مقدموں میں عدالت میں حاضر نہ ہو تو بھی خلع نہیں دی جائے گی۔ مختلف ذرائع سے ہوم ورک کے بعد اکنا کینیڈا کے سابق پریذیڈنٹ اقبال ندوی نے میرا مخمصہ دور کیا کہ نکاح ختم کرنے کا اختیار عدالت کو اس وقت ہوتاہے جب عورت کی خواہش کے باوجود مرد اسے آزاد کرنے پر راضی نہ ہو لیکن اسے خلع نہیں فسخ نکاح کہا جاتا ہے، لیکن صورت حال یہ ہے کہ یہ باریک نہیں بلکہ بہت بڑا فرق ہمارے عوام الناس کو ہی نہیں پڑھے لکھے لوگوں کو بھی نہیں معلوم۔

اس حدیث سے یہ بات واضح ہے کہ عورت بھی علیحدگی کی خواہش کر سکتی ہے اور اگر شوہر راضی نہ ہو تو عدالت سے رجوع کر سکتی ہے لیکن خود براہ راست نہیں دے سکتی۔ عدالت نکاح فسخ کرنے کی پابند ہے چاہے بظاہر کوئی معقول وجہ نہ ہو۔ لیکن ہماری عدالتوں کا جو ماحول ہے اور جس طرح اس بیچاری عورت کو دھکے کھانے پڑتے ہیں، میرا خیال ہے علیحدگی کی خواہش مند خواتین کو بہت نامناسب ماحول کو برداشت کرنا پڑتا ہو گا۔ ایک استثنیٰ یہ بھی ہے کہ عورت چاہے اور فریقین راضی ہوں تو نکاح نامہ میں عورت کو طلاق کا اختیار دینے کی شق پر اتفاق ہو سکتا ہے۔ اس طرح عورت کو عدالت جانے کی ضرورت نہیں ہو گی۔ ڈاکٹر ذاکر نائیک کے مطابق یہ طلاق طلاق تفویض کہلاتی ہے۔ دوبارہ یاد دلا دیں کہ اس مضمون کا مقصد طلاق کی ترغیب دینا نہیں بلکہ غلط فہمیوں کی نشان دہی کرنا ہے۔

حالیہ دنوں میں ایک چیز یہ دیکھنے میں آئی ہے کہ بعض خواتین اور ان کے گھر والے مہر بچانے اور دوسرے مالی فوائد کی وجہ سے بجائے خلع یا فسخ نکاح، طلاق پر اصرار کرتے ہیں جو شرعاً درست نہیں۔ سورۂ بقرہ آیات نمبر ٢٢٨ سے ٢٣١ تک کچھ ضروری مسائل واضح کیے گئے ہیں۔ آیت نمبر ٢٢٨ میں کہا گیا کہ ایک عام عورت کی عدت تین ماہواری، حملہ کی وضع حمل تک اور جن عورتوں کو ماہواری نہ آتی ہو ان کی چار مہینے ہے۔ قرآن کے مطابق عدت کے دوران شوہر رجوع کر سکتا ہے۔ "جن عورتوں کو طلاق دی گئی ہو، وہ تین مرتبہ ایام ماہواری آنے تک اپنے آپ کو روکے رکھیں اور اُن کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ اللہ نے اُن کے رحم میں جو کچھ خلق فرمایا ہو، اُسے چھپائیں اُنہیں ہرگز ایسا نہ کرنا چاہیے، اگر وہ اللہ اور روز آخر پر ایمان رکھتی ہیں، اُن کے شوہر تعلقات درست کر لینے پر آمادہ ہوں، تو وہ اِس عدت کے دوران اُنہیں پھر اپنی زوجیت میں واپس لے لینے کے حق دار ہیں عورتوں کے لیے بھی معروف طریقے پر ویسے ہی حقوق ہیں، جیسے مردوں کے حقوق اُن پر ہیں البتہ مردوں کو اُن پر ایک درجہ حاصل ہے اور سب پر اللہ غالب اقتدار رکھنے والا اور حکیم و دانا موجود ہے۔"

الله حقوق کی بات بھی اس آیت میں چھیڑ رہا ہے اور ساتویں صدی میں یہ بھی واضح کر رہا ہے کہ عورتوں کے بھی حقوق ہیں مگر مردوں کو ایک درجہ زیادہ دیا گیا ہے۔ طلاق لٹکانے یا اس میں عورت کو تنگ کرنے کی بہت ممانعت آئی ہے۔ آیت نمبر ٢٢٩ کے مطابق: "طلاق دو بار ہے پھر یا تو سیدھی طرح عورت کو روک لیا جائے یا بھلے طریقے سے اس کو رخصت کر دیا جائے اور رخصت کر تے ہوئے ایسا کرنا تمہارے لیے جائز نہیں ہے کہ جو کچھ تم انہیں دے چکے ہو، اُس میں سے کچھ واپس لے لو۔"

آیت نمبر ٢٣٠ میں حلالہ کا حکم ہے مگر اسکا مطلب بھی بر صغیر مےن بہت غلط لیا جاتا ہے۔ حلالہ کوئی طلاق دی ہوئی عورت کو حلال کرنے کا طریقہ نہیں بلکہ اگر کوئی عورت اپنی مرضی سے کسی سے شادی کر لے اور پھر بیوہ ہو جائے یا دوبارہ طلاق لے لے تو وہ اپنے پہلے شوہر سے جس سے تین طلاقیں مل چکی ہیں، دوبارہ شادی کر سکتی ہے۔ "پھر اگر (دو بارہ طلاق دینے کے بعد شوہر نے عورت کو تیسری بار) طلاق دے دی تو وہ عورت پھر اس کے لیے حلال نہ ہوگی، الّا یہ کہ اس کا نکاح کسی دوسرے شخص سے ہو اور وہ اسے طلاق دے دے، تب اگر پہلا شوہر اور یہ عورت دونوں یہ خیال کریں کہ حدود الہی پر قائم رہیں گے، تو ان کے لیے ایک دوسرے کی طرف رجو ع کر لینے میں کوئی مضائقہ نہیں، یہ اللہ کی مقرر کردہ حدیں ہیں، جنھیں وہ اُن لوگوں کی ہدایت کے لیے واضح کر رہا ہے، جو (اس کی حدود کو توڑنے کا انجام) جانتے ہیں۔"

یہاں ایک بہت اہم نکتہ یہ ہے کہ اگر صرف ایک ہی دفعہ طلاق دی تھی اور عدت کے دوران رجوع نہیں کیا تو آئندہ کبھی بھی بغیر کسی اور شرط آپس کی رضامندی سے دوبارہ شادی جائز ہوگی۔ پھر اگر دوبارہ اسی طرح علیحدگی ہو گئی تو بھی دوبارہ شادی جائز ہو گی۔ آیت نمبر ٢٣١ میں انہیں ستانے سے پرہیز کا حکم ہے اور کتاب کا احترام ملحوظ رکھنے کا واسطہ دیا گیا ہے: "اور جب تم عورتوں کو طلاق دے دو اور ان کی عدت پوری ہونے کو آ جائے، تو یا بھلے طریقے سے انہیں روک لو یا بھلے طریقے سے رخصت کر دو محض ستانے کی خاطر انہیں نہ روکے رکھنا یہ زیادتی ہوگی اور جو ایسا کرے گا، وہ درحقیقت آپ اپنے ہی اوپر ظلم کرے گا اللہ کی آیات کا کھیل نہ بناؤ بھول نہ جاؤ کہ اللہ نے کس نعمت عظمیٰ سے تمہیں سرفراز کیا ہے وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے کہ جو کتاب اور حکمت اُس نے تم پر نازل کی ہے، اس کا احترام ملحوظ رکھو اللہ سے ڈرو اور خوب جان لو کہ اللہ کو ہر بات کی خبر ہے۔"

اسلامی ملک میں عدالتوں کا رویہ
ہمارے ہاں مسئلہ کچھ یوں ہے کہ عدالتیں خلع کے مقدمات کو غیر معینہ مدت کے لیے لٹکاتی ہیں۔ شوہر عدالت میں حاضر نہ ہوں تو پیشیاں بڑھائی ہے۔ شوہر خود تو شادی کے لیے آزاد ہوتاہے لیکن تنگ کرنا چاہے تو اس طرح بیوی کو لٹکانا چاہتا ہے۔ خاتون وکیل روبینہ سحر ممتاز کا کہنا ہے کہ حالیہ چند برسوں میں اس ٹرینڈ میں کمی آئی ہے اور اب عدالتیں تین چار پیشیوں میں خلع (پاکستانی قانون اسے خلع ہی کہتا ہے) مقدمات نمٹا دیتی ہیں۔

ایک عورت کن حالت میں یہ فیصلہ کرتی ہے۔ یہ اس کا اللہ یا اس سے پیار کرنے والے ہی جانتے ہیں۔ کن مشکلات سے عدالت تک پہنچتی ہے۔ عدالت کے ماحول کو کسی طرح برداشت کرتی ہے۔ یہ بھی اس کا اللہ ہی جانتا ہے۔ عورت کو خود اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ اس علیحدگی کے بعد طلاق کو عورت کے لیے گالی سمجھنے والا معاشرہ اس کے ساتھ کیا سلوک کرے گا۔ اس کے بعد بھی اگر وہ یہ فیصلہ کرتی ہے تو ظاہر ہے سوچ سمجھ کر کرتی ہے، اور اللہ اور اس کے رسول نے اسے اس کا حق دیا ہے۔ اس کے بعد اگر ہمارے اسلامی نظریاتی کونسل کی تجویز مرتب کرنے والے اس کی خلع کو خاوند کی مرضی سے منسلک کرنا چاہیں یا خاوند کے عدالت میں حاضر نہ ہونے پر فیصلہ معطل کیے رکھیں تو میرا خیال ہے اس سے بڑا ظلم کوئی نہیں۔

اس موضوع پر ریسرچ کرتے ہوئے ایک بہت مقبول مولانا کی ایک یو ٹیوب ویڈیو سننے کا اتفاق ہوا، ان کا کہنا تھا کہ عدالت کو نکاح ختم ہونے کا کوئی اختیار نہیں۔ ایک دفعہ جب شادی ہو جائے تو عورت شوہر کی ملکیت ہو جاتی ہے۔ شوہر چاہے تو علیحدگی ہوگی ورنہ نہیں۔ یاد رہے دوسری شادی کو تقریباً فرض قرار دینے والے ان مولانا کی ہر یوٹیوب ویڈیوز پر ملینز کی تعداد میں ویوز ہوتے ہیں۔ یہ لوگ ببانگ دہل قرآن سے متصادم تعلیمات سے قوم کی ذہن سازی کر رہے ہیں۔ جس قوم کو ایسی دینی قیادت میسر ہو، اس کے دیندار طبقات سے کیا امید رکھی جا سکتی ہے، اس کا فیصلہ میں قاری پر چھوڑتی ہوں۔ اسلامی نظریاتی کونسل کو یہ بات واضح کرنی چاہیے کہ اصطلاح مختلف ہے مگر عدالت کو فسخ نکاح کا حق ہے۔

رخصتی سے پہلے بھی علیحدگی کی اجازت
آگے بڑھنے سے پہلے ایک اور اہم پہلو بھی ڈسکس کر لیں کہ گو یہ چیز عموماً معاشرے کے طعنوں کی وجہ سے لڑکی اور اس کے گھر والوں کے لیے بہت تکلیف دہ ہوتی ہے، مگر کبھی کبھی رخصتی سے پہلے نکاح کے بعد ایک دوسرے کی شخصیت کے کچھ ایسے پہلو سامنے آ جاتے ہیں کہ مستقبل میں رشتہ نبھانا ناممکن یا مشکل نظر آتا ہے۔ ایسے میں باری تعالی رشتوں کو زبردستی محض دنیا کی طعنوں سے بچنے کے لیے قائم رکھنے کے بجائے ختم کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ سورۂ بقرہ آیات نمبر ٢٣٦ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: "تم پر کچھ گنا ہ نہیں، اگر اپنی تم عورتوں کو طلاق دے دو، قبل اس کے کہ ہاتھ لگانے کی نوبت آئے یا مہر مقرر ہو اس صورت میں اُنہیں کچھ نہ کچھ دینا ضرور چاہیے، خوشحال آدمی اپنی مقدرت کے مطابق اور غریب اپنی مقدرت کے مطابق معروف طریقہ سے دے یہ حق ہے نیک آدمیوں پر۔"

زوجین کو علیحدگی کے وقت فیاضی کا حکم آگے جا کر دونوں فریقین کو فیاضی کی ترغیب دلائی گئی ہے عورت کو بھی اور مرد کو بھی۔ ہمارے ہاں یہ بات فرض کر لی جاتی ہے کہ علیحدگی ہوئی ہے تو دونوں ایک دوسرے کے جانی دشمن ہوں گے۔ حالانکہ اسلام اس حال میں بھی انہیں اللہ سے ڈرنے اور ایک دوسرے کے ساتھ فیاضی کا رویہ اختیار کرنے والا بناتا ہے۔ آیات نمبر ٢٣٧ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: "اور اگر تم نے ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دی ہے، لیکن مہر مقرر کیا جا چکا ہو، تو اس صورت میں نصف مہر دینا ہوگا۔ یہ اور بات ہے کہ عورت نرمی برتے (اور مہر نہ لے) یا وہ مرد، جس کے اختیار میں عقد نکاح ہے، نرمی سے کام لے (اور پورا مہر دے دے)، اور تم (یعنی مرد) نرمی سے کام لو، تو یہ تقویٰ سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے آپس کے معاملات میں فیاضی کو نہ بھولو، تمہارے اعمال کو اللہ دیکھ رہا ہے۔"

زیر نظر وہ آیات ہیں جن کی تلاوت کے دوران مجھے محسوس ہوتا ہے کہ خلق کائنات کا دل اپنی اس کمزور مخلوق کی محبت میں تڑپ رہا ہے۔ سورۂ بقرہ آیات نمبر ٢٢٩ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: "[طلاق کے بعد] رخصت کر تے ہوئے ایسا کرنا تمہارے لیے جائز نہیں ہے کہ جو کچھ تم انھیں دے چکے ہو، اُس میں سے کچھ واپس لے لو۔" سورہ البقرہ کی آیت 241 ارشاد ہے: "اِسی طرح جن عورتوں کو طلاق دی گئی ہو، انہیں بھی مناسب طور پر کچھ نہ کچھ دے کر رخصت کیا جائے یہ حق ہے متقی لوگوں پر۔" اسی طرح مرد کو حکم دیا گیا کہ ایک کی جگہ دوسری بیوی لانا چاہو تو پہلی سے کوئی مال واپس لینے کا تمہیں حق نہیں۔

میرا رب خواتین کے حقوق کے لیے کتنا سنجیدہ ہے اور اس معاملے میں کتنی باریک بینی سے اس کی ضروریات کا خیال رکھا گیا ہے، اس کا اندازہ سورۂ بقرہ کی آیت ٢٣٣ سے ہوتا ہے جس میں شیر خوار بچے کی ماں کا نان نفقہ کا ذمہ دار طلاق دینے والے شوہر کو بنایا گیا ہے۔ "جو باپ چاہتے ہوں کہ ان کی اولا د پوری مدت رضاعت تک دودھ پیے، تو مائیں اپنے بچوں کو کامل دو سال دودھ پلائیں اِس صورت میں بچے کے باپ کو معروف طریقے سے انھیں کھانا کپڑا دینا ہوگا۔"

یعنی اللہ کو احساس ہے کہ ایک اکیلی عورت بچے کے ساتھ کسب معاش کی جدوجہد نہیں کر سکتی۔ یہ شیر خوار بچے کی ماں کی زندگی کے وہ نازک پہلو ہیں جنہیں ہمارا معاشرہ آج بھی بےحسی سے نظر انداز کرتا ہے، لیکن یہ بھی یاد رہے کہ الله کی کتاب ماں کے حمل اور بچے کی شیر خوارگی کے عرصے میں بھی طلاق کی ممانعت نہیں کر رہی۔

یہ بھی پڑھیں:   نکاح والی رات بات، نکاح والی رات ملاقات - صدام حسین

آگے چل کر بقرہ کی اسی آیت نمبر ٢٣٣ میں اس بات کی بھی حوصلہ شکنی کی گئی کہ مرد پر اس کی استطاعت سے زیادہ بوجھ ڈالا جائے کہ میرا رب اس کا بھی رب ہے: "مگر کسی پر اس کی وسعت سے بڑھ کر بار نہ ڈالنا چاہیے نہ تو ماں کو اِس وجہ سے تکلیف میں ڈالا جائے کہ بچہ اس کا ہے، اور نہ باپ ہی کو اس وجہ سے تنگ کیا جائے کہ بچہ اس کا ہے دودھ پلانے والی کا یہ حق جیسا بچے کے باپ پر ہے ویسا ہی اس کے وارث پر بھی ہے لیکن اگر فریقین باہمی رضامندی اور مشورے سے دودھ چھڑانا چاہیں، تو ایسا کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں اور اگر تمہارا خیال اپنی اولاد کو کسی غیر عورت سے دودھ پلوانے کا ہو، تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں بشرطیکہ اس کا جو کچھ معاوضہ طے کرو، وہ معروف طریقے پر ادا کر دو اللہ سے ڈرو اور جان رکھو کہ جو کچھ تم کرتے ہو، سب اللہ کی نظر میں ہے۔"

ایک بہت بڑی غلط فہمی مسلم معاشروں میں یہ بھی پائی جاتی ہے کہ بچے کو دودھ پلانا ماں کے لیے ہی ضروری ہے۔ اللہ اس آیات میں بالکل واضح کر رہا ہے کہ اگرباپ چاہے کے دودھ ماں پلائے تو اسے نان نفقہ دینا ہوگا۔ اور اس معاملے میں ماں یا باپ دونوں کو بلا وجہ تنگ نہ کیا جائے۔ کسی غیرعورت کو معاوضہ دے کر بھی پلوایا جا سکتا ہے۔ یہ غلط تصورات مسلم معاشروں کے دماغ میں کس نے بٹھائے ہیں؟ یہ بات دہرانے کی ضرورت نہیں کہ عائلی معاملات میں ہمارے دینی طبقات پر ہندو مت کے عقائد اور روایات کس طرح حاوی ہیں۔

عدت کے دوران اشاروں کنایوں میں رشتہ کا اظہار کرنے کی اجازت ہے
پچھلے دنوں تحریک انصاف کی چئیرمین کی شادی پر ملک میں ایک ہنگامہ برپا ہو گیا۔ عام افراد تو ایک طرف میری ایک نیک دیندار تحریک انصاف کی حامی دوست کا بھی خیال تھا کہ یہ آدمی ہمیشہ غلط انتخاب کرتا ہے۔ میرے استفسار پر کہ کیا غلط کر دیا؟ دعوت دین کے مشن سے وابستہ بیس سال سے مغرب میں قیام پذیر پڑھی لکھی انتہائی سلجھی ہوئی خاتون کا یہ کہنا تھا کہ پانچ بچوں کی ماں وہ بھی طلاق یافتہ۔ یہ انتخاب صحیح کیسے ہو سکتا ہے؟ پتہ نہیں انھیں اورآدھے پاکستان کو طلاق یافتہ پر زیادہ اعتراض تھا یا پانچ جوان شادی شدہ بچوں پر۔ یہاں کسی کی سیاسی حمایت یا مخالفت مطلوب نہیں، صرف قرانی احکامات کی یاد دھانی مطلوب ہے۔

یہ بات ہم میں سے ہر فرد جانتا ہے کہ قران طلاق کے بعد شادی کے لیے عمر کی کوئی حد نہ تو بیوی کے لیے مقرر کرتا ہے اور نہ ہی شوہر کے لیے۔ اس کے علاوہ بچوں کی تعداد اور عمر سے بھی شادی جیسی سنت کا کوئی تعلق نہیں۔ مگر چونکہ ہم بہت عرصے ہندو تہذیب کے زیر اثر رہے ہیں، اس لیے الله کی دی ہوئی یہ جائز اجازتیں ہمارے حلق سے نہیں اترتیں۔

طلاق کے معاملات سے معاشرے اور دینی طبقات کے دو مزید غلط رویہ تجسس اور گمان بھی ہیں جن کی سورۂ حجرات میں ممانعت آئی ہے، لیکن افسوس ایسے کسی بھی واقعہ پر معاشرے کی ڈھکی ہوئی غلاظت ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا پر بےنقاب ہو جاتی ہے۔ ایسے معاملات میں ہمارا تجسس اپنے عروج پر ہوتا ہے کہ اگر طلاق ہوئی تو کیوں ہوئی؟ خلع کا مطلب ہی یہ لیا جاتا ہے کہ عورت بد کردار ہے اور اس کی پہلے سے کہیں سیٹنگ تھی ورنہ کیوں خلع لیتی۔ تحریک انصاف کے حامیوں کو چھوڑ کر عمومی اتفاق رائے یہ تھا کہ خاتون نے عمران خان سے افئیر کی وجہ سے پانچ بچوں کی موجودگی میں طلاق لیکر بہت برا کام کیا ہے۔ خاتون کو پیرنی کہہ کر ان کا مضحکہ اڑایا گیا اور اس میں سیکولر لبرل افراد تو پیش پیش تھے ہی، ہمارے بہت سے دینی سوچ کے حامل بھی پیچھے نہ تھے۔ مکہ مکرمہ سے ایک حفظ کی طالبہ خاتون کا کہنا تھا کہ یہ بات بالکل واضح ہے کہ طلاق عمران سے شادی ہی کی وجہ سے لی گئی ہے۔ حالانکہ خاتون کے شوہر، بچے، گھر والے سب نے اس بات کو مسترد کیا- لیکن تجسس سے مجبور عوام کے لیے اسٹوری مکمل کرنے کے لیے عمر چیمہ کی گمان پر مبنی کہانی پر یقین ضروری تھا۔ اس لیے ہم سب نے متفقہ طور پر قرآن کا یہ حکم ایک طرف رکھ دیا: "آئے ایمان لانے والو بہت گمان کرنے سے پرہیز کرو-" اور "تجسس نہ کرو۔ "

آئیے دیکھتے ہیں قرآن اس بارے میں کیا کہتا ہے۔ سورۂ بقرہ آیات نمبر ٢٣٢ میں یہ واضح کیا گیا کہ اگر اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتے ہو تو طلاق کے بعد اپنی بیویوں سے دوبارہ شادی میں رکاوٹ نہ بنو- "جب تم اپنی عورتوں کو طلاق دے چکو اور وہ اپنی عدت پوری کر لیں، تو پھر اس میں مانع نہ ہو کہ وہ اپنے زیر تجویز شوہروں سے نکاح کر لیں، جبکہ وہ معروف طریقے سے باہم مناکحت پر راضی ہوں۔ تمہیں نصیحت کی جاتی ہے کہ ایسی حرکت ہرگز نہ کرنا، اگر تم اللہ اور روز آخر پر ایمان لانے والے ہو، تمھارے لیے شائستہ اور پاکیزہ طریقہ یہی ہے کہ اس سے باز رہو اللہ جانتا ہے، تم نہیں جانتے۔"

ہم جانتے ہیں کہ عدت کے دوران نکاح نہیں کیا جا سکتا، بلکہ نکاح کے پیغام دینے کی حوصلہ افزائی نہیں کی گئی، مگر اشاروں کنایوں میں عورت پر یہ واضح کیا جا سکتا ہے کہ ہم ایسا عندیہ رکھتے ہیں۔ بقرہ ہی کی آیات نمبر ٢٣٥ میں ارشاد فرمایا گیا: "زمانہ عدت میں خواہ تم اُن بیوہ عورتوں کے ساتھ منگنی کا ارادہ اشارے کنایے میں ظاہر کر دو، خواہ دل میں چھپائے رکھو، دونوں صورتوں میں کوئی مضائقہ نہیں اللہ جانتا ہے کہ اُن کا خیال تو تمہارے دل میں آئے گا ہی مگر دیکھو! خفیہ عہد و پیمان نہ کرنا اگر کوئی بات کرنی ہے، تو معرف طریقے سے کرو اور عقد نکاح باندھنے کا فیصلہ اُس وقت تک نہ کرو، جب تک کہ عدت پوری نہ ہو جائے خوب سمجھ لو کہ اللہ تمہارے دلوں کا حال تک جانتا ہے لہٰذا اس سے ڈرو اور یہ بھی جان لو کہ اللہ بردبار ہے، چھوٹی چھوٹی باتوں سے درگزر فرماتا ہے۔"

ہمارے ہاں طلاق کا جو تصور ہے اس میں اس کے آپس کی رضا مندی اور بغیر کسی تلخی کے ہونے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا لیکن اسلامی تاریخ میں بلکہ جدید زمانے میں بھی اس کی متعدد مثالیں موجود ہیں- موجودہ پاکستانی وزیراعظم عمران خان کی پہلی منکوحہ جمائما خان سے علیحدگی کے بعد دونوں فریقین میں سے کوئی بھی ایک دوسرے کے بارے میں نازیبا گفتگو کرتا نظر نہیں آیا۔ بلکہ حال ہی میں خان کے خلاف ایک مقدمہ میں جمائما نے عمران کے سابقہ اکاؤنٹس کی منی ٹریل فراہم کر کے عمران کو اس مشکل سے نکالا۔ یہ مثالیں غیر معمولی صحیح لیکن ہماری اسلامی تعلیمات کے خلاف نہیں۔

طلاقیں بڑھنے کی ساری ذمہ داری عورتوں پر ڈالنے کا چلن
ایک معاشرتی رویہ جو مجھے بہت کھلتا ہے، وہ یہ کہ مذہبی طبقہ بھی ہندو معاشرے کی اندھادھند تقلید میں طلاق کو عملاً حرام قرار دینے پر تلا ہوا ہے۔ دوسرے اس سے بچنے کے لیے جتنے پند ونصائح کیے جاتے ہیں، وہ سب عورتوں سے کیے جاتے ہیں۔ پچھلے دنوں ایک مفتی صاحب کا بہت سنجیدہ مضمون واٹس اپپ پر موصول ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج کل طلاقیں اس لیے زیادہ ہو رہی ہیں کہ عورتیں جیسے ہی شوہر سے لڑائی ہو، اپنے جھگڑے کو فیس بک اسٹیٹس پر ڈال دیتی ہیں۔ پتہ نہیں مولانا کو یہ مشاہدہ کہاں ہوا؟ میں عرصہ بیس سال سے انٹرنیٹ اور عرصہ دس سال سے فیس بک بہت سرگرمی سے استعمال کر رہی ہوں۔ میں بہت ذمہ داری کے ساتھ یہ کہنے کی جسارت کروں گی کہ آج تک کبھی کسی خاتون کا ایسا اسٹیٹس نظر سے نہیں گزرا جس میں ایسی کسی لڑائی کا ذکر ہو، بلکہ اپنے شوہر کی برائی ہی کی گئی ہو۔ بلکہ ہماری برصغیر کی خواتین تو شوہر جیسا بھی ہو، جو بھی سلوک کرے، اپنی عزت بچانے کے لیے اس کی تعریف کرتی نظر آتی ہیں۔ ہمارے زن بیزار عورتوں سے نفرت کرنے والے معاشرے کی تو یہ روایت ہے کہ اگر کوئی شوہر اپنی بیوی کے ساتھ زیادتی کرے یا گھر سے باہر اس کی برائی کرے تو بھی تو معاشرہ بغیر حقیقت جانے بیوی ہی کو برا بھلا کہتا ہے۔

خلع کے کیسز کیوں بڑھ گئے ہیں
پچھلے دنوں خواتین کے حقوق کے حوالے سے ایک دینی ادارے کی سربراہ سے بات ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ آج کل خواتین میں خلع لینے کا رحجان بہت بڑھ گیا ہے۔ خلع کے کیسز عدالت میں طلاق سے زیادہ آ رہے ہیں۔ اس بات کی تائید آج لاہور میں سول مقدمات نمٹانے والی ایک خاتون وکیل نے بھی کی۔ میں نے عرض کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ خلع کے مقدمے ہی عدالت میں جاتے ہیں، طلاق تو گھر میں ہی ہو جاتی ہے۔ گو رجسٹر کروانے عدالت جانا ہوتا ہے مگر وہ مقدمہ نہیں ہوتا۔ ہم آگے ان وجوہات پر روشنی ڈالنے کی کوشش کریں گے جن کی وجہ سے طلاقوں اور خلع کے مقدمات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

خاتون وکیل روبینہ ممتاز کا کہنا ہے کہ پہلے بچیاں ہر طرح کا ظلم سہہ لیتی تھیں، لیکن جیسے جیسے وہ مالی طور پر آزاد ہو رہی ہیں، خلع کے کیسز بڑھ رہے ہیں، لیکن اب بھی صرف وہ خواتین عدالت آتی ہیں جو مالی طور پر آزاد ہوں۔ دوسری بیچاریاں تو خلع لے بھی لیں گی تو کہاں جائیں گی؟ بہت کم کیسز میں والدین یا گھر والے سپورٹ کرتے ہیں۔ طلاق اتنا بڑا کلنک کا ٹیکا ہے کہ عام طور سے لڑکیوں کے والدین ہر صورت اس کی مخالفت کرتے ہیں۔

پچھلے دنوں جماعت اسلامی کے وومن ایڈ ٹرسٹ WAT کی ایک عہدیدار سے بات چیت ہو رہی تھی۔ قارئین کی آسانی کے لیے بتا دیں کہ وومن ایڈ ٹرسٹ مجبور خواتین کو قانونی مدد فراہم کرنے کا ایک معتبر ادارہ ہے۔ ان سے بہت سے تکلیف دہ قصے سننے کو ملے۔ ان کا کہنا تھا کہ بہت سی بچیاں شادی ہو کر اپنے ماں باپ گھر بار بعض صورتوں میں پڑھائی اور ملازمتیں چھوڑ کر سسرال جاتی ہیں۔ اور شوہر انہیں محبت اور توجہ دینے سے قطعی انکار کر دیتے ہیں۔ ایسے ہی ایک واقعہ کے بارے میں انھوں نے بتایا کہ ایک باپ اپنی کم عمر بچی کو آفس میں لیکر آیا جس کے آنسو ٹپک رہے تھے، مگر جو کچھ بولنے پر راضی نہیں تھی۔ بہت پوچھنے پر بچی نے صرف اتنا بتایا کہ شوہر کہتا ہے کہ تمہاری شکل مجھے چڑیل جیسی لگتی ہے، اس لیے تمہاری طرف دیکھنے کا دل نہیں چاہتا۔ بظاہر ہمارے معاشرے میں اگر ایک شوہر عورت کو رکھنے پر راضی ہو اور اس کی بنیادی ضروریات پورا کر رہا ہو تو اس بات کو معمولی بات سمجھا جاتا ہے کہ وہ لڑکی کو محبت دے رہا ہے یا نہیں۔ لڑکی سے یہ امید کی جاتی ہے کہ وہ خدمت کر کے اس کا دل جیت لے۔ بجا ارشاد ایسا ہونا بھی چاہیے لیکن اگر نہ ہو سکے تو اس کا الزام بھی اکثر لڑکی پر ہی ڈال دیا جاتا ہے۔

بڑھتی ہوئی طلاق کی وجوہات
شادی سے پہلے یہ اطمینان کر لیں کہ لڑکا یا لڑکی کے ساتھ زبردستی تو نہیں کی جا رہی۔ ایک اور تشویشناک بات یہ کہ سوشل میڈیا کے پھیلاؤ سے ایسے کیسز میں بھی بہت اضافہ ہو گیا ہے کہ شادی کے بعد پتہ چلتا ہے کہ لڑکا کسی اور لڑکی سے شادی کرنا چاہتا تھا اور والدین نے زبردستی شادی کر دی۔ ایسے لڑکے سب سے پہلے یہ بات اپنی نوبیا ہتا بیوی کو بتا کر ہر ذمہ داری سے آزاد ہو جاتے ہیں۔ ایسے کیسز اب لڑکیوں کے ساتھ بھی سامنے آ رہے ہیں کہ لڑکی کی شادی زبردستی کر دی گئی اور وہ ساتھ رہنے پر راضی نہیں۔ یہ والدین کا فرض ہے کہ وہ بچوں کے ساتھ ابتدائی ہم آہنگی پیدا کر کے سوشل میڈیا کے استعمال سے پہلے انہیں ان غیر اخلاقی تعلقات کے نقصانات بتائیں لیکن خدارا اگر پھر بھی کوئی ایسی واردات ہو جائے تو اپنے بچوں کی پسند کو اپنی انا کا مسئلہ بنا کر اپنے بچے اور آنے والی کی زندگی تباہ کرنے کا گناہ نہ کریں۔ سنن ابن ماجہ حدیث نمبر ١٨٤٧ کے مطابق: "دو محبت کرنے والوں کے لیے شادی سے بہتر کوئی چیز نہیں-" میں یہ بھی مشورہ دوں گی کہ لڑکی کے والدین لڑکے سے بھی براہ راست بات کر کے یہ معلوم کریں کہ لڑکا کہیں اور تو دلچسپی نہیں رکھتا، اپنی خوشی سے شادی کر رہا ہے۔ اسی طرح لڑکے والے لڑکی سے براہ راست بات کرکے یہ اطمینان کریں۔

ایک اور بات یہ کہ اب بھی ایسی شادیاں ہوتی ہیں جن میں لڑکے یا لڑکی نے براہ راست تو دور کی بات ایک دوسرے کی تصویر بھی نہیں دیکھی ہوتی۔ اور بہت سی کامیاب بھی ہو جاتی ہیں۔ لیکن رسک نہ لیں تو بہتر ہے۔ خود حدیث سے ہمیں اس کا حکم ملتا ہے کہ بعد میں کسی تلخ صورتحال سے بچنے کے لیے لڑکا لڑکی کو ایک دوسرے کو دکھا دیں۔ یہ سب احتیاطی تدابیر ہیں، ہونی کو تو کوئی نہیں روک سکتا۔

بہت بچپن میں کرنل محمد خان کی کسی کتب میں پڑھا تھا۔ عورت کا اصل مسئلہ سونا ریشم یا آئس کریم نہیں تعریف ہے۔ الفاظ کچھ مختلف ہو سکتے ہیں۔ ایک لڑکی جب اپنا گھر بار ماں باپ بہن بھی چھوڑ کر آتی ہے تو کسی اور کے لیے نہ سہی، اپنے شوہر کے لیے تو سب کچھ کرنے پر تیار ہوتی ہے۔ بری سے بری لڑکی بھی چاہے اس نے اپنے گھر میں اٹھ کر پانی بھی نہ پیا ہو مگر شوہر اور اس کے گھر والوں کے لیے کھانا پکانا سیکھتی ہے۔ شاید اونچے طبقات میں ایک آدھ فیصد گھرانوں کا طرز عمل مختلف ہو لیکن میں یہاں ننانوے فیصد متوسط اور غریب طبقات کی بات کر رہی ہوں۔ یہ سب کچھ وہ ظاہر ہے اپنے شوہر کی محبت میں ہی کرتی ہے۔ اب اگر اسے اس سب کچھ کے ساتھ شوہر کی محبت ہی نہ ملے بلکہ یہ سننے کو ملے کہ تمہاری شکل دیکھنے یا بات کرنے کا دل نہیں چاہتا تو وہ بیچاری اس معاشرے میں کیا کرے جہاں "اس گھر سے تمہارا جنازہ ہی نکلے گا" کے فقرے زبان زد عام ہوں۔ اس صورت میں اگر وہ کسی گناہ کا شکار ہوتی ہے تو قصور وار کون ہو گا؟ معاشرہ، لڑکی یا لڑکے کے گھر والے؟

یہ بھی یاد رہے کہ جب مرد کسی بھی وجہ سے اپنی شریک حیات کو پسند نہیں کرتا تو وہ محض تعریف نہ کرنے پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ طعنوں سے بھی اس کی زندگی اجیرن کرتا ہے اور گھر کے انتظام اور بچوں کی پرورش میں تعاون نہ کر کے بھی۔ ایک وقت تھا کہ عورت اکیلی گھٹ گھٹ کے گزارا کر لیتی تھی، لیکن اب اس کے پاس سوشل میڈیا موجود ہے۔ جیسے جیسے عورت میں شعور آ رہا ہے، وہ معاشی طور پر آزاد ہو رہی ہے، اس کے لیے اپنے اوپر ہونے والی زیادتیوں کو برداشت کرنا مشکل ہو رہا ہے۔ ہم پسند کریں یا نہ کریں، یہ صورتحال اسے کسی گناہ کی طرف نہ بھی لیکر جائے تو کم از کم علیحدگی کے فیصلے کو ضرور اس کے لیے آسان کر دیتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ خلع کے کیسز بڑھ رہے ہیں۔ اگر ہم انھیں کم کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں ان بنیادی عوامل کے حوالے سے معاشرتی مائنڈ سیٹ کو تبدیل کرنے کی کوشش کرنی ہوگی جو عورت کو یہ فیصلہ کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔