مودی کی چانکیہ سیاست - قادر خان یوسف زئی

کیا مودی سرکار پاکستان کے خلاف صرف ’’سیاسی‘‘ فائدہ اٹھانا چاہتی ہے یا پھر اس کے علاوہ بھی کوئی ’’مفادات ‘‘ ہیں۔ اس پر سیر حاصل غور و فکر کی ضرورت ہے۔ پاکستان کے خلاف جارحیت اور دشنام طرازی کے بعد بھارت کے بیانیے میں دنیا کو گمراہ کرنے کے لیے نئی اسٹریجک پالیسی سامنے آئی ہے۔ بھارت دعوی کر رہا ہے کہ اس نے پاکستان میں کامیاب مبینہ کارروائی کی لیکن پاکستانی ادارے میڈیا کو اُس جگہ پر رسائی نہیں دے رہا۔ بھارتی وزارت خارجہ کے اس بیانیہ پر سر دھننے کا علاوہ مزید کیا کیا جاسکتا ہے کہ دنیا میں اُن کے جھوٹ کا پول کھل اور ڈھول پہلے دن ہی پھٹ چکا تھا۔ اب بھارت چاہے جتنا شور کرتا رہے۔ تاہم مودی سرکار اپنی بھارتی عوام کو بھی اندھیرے میں رکھنے کی کوشش میں مصروف ہے۔ عالمی ذرائع ابلاغ مبینہ جگہ کو جدید ترین ٹیکنالوجی کی مدد سے انتہائی قریب سے دیکھا جا چکا ہے۔ میڈیا وہاں سے کوریج کر چکا ہے۔ بھارت کیوں بھول جاتا ہے کہ عالمی ذرائع ابلاغ نے ہی تو سب سے پہلے مقامی شہری کا انٹرویو نشر کیا تھا جس سے بھارت کا جھوٹ کا پول کھلا۔ بہرحال مودی سرکار شرمندہ ہونے کے بجائے کئی سازشی منصوبوں پر بیک وقت کام کررہی ہے۔ پہلا سب سے اہم ٹارگٹ اقتدار کا حصول ہے۔ جس کے لئے پلوامہ ، سمجھوتہ ایکسپریس جیسے کئی واقعات بھی مودی سرکار کو کرنا پڑیں تو انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اقتدار کے بعد آئین میں تبدیلی سے مزید اختیار ات حاصل کرنا تاکہ ہندو انتہا پسندوں کے مذموم مقاصد کو پورا کرنے میں کوئی دقت نہ ہو۔

لڑاکا ایف 16 طیارے بنانے کے لیے امریکی کمپنی لاک ہیڈ مارٹن اور بھارت کی کمپنی ’ٹاٹا ایڈوانسڈ سسٹمز‘ کا ایک معاہدہ طے ہوا تھا جس کے تحت ایف 16بھارت میں تیار کیے جائیں گے۔ جس کی توثیق اُس وقت ہوئی جب ’ٹو پلس ٹو‘ معاہدے کے تحت بھارت اور امریکا نے ستمبر2018 میں ایک اہم دفاعی معاہدے پر دستخط کیے، جس سے انتہائی جدید ترین، حساس دفاعی سازو سامان اور امریکی ٹیکنالوجی بھارت کو فروخت کرنے کا راستہ ہموار ہوا۔ ’’میڈ ان انڈیا‘‘ کے پروگرام سے مودی سرکار خطے میں خطرناک جنگی ساز و سامان تیار کرنے کی ٹیکنالوجی بھی حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکتا ہے۔

بھارت نے جہاں چین اور افغانستان کے ساتھ امریکی تنازع کا فائدہ اٹھایا تو دوسری جانب بھارت نے امریکی دباؤ کے باوجود روس کے ساتھ پانچ بلین ڈالر مالیت کے، ایس 400 طرز کے ایئر ڈیفنس میزائل نظام خریدنے کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ گو کہ امریکا نے بھارت کو انتباہ دیاتھا کہ وہ ایس 400 کو خریدنے سے باز رہے۔ واضح رہے کہ ترکی نے جب ایس 400 ائیرڈیفنس میزائل نظام روس سے خریدنے کا معاہدہ کیا تو امریکا نے اعلان کیا کہ ترکی کو ایف 35 جنگی طیارے نہیں دے گا۔ امریکا چاہتا ہے کہ ترکی ساڑھے تین ارب ڈالر کا پیٹریاٹ میزائل سسٹم امریکا سے خریدے۔ یہی آفر امریکا نے بھارت کو دی تھی لیکن بھارت نے روس سے معاہدہ کر لیا۔

یہ بھی پڑھیں:   ڈاکٹر عافیہ صدیقی 16 مارچ کو پاکستان واپس آرہی ہیں - اوریا مقبول جان کا دعویٰ

مودی سرکار رافیل طیارے اسیکنڈل میں اربوں ڈلر کی کر پشن اور اقربا پروری کے دبائو میں ہے لیکن مودی سرکار بھارتی عوام کی ذہن سازی کرچکی ہے کہ بھارتی فوجی طاقت کے لئے نئے جنگی ساز و ساما ن کی ضرورت ہے۔ مگ 21کو بھارتی میڈیا ’’ تابوت ‘‘ قرار دے چکا ہے کہ یہ طیارے ’’بیوہ‘‘ بنانے کا کام کر رہے ہیں۔ دنیا میں جنگ کروانے کا ماہر اور جنگی ساز و سامان کی فروخت سے چلنے والی امریکی معیشت دنیا میں ایک نئے جنگی سلسلے کو جاری رکھنے پر عمل پیرا ہے۔ شام، عراق، افغانستان کے بعد جنگی ساز و سامان فروخت کر کے اپنے خزانے بھرنے والی عالمی طاقتیں اب سعودی عرب، ترکی، چین، جنوبی کوریا اور پاکستان میں عدم تحفظ کو پروان چڑھا کر خطے میں جنگی ساز و سامان کے خرید و فروخت کی نئی دوڑ شروع کرنا چاہتی ہیں۔ مودی سرکار فی الوقت انتخابات کی وجہ سے پاکستان کے خلاف جنگی مہم جوئی نہیں کرنا چاہتا کیونکہ پاک بھارت جنگ سے بھارت میں عام انتخابات میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ مودی سرکار صرف جنگی ماحول قائم رکھنا چاہتی ہے اور اقتدار کے لیے اوچھے ہتھکنڈے ضرور استعمال کر سکتی ہے۔ بھارتیہ جتنا پارٹی اپنی انتخابی مہم میں ’’ابھی نندن‘‘ کی تصاویر بھی استعمال کر رہی ہے۔ تاہم سوشل میڈیا میں شدید تنقید کے بعد بھارتی الیکشن کمیشن نے سیاسی انتخابات میں فوج سے متعلقہ تصاویر کے استعمال پر تمام سیاسی جماعتوں پر پابندی عائد کر دی ہے لیکن پابندی کے باوجود سوشل میڈیا میں جس طرح مودی سرکار کے ہندو انتہا پسند جنگی طیاروں، پلوامہ اور ابھی نندن کو استعمال کر رہی ہے، اس سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مودی سرکار کے مقاصد کیا ہیں۔

مودی سرکار دوبارہ اقتدار میں آکر عالمی قوتوں کے مقاصد کی تکمیل اور پاکستان کے خلاف اپنے مذموم عزائم کو کامیاب بنانے کے لئے جنگ کا راستہ بھی ہموار کرسکتی ہے۔ گر جنگ نہ بھی ہو تو کھربوں ڈالر کے جنگی ساز و سامان کے معاہدوں پر عمل درآمد شروع ہوجائے گا اور پھر یقینی طور پر خطے میں جنگی ساز و سامان کی خرید و فروخت کی نئی دوڑ شروع ہوجائے گی۔ اسے ہم سعودی عرب کی موجودہ صورتحال سے بخوبی سمجھ سکتے ہیں کہ سعودی عرب اس وقت اپنے عدم تحفظ کی وجہ سے دنیا میں جنگی ساز سامان کا سب سے بڑا خریدار بن چکا ہے۔عالمی قوتوں نے سعودی عرب کو اس طرح الجھا دیا ہے کہ سعودی عرب کے مالی وسائل اب جنگی ساز وسامان کے لئے صرف ہو رہے ہیں۔ ایران و سعودی عرب کے ساتھ قطر اور متحدہ عرب امارات کے مالی وسائل بھی جنگی ساز و سامان فروخت کے لئے استعمال ہو رہے ہیں ۔ ان حالات میں عالمی قوتوں نے عرب ممالک کے خلاف اسرائیل کو ’’ ہوا‘‘ بنایا ہوا ہے تو دوسری جنوبی و مشرقی ایشیامیں بھارت کو’’ استعمال‘‘ کرنے کی پالیسی پر عمل درآمد جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   سدا بہار دوست - احسان کوہاٹی

مودی سرکار، بھارت میں ہندو انتہا پسند سیاست میں کلیدی حیثیت اختیار کرچکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارتی عوام کی اکثریت شعور کے بجائے جذبات سے کام لے رہی ہے۔ مودی سرکار مکمل طور پر چانکیہ سیاست پر عمل پیراہے۔ عوام میں خطرناک حد تک جنگی جنون کا یہ عالم کردیا ہے کہ کرکٹ جیسے کھیل کو بھی فوج کی طرح سیاست کے لیے استعمال کیا گیا۔ مودی سرکار ایڈونچر یقینی طور پر پاکستان کے لئے مسائل پیدا کرنا چاہتا ہے۔ خاص طور پر افغان امن تنازع حل میں بھارت کی رکاوٹیں ایک طے شدہ منصوبے کے تحت ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ 25فروری سے مسلسل افغان طالبان سے مذاکرات میں مصروف ہیں لیکن واضح نظر آرہا ہے کہ افغانستان میں فوجی انخلا پر ٹرمپ انتظامیہ اور امریکی اسٹیبلشمنٹ ایک صفحے پر نہیں ہیں۔

مودی سرکار کی چانکیہ سیاست پر پاکستانی سیاسی قیادت کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ انہیں صرف کسی سانحہ یا ملک دشمن اقدامات پر ہی ایک پیچ پر آنے کے علاوہ اپنے تمام اختلافات کو بھی قومی مفاد میں ایک طرف رکھنے کی ضرورت ہے۔ حکمراں جماعت کو اپوزیشن کے ساتھ مسلسل رابطوں کی ضرورت ہے۔ عمران خان بھارت کے ساتھ جلد ازجلد مذاکرات کے لیے عجلت کے بجائے تحمل کا مظاہرہ کریں۔ بلاشبہ پاک بھارت مذاکرات ضروری ہیں۔ لیکن انہیں قومی وقار کا خیال رکھنا چاہیے۔ بھارت سے مذاکرات اہم ہیں لیکن پارلیمنٹ میں جس طرح ابھی نندن کی رہائی کے لیے رابطہ نہ ہونے کا انکشاف کیا، اس کا ذکر پارلیمان میں کرنا مناسب نہیں سمجھا گیا۔ بھارتی وزیراعظم سے رابطے تو بھارتی انتخابات کے بعد ہی ممکن نظر آ رہے ہیں تاہم اس وقت ضروری ہے کہ عمران خان اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کریں کیونکہ یہ پاکستان کے حق میں بہتر عمل ہوگا۔