مولانا عبیداللہ سندھی کی یاد میں - رضانعیم

ہندستان کی تحریک آزادی کے نابغہ رکن اور اسلامی سکالر مولانا عبیداللہ سندھی (1872-1944)، جن کی 74؍سال قبل21؍اگست کو وفات ہوئی۔ انھوں نے اپنے استاذ شیخ الہند مولانا محمود الحسن کی ہدایت پر 1915ء میں افغانستان کا سفر کیا تھا، وہ سات سال تک کابل میں رہے، وہاں کے حالات ناموافق ثابت ہوئے، تو اپنے متعدد رفقاے کار کے ساتھ اکتوبر 1922ء میں ماسکو (روس) کا سفر اختیار کیا۔ ماسکو میں قیام کے دوران انھوں نے کمیونزم کے اصولوں اور سویت یونین میں ان کے عملی نفاذ کا نہایت قریب سے مشاہدہ کیا، پھر جب وہ نو ماہ بعد استنبول پہنچے، تو انھوں نے ستمبر 1924ء میں آزاد برصغیر کا ایک دستوری خاکہ تیار کیا، جو اردو زبان میں شائع کیا گیا، پھر مختلف ذرائع سے اسے ہندستان بھیجا گیا، حکومت کو اس کی بھنک لگتے ہی مئی 1925ء میں اس کی عام اشاعت پر پابندی لگا دی گئی، مگر 1926ء میں مختلف جزوی ترمیموں کے ساتھ اس کا انگریزی ترجمہ شائع کیا گیا اور دنیا کے مختلف ممالک میں بھیجا گیا۔

قابلِ ذکر ہے کہ اُس وقت تک خود اہلِ ہند کی سیاسی جماعتوں اور آزادیِ ہند کی تحریک میں سرگرم اداروں کی جانب سے آزاد ہند کا کوئی دستوری خاکہ سامنے نہیں آیا تھا۔ مولانا سندھی نے اپنے اس خاکے میں برصغیر کی آزادی و خودمختاری اور مختلف تہذیبی و مذہبی طبقات کے باہمی تعلقات کے سلسلے میں جس قسم کی آرا کا اظہار کیا تھا، وہ یہاں کے زمینی حقائق سے بالکل ہم آہنگ تھیں، اور اگر ان کے پیش کردہ پروگرام کے مطابق برصغیر کی آزادی کا نقشہ تیار کیا جاتا، تو عین ممکن تھا کہ آج اس کی تصویر کچھ اور ہوتی۔ وہ بعد میں سامنے آنے والی عام سیاسی فکر کے برعکس برصغیر کی آزادی، استقلال اور مختلف النوع اختلافات کے خاتمے کے لیے مذہب کو بنیاد بنانے (اور اس بنیاد پر جغرافیائی تقسیم) کے بجاے معاشی صورتِ حال کو بنیاد بنانا چاہتے تھے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ برصغیر کی جو موجودہ صورتِ حال ہے اور اس خطے کو جس قسم کی سیاسی و معاشی مشکلات کا سامنا ہے، انھیں دیکھتے ہوئے مولانا سندھی کے پیش کردہ پروگرام کی معنویت اور ان کی سیاسی بصیرت، مستقبل بینی اور دوراندیشی کا بخوبی ادراک ہوتا ہے۔ آزادی پر ستر سال سے زائد کا عرصہ گزرنے کے بعد آج بھی اگر اس خطے کی مشکلات کو دور کرنے کا کوئی نتیجہ خیز طریقہ یا منصوبہ ہو سکتا ہے، تو وہ وہی ہو سکتا ہے، جو مولانا سندھی نے 95؍سال پہلے پیش کیا تھا۔ مولانا سندھی سوشلسٹ نظریات کو بڑی حد تک اسلام سے ہم آہنگ محسوس کرتے تھے۔ اس آئینی مسودے کے شروع میں انھوں نے ماسکو کے تئیں اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے لکھا:
’’ہمیں ماسکو میں انقلابِ روس کے نتائج آنکھوں سے دیکھنے کا موقع ملا، انقلاب کا پورا مطالعہ کرنے کے لیے ہماری کمیٹی کے بعض ممبروں نے روسی زبان سیکھی، ہمیں روس کے اہم اشخاص سے تبادلۂ خیالات کے اچھے مواقع ملے، یورپ کے دیگر ممالک پر جو انقلابِ روس کا اثر آیا، اس کے مطالعے کے لیے ہماری کمیٹی کے ممبراُن ملکوں میں گئے، (مگر) ہمیں افسوس کے ساتھ اس حقیقت کا احساس ہوتا ہے کہ ہمارے ملک کی موجودہ نسل انقلاب کی ماہیت سمجھنے سے بہت دور ہوگئی‘‘۔ (خطبات و مقالات مولانا عبیداللہ سندھی، مرتب:مولاناعبدالخالق آزاد، ص:138، ط:دارالتحقیق والاشاعت، لاہور2002ء)

اُس وقت کے ہندستان کے مسائل و مشکلات کا تجزیہ کرتے ہوئے مولانا نے لکھا:
’’ہر قوم میں طبقاتی پیچیدگی موجود ہے، مالدار و محنت کش، زمیندار و کسان، سرمایہ دار و مزدور کی باہمی کشاکش ہر ایک ہندستانی کو دو متقابل اور متعارض صنفوں میں بہ آسانی تقسیم کر سکتی ہے؛ اس لیے صرف مذہبی بنا پر تمام ہندستانی مسائل اور خصوصاً ہندو مسلم اختلافات کو حل کرنا کوئی راہِ نجات پیدا نہیں کر سکتا؛ لہذا ہم اپنے پروگرام میں مذہب کو ان مسائل کے حل کرنے کی اساس نہیں قرار دیتے؛ بلکہ قومی اور طبقاتی تفریق اور اقتصادی و سیاسی اصول پر ان مشکلات کا حل پیش کرتے ہیں، جس کے ذیل میں مذہبی اختلافات بھی معقولیت کے ساتھ رفع ہو سکتے ہیں‘‘۔ (ایضا،ص:140)

مولانا سندھی سرمایہ دارانہ نظام کے سخت مخالف تھے؛ چنانچہ انھوں نے اپنے اس پروگرام میں ہندستان کے مستقبل پر گفتگو کرتے ہوئے لکھا:
’’ہم اپنے ملک کے موجودہ نظامِ سرمایہ داری کو توڑ کر ایسے نظام کی بنیاد ڈالتے ہیں، جو طبقۂ محنت کش، یعنی ملک کی اکثریت کی فلاح کا ضامن ہو اور اسی محنت کش طبقے کے زیر اقتدار رہے، اس سے ہماری تحریکِ آزادی بھی یقینی طور پر کامیاب ہو سکتی ہے؛ کیوں کہ اس نظام کی تائید میں عام اہلِ ملک کی ہمدردی جب شروع ہو گئی، تو آخر تک قائم رہے گی اور یہی کلیدِ کامیابی ہے‘‘۔ (ایضا،ص:141)

سویت یونین کے بارے میں لکھتے ہیں:
’’ہندستان نے انقلابِ عظیم فرانس سے چشم پوشی کر کے اپنی عظمت کو خاک میں ملا دیا، اب اِس عالمگیر اہمیت رکھنے والے واقعے سے اغماض کر کے ہم نہیں چاہتے کہ وہ اپنی موت کے فتوے پر دستخط کر دے، ہمالیہ، قراقرم اور ہندوکش کے مقامِ اتصال سے چند قدم آگے روس ہم سے ملتا ہے، اگر وہ سارے کا سارا دے دیں اور ننگے بھوکے رہ کر شمال مغربی دروں سے قطبِ شمالی تک رہنے والی قوموں کی دوستی خرید لیں، تو ہم خسارے میں نہیں رہیں گے۔ (ایضا،ص:143)

(انگریزی سے ترجمہ، نایاب حسن)