بیٹیاں رحمت بنیں، آوارہ نہیں - عامر ہزاروی

کیا کوئی ایسا شخص ہے جو ماں کا مقابلہ کرے؟ کوئی ہے جو باپ کا مقابلہ کرے؟ کوئی ہے جو بھائی کا مقابلہ کرے؟

چلیں سوال بدل دیتا ہوں۔ کیا کوئی ایسا شخص ہے جسے خوشی اور غمی کے موقع پر ماں کے آنچل کی ضرورت محسوس نہ ہوتی ہو؟ کیا کوئی ایسا شخص ہے جو بابل کی دعائیں نہ لینا چاہتا ہو؟ کیا کوئی ایسا شخص ہے جسے مشکل میں بھائی نہ یاد آتے ہوں؟

ایک سوال اکثر سوچتا تھا۔ یہ جو حرامی بچے ہوتے ہیں ان کی زندگی کیسے گزرتی ہے؟ عید کے موقع پر ماں باپ کو یاد تو کرتے ہوں گے؟ شادی غمی کے موقع پر اپنوں کے کندھوں کی کمی تو محسوس کرتے ہوں گے؟ ان پر کیا گزرتی ہے؟ کچھ شامیں ان کے ساتھ بھی گزرانی چاہییں، ان کے دل کا احوال جاننا چاہیے۔

ہم ان سوالات سے نہیں نکلے کہ چند عورتیں باہر نکل آئیں۔ وہ کہتی ہیں بستر خود گرم کرو، روٹی خود بناؤ، میں آزاد ہوں، میں آوارہ ہوں، مجھے مرد کا سہارا نہیں چاہیے۔

میں مذہب کی بات نہیں کرتا کہ مذہب کیا کہتا ہے، ہاں اتنا ضرور کہتا ہوں کہ جس باپ نے اپنا پسینہ بہا کر آپ کو جوان کیا وہ بوڑھا ہو کر بیٹی کی نہ نہیں سن سکتا، جس ماں نے گھروں میں کام کر کے اسے پالا اس ماں کی بیٹی سے کچھ فرمائشیں بھی ہیں، جس شوہر نے اسے گھر کی ملکہ اور کام کی اجازت دی اس شوہر کا بھی کچھ حق ہے۔

اگر یہ سارے حق نہ بھی ہوں پھر بھی ماں باپ چھوڑنے کے لیے نہیں ہوتے، وہ انکار کے لیے نہیں ہوتے، وہ توتلی زبان سے ساتھ نبھانے والے بیٹی کا یہ جواب برداشت نہیں کر سکتے کہ جاؤ میں آزاد ہوں کھانا خود بنا لو، میں شادی نہیں کرتی، میں بچے پیدا کرنے والی مشین نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   میری ماں کی کہانی - احسان کوہاٹی

کیا کسی میں یہ سکت ہے کہ وہ باپ کے سامنے انکار کرے؟ ماں کو چھوڑ دے؟ مائیں چھوڑنے کے لیے نہیں ، باپ انکار کے لیے نہیں ، اور بیٹیاں گستاخی کے لیے نہیں۔ بیٹیاں خاندان جوڑتی ہیں توڑتی نہیں۔ شکاری نگاہیں لاکھ تاویل کریں مگر بیٹیاں رحمت ہوتی ہیں، انہیں رحمت بننا چاہیے آوارہ نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ان خواتین کا کہنا ہے کہ ان کا آزادی مارچ بغاوت ہے، یعنی عورتیں اب بغاوت کیا کریں گی؟ یہ بغاوت کس سے ہو گی؟

باپ سے؟ یعنی اس باپ سے جسے بیٹے چھوڑ دیں بیٹیاں نہیں چھوڑتیں۔ ماں سے؟ یعنی اس ماں سے جس کی چھاتی سے اس نے دودھ پیا؟ بھائی سے؟ یعنی وہ بھائی جو اپنی خواہشات چھوڑ کر بہن کی ضد کے آگے ہتھیار ڈال دیتے ہیں؟ شوہر سے؟ یعنی اس شوہر سے جو اس کی مرادیں پوری کرنے کے لیے لوگوں کی جھڑکیں سنتا ہے؟ یعنی عورت بغاوت کرے گی، مذہب سے؟ جس نے اس کو رحمت کہا؟ جس نے اس کے پاؤں تلے جنت رکھی؟ جس نے اسے زندہ درگور ہونے سے بچایا؟

طوائفوں کے کوٹھے ضرورتوں کے تحت چلتے ہیں، گھر ایک دوسرے کے تعاون سے چلتے ہیں۔ یہ عورتوں کو بغاوت پر اکسانے والے اس سے باپ، ماں، بھائی اور شوہر چھین رہے ہیں۔ عورت بازار کی جنس نہیں، عورت غیر کے ساتھ سونے کے لیے بھی نہیں۔ عورت کی خوبصورتی خاندان کے ساتھ جڑی ہے، گھروں کو گھر رہنے دیں، طوائف کا کوٹھا نہ بنائیں۔