جب ایک لڑکی نے حسن کے بدلے بکنے کا سوچا - محمودفیاضؔ

موزہ معاہدہ ہے، محبت ایک تعلق ہے۔ انسانی رشتوں کی بنیاد تعلق پر رکھی جاتی ہے، معاہدوں پر نہیں۔

ایک لڑکی جب بڑی ہوئی اور اس کو اپنے بدن میں قدرت کے ان خزانوں کا علم ہوا کہ جن کی بولی مارکیٹ میں بہت اونچی لگتی ہے تو اس نے بکنے کا سوچا۔ مغرب کی کہانی ہے، جہاں اس طرح بکنے پر پابندی نہیں ہے کہ رات گئے بار میں جائیں، کلبوں میں ڈانس کریں، اور اپنے اوپر پڑنے والی نظروں میں سے کسی ایک کا انتخاب کر لیں۔ وہاں بھی کچھ تعلق ڈھونڈھتی ہیں اور کچھ معاہدہ۔ یہ لڑکی بھی معاہدہ ڈھونڈھ رہی تھی، اپنے خوبصورت بدن کے قیامت زاویوں کے بدلے ایک پرآسائش زندگی کی گارنٹی۔ سودا اتنا برا بھی نہیں تھا، آخر اسی دنیا میں سب ہوتا ہے۔ ۔ ۔ مگر وہ ناکام رہی۔

لڑکی ہمت والی تھی۔ مغرب میں لڑکیوں کو بھی پڑھانے کا رواج ہے تو اس کے پاس یونیورسٹی کی ڈگری بھی تھی۔ اس نے اپنی تمام تعلیم اور عقل کو اس عقدے کے حل پر لگا دیا کہ کیوں وہ ایک امیر خاوند ڈھونڈھنے میں ناکام رہی ہے۔ حالانکہ وہ ہر ہر طریقے سے امیر لڑکوں کو اٹریکٹ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

بالاخر، تعلیم کے مشورے پر، اس نے کسی سیانے کی رہنمائی حاصل کرنے کا سوچا۔ جے پی مورگن، امریکہ کی ایک بڑی انویسٹمنٹ کمپنی ہے، جو روزانہ ہزاروں کلائنٹس کو انویسٹمنٹ کے مشورے دیتی ہے۔ اس کمپنی کے سربراہ کو ایک دن اس لڑکی کا خط ملتا ہے۔

خط کچھ اس طرح شروع ہوتا ہے،

جناب!میں سیدھی بات کرتی ہوں، ایمانداری سے۔ میں 25 سال کی ہوں، بہت خوبصورت ہوں، اسٹائل بھی ہے اور اچھا ذوق بھی۔ میں کسی ایسے بندے سے شادی کرنے کی خواہشمند ہوں، جو ہاف ملین ڈالر کماتا ہو۔ آپ شاید مجھے لالچی سمجھتے ہوں، مگر ایک ملین ڈالر سیلری تو مڈل کلاس سمجھی جاتی ہے، نیویارک میں۔

میری توقعات زیادہ اونچی نہیں ہیں، کیا آپ کی کمپنی میں کوئی ایسا نہیں ہے جو ہاف میلین کماتا ہو؟ کیا آپ سب لوگ پہلے سے شادی شدہ ہو؟ میں صرف یہ پوچھنا چاہتی ہوں کہ مجھے آپ جیسے کسی امیر آدمی سے شادی کے لیے کیا کرنا چاہیے؟ حال ہی میں، میں جس کے ساتھ ڈیٹنگ کر رہی تھی، وہ صرف 250 ہزار سالانہ کماتا ہے۔ اور لگتا ہے یہ ہی میری کل اوقات ہے۔

میں آپ سے چند سوالات کا جواب چاہتی ہوں، مہربانی سے۔
1۔ امیر آدمی زیادہ تر کہاں گھومتے ہیں؟ براہ کرم ان تمام بارز، ریسٹورنٹ اور جم کی فہرست دے دیں۔

2۔ مجھے کسی ایج گروپ کو ٹارگٹ کرنا چاہیے۔

3۔ اکثر امیر آدمیوں کی بیویاں عام شکل کی کیوں ہوتی ہیں؟ میں کئی لڑکیوں سے ملی ہوں، جو خوش شکل بھی نہیں، اور دلچسپ بھی نہیں، مگر پھر بھی امیر آدمیوں سے شادی کر چکی ہیں۔

4۔ آپ امیر آدمی کسی طرح فیصلہ کرتے ہو کہ فلاں میری بیوی بنے گی اور فلاں کے ساتھ صرف وقت گذارنا ہے۔ (آپ کو بتادوں میں صرف شادی میں انٹرسٹڈ ہوں)

یہاں خط ختم ہو جاتا ہے۔ جس کا جواب آپ سب کے لیے دلچسپی کا باعث ہوگا۔ اور ایسی تمام لڑکیوں کے لیے عبرت کا باعث بھی، جو تعلق کو معاہدے میں بدلنے کی خواہش مند ہوتی ہیں۔ آئیے دیکھیں معاہدے میں کیا شرائط ہوتی ہیں؟

جے پی مورگن کا سربراہ اس خط کا جواب دیتا ہے،

ڈئیر،
میں نے آپ کا خط بہت دلچسپی سے پڑھا۔ میرا خیال ہے آپ جیسے خیالات کی بہت سی لڑکیاں ہوں گی، اس لیے مجھے اجازت دیجیے کہ آپ کے خط کا ایک انویسٹر کی حیثیت میں تجزیہ کر سکوں۔

میری سالانہ آمدنی 500 ہزار (ہاف ملین) سے زیادہ ہے، اس لیے امید ہے میرا جواب آپ کے لیے قابل قبول ہوگا۔

ایک بزنس مین کے نظریے سے آپ سے شادی ایک گھاٹے کا سودا ہے۔ اور اس کا جواب بہت سادہ ہے۔ میں وضاحت کرتا ہوں۔

باقی تفصیل کو سائیڈ پر رکھیں تو آپ ایک سودا کرنا چاہتی ہیں۔ بیوٹی کے بدلے پیسہ۔ آپ بیوٹی دیں گی، اگلا پیسہ دے گا، اور یہ ڈیل ہو جائے گی۔ مگر یہاں ایک مسئلہ ہے، بیوٹی کچھ ماہ میں ڈھلنے لگے گی جبکہ پیسہ کچھ ماہ میں مزید بڑھ سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آپ کچھ سال بعد مزید بوڑھی اور میں کچھ سال بعد مزید امیر ہو جاؤں گا۔

الغرض، انویسٹمنٹ کے نکتہ نظر سے آپ ایک گھٹنے والا اثاثہ ہو، اور میں ایک بڑھنے والا اثاثہ۔ اور یہ گھٹاؤ نارمل نہیں ہے، بلکہ بہت خطرناک رفتار سے ہے۔ صرف دس سال میں آپ کی ویلیو بہت بری ہو جائے گی، اگر آپ کا اثاثہ صرف اور صرف خوبصورت چہرہ اور جسم ہے تو۔

آپ نے شادی اور ڈیٹنگ کا فرق پوچھا ہے، تو ایک انویسٹر ایسے ہر اثاثے کو، جس کی ویلیو اتنی تیزی سے گھٹے (جیسے خوبصورتی کی)، صرف لیز پر لینا پسند کرتا ہے۔ یعنی صرف ڈیٹنگ کرنے میں دلچسپی رکھے گا۔ شادی میں نہیں۔

ہر کوئی جس کی آمدن 500 ہزار ڈالر سالانہ سے زیادہ ہے، احمق نہیں ہوتا۔ ہم صرف آپ کو ڈیٹ کریں گے، شادی نہیں کریں گے۔ میرا مشورہ ہوگا کہ آپ ایسے طریقے سوچنا بند کردو، جو آپ کو ایک امیر بندے سے شادی کرا سکیں۔ اور اگر آپ کوشش کریں تو شاید خود سالانہ 500 ہزار ڈالر کما سکیں، یہ اس سے آسان ہوگا، جتنا ایک 500 ہزار کمانے والا بیوقوف ڈھونڈنا۔

امید ہے آپ کو اس جواب سے مدد ملے گی،
جے پی مورگن ۔ سی ای او
۔ ۔ ۔

مرد و عورت کا تعلق صدیوں سے صرف اور صرف محبت پر ٹکا ہوا ہے۔ مشرق ہو یا مغرب، صرف محبت اور قربانی کا لین دین ہی اس رشتے کا پانی ہے۔ جو عورتیں اس رشتے کو منڈی کا سودا بنا رہی ہیں وہ خود تو اس رشتے کا لائق نہیں ہیں، مگر وہ چاہتی ہیں کہ ہزاروں دوسری جو کائنات کے اس خوبصورت رشتے میں خوش اور مطمئن ہیں، ان کے ذہنوں میں بھی زہر بھر سکیں۔

یاد رکھیے! رشتوں میں کسی بھی دنیاوی طاقت کا جبر نہیں چلتا۔ مغرب نے قوانین بنا لیے، مگر براد پٹ اور انجلینا جولی جیسی امیر ترین جوڑی بھی صرف محبت کے تعلق سے بچے پیدا کرتی رہی، دنیا کا کوئی قانون ان کو شادی کے کاغذ پر دستخط پر مجبور نہ کرسکا۔ جب تک وہ خود اس کے لیے آمادہ نہ ہوئے۔

آپ کی مرضی ہے، کائنات بنانے والے کی محبت کو رشتوں میں تلاش کرو، یا اپنے مخالف جنس کے ایک انسان سے معاہدہ کر کے رہ لو، کہ موزہ ڈھونڈا ، 50 روپے، روٹی گرم کی، 150 روپے، اور ۔ ۔ ۔ آگے آپ سمجھدار ہیں۔ ۔(یا شاید نہیں ہیں)

Comments

محمود فیاض

محمود فیاض

محمود فیاض نےانگلستان سے ماس کمیونیکیشنز میں ماسٹرز کیا اور بین الاقوامی اداروں سے وابستہ رہے۔ آج کل وہ ایک عدد ناول اور ایک کتاب پر کام کر رہے ہیں۔ اساتذہ، کتابوں اور دوستوں کی رہنمائی سے وہ نوجوانوں کے لیے محبت، کامیابی اور خوشی پر لکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.