لیجیے جناب، وہ پڑی ہے آپ کی ’’تبدیلی‘‘ ۔ ابو محمد مصعب

دو دن سے ملک کی قومی ائیرلائن کو بیچنے کی باتیں سُن رہے تھے، اب خبر آ رہی ہے کہ بہت سے وفاقی سرکاری اداروں کی زمینیں اور اثاثے بیچنے کا پروگرام بنا لیا گیا ہے تاکہ سر پہ لٹکتے قرضے ادا کیے جا سکیں۔

اگر کوئی ’’تبدیلی‘‘ کے حامیوں سے پوچھے کہ بھئی، یہ سب کیا ہے تو ان کا بس ایک ہی جواب ہوتا ہے کہ پچھلے اتنا لوٹ کر گئے ہیں کہ اب کچھ بچا ہی نہیں۔ حالانکہ پچھلے بھی جب اقتدار میں آتے تھے تو اپنے پچھلوں پر ہزار بار لعنت بھیجتے ہوئے یہی کچھ کہتے تھے، کہ پہلے والوں نے کچھ چھوڑا ہی نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ اگر آپ کے پاس کوئی پلان نہیں تھا اور نہ ہی ملک چلانے کی اہلیت ہے تو اثاثے بیچ کر قرض لے کر ملک چلانا کون سا کمال کی بات ہے، اس طرح تو ایک انگوٹھا چھاپ چھابڑی والا بھی ملک چلا سکتا ہے، پھر آپ کے وہ سارے اکنامک ماہرین اور اسد عمر جیسے معیشت کے جادوگر کس کام کے ہیں؟

اس سے بھی بڑھ کر سوال یہ کہ یہ جو آپ سعودی عرب، امارات وغیرہ سے بڑی مالی امدادوں کی نویدیں سنا کر قوم کو خوش کر رہے تھے، اس رقم کا کیا ہوا؟ اگر رقوم آ رہی ہیں تو پھر اثاثے کیوں بیچے جا رہے ہیں؟ یا یہ اعلانات بھی آپ کے انتخابی وعدوں کی طرح ڈھکوسلے ہی ہیں؟ آئی ایم ایف سے قرض لے کر بھی آپ کو ملکی اثاثے بیچنے کی ضرورت کیوں پڑ رہی ہے؟ ہر ذی شعور شخص جانتا تھا کہ تبدیلی صرف نام ہی کی ہوگی، محض چہرے بدل جائیں گے، سو آج نتیجہ سب کے سامنے ہے۔

آپ ذرا، یکم مئی سنہ 2014 کا ایک مضمون پڑھیں جو اخبار ایکسپریس ٹریبون میں شائع ہوا تھا۔ یاد رہے کہ یہ نوازشریف کا دور تھا اور آج کے وزیر خزانہ، جناب اسدعمر کے بھائی، محمد زبیر، نوازشریف کے مشیر برائے نجکاری تھے۔ اخبار، کے مطابق حکومت، نیویارک اور پیرس میں موجود پی آئی کے ہوٹل Roosevelt Hotel اور Scribe Paris فروخت کرنا چاہتی ہے، جو کہ پی آئی اے کی ملکیت ہیں، جس سے حکومت کو 700 ملین ڈالر ملنے کی امید تھی۔ مشیر صاحب نے نوازشریف کو پٹی پڑھائی تھی کہ اس رقم سے پی آئی کے قرضے ادا کیے جائیں۔ ملاحظہ کیجیے جو مشورہ ایک بھائی نے ماضی میں نوازشریف کو دیا تھا، وہی کام اب دوسرے بھائی کر رہے ہیں۔ اب اسد عمر کس پر لعنت بھیجیں۔ اگر پچھلوں پر بھیجتے ہیں تو وہاں تو بھائی سامنے کھڑے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   آٹھ نو دس ہوئے، بس انشاء بس - آصف محمود

تو جناب، یہ رہی ان کی اہلیت اور مشکل حالات سے نمنٹے کی صلاحیت۔ یہ تو بھلا ہو شاہد خاقان عباسی کا کہ جب وہ نوازشریف کے نا اہل ہونے کے بعد وزیراعظم بنے تو انہوں نے اس فیصلے کو واپس لے لیا۔

اب تازہ حقیقت جان لیں۔ تین دن قبل، یعنی 8 مارچ کے ایکسپریس ٹربیون میں یہ خبر چھپی ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے اپنی کیبنیٹ میٹنگ میں یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ 27 کھرب روپے قرضے چکانے کے لیے وفاقی سرکاری ادارواں کی زمینیں بیچی جائیں۔ اس کام کے لیے انہوں نے پہلے سے قائم نجکاری کمیشن، میں ایک اور کمیٹی (Assets Management Committee) بنا دی ہے تاکہ زمینیں فروخت کرنے کے اس عمل کو تیز تر کیا جا سکے۔ مزے کی بات یہ کہ اس کمیٹی میں نجکاری کمیشن کے سربراہ کو شامل نہیں کیا گیا اور جن پانچ وزراء کو شامل کیا گیا ہے ان میں سے ایک بھی اس فیلڈ کا آدمی نہیں ہے۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے آپ گردے کا آپریشن، پنکچر لگانے والے سے کروائیں۔ اس کمیٹی میں جو وزرا شامل کیے گئے ہیں ان کے نام یہ ہیں: علی زیدی (چیئرمین) مرادسعید، حماد اظہر، علی امین گنڈاپوری اور زلفی بخاری
اخبار لکھتا ہے: It will be for the first time since its creation about 30 years ago that the Privatisation Commission will sell real estate that is owned by the federal government ministries and departments at a large scale. The commission had already written to the government departments to share the details of their vacant properties. As a result, it has received the details of more than 45,000 properties۔۔

سو باتوں کی ایک بات، گھر کے برتن بیچ کر کام تو نشہ کرنے والا بھی چلا لیتا ہے، ملک، اثاثے بیچ کر نہیں چلائے جاتے، لہٰذا اس ملک پر رحم فرمائیں اور اگر اپنے اندر صلاحیت نہیں پاتے تو نیچے اُتر آئیں، آپ کو کچھ نہیں کہا جائے گا۔