روشن خیال طبقے کی اندھی جانبداری - عظیم الرحمان عثمانی

ہمارے روایتی مذہبی طبقے پر ہمارا 'روشن خیال' طبقہ ہمیشہ مقلدانہ جانبداری کا الزام لگاتا آیا ہے اور سچ پوچھیے، تو مجھے یہ الزام ایسا غلط بھی نہیں لگتا. میرا بھی مشاہدہ یہی ہے کہ روایتی مذہبی طبقے سے وابستہ بہت سے افراد میں ایک سخت قسم کی جانبداری پائی جاتی ہے. وہ یہ دیکھے بنا کہ واقعی صحیح کیا ہے اور کیا غلط؟ ہر اس بات کا دفاع کرنے لگتے ہیں جو ان کے ہم خیال گروہ یا عقیدے کی جانب سے پیش کیا جائے. لیکن حالیہ انکشاف جو ہم پر اس حقوق نسواں کی نام نہاد مارچ کے بعد ہوا، وہ یہ کہ یہ لبرل، سیکولر یا اپنی دانست میں روشن خیال طبقہ بھی اس اندھی جانبداری میں کسی بھی روایتی گروہ سے کم نہیں، بلکہ شاید زیادہ ہی ہے.

یہاں میں یہ عرض کردوں کہ میں نے کبھی کسی سیکولر یا لبرل خیالات رکھنے والے مسلم کو خود سے کم مسلمان نہیں سمجھا. میں ان میں سے قطعی نہیں ہوں جو ہر لبرل کو ملحد یا ہر سیکولر کو کافر کہتے نہیں چوکتے، بلکہ اس فیس بک پر ان ہی افراد میں سے کئی ایسے اذہان کی تہہ دل سے تعظیم کرتا آیا ہوں جو بلاشبہ بیدار مغز اور ذہن ساز کہلائے جاسکتے ہیں. مگر اس موقع پر غلط کو غلط کہنے کے بجائے ان کی دفاعی پوسٹوں نے مجھے اس افسوسناک حقیقت سے روشناس کروادیا کہ اندھی مقلدانہ جانبداری فقط مذہب ہی نہیں بلکہ کسی بھی فلسفے سے منسوب افراد کو اپنی لپیٹ میں لے لیا کرتی ہے.

'فیمینزم' کی اس مارچ میں موجود شرمناک نعروں کی مذمت کے بجائے یہ احباب چرب زبانی کا مظاہرہ کرتے نظر آئے. مثال کے طور پر یہ فرمایا گیا کہ ان درجنوں پوسٹرز کو اس لیے نظر انداز کر دیا جائے کیونکہ آپ خود اس مارچ میں شریک نہیں ہوئے! یا اگر ہوئے تو ان کے علاوہ اچھے پوسٹرز بھی تو تھے! یا پھر آپ مرد ہو کر عورت کے مطالبات طے کرنا کیوں چاہتے ہیں؟ وغیرہ.

یہ بھی پڑھیں:   آزادی نسواں کا خواب - ساجدہ اقبال

روشن خیال حضرت! اگر اخلاقی لحاظ سے گراوٹ کا کوئی مظاہرہ کرتا ہے تو یہ نہیں دیکھا جائے گا کہ وہ مرد ہے یا عورت؟ نہ ہی ایسی لفاظی کی ایسے میں کوئی گنجائش ہے کہ ہم سب بنفس نفیس 'فیمینزم' کی اس مارچ میں کیوں نہ شریک ہوئے؟ اگر آپ میں اتنی اخلاقی جرأت ہوتی کہ آپ پہلے آگے بڑھ کر اس مارچ میں موجود ان بینرز کی مذمت کرتے اور پھر ہم جیسے افراد کو توجہ دلاتے کہ اس ہی مارچ میں بہت سے جائز مطالبات بھی تہذیب کے ساتھ پیش کیے گئے ہیں تو شاید ہمیں اتنا اجڈ نہ پاتے جو آپ کی آواز میں آواز نہ ملا سکے. مگر آپ تو فوراً مورچہ سنبھال کر بیٹھ گئے کہ حقوق نسواں کی آڑ میں جو بھی کہا جائے گا اور جیسے بھی کہا جائے گا آپ اس کے فدائی وکیل بنیں گے. یہ ظاہر کرتا ہے کہ آپ دانستہ یا نادانستہ اپنی پارٹی بنا بیٹھے ہیں اور اسی تعصب کے حامل ہیں جو کسی بھی پارٹی کے اندھے مقلد میں ہوا کرتا ہے.

کچھ صاحبان اسلامی کتب میں سےکچھ قابل اعتراض جملے ڈھونڈھ کر بھی یہ فرما رہے ہیں کہ تم لوگوں کی مجال کیسے ہوئی ان بینرز پر اعتراض کرنے کی، جبکہ تمہاری فلاں فلاں کتاب میں بھی قابل اعتراض جملے موجود ہیں. اب ایسی عقلوں پر کیا ماتم کیا جائے؟ اول تو دو غلط ایک غلط کو درست نہیں بناتے. دوم یہ کہ کتاب میں کسی پس منظر کے ساتھ کسی ایسی بات کا درج ہونا ایک بات ہے اور اس طرح کے گرے ہوئے جملے پوسٹرز پر لکھ کر سڑک پر آجانا بالکل دوسری بات. ورنہ کتب تو مباشرت کے اسلامی آداب پر بھی موجود ہیں. کیا ان کے بھی بینرز بنا کر باہر آیا جائے گا؟ ظاہر ہے کہ نہیں.

ہم نے پہلے بھی عرض کیا تھا کہ اس بات پر اعتراض قطعی نہیں ہے کہ عورت اپنے جائز حقوق کے لیے آواز بلند کرے یا خود پر ہونے والے کسی جبر کی نشان دہی کرے. مگر ایسا کرتے ہوئے کسی بھی جنس کا شخص بازاری زبان استعمال کرے یا 'فیمینزم' کی اس برہنہ تعریف کا نفاذ چاہے جو ننگے ہونے کو عورت کی آزادی سے تعبیر کرتا ہے تو معذرت یہ ہمیں قبول نہیں. اور ہاں اس قبول نہ کرنے میں صرف مرد شامل نہیں ہیں بلکہ وہ بیشمار خواتین بھی شامل ہیں جو 'وومن رائٹس' اور اس 'فیمینزم' میں موجود تفریق سے واقف ہیں.

Comments

عظیم الرحمن عثمانی

عظیم الرحمن عثمانی

کے خیال میں وہ عالم ہیں نہ فاضل اور نہ ہی کوئی مستند تحقیق نگار. زبان اردو میں اگر کوئی لفظ ان کا تعارف فراہم کرسکتا ہے تو وہ ہے مرکب لفظ ’طالب علم‘. خود کو کتاب اللہ قرآن کا اور دین اللہ اسلام کا معمولی طالب علم سمجھتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.