ٹک ٹاک کی تباہ کاریاں، ہم کیا کریں - محمد عرفان ندیم

صحافی نے پوچھا ’’سر آپ کے بچے موبائل فون استعمال کرتے ہیں‘‘ اس کا جواب نفی میں تھا، صحافی نے اگلا سوال کیا، ’’سر موبائل فون استعمال نہ کرنے کی پابندی کب تک برقرار رہتی ہے‘‘ وہ تھوڑا مسکرایا اور چشمے کے نیچے سے گھورتے ہوئے بولا ’’میں نے چودہ سال کی عمر تک اپنے بچوں پر موبائل فون کے استعمال پر پابندی عائد کر رکھی ہے، جدید سائنسی تحقیق کے مطابق آج کل بچوں میں بلوغت کے آثارچودہ سال کی عمر تک ظاہر ہوجاتے ہیں، اس لیے میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میرے بچے چودہ سال تک موبائل فون استعمال نہیں کریں گے۔ ‘‘ صحافی نے آخری سوال داغا ’’سر کیا چودہ سال کے بعد آپ کے بچوں کو کھلی آزادی ہے کہ وہ جب چاہیں اور جیسے چاہیں موبائل فون استعمال کریں‘‘ بل گیٹس نے پہلو بدلا، ٹانگ پے ٹانگ چڑھائی اور پوری سنجیدگی سے بولا ’’ہرگز نہیں، ہم نے گھر میں ایک وقت مقرر کر رکھا ہے اوربچوں کو صرف اسی مقررہ وقت میں موبائل فون استعمال کرنے کی اجازت ہوتی ہے۔ ‘‘

بل گیٹس کون ہے یہ بتانے کی ضرورت نہیں، اس وقت اس کے تین بچے ہیں ، ایک کی عمر بیس سال دوسرا سترہ سال اور تیسرا چودہ سال کا ہے، ان تینوں بچوں کو ایک خاص اور مقررہ وقت میں موبائل فون استعمال کرنے اجازت ہے۔ بل گیٹس کی طرح سٹیو جابز اور سابق امریکی صدر براک اوباما نے بھی اپنے بچوں کے موبائل استعمال پر پابندی لگا رکھی ہے۔

دوسری طرف ہم ، ہمارے بچے ،ہمارے نوجوان اورطلبہ و طالبات کیا کر رہے ہیں میں اس کی ایک جھک آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔ 2016ء میں چین نے سوشل میڈیا کے میدان میں ایک نئی ایپ متعارف کروائی جس کا نام ٹک ٹاک تھا۔ یہ ستمبر 2016ء میں چائنا میں لانچ ہوئی اور ٹھیک ایک سال بعد ستمبر 2017ء میں اسے دنیا کے سامنے متعارف کروایا گیا۔ یہ ایپ دو سو دنوں کی محنت سے بنائی گئی تھی۔ 9 نومبر 2017ء کو ٹک ٹاک نے ایک دوسری ایپ میوزیکلی کو ایک بلین ڈالر میں خرید لیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ ایپ دنیا بھر میں مشہور ہو گئی اور 2018ء میں صرف امریکا میں 80 ملین صارفین نے اسے ڈاؤن لوڈ کیا۔ 2018ء میں ہی باقی دنیا میں 800 ملین صارفین نے اسے ڈاؤن لوڈ کیا۔ اکتوبر 2018 میں یہ دنیا کے 150 ملکوں اور 75 زبانوں میں دستیاب تھی۔

ٹک ٹاک میں یہ ہوتا ہے کہ اس میں 15 سیکنڈ کی ویڈیو بنائی اور شیئر کی جاتی ہے، اس میں صارف کو صرف ہونٹ ہلانے ہوتے ہیں اور پندرہ سیکنڈ کی ویڈیو ریکارڈ کر کے اسے سوشل میڈیا پر شیئر کر دیا جاتا ہے۔ اس پندرہ سیکنڈ کی ویڈیو میں ذو معنی الفاظ بولے جاتے ہیں، مذہب اور اہل مذہب کا مذاق اڑایا جاتا ہے، نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کے درمیان جنسی جملوں کا تبادلہ ہوتا ہے اور نیم و عریاں لباس کی نمائش کی جاتی ہے۔ شروع میں جنسی جملوں اور فحش لباس کے لیے پیشہ ور عورتوں سے ویڈیوز بنوائی گئیں اور انہیں سوشل میڈیا پر شیئر کیا گیا، پھر ان کی دیکھا دیکھی عام لوگ اور نوجوان لڑکے لڑکیاں بھی اس میں ملوث ہو گئے۔ اب اس وقت صورتحال یہ ہے کہ ٹک ٹاک اپنے فحش اور نیم عریاں لباس اور نوجوان لڑکوں لڑکیوں کے درمیان ذومعنی جملوں کی وجہ سے دنیا کی مقبول ترین ایپ بن چکی ہے اور اس نے مشہور سوشل میڈیا ویب سائٹس فیس بک اور یوٹیوب کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ انٹر ٹینمنٹ کے نام پر مذہب کا مذاق اڑایا جا رہا ہے، فحاشی وعریانی پھیلائی جا رہی ہے، جنسی بے راہ روی کو فروغ دیا جا رہا ہے اور اس ایک ایپ کے ذریعے دنیا کو کنٹرول کونے کی حکمت عملی اپنائی جا رہی ہے۔ اس ایپ کی انہی غیر مناسب اور غیر اخلاقی سرگرمیوں کے باعث تین جولائی 2018ء کو انڈونیشیا میں اسے بین کر دیا گیا تھا، مگر دنیا کی خفیہ طاقتوں اور عالمی منصوبہ سازوں کی مداخلت سے صرف ایک ہفتے بعد اسے کھول دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:   حسن کردار سے تُو نور مجسم ہوجا ! محمودزکی

پاکستان میں اس ایپ کے ذریعے سے جو سوشل انقلاب لایا جا رہا ہے اسے دیکھ کر دل ڈوب جاتا ہے، آپ یوٹیوب پر جائیں اور وہاں جا کر دیکھیں کہ کس طرح نوجوان لڑکے اور لڑکیاں بیہودہ اور فحش جملوں کا تبادلہ کرتے ہیں، نیم عریاں اور فحش لباس کی نمائش کی جاتی ہے، فلموں کے ڈائیلاگز پر ایکٹنگ کی جاتی ہے، گانوں پر رقص کیا جاتا ہے اور مذہب و اہل مذہب کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔ وہ طلبہ و طالبات جو گھر والوں کی نظرمیں کالج اور یونیورسٹی میں پڑھنے جاتے ہیں وہ کالج اور یونیورسٹی میں جا کر ٹک ٹاک ویڈیوز بناتے اور اسے سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہیں۔ اور اس سے بھی قابل افسوس بات یہ کہ لڑکیاں اس کام میں دو ہاتھ آگے ہیں۔ گھر والوں کو خبر بھی نہیں اور ان کی بیٹیوں کی ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں۔ یہاں سے ان تصاویر کا غلط استعمال بھی ہو سکتا ہے مگر ٹک ٹاک کے نشے میں گم ان لڑکیوں کو اس سے کوئی سروکار نہیں۔ بظاہر شریف اور دیندار گھرانوں کی لڑکیاں بھی اس ایپ کے ذریعے اپنی نمائش پر فخر محسوس کرتی ہیں اور اپنی ویڈیوز شیئر کرنے پر ذرہ بھر تردد نہیں کرتیں۔ اس سے بھی افسوسناک رویہ ان والدین کا ہے جو ذرا سی شہرت اور مشہوری کے لیے فیملی سمیت اپنی ویڈیوز شیئر کر دیتے ہیں اور ایک لمحے کے لیے نہیں سوچتے کہ ہماری ان تصاویر کا کہیں غلط استعمال بھی ہو سکتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا میں سب سے ذیادہ یہ ایپ مسلم ملکوں میں استعمال کی جارہی ہے اور اس میں بھی سب سے ذیادہ خواتین اس ایپ کو استعمال کر رہی ہیں۔

کالج یونیورسٹی سے لے کر سوشل میڈیا اور ٹک ٹاک تک نوجوان نسل لایعنی اور فضول کاموں میں اپنا وقت ضائع کر رہی ہے، ایک ایسے وقت میں کہ جب ہم من حیث القوم اور من حیث الامہ زوال کا شکار، ہمیں اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے لیے سر جوڑنے اور اپنی زندگیاں وقف کرنے کی ضرورت ہے، ایسے وقت میں کہ جب ساری دنیا مل کر پاکستان اور عالم اسلام کے درپے ہے، ایسے وقت میں کہ جب شامی مسلمانوں کو دنیا کہتی ہے کہ مکہ اور مدینہ نزدیک ہیں پھر کیوں مسلمان ہجرت کر کے یورپ کی طرف آ رہے ہیں ، ایسے وقت میں کہ جب ہم دنیا سے سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں کئی گنا پیچھے ہیں اور ہمیں اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرنے کے لیے دن رات محنت کی ضرورت ہے ، ایسے وقت میں کہ جب دنیا کے اکثر خطوں میں مسلمان ظلم وستم کا شکار ہیں ، ایسے وقت میں کہ جب ہمیں اپنے اداروںاور یونیورسٹیوں کو تحقیق و جستجو کے مراکز بنانے کی ضرورت ہے، ہم اور ہماری نوجوان نسل ٹک ٹاک جیسی فضول ، لایعنی اور حیا باختہ ایپس کے جال میں پھنس کر رہ گئے ہیں ۔ میں جب نبی آخر الزمان کی یہ حدیث پڑھتا ہوں تو کانپ جاتا ہوں کہ قیامت کے دن آدمی کا پاؤں اس کے رب کے سامنے سے نہیں ہٹے گا جب تک اس سے پانچ چیزوں کے بارے پوچھ نہ لیا جائے، اس کی عمر کے بارے میں کہ اسے کہاں صرف کیا، اس کی جوانی کے بارے میں کہ اسے کہاں کھپایا، اس کے مال کے بارے میں کہ اسے کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا اور اس کے علم کے بارے میں کہ اس پر کہاں تک عمل کیا۔کیا کوئی ہے جو اس حدیث پر غور کرے اور آج سے اپنی زندگی کالائحہ عمل طے کر لے جس میں اپنے رب کو منانے، اپنے وطن اور نبی آخر الزمان کی امت کے لیے کچھ کرنے کا جذبہ موجود ہو۔ کیا کوئی ہے !!!

Comments

محمد عرفان ندیم

محمد عرفان ندیم

محمد عرفان ندیم نے ماس کمیونیکیشن میں ماسٹر اور اسلامیات میں ایم فل کیا ہے، شعبہ تدریس سے وابستہ ہیں اور او پی ایف بوئز کالج اسلام آباد میں بطور لیکچرار فرائض سرانجام دے رہے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.