’’کامران کی شکست خوردہ بارہ دری‘‘ - مستنصر حسین تارڑ

بارہ دری باغ کامران شہر لاہور میں تعمیر کردہ مغلیہ عمارتوں پر قدامت کے حساب سے غالباً سبقت رکھتی ہے۔ مرزا کامران‘ شہنشاہ بابر کا بیٹا اور ہمایوں کا بھائی اس عمارت کا بانی تھا اور تب یہاں صرف بارہ دری نہیں بلکہ اس کے آس پاس ایک شاندار مغل باغ بھی تعمیر کیا گیا تھا۔ جج عبدالطیف نے ’’تاریخ لاہور'' میں اس کا خصوصی تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے’’یہ مستحکم و مضبوط پرانی عمارت اپنی عالی شان اور بلند و بالا محرابوں کے ہمراہ دریائے راوی کے دائیں کنارے پر کھڑی ہے۔ یہ عمارت ایک خوبصورت باغ کے وسط میں واقع تھی جس کا شمار ان باغات میں ہوتا تھا جن کو پہلے پہل ہندوستان میں سرسبز و شاداب اور میوہ جات سے بھر پور ملک سے آنے والے مغلوں نے لگایا تھا۔ اس وقت راوی اپنی موجودہ گزر گاہ سے دو میل کے فاصلے پر شہر کی فصیل کے ساتھ بہتا تھا۔ محمد شاہ کے دور میں دریا نے اپنا رخ تبدیل کیا اور مغل امرا کے لگائے گئے بہت سے باغات بہا کر لے گیا۔ مرزا کامران کے باغ کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوا۔ محرابوں کے نچلے حصہ میں مختلف رنگوں کی تصاویر اور باغ کی رونقوں کے نشان اب بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ اس کے جنوب میں محرابی پل کا ایک حصہ بھی موجود ہے جس میں سے فواروں کا پانی بہتا تھا۔‘‘

تمام مورخین کامران کی بارہ دری کی عمارت کی مضبوطی اور استحکام کی بےحد توصیف کرتے ہیں کہ راوی کے پانی جب رخ بدلتے ہیں تو تمام عمارتوں کو بہا لے جاتے ہیں، لیکن یہ بارہ دری قائم رہتی ہے۔ سینکڑوں برسوں سے دریائے راوی جب سیلابوں کے ساتھ چڑھتا آتا ہے تو اس بارہ دری سے مسلسل ٹکراتا ہے لیکن اس کی بنیادیں ابھی تک مستحکم ہیں۔

ہم کشتی سے اترے اور پلاسٹک اور کاٹھ کباڑ سے اٹے بند پر چڑھتے ہوئے بارہ دری کی سطح پر آ گئے۔ ایک زمانہ تھا جب ہم دریا کے دوسرے کنارے کی جانب سے ایک کچے راستے پر سفر کرتے ہوئے بارہ دری تک آ جاتے تھے۔ کشتی کی حاجت نہ تھی۔ کامران کی بارہ دری کو شاید نصف صدی کے بعد دیکھا تو پہلے ہنسا اور پھر رویا یعنی بہت خوش ہوا اور پھر غمگین ہوا۔ کچھ مدت پہلے اس بارہ دری کو نہایت کاوش سے بحال کیا گیا۔ اس کے اردگرد پھر ایک مغلیہ عہد کا باغ‘ روشیں اور فوارے تعمیر کیے گئے۔ کسی ماہر فن نے ایسا کمال کیا کہ پرانے دور کے مغل باغ کا شائبہ ہونے لگا اور پھر کیا ہوا؟

میں نے ایک بار لکھا تھا کہ ہم کچھ ایسے نالائق سے واقع ہو گئے ہیں کہ ہم سے تین چیزیں نہیں چلتیں۔ پانی کی سبیلیں، نمائشی فوارے اور ملک۔ سبیل کا افتتاح کوئی مقدس ہستی کرتی ہے اور پیاسوں کو پانی پلانے والوں کو جنت کی نوید دیتی ہے۔ البتہ یہ احتیاط کی جاتی ہے کہ دھاتی گلاسوں کو زنجیروں میں باندھ دیا جاتا ہے تاکہ لوگوں کے ایمان کا امتحان نہ لیا جائے۔ یہ سبیل بمشکل دو چار ماہ چلتی ہے اور پھر وہ گلاس بھی چوری ہو جاتے ہیں اور سبیل کا پورا سسٹم ناکارہ ہو جاتا ہے۔ یہی حال فواروں کا ہے۔ مختلف شہروں میں کیسے کیسے شاندار فوارے زر کثیر خرچ کر تعمیر کیے جاتے ہیں جن میں روشنیاں ٹم ٹم کرتی ہیں۔ بقعہ نور وغیرہ کا منظر پیش کرتی ہیں پھر سال دو سال میں فوارہ خشک اور اس کے اندر شہر کا کاٹھ کباڑ۔ البتہ جس چوک میں فوارہ تعمیر کیا جاتا ہے اس کا نام’’فوارہ چوک‘‘ چلتا رہتا ہے، بے شک فوارے میں کُتے لوٹنیاں لگاتے ہوں اور تیسری چیز جو ہم سے نہیں چلتی وہ ملک ہے۔ اس کی تفصیل میں کیا جانا آپ خود سیانے ہیں۔ سمجھ گئے ہوں گے کہ ملک ہم سے کیوں نہیں چلتا۔

یہ بھی پڑھیں:   بچہ کیوں رو رہا ہے؟ روبینہ فیصل

بارہ دری کے آس پاس جو خوش نظر باغ وجود میں آیا تھا اب وہاں اک ویرانی کا عالم ہے۔ روشیں اکھڑ رہی ہیں۔ فواروں کے گرد جہاں پانی برستے تھے وہاں سینکڑوں لاپرواہ بچے کرکٹ کھیل رہے ہیں۔ گل و گلزار برباد ہو چکے ہیں۔ یہاں تک کہ جو کنٹین تعمیر کی گئی تھی اس کی کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ چکے ہیں۔ شاید اس میں چمگادڑیں بسیرا کر چکی ہیں۔ جانے کب کی اس حالت میں بند پڑی ہے۔ اگر تو یہ عمارت آثار قدیمہ محکمے کے زیر انتظام ہے تو حضور انتظام کہاں ہے۔ آپ نے اتنی کاوش سے اس تاریخی ورثے کو بحال کیا اور پھر برباد ہو جانے دیا۔ کیوں؟ ذرا دھیان کیجیے ذرا صفائی کروا دیجیے اور یہ دھما چوکڑی بند کروا دیجیے۔ فوارے چلا دیجیے کم از کم میں آپ کو دعائیں دوں گا۔ بابر کے بیٹے نے جو عمارت تعمیر کی تھی وہ اب تک مضبوطی سے قائم ہے اور آپ نے جو کچھ تعمیر کیا اسے صرف غفلت اور نالائقی کی وجہ سے برباد ہونے دے رہے ہیں۔

میں جب کبھی یورپ کے زمینی سفر سے واپس آتا تھا پشاور سے لاہور کے لئے خیبر میل میں سوار ہوتا تھا اور جب ایک مدت بعد دریائے راوی کے پانیوں میں شاہانہ انداز میں سربلند ہمایوں کے بھائی کامران کی بارہ دری دیکھتا تھا تو طویل مسافتوں کی ساری تھکن دور ہو جاتی تھی کہ لاہور آ گیا ہے۔ میں گھر پہنچ گیا ہوں اور میرا دل خوشی سے بھر جاتا تھا اور اکثر کسی مسافر سے مخاطب ہو کر کہتا تھا۔ بھائی جان یہ کامران کی بارہ دری ہے ناں۔ لاہور آ گیا ہے ناں! اور وہ مجھے پاگل سمجھتا تھا۔

میں نے اپنے ناول ’’راکھ‘‘ کے آغاز میں ہر ستمبر میں یاد آنے والی چار چیزوں کا ذکر کیا ہے۔ قادر آباد کی جھیلوں میں شکار۔ دریائے سوات کا سلیٹی منظر۔ چوک چکلہ اور کامران کی بارہ دری۔ میں کچھ دیر بارہ دری کے قدیم درودیوار کو چھوتا‘ ان کی قدامت اور تاریخ کو محسوس کرتا محرابوں کے اندر گھومتا رہا اور پھر نادرہ بیگم کے مقبرے کے مانند یہاں بھی باغ میں کھیلتے لڑکوں کا کرکٹ بال ایک زناٹے سے اندر آیا اور ایک دیوار کو گھونسا مار کر لڑھک گیا۔ بابر کے بیٹے کی تعمیر کو خراج تحسین پیش کیا۔

یہ بھی پڑھیں:   بچہ کیوں رو رہا ہے؟ روبینہ فیصل

بارہ دری کے نشیب میں ایک نوجوان مصور ایزل پر کینوس جمائے دریائے راوی کے پانیوں اور ان میں اٹکتی کشتیوں کو پینٹ کر رہا تھا۔ ایک ساتھی لڑکی نہائت اشتیاق سے کیونس پر ابھرتی تصویر کو دیکھتی جاتی تھی اور تصویر میں راوی کے پانی شفاف اور سویر کی روشنی میں دمکتے تھے۔ تصویر اس لئے نامکمل تھی کہ اس میں پانیوں کی آلودگی کی بدبو نہیں آتی تھی۔ یہاں مجھے نذیر احمد یاد آیا بہت کہ اس نے اپنی حیات کا بہت وقت راوی کو مصور کرتے بسر کیا۔ میرے خیال میں راوی کے پانیوں کو کسی اور مصور نے اتنی لگن اور محبت سے پینٹ نہیں کیا۔ اگر کل کلاں دریائے سرسوتی کی مانند راوی بھی خشک ہو جائے تو وہ نذیر احمد کی تصویروں میں آئندہ زمانوں میں بہت بہتا رہے گا۔

ہم کشتی پر واپس آئے۔ اپنی سواریوں میں بیٹھے اور راوی کے پل کے پار گئے۔ جیسے کسی بچے سے کہا گیا تھا کہ ’’کارگزاری‘‘ کو فقرے میں استعمال کرو تو اس نے جواب میں کہا تھا کہ ہم نے پل پر سے کار گزاری۔ چنانچہ ہم نے بھی پل پر سے کار گزاری اور پل پر درجنوں لوگ اور ان میں سے بیشتر لوگ بغیر ضرورت کے بیساکھیوں کے سہارے کھڑے تھے اور پلاسٹک کے لفافوں میں بند ’’گوشت‘‘ فروخت کر رہے تھے کہ خریدار بیساکھیوں والوں کو لاچار جان کر ان سے گوشت خریدتے تھے۔ چیلیں جھپٹ رہی تھیں اور ہم نورجہاں کے‘ ملکہ ہندوستان کے مقبرے کی جانب جا رہے تھے کہ دن کا وقت ہے چل کر دیکھتے ہیں کہ کیا واقعی وہاں‘ دن کو بھی‘ وہاں شب کی سیاہی کا سماں ہے…