حقوق نسواں یا گھر اجاڑ تحریک - ارشاد احمد عارف

یوم خواتین پر این جی او مافیا نے مشرقی اقدار اور اسلامی روایات کو پامال کرنے کی کوشش میں حقوق نسواں کی تحریک کا جنازہ نکال دیا۔ خواتین نے مظاہرے میں جو کتبے اٹھا رکھتے تھے ان پر درج چند نعرے تو ایسے ہیں جو کوئی شریف آدمی دہرا نہیں سکتا۔ سوشل میڈیا پر البتہ خوب’’ داد‘‘ سمیٹ رہے ہیں۔ قدرے کم دلآزار اور قابل تحریر نعرے یہ تھے۔ ’’ہم بےشرم ہی صحیح‘‘ ’’رشتے نہیں حقوق چاہییں‘‘ میرا جسم‘ میری سوچ‘ میرا حق‘‘ ’’نظر تمہاری گندی‘ پردہ میں کروں‘‘ ’’زہریلی مردانگی صحت کے لیے مضر ہے‘ وزارت عورت‘‘ ’’ناچ میری ببلی تجھے کوئی کچھ نہیں کہے گا‘‘ ’’میری شادی نہیں آزادی کی فکر کرو‘‘ ’’چادر اور چار دیواری‘ ذہنی بیماری‘ ذہنی بیماری‘‘ ’’کھانا گرم کردوں گی‘ جسم خود گرم کرو‘‘ ’’اگر دوپٹہ اتنا پسند ہے تو آنکھوں پر باندھ لو‘‘ ’’میں اکیلی آوارہ‘ میں بدچلن‘‘ ’’عورت بچہ پیدا کرنے کی مشین نہیں ہے‘‘

اٹھارہویں صدی میں حقوق نسواں کی تحریک (Faminist movement) مردوں کے مساوی حقوق کے نعرے پر شروع ہوئی اور انسانی حقوق کے علمبردار مردوزن نے اس کی حمائت کی کہ واقعی خواتین کو بھی مردوں کی طرح ووٹ ‘ تعلیم‘ علاج معالجے‘ روزگار اور سماجی تحفظ کے برابر حقوق ملنے چاہئیں۔ مگر آہستہ آہستہ یہ تحریک حقوق کے بجائے مردوں کے مقابلے کی تحریک میں بدل گئی۔ مردوں کو سماج میں نیچا دکھانے‘ بے مہار جنسی خواہشات اور اخلاقی حدود و قیود سے آزادی کی اس تحریک کو مغربی معاشرے میں مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا تاہم اس وقت تک یہ تحریک خواتین کا جس قدر استحصال اور خاندانی و سماجی روایات کا خاتمہ کر سکتی تھی کر چکی تھی‘ چند سال قبل امریکی جریدے ٹائم اور ٹی وی سی این این کے پول میں 63فیصد خواتین نے حقوق نسواں کی تحریکوں سے علیحدگی کا اعلان کرتے ہوئے اس کی تباہ کاریوں پر روشنی ڈالی۔ Faminist movement سے اس بیزاری کے بارے میں متنازعہ بیسٹ سیلر کتاب Who Stole Faminism. How Woman have Betrayad Woman کی مصنف کرسٹینا ہاف سمر Christina hoff sommer سے پوچھا گیا تو بولی مجھے اس پر تعجب نہیں کیونکہ آہستہ آہستہ یہ تحریک اپنے حقوق سے زیادہ مردوں کی حق تلفی اور مقابلے کی تحریک بن گئی۔

پاکستان میں یہ تحریک ہمیشہ بیرونی اثرات‘ فنڈنگ اور ایجنڈے کی مرہون منت رہی۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں اسلامائزیشن کے لئے جو اقدامات کئے گئے، ان کی مخالفت جمعیت علماء پاکستان اور جمعیت علماء اسلام جیسی مذہبی جماعتوں نے کی۔ نقطہ نظر ان کا یہ تھا کہ معاشرے کو سیاسی‘ سماجی اور معاشی سطح پر اسلامی تعلیمات کے قالب میں ڈھالے بغیر یہ اقدامات نمائشی ہیں مگر غیر ملکی چندے پر پلنے والی بعض تنظیموں نے ضیاء الحق کے بجائے حدود و قصاص کے شرعی قوانین اور اسلامی نظام معاشرت کی مخالفت میں آسمان سر پر اٹھا لیا۔ پاکستانیوں اور مسلمانوں کو اب تک اس بات پر فخر ہے کہ برے بھلے حالات میں بھی ہم خاندان کے یونٹ کو برقرار رکھنے میں کامیاب ہیں۔ غربت و تنگدستی کے باوجود اپنے بوڑھے ماں باپ کو خود پر بوجھ سمجھتے ہیں نہ اولڈ ہومز میں منتقل کر کے خود عیش و عشرت کی زندگی بسر کرتے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ امریکہ میں قیام کے دوران‘ میں نے جب اپنے میزبان‘ میاں بیوی مارک اور وکی کو بتایا کہ ہمارے ہاں لوگ اپنے والدین کے پائوں دبانا‘ ان کی دیکھ بھال کرنا باعث سعادت سمجھتے ہیں تو وہ بڑی دیر تک پاکستانی معاشرے کی تعریف میں رطب للسان رہے۔ وکی نے کہا آپ لوگ یہ سوچ کر ایسا کرتے ہوں گے کہ والدین نے ایک عرصے تک آپ کی خدمت کی ‘اب بدلہ چکانے کا وقت ہے تو میں نے انہیں قرآن مجید کی یہ آیت سنائی و قُل رَبّ ارحمھا کمار بینی صغیراً(اے میرے رب! میرے والدین کے ساتھ اس طرح شفقت و رحمت کا برتائو کرنا جس طرح انہوں نے چھوٹی عمر میں میرے ساتھ شفقت کا برتائو کیا(بنی اسرائیل)

یہ بھی پڑھیں:   آزادی نسواں کا خواب - ساجدہ اقبال

بلاشبہ پاکستان میں خواتین کی حق تلفی ہوتی ہے‘ انہیں وراثت میں حصہ نہیں ملتا‘ جہالت‘ پسماندگی‘ کم مواقع اور معاشی بدحالی کی وجہ سے لڑکیوں کو لڑکوں کی طرح تعلیم اور روزگار کے مساوی حقوق حاصل نہیں‘ خواتین صنفی امتیاز کا نشانہ بنتی ہیں اور انہیں گلی محلے‘ دفاتر اور کاروباری مراکز میں ہراساں کیا جاتا ہے اگر کوئی مرد یا عورت ‘ ادارہ یا گروہ اس پر آواز بلند کرتا ہے تو پوری قوم کی طرف سے تعریف کا مستحق ہے۔ ہماری سیاسی اور مذہبی جماعتوں کو اسی حوالے سے زور دار مہم چلانے کے علاوہ مساوی حقوق اور مواقع کے لئے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے لیکن حقوق نسواں کے نام پر اخلاقی حدود اور اسلامی اقدار سے بغاوت؟ یہ سوچی سمجھی شرارت ہے خواتین بالخصوص ناپختہ ذہن کی نوعمر بچیوں کو باپ‘ بھائی‘ شوہر کے رشتے سے متنفر کرکے خاندان کی بنیادی اکائی کو توڑنے اور بے حیائی‘ مادر پدر آزادی اور فحاشی کے کلچر کو فروغ دینے کی تدبیر۔ پاکستان انتہا پسندی اور عسکریت پسندی کے کلچر سے نکلنے کے لئے سر دھڑکی بازی لگا رہا ہے اور عمران خان کالعدم تنظیموں کے حوالے سے نیشنل ایکشن پلان کی بعض شقوں پر عملدرآمد سے بعض مذہبی حلقوں کی مخالفت مول لے چکا ہے۔ حقوق نسواں کے نام پر معاشرے کو مذہب‘ مذہبی روایات و مشرقی اخلاقیات اور سوشل فیبرک کو توڑنے والی اس مہم کے ڈانڈے اگرچہ امریکہ‘ یورپ اور سکنڈے نیویا کی فنڈنگ اور ایجنڈے سے ملتے ہیں مگر مذہبی عناصر اسے نئی حکومت کے خلاف پروپیگنڈے کے لئے استعمال کر سکتے ہیں اور نیا فساد برپا ہو سکتاہے جبکہ اس انتہا پسندی کے جواب میں شدت پسندی جنم لے سکتی ہے۔ لہٰذا کسی حوالے سے بھی اس مہم کو محض چند خواتین اور ایک آدھ فارن فنڈڈ این جی او کا کیا دھرا قرار دے کر چشم پوشی نہیں کی جا سکتی۔

یہ بھی پڑھیں:   آزادی نسواں کا خواب - ساجدہ اقبال

عورت کی آزادی اور حقوق کے نام پر معاشرے میں فساد برپا کرنے والے اس ناعاقبت اندیش گروہ کو خواتین سے ذرا سی بھی ہمدردی ہوتی وہ پلوامہ حملے کے بعد جموں و کشمیر اور ہندوستان بھرمیں مسلم و کشمیری خواتین کے ساتھ بھارتی فوج‘ پولیس اور انتظامیہ کی درندگی کا نشانہ بننے والی باعصمت و بے قصور مائوں‘ بہنوں‘ بیٹیوں‘ بہوئوں کے حق میں آواز بلند کرتیں۔ اقوام متحدہ کے دفاتر‘ امریکہ‘ یورپ اورسیکنڈے نیویا ممالک کے سفارت خانوں کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کرتیں اور ملک بھر میں بکنے والی بھارتی مصنوعات کے بائیکاٹ پر گھریلو خواتین کو آمادہ کرتیں کہ بھارتی معیشت متاثر ہو‘ مگر انہیں ظلم سے نفرت ہے‘ نہ خواتین کے سیاسی‘ سماجی‘ معاشی اور خاندانی حقوق سے دلچسپی۔ اللہ تعالیٰ بدگمانی سے بچائے بینر پر درج نعروں سے یہ تاثر ملتا ہے کہ جنسی زیادتی سے زیادہ انہیں نکاح ناپسند ہے‘ رشتے بنانا اور بچانا نہیں بلکہ بگاڑنا مقصد اولین ہے اور ستروحجاب سے انہیں نفرت‘ عریانی ‘ فحاشی اور فحش گوئی سے انہیں پیار ہے ’’ورنہ میں اکیلی‘ آوارہ‘ بدچلن‘‘ کا کتبہ اٹھا کر کوئی شریف خاتون سڑک پر کھڑی نہیں ہو سکتی۔ اس معاشرے میں نہیں دنیا کے کسی دوسرے مہذب ملک میں بھی اگر ایک نوجوان لڑکا ’’میں اکیلا‘ آوارہ اور بدچلن‘‘ کا کتبہ لے کر کھڑا ہو تو اسے ذہنی امراض کے ہسپتال لے جایا جائے گا یا والدین ‘ محلے داروں اور راہگیروں سے وہ جوتیاں پڑیں کہ خدا کی پناہ۔

ان مظاہروں سے خواتین کی مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں۔ حقوق و تعلیم نسواں کے مخالف پسماندہ ذہن اسے ہتھیار کے طور پر استعمال کریں گے اور شریف زادیاں منفی ردعمل کا شکار ہوں گی۔ حکومت کا فرض ہے کہ ان مظاہرین کے خلاف اندیشہ نقص امن‘ پُرامن اور شریف شہریوں کی دل آزاری‘ اشتعال انگیزی اور انتہا پسندی کے الزام میں مؤثر کارروائی کرے اور مظاہرے کا اہتمام کرنے والی این جی او کا پتہ چلائے کہ وہ کس ایجنڈے پر کام کر رہی ہے۔ یہ پاکستان میں انتشار پھیلانے‘ ففتھ جنریشن وار کو تقویت پہنچانے کی سازش تو نہیں؟ عمران پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کے خواہاں ہیں مگر چند مادر پدر آزاد آوارہ ذہن معاشرے کو اس ڈگر پر ڈالنا چاہتے ہیں جس میں مردوں کی مردوں‘ عورتوں کی عورتوں سے شادی‘ نکاح کے بغیر بچے پیدا کرنے‘ جنسی بے راہروی اور لواطت کی آزادی ہو اور مرد و عورت کا رشتہ دوست ‘ عزیز اور ہمدرد و خیر خواہ کا نہیں بلکہ حریف بدخواہ اور جنسی ضرورت مند کا ہو۔ جانوروں کی طرح بھوک پیاس مٹائی اور چل دیے۔ محبت‘ مودت‘ ہمدردی‘ انس نہ اپنے سوا کسی کی فکراور نہ اپنے پرائے کا فرق۔