بے سمت عورتوں کا مارچ - سعدیہ قریشی

مٹھی بھر کچھ عورتوں نے آٹھ مارچ کو عورتوں کے عالمی دن پر عورت مارچ کیا۔ انہوں نے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے، ان پر درج نعرے کسی بھی طور عورتوں کے بنیادی حقوق اور معاشرے میںا ن کے تحفظ کے حوالے سے نہ تھے۔ یہ عورتیں وہ تھیں جن کا مسئلہ صرف اور صرف آزادی تھا۔ یاد رہے کہ آزادی کی تعریف بھی ان کی اپنی گھڑی ہوئی ہے جس میں سرفہرست جنسی آزادی ہے۔ میرا جسم میری مرضی۔ شادی نہیں آزادی جیسے نعروں کے ساتھ یہ مٹھی بھر عورتیں بدقسمتی سے پاکستان کی ان لاکھوں کروڑوں عورتوں کی نمائندگی کرنے کی کوشش کر رہی تھیں جو مذہب کی طے کردہ حدود کے اندر رہ کر باوقار انداز میں زندگی بسر کرنے کو اپنا فخر سمجھتی ہیں۔

یہ ڈسپریٹ‘ بےسمت بے مراد عورتیں کسی بھی طور اس پاکستانی عورت کی نمائندگی نہیں کرسکتیں جو جفاکش ہے‘ محنتی ہے‘ گھر کے سارے کام بھی بخوشی نمٹاتی ہے اور اسے اپنے بچوں گھر اور شوہر کا معاشی بوجھ بانٹنے کے لیے گھر سے نکلنا ہو تو وہ باوقار انداز میں گھر سے باہر قدم رکھتی ہے۔ اس لیے کہ وہ اپنی عزت کرنا جانتی ہے۔ جینز‘ ٹائٹس پہنے‘ دوپٹوں سے بےنیاز یہ عورتیں ان باوقار عورتوں کی نمائندگی کیسے کرسکتی ہیں جو آج بھی حجاب اوڑھے اپنے پیشہ وارانہ امور کی ادائیگی میں مصروف دکھائی دیتی ہیں۔ ایک زمانے میں خاتون پائلٹ شہناز لغاری کے نام کا بہت چرچا تھا جو پاکستان کیا دنیا بھر میں واحد باحجاب پائلٹ تھیں۔ آج بھی کئی اعلیٰ تعلیم یافتہ خواتین حجاب اوڑھ کر اپنے پیشہ وارانہ امور سرانجام دیتی ہیں۔ میں نے کئی ڈاکٹرز اور سرجنز حجاب میں دیکھیں اور میں حیران ہوئی کہ یہ کس طرح تمام دن حجاب میں رہ کر اپنا کام کرتی ہیں۔

آج کل موٹیویشنل سپیکرز کا بہت چرچا ہے۔ عائشہ مہر بھی ایک استاد اور موٹی ویشنل سپیکر ہے۔ وہ باحجاب ہیں۔ اس لیے کبھی ٹی وی شو میں دکھائی نہیں دیں کیونکہ میڈیا پر صرف گلیمر بکتا ہے۔ خواہ اس کے لیے معاشرے کی غیر حقیقی تصویر ہی کیوں نہ دکھانی پڑے۔ حجاب کا ذکر میں نے اس لیے کیا کہ عورت مارچ میں دوپٹے کے خلاف بھی نعرے درج تھے۔ چادر اور دوپٹہ مسلمان عورت کی ایک پہچان ہے۔ لبرلز کا ایجنڈا یہ ہے کہ یہ شناخت ہی مسلمان عورت سے چھین لی جائے۔ اصل میں انسان مضبوط اس وقت ہوتا ہے جب وہ اپنے اصل اور اپنی شناخت پر شرمندہ نہ ہو۔ جب کسی قوم سے اس کی شناخت چھین لی جائے تو پھر وہ موم کی ناک بن جاتی ہے جس طرف کو چاہیں موڑ لیں۔ جو نظریات‘ آئیڈیالوجی اس کے اندر انڈیلنا چاہیں وہ بخوشی اس کو قبول کرے گی۔ اپنی روح اور ذہن کو گروی رکھ دینے والی قوم کو پھر فتح کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس لیے کہ غلامی تو اس کی گھٹی میں پڑی ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   آزادی نسواں کا خواب - ساجدہ اقبال

عالمی بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد غریب دیہی علاقوں اور قصبوں میں رہتے ہیں۔ اس کے مطابق پاکستان کی 80 فیصد غریب عورتیں بھی دیہی علاقوں میں رہتی ہیں جہاں زندگی اپنے تمام تر مشکلات اور مسائل کے ساتھ ان پر آشکار ہوتی ہے۔ غربت در غربت‘ شعور اور آگہی سے دور۔ یہاں رہنے والی غریب عورتیں نہ جن کی غذائی ضروریات ضروری ہوتی ہیں نہ ان کو پینے کو صاف پانی میسر ہوتا ہے۔ بیماری میں دوا اور ہسپتال نہیں ملتا۔ پھر بھی یہ غریب عورتیں بچے پیدا کرتی ہیں۔ لاغر اور کمزور مائیں‘ لاغر اور کمزور بچے‘ 80 فیصد ان غریب پاکستانی عورتوں کے مسائل کیا ہیں۔ اس کی ایک جھلک بھی عورت مارچ کرتی بےسمت عورتوں کے نعروں میں دکھائی نہیں دی۔ پاکستان کی لوئر مڈل کلاس اور مڈل کلاس کی عورت بھی جن مسائل کا شکار ہے، اس کی گونج بھی ان ڈسپریٹ عورتوں کے عورت مارچ میں سنائی نہیں دی۔ طلاق یافتہ عورتوں کے مسائل کیا ہیں؟ شریف اور نجیب بیوائیں‘ کس معاشی عذاب سے گزرتی ہیں؟ جائیداد میں عورتوں کو حصہ کیوں نہیں دیا جاتا؟ گھروں میں ہونے والے تشدد سے روز مرتی اور روز جیتی عورتیں۔ تیزاب گردی کا شکار ہونے والی مظلوم عورتیں۔ کم اجرت پر ڈھیر ساری ذلت کماتی گھروں میں کام کرنے والی عورتیں جن کی کم از کم اجرت ابھی تک طے نہیں ہوسکی۔ بس سٹاپوں پر کھڑی شریف اور نجیب عورتیں گندی نظریں سہتی ہوئی۔ ان کے حق کے لیے کوئی آواز نہیں اٹھی۔ راوڑی کوٹتی‘ بھٹوں پر کام کرتی‘ سڑکوں پر پھل بیچتی‘ مزدور اور جفاکش عورتیں جو اپنی چادر اور عزت سنبھالتی ہوئی مردانہ وار اس معاشرے میں اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں، وہ تمام عظیم عورتیں اس معاشرے کا جھومر ہیں۔ یہ ہے اصل پاکستان کی اصل عورت۔

عورت مارچ کرنے والی بے سمت اور بے مراد عورتوں کا ٹولہ کرائے کے لبرلز سے زیادہ اور کچھ بھی نہیں۔ میرا جسم اور میری مرضی کا نعرہ لگانے والی صرف اور صرف جنسی آزادی کی طلبگار ہیں، انہیں پاکستانی عورت اس کے مسائل اور اس کے حقوق سے کوئی سروکار نہیں۔ الحمدللہ پاکستان کی اعلیٰ تعلیم یافتہ روشن خیال عورت ان حقوق پر نازاں ہے جو اسلام نے اس کو دیے اور ان حدود پر فخر کرتی ہے جو مذہب نے اس کے تحفظ کے لیے رکھیں۔

یہ بھی پڑھیں:   آزادی نسواں کا خواب - ساجدہ اقبال

آخر میں افتخار عارف کی ایک روشن نظم جس میں ان اجلی روشن خواتین کا تذکرہ ہے جو ہم سب کی آئیڈیل ہیں۔


عجب ایک سلسلہ ہے

خدیجہؓ‘ فاطمہؓ‘ زینبؓ

وفا کے باب میں

صدق و صفا کے باب میں

صبر و رضا کے باب میں

کیسا منور راستہ ہیں

خدیجہؓ‘ فاطمہؓ‘ زینبؓ

طلوع حرف اقراء سے صدائے استغاثہ تک

حرا سے کربلا تک

مشیت نے جو اک خط جلی کھینچا ہوا ہے

اسی کا نور ہے جو دل بہ دل‘ منزل بہ منزل

ہر طرف پھیلا ہوا ہے

رسالت کی گواہی ہو ولدیت کی گواہی ہو‘ امامت کی گواہی ہو

جو یہ کہہ دیں وہی میزان حق میں مستند مانا گیا ہے

گواہی میں تسلسل اور پھر ایسا تسلسل

آپ خود اپنی جگہ اک معجزہ ہے

عجب اک سلسلہ ہے

خدیجہؓ‘ فاطمہؓ‘ زینبؓ