ایک ویڈیو ہندوستان سے - مسعود اشعر

ایک تو ہمارے روش ندیم ہیں۔ ڈاکٹر روش ندیم ، شاعر، نقاد اور استاد۔ اور ایک روش ہندوستان میں ہیں۔ روش کمار ۔ آج کل ان روش کمار کا ایک ویڈیو بہت مقبول ہو رہا ہے۔ ہر دوسرے دن کوئی نہ کوئی دوست یہ ویڈیو ہمیں بھیج دیتا ہے۔ اس ویڈیو میں روش کمار بڑے زور شور سے ہندوستان کے لوگوں کو اکسا رہے ہیں کہ دو مہینے کے لیے اپنے ٹیلی وژن بند کر دو۔ ان کا کہنا ہے: پھینک دو اپنے ٹیلی وژن‘ نہ دیکھو ٹیلی وژن‘ اور گزارو زندگی آرام اور سکون سے۔ وہ سمجھا رہے ہیں کہ آج کل تمہارے دل و دماغ پر ہر وقت جو ہیجانی بلکہ جنونی کیفیت طاری رہتی ہے اس کی وجہ یہ ٹیلی وژن ہے۔ ہندوستانی لیڈروں کی تقریروں اور ٹیلی وژن کی خبروں اور تبصروں کے ذریعے صبح شام تمہارے دماغ پر جو ہتھوڑے برسائے جا رہے ہیں‘ انہوں نے دن کا چین اور رات کی نیند حرام کر دی ہے۔ روش کمار کا یہ ویڈیو، ویڈیو نہیں ہے بلکہ آئینہ ہے آج کے ہندوستان کی صورت حال کا۔

آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ روش کمار نے دو مہینے کے لیے ٹیلی وژن پھینکنے کی بات کیوں کی ہے۔ اگلے مہینے کے آخر سے ہندوستان میں عام انتخابات کا سلسلہ شروع ہونے والا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے دوسرے لیڈر ہر روز ہی کہیں نہ کہیں تقریر کر رہے ہو تے ہیں۔ یہ تقریر پاکستان کے خلاف زہر ہلاہل (یہ ہندی کا لفظ ہے) سے بھری ہوتی ہے۔ شام سے رات بارہ بجے تک یہی تقریریں اور ان تقریروں پر تبصرے بھارتی ٹی وی چینلز پر نظر آ تے ہیں۔ اور لوگوں کی نیندیں حرام کر دیتے ہیں۔ آخر لوگ کب تک اس ہیجانی کیفیت میں مبتلا رہیں گے۔ کسی نہ کسی طرح اپنا غصہ تو نکالیں گے۔ احتجاج تو کریں گے۔ تو یہ ویڈیو اس غصے اور اس احتجاج کی ایک چھوٹی سی مثال ہے۔ روش کمار ہندوستانی عوام کے اس طبقے کی نمائندگی کر رہے ہیں جو بیزار ہوتا جا رہا ہے اس پاگل پن سے۔ لیکن مجبور ہے کہ عام انتخابات تک اسے بہرحال یہ برداشت کرنا ہے۔ ہو سکتا ہے یہ طبقہ بہت بڑا نہ ہو۔ چھوٹا سا ہی ہو۔ لیکن وہ اپنی موجودگی کا احساس تو دلا رہا ہے؛ تاہم روش کمار جی کو کون بتائے کہ نریندر مودی کا یہ پاگل پن ہندوستانی معاشرے کو ہی متاثر نہیں کر رہا ہے بلکہ بالواسطہ طور پر پاکستان پر بھی اثر انداز ہو رہا ہے۔ بالواسطہ میں نے اس لئے کہا کہ ہمارا اپنا خاندان اس کی زد میں آ چکا ہے۔ مجھے یہاں اپنا ذاتی تجربہ بیان کرنا اچھا تو نہیں لگتا، لیکن جو تلخ تجربہ میرے خاندان کو ہوا ہے، اس عذاب سے دوسرے بہت سے مسافر بھی گزر رہے ہیں۔ ہمارا پوتا کینیڈا سے آیا ہوا تھا۔ واپسی پر وہ دوحہ کے راستے سپین اور پرتگال جانا چا ہتا تھا۔ اس نے ائیر لائن کی پروازوں کے ساتھ ان شہروں میں ہوٹل تک بک کرا رکھے تھے۔ مگر ہندوستان کے پاگل پن کی وجہ سے پاکستان کو اپنے فضائی راستے بند کرنا پڑ گئے۔ اور مارے گئے یہ بے گناہ مسافر۔ پاکستان نے اپنے فضائی راستے مجبوراً بند کئے۔ ظاہر ہے موجودہ حالات میں یہ احتیاط ضروری تھی۔ پہلے تو ہمارے پوتے کی مقررہ پرواز منسوخ ہوئی۔ پھر معلوم ہوا کہ گیارہ بارہ تاریخ تک لاہور سے دوحہ کوئی پرواز نہیں جائے گی۔ اگر جانا ہے تو پشاور کے راستے جاؤ۔ تین دن بعد وہاں سے پرواز مل جائے گی۔ اب وہ کیا کرتا۔ اسے موٹر وے کے راستے پشاور جانا پڑا اور وہاں سے وہ دوحہ روانہ ہوا۔ اس بھاگ دوڑ میں اسے چار پانچ سو ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا۔ میرے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ہندوستان کے اس جنگی ہسٹیریا نے کتنے ہی لوگوں کو مالی اور ذہنی نقصان پہنچایا ہے۔ اور اب تک نقصان پہنچا رہا ہے۔

معافی چاہتا ہوں۔ اس بار میرا ارادہ ہندوستان اور اس کے جنگی جنون کے بارے میں لکھنے کا نہیں تھا۔ ہندوستان بہت ہو گیا۔ اب ہم اس کے بارے میں نہ ہی لکھیں تو بہتر ہے۔ لیکن روش کمار کے ویڈیو نے مجھے لکھنے پر مجبور کر دیا۔ اب ٹیلی وژن کا ذکر آیا ہے تو اپنے ملک کی صورت حال کا ذکر بھی ہو جائے۔ ہمارے ٹیلی وژن چینلز پر جو بحث مباحثے ہوتے ہیں انہیں بعض اصحاب نے مرغوں کی لڑا ئی کہا ہے۔ خیر‘ یہ پورا سچ نہیں ہے۔ کئی مباحثے ایسے بھی ہوتے ہیں‘ جن سے ہمیں اپنے سیاسی اور سماجی حالات سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ اور ان بحث مباحثوں کی وجہ سے ہی ہمیں یہ دیکھنے کا موقع بھی ملتا ہے کہ ہمارا فلاں سیاست داں یا سیاسی لیڈر کتنے پانی میں ہے۔ بھلا آپ ہی بتائیے، اگر یہ ٹی وی چینلز نہ ہوتے تو ہمیں کیسے علم ہوتا کہ ہمارے کس وزیر یا کس سیاست دان کی زبان کتنی لمبی ہے؟ کون ہے جسے اپنی زبان پر قابو نہیں ہے؟ یہ ٹیلی وژن ہی تو ہے جس پر ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا، اور کانوں سے سنا کہ اپنے مخالفوں کو کیسی کیسی ملاحیاں سنائی جا رہی ہیں۔ اب شریفوں کی زبان اور بازاری زبان کا فرق ہی مٹ گیا ہے۔ کہا جاتا ہے ''پہلے تولو پھر بولو‘‘۔ مگر اب تولنے اور سنجیدگی سے سوچنے کا وقت ہی نہیں ہے کسی کی پاس۔ اس تولنے اور تول کر بولنے پر مجھے اردو کے نہایت ہی معتبر نقاد ڈاکٹر وحید قریشی یاد آ گئے۔ پاک ٹی ہائوس کے ادیبوں کے ساتھ ان کا جھگڑا چلتا رہتا تھا۔ اسی جھگڑے میں ٹی ہائوس کے ایک شاعر نے کہا تھا: پہلے تول وحید قریشی... پھر بھی نہ بول وحید قریشی

سچ تو یہ ہے کہ آج ہماری سیاست میں بازاری زبان ہی ثقہ زبان بن گئی ہے۔ یہ سلسلہ کہاں سے شروع ہوا؟ یہ یاد دلانے کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ خود ہی یاد کیجئے۔ کیا یہ لاہور کے اقبال پارک سے شروع نہیں ہوا؟ آج اگر اسد عمر پارلیمنٹ کے اندر ایسی زبان بولتے ہیں تو اس میں ان کا کیا قصور ہے۔ بہت سے سیاست دان بھی تو بھرے جلسے میں یہی زبان استعمال کرتے ہیں‘ بلکہ یہی زبان استعمال کرتے چلے آ رہے ہیں۔ انہوں نے اپنی جماعتوں میں جوشیلے نوجوانوں کی ایک کھیپ کی کھیپ بھی بھرتی کر رکھی ہے، اس کھیپ کی یہی زبان ہے۔ یہ نو جوان جو واہی تباہی بکتے ہیں معلوم ہوتا ہے کہ ان کے لیڈر اس پر بہت خوش ہوتے ہیں۔ نہ صرف خوش ہوتے بلکہ ان کی حوصلہ افزائی بھی کرتے ہیں۔ یہ نہیں سوچتے کہ اگر یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہا تو کسی کے ماں باپ اور بہن بھائی بھی اس سے محفوظ نہیں رہیں گے؛ البتہ عمران خان نے ہندو برادری کے بارے میں نا زیبا الفاظ استعمال کرنے پر پنجاب کے وزیر فیاض الحسن چوہان کے خلاف جو کارروائی کی، وہ بلا شبہ لائق تحسین ہے۔ اس کی تعریف پاکستان میں ہی نہیں ہندوستان میں بھی کی جا رہی ہے۔ سلیل ترپاٹھی ہندوستان کے جانے مانے دانشور ہیں۔ ان سے ٹویٹر پر ملاقات ہوتی رہتی ہے۔ وہ ہندوستان کے پہلے آدمی ہیں جو ٹویٹر پر اپنا نام رومن رسم الخط میں لکھنے کے ساتھ اردو میں بھی لکھتے ہیں۔ فیاض الحسن چوہان کے معاملے پر انہوں نے عمران خان کی تعریف کرتے ہوئے لکھا ''پاکستان میں اقلیتوں کے بارے میں نازیبا الفاظ استعمال کرنے پر ایک وزیر کے خلاف کارروائی کی جا تی ہے‘ لیکن ہندوستان میں مرکز اور ریاستوں کے وزیر اقلیتی فرقے کے بارے میں کچھ بھی کہتے رہیں ان سے کچھ نہیں کہا جاتا، بلکہ ایسے لوگوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے‘‘۔ چلیے کہیں سے تو ہماری تعریف ہوئی۔ اب ہمارے نئے نویلے سیاست دانوں کو کون سمجھائے کہ آپ اپنے عوام کی سیاسی رہنمائی ہی نہیں کر رہے ہیں بلکہ ان کی اخلاقی اور تہذیبی رہنمائی بھی آپ کے ہاتھ میں ہے۔ اگر آج آپ نئی نسل کو وہ زبان سکھائیں گے جو آپ اپنے مخالفوں کے بارے میں استعمال کر رہے ہیں تو کل یہی نسل آپ کو بھی اسی زبان میں یاد کرے گی۔ اپنی عزت اپنے ہاتھ میں ہوتی ہے۔آپ دوسروں کی عزت کریں گے تو دوسرے بھی آپ کی عزت کریں گے۔ بزرگ یہی سمجھا گئے ہیں