خواب سے تعبیر تک - بنت عبدالخالق

"میں اک خواب دیکھنا چاہتی ہوں۔" وہ سوجی آنکھوں سے موتی گراتے ہوئے بولی۔
"خواب؟؟" میں نے نہ سمجھنے والے انداز میں پوچھا۔
"ہاں خواب۔" سپاٹ لہجہ تھا۔
"کیسے خواب؟ جو دیکھنے سے پہلے سوچا جائے۔؟" میں تذبدب کا شکار ہوئی۔
"ہاں وہی خواب۔ سوچ کر دیکھنے والے" وہ چہرے سے بال ہٹاتے ہوئے بولی۔
"وہ خواب تو نہ ہوئے نا۔۔۔" میں ازل سے ابد تک نہ سمجھ سکی یہ لکھاریوں کی باتیں، میری سمجھ سے بالاتر ہیں۔
"وہی تو خواب ہوتے ہیں جن کی تعبیر ملے۔ وہ خواب ہی کیا، جس کی کوئی تعبیر نہ ہو۔۔۔" اس کے اک اک حرف سے دکھ ٹپک رہا تھا۔

"وہ خواب کیسے ہوتے ہیں..؟ میں جاننا چاہتی ہوں۔۔۔" موتیوں کی لڑی میں مستقل مزاجی تھی۔
"میں اک خواب دیکھنا چاہتی ہوں۔" صحن کی طرف دیکھتے ہوئے بولی۔ "وہ خواب، جس کی تعبیر ملے" الفاظ میں ٹھہراؤ تھا۔ "اک ایسا خواب، اک ایسا سپنا، جہاں ماؤں، بہنوں کو تحفظ ہو۔ اک ایسی تعبیر، جہاں کوئی بیٹی بن ماں کے، رخصت نہ ہو۔۔۔" وہ تقریبا چیخنے لگی۔ "جانتی ہو؟ بن ماں کے ، کس کس بات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہاں ہاں! میں تمہیں بتاتی ہوں۔ خوشیاں تو ماں کے دم سے ہوتی ہیں۔ بیٹی رخصت تو صرف ماں کی موجودگی میں ہوتی ہے۔ ورنہ تو صرف بیٹی گھر سے نکالی جاتی ہے۔۔" وہ بلک بلک کے رونے لگی۔

"اک ایسا سپنا، جہاں ننھے پھول یتیم نہ ہوں۔ جہاں عورتیں بیوہ نہ ہوں۔" وہ حوصلہ جمع کر کے بولی۔ "میں خواب دیکھنا چاہتی ہوں، اک ایسا خواب مجھے دیکھنا ہے پلیزززز" وہ میرے آگے التجا کرنے لگی، ہاتھ جوڑنے لگی، جیسے یہ میرے بس کا کام ہو، وہ روتے روتے نڈھال ہو گئی۔

"میری جان! تم خواب دیکھ تو چکی ہو۔" میں نے کمزرو لہجے میں کہا۔
"نہیں نہیں! وہ خواب ہی کیا، جس کی تعبیر نہ ملے۔" وہ دوبارہ چیخی۔

"اک ایسا خواب، جہاں کوئی بیٹا نرس کے منہ دھلانے پہ یہ نہ کہے کہ کوئی بات نہیں آپی۔۔ یہ میری مما کے خون کے چھینٹے ہیں۔ اک ایسی تعبیرچاہیے ، جہاں دہشت گردی فیڈر سے نہ ہوں۔ اک ایسا خواب دیکھنا ہے جہاں امن ہی امن ہو۔ جہاں وہ شخص دہشت گرد نہ ہو جس نے سیٹ بلیٹ باندھا ہو اور ہاتھ سٹئیرنگ پہ ہو۔" وہ روانی میں بول رہی تھی۔ "کیا میں دیکھ سکتی ہوں ایسا خواب؟" اب میرے پاس کوئی جواب نہ تھا۔ "جی جی بالکل۔ میری جان" میں نے جلدی سے کہا۔

"نہیں ہے مجھ میں حوصلہ ایسے خواب دیکھنے کا۔" وہ ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں بولی۔
"مگر کیوں؟"
"وہ خواب جن کی تعبیر کا ملنا مشکل ہو۔ بلکہ ناممکن ہو اس خواب کے دیکھنے سے دل ہی ٹوٹتا ہے۔ نہ جانے ان معصوم پھولوں کا کیا ہوگا۔ مجھے تو لگتا ہے کہ ایسے خواب کے دیکھنے سے ، زندہ لاش بن جانا ہی بہتر ہے۔ زندہ لاش۔ زندہ لاش۔" وہ چیختے چیختے بے ہوش ہو چکی تھی اور میں زندہ لاش کو دیکھ کر، حواس کھو بیٹھی تھی۔