بلوچستان عمران خان کی راہ دیکھ رہا ہے - آصف محمود

بلوچستان میں سیلاب نے تباہی مچا دی ہے لیکن ہماری صحافت اور سیاست اس المیے سے لاتعلق ہیں ۔ پارلیمان ، جسے عوامی نمائندگی کا دعوی ہے، پوری تندہی سے مچھر چھان رہی ہے۔ کچھ آگ بگولہ ہیں کہ بلاول نے عمران خان کی توہین کر دی اور کچھ آتش فشاں بنے بیٹھے ہیں کہ اسد عمر نے بلاول کے تارک الدنیا اور درویش الطبع باپ کی شان میں گستاخی کا ارتکاب کر دیا ۔ ٹاک شوز میں وہی اہل سیاست کی دن بھر کی چاند ماری پر رجز اور قصیدے پڑھے جا رہے ہیں اور اخبارات کی بے نیازی کا عالم یہ ہے کہ ڈھونڈے سے سیلاب میں ڈوبے بلوچستان کی کوئی خبر نہیں مل سکی ۔ کیا کسی کو احساس ہے کہ ایک صوبے کے درد اور تکلیف سے اس قدر بے گا نگی کتنے المیوں کو جنم دے سکتی ہے ؟

کافی تلاش کے بعد اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ ملی جس میں بلوچستان کی تازہ ترین صورت حال کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ یہ رپورٹ دو روز قبل جاری کی گئی ہے۔ اس کے مطابق لسبیلہ ضلع میں سیلاب سے متاثرین کی تعداد ایک لاکھ ہے ، قلعہ عبد اللہ میں 55 ہزار لوگ سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں اور ایمرجنسی نافذ کی جا چکی ہے ، تربت میں سیلاب نے ایک لاکھ پچاس ہزار لوگوں کو متاثر کیا ہے، خضدار میں 60 ہزار اور پشین میں ایک لاکھ بیس ہزار لوگ اسیلاب سے متاثر ہوئے ہیں ۔ صرف پشین کے ایک ضلع میں میں 8 ہزار لوگ بے گھر ہو چکے ہیں ۔ ضلع لسبیلہ میں بے گھر ہونے والوں کی تعداد بھی ہزاروں میں ہے۔ سڑکیں تباہ ہو گئی ہیں ، گھر گر چکے ہیں ، فصلیں برباد ہو چکیں اور بڑی تعداد میں مویشی مر چکے۔ لسبیلہ میں طبی سہولت کے جو چند مراکز موجود تھے وہ بھی سیلاب کی زد میں آ چکے۔

سیلاب کے ہاتھوں ستائے لوگ بے گھر ہوئے ، فصلیں تباہ ہوئیں ، ان کے مویشی مر گئے ۔ اس کے بعد بھی اگر کوئی کسر باقی تھی تو وہ بیماریوں نے پوری کر دی ۔ ہم سب جانتے ہیں سیلابی پانی میں سانپ آتے ہیں ۔ سانپ کے کاٹنے کے سینکڑروں کیسز سامنے آ چکے ہیں ۔ پینے کا صاف پانی موجود نہیں ۔ ڈائریا پھیل رہا ہے۔ اس سے اموات ہو رہی ہیں ۔ متعدی امراض پھیل رہے ہیں ۔ صرف ایک ضلع لسبیلہ میں لشما نیا سز کے پانچ ہزار کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں ۔ لیکن طبہی سہولیات کا عالم یہ ہے کہ نہ سانپ کے کاٹے کے علاج کے لیے اینٹی سنیک وینم موجود ہے نہ پانی صاف کرنے کے لیے استعامل ہونے والی سادہ سی گولیاں دستیاب ہیں ۔ خارش اور الرجی کی ادویات بھی موجود نہیں ہیں ۔ سانس کے امراض پھیل رہے ہیں لیکن ادویات کی قلت ہے۔ ہیضے تک کی دوا دستیاب نہیں ہے۔ جس صوبے کے دارالحکومت میں دھماکہ ہو اور درجن کے قریب زخمی وکیل صرف اس لیے مر جائیں کہ کوئٹہ کے ہسپتال میں سہولیات ناکافی ہوں اور زخمیوں کو کراچی روانہ کر دیا جائے اس صوبے میں سیلاب کے عالم میں دور دراز کے شہروں اور دیہاتوں میں لوگ کس عالم میں جی رہے ہوں گے، کیا آپ اور میں اس کا اندازہ کر سکتے ہیں ۔

یہ بھی پڑھیں:   مسافر اور لنگر خانے کیوں ضروری ہیں - تصوّر حسین خیال

وزیر اطلاعات برادرم ظہور بلیدی کا کہنا ہے کہ فوج اور دیگر اداروں نے 28 ہزار در بدر لوگوں کی جان بچائی ہے۔ اس سے صورت حال کی سنگینی کو محسوس کیا جا سکتا ہے کہ سیلاب نے کس بڑے پیمانے پر لوگوں کو متاثر کیا ہے۔ حکومت بلوچستان سے سوال کریں تو سادہ سا جواب ملتا ہے کہ ایمر جنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ جس صوبے کے دارلحکومت کے مرکزی ہسپتال میں وقت پرنے پر ایکسرے کی سہولت بھی دستیاب نہ ہو اور پولیس کے شہید جوانوں کی میتیں بھیجنے کے لیے جس حکومت کے پاس ایمبولینسز تک موجود نہ ہوں اور شہداء کے جسد خاکی بسوں کی چھتوں پر رکھ کر بھیجے گئے ہوں اس کی ایمر جنسی کا کوئی کیا اعتبار کرے ؟ ایک رسمی سی کارروائی یقیناً پوری کر دی گئی ہو گی لیکن کیا اس سے معاملے کی سنگینی کم ہو سکتی ہے؟

ایک طرف بھارت ہمارا پانی بند کر رہا ہے، وہ افغانستان کو شہہ دے رہا ہے اور مالی امداد بھی کہ وہ دریائے کابل پر ڈیم بنا کر وادی نوشہرہ اور پشاور کی زراعت کو تباہ کر دے اور وارسک ڈیم عضو معطل بن کر رہ جائے ۔ دوسری جانب ہم ہیں ، بلوچستان میں اتنا قیمتی پانی ضائع کر دیا گیااور پرواہ نہیں ۔ پہلے ہی لوگ بد حالی کا شکار تھے اب سیلاب نے رہا سہا انفراسٹرکچر بھی تباہ کر دیا ہے۔ بلوچستان میں ڈیم بنانا اتنا مشکل کام نہیں ۔ جگہ جگہ چھوٹے چھوٹے ڈیم بنا کر پانی کا ذخیرہ کیا جا سکتا ہے ۔ بارشیں نہ ہوں تو یہاں قحط ہوتا ہے اور اللہ بارش برسا دے تو سیلاب آ جاتا ہے۔ ہم پانی جیسی نعمت کو ذخیرہ نہیں کر سکتے ۔

کہیں اس بات کا احساس نہیں کہ بلوچستان میں پانی کا مسئلہ حل کر لیا جائے تو زراعت کی دنیا میں یہاں کیا انقلاب آ سکتا ہے۔ صرف خاران کے بارے کہا جاتا ہے کہ یہاں اتنی گندم پیدا ہو سکتی ہے جو پورے پاکستان کے لیے کافی ہو۔ بلوچستان پستہ، بادام ، اخروٹ، خوبانی اور سیب کی پیداوار کے انتہائی سازگارہے لیکن پانی نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں نے باغات کاٹ پھینکے ہیں چنانچہ عالم یہ ہے کہ کان مہتر جو کبھی سیب کے باغات کے لیے معروف تھا اب سب سے بڑی ٹمبر مارکیٹ بن چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   عمران خان کی ناکامی، اصل وجہ کیا ہے؟ محمد عامر خاکوانی

میڈیا عملا چند شہروں کا ہو کر رہ گیا ہے۔ بلوچستان میں کیا صورت حال ہے میڈیا کو اس کی کوئی پرواہ نہیں ۔ یہی عالم سیاست کا ہے۔ پارلیمان میں اہم قومی معاملات پر شاید ہی کبھی ڈھنگ کی گفتگو ہوئی ہو۔ دشنام اور الزام تراشی کے پست ترین مظاہر کو اب پارلیمانی امور بنا دیا گیا ہے اور اس چاند ماری کی شرح کے نام پر کی گئی جگالی اب تجزیہ نگاری کے باب لکھی جاتی ہے۔ 2005 میں بارشوں کی وجہ سے شد یکور ڈیم کونقصان پہنچا ، 130 لوگ مر گئے ، دو لاکھ ایکڑ پر کھڑی فصلیں متاثر ہوئیں ، چالیس ہزار ایکڑ پر فصل بالکل تباہ ہو گئی ، ہزاروں گھر تباہ ہوئے لیکن صحافت اور سیاست نے اس حادثے کو یکسر نظر انداز کر دیا ۔ جھل مگسی کے نولانگ ڈیم کے اربوں روپے چھ سال سے واپڈا دبا کے بیٹھا ہے۔ کوئی اس سے پوچھ سکتا ہے اس میں کیا حکمت ہے جب کہ ڈیم کی لاگت بڑھتی جا رہی ہے۔

یہ بے نیازی ، یہ بے گانگی اور یہ سوتیلا پن بہت تکلیف دہ ہے۔ یاد رہے کہ 12 نومبر 1970 کو مشرقی پاکستان میں بھی ایک سیلاب آیا تھا ۔ اسی سیلاب میں عوام میں یہ احساس پیدا ہوا کہ وفاق ہمارے آنسو پوچھنے نہیں آ یا ۔ یہ الگ بحث ہے کہ یہ تاثر کس حد تک درست تھا لیکن اس کے جو نتائج نکلے وہ ہمارے سامنے ہیں

۔ ہم اب ان رویوں کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ بلوچستان ہماری راہ دیکھ رہا ہے۔ عمران خان کہاں ہیں ؟

Comments

آصف محمود

آصف محمود

آصف محمود اسلام آباد میں قانون کی پریکٹس کرتے ہیں، روزنامہ 92 نیوز میں کالم لکھتے ہیں، روز نیوز پر اینکر پرسن ہیں اور ٹاک شو کی میزبانی کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنی صاف گوئی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.