کیا ایسا ہوتا ہے عورت مارچ؟ میاں جمشید

جس طرح ہمارے آس پاس کوئی نہ کوئی ایسا بے چارہ فرد ضرور ہوتا ہے جو سیدھے اور آسان کام کا بھی ہمیشہ ستیاناس کر دیتا ہے، ٹھیک اسی طرح ہمارے ہاں کچھ ایسے تعلیم یافتہ نمونے یوم خواتین کے موقع پر عورت مارچ کے نام پر اس دن کی اہمیت کا بیڑا غرق کر دیتے ہیں۔ چلو کوئی ان پڑھ یا بدتہذیب ایسا کرے تو سمجھ آتی ہے، مگر جب اچھے خاصے پڑھے لکھے سٹیٹس یافتہ ایسا کریں تو پھر سوال تو اٹھیں گے ہی، تنقید تو ہوگی ہی۔

کیا ہم واقعی میں اس خاص دن کو کامیابی اور مفید طریقہ سے منا پاتے ہیں؟ کیا ہم ان تمام ایشوز کو اچھے سے ایڈریس کرتے ہوۓ میڈیا میں ہائی لائٹ کر پاتے ہیں جو واقعی میں اس ملک کی خواتین کے ہیں؟ ان خواتین کے مسائل جو روزانہ رکشوں اور بسوں پر دھکے کھاتیں روزگار کے لیے جاتی ہیں، جن کو اپنی محنت کا پورا معاوضہ نہیں ملتا، جائیداد میں حصہ نہیں ملتا، ہسپتالوں میں بچہ جننے کو جگہ نہیں ملتی اور ایسے کئی قابلِ ذکر اہم مسائل۔ مگر نہیں جناب یہاں تو لگتا کہ اس ملک کی خواتین کا سب سے بڑا مسلہ جنسی آزادی ہے، بیٹھنا کیسے ہے، کھانا کیوں بنائیں، موزے کیوں سنبھال کر رکھیں، پیڈز کیوں چھپا کر خریدیں یا استعمال کریں؟ وغیرہ۔ موازنہ کریں ذرا اس انٹرنیشنل ڈے کی اہمیت اور ہماری خواتین کے مسائل کا۔

کیا آپ کو واقعی لگتا ہے کہ عورت مارچ میں جو بیانہ پلے کارڈ کی صورت میں پوری دنیا کو دکھایا جاتا ہے، وہ ٹھیک ہے؟ وہ جینوئن ہے؟ کیا واقعی میرے اور آپ کے گھر میں موجود ماں و بہن یا بیوی کا بھی یہی المیہ ہے؟ یہی رونا ہے؟ ایک طرف تو ہم جنسی ہراسگی پر بات کرتے اور بالکل ٹھیک کرتے ہیں کہ یہ سنگین مسئلہ واقعی موجود ہے۔ مگر دوسری طرف سے یہ ٹرینڈ لایا جانا کہ میری مرضی سے سب کرو تو پھر ٹھیک ہے، وہ ہراسگی نہیں ہوگی۔ کیا یہ ذہنی بدلاؤ صحت مندانہ ہے؟

یہ بھی پڑھیں:   عورت، صبر و استقامت کا کوہ ہمالیہ - محمد نورالہدی

کتنا اچھا ہو کہ اس طرح کے اہم دنوں میں جن کو میڈیا بھی اچھی طرح ہائی لائٹ کرتا ہے، وہاں خواتین کی عزتِ نفس، سیرت و کردار اور صلاحیتوں کے حساب سے اصل ایشوز کو اجاگر کیا جائے۔ پلے کارڈز میں حقیقی بیانیہ لکھا جائے۔ سہولیات میں برابری کی بات کی جائے۔ بیٹا و بیٹی میں فرق رکھنے پر بات ہو، اعلی تعلیم دلوا کر گھر بیٹھاے رکھنے پر بحث ہو۔ دیر سے شادیاں ہونے کی وجوہات پر بات ہو، ان پر گھریلو جسمانی و ذہنی تشدد پر بات ہو، دفاتر میں اچھا ماحول و تنخواہ کے حوالہ سے مطالبہ ہو، ان کو گھر بیٹھے چھوٹے کاروبار کروانے میں درپیش مسائل کو ہائی لائٹ کیا جا سکتا ہے، وغیرہ۔ اس لیے بہت بہتر ہو اگر وقتی پبلک سٹنٹ کے لیے پلے کارڈز پر سستے قسم کی چسکہ آمیز بازاری جملہ بازی لکھنے سے دور رہا جائے۔ جن کو "عام آدمی" اپنی فیملی کی خواتین میں نہ بتا سکے نہ سمجھا سکے کہ ان سب کا مقصد کیا ہے۔

ان پلے کارڈز پر ہمارے اصل مسائل نہیں ہیں، تبھی ایسی محدود سوچ رکھ کر ایسے مارچ منانے سے سوائے تنقید کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ جتنی بری طرح سوشل میڈیا پر اس مارچ کو خواتین کی جانب سے ہی رگیدہ جاتا ہے، بندہ اسی فیڈ بیک کو سمجھ کر اپنا قبلہ درست کر لے۔ مگر نہیں، یہاں تو "کاں چٹا ہی ہے"۔ آپ مذہب کو ایک سائیڈ پر رکھ کر بھی ایک باشعور انسان بن کر غیر جانب دار ہو کر دیکھیں تو بھی اس ملک کی خواتین کا اصل مسئلہ ان پلے کارڈز پر لکھی جیسی باتوں کا نہیں ہے۔ کم از کم میری ماں، بہن، بیوی یا بیٹی کا تو نہیں ہے۔ اور پوری امید ہے کہ آپ کے ہاں بھی نہیں ہوگا. جن کا ہے اللّه ان کو ہدایت و آسانیاں عطا فرمائے۔ آمین

Comments

میاں جمشید

میاں جمشید

میاں جمشید، زندگی کے مشکل حالات کا مسکرا کر مقابلہ کرنے کے ساتھ رسک لینے اور ہمت سے آگے بڑھتے رہنے پر یقین رکھتے ہیں۔ کچھ نیا و منفرد کرنے اور سیکھنے و سکھانے کا شوق بھی ہمیشہ ساتھ ساتھ رہا ہے اسی لیے اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داری کے ساتھ ساتھ مختلف معاشرتی موضوعات پر اصلاحی اور حوصلہ افزاء مضامین لکھتے ہیں۔ اسی حوالہ سے ایک کتاب "حوصلہ کا گھونسلا" کے مصنف بھی ہیں۔ان سے فیس بک پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.