لبرل ازم، عالمی قانون اور جنگ: رالز کی نظر میں - محمد زاہد صدیق مغل

چند روز قبل برادر عمار خان نے یہ بتایا کہ اسلام کا عالمی قانون اسلام کے غلبے کے لیے "سیر" سے متعلق ہے، یعنی یہ کہ غیر مسلم گروہوں کے شر سے بچنے کے لیے مسلمانوں کو کیا کرنا چاہیے۔ اس کے مقابلے میں جدید بین الاقوامی قانون امور کو ایسے نہیں دیکھتا۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ لبرل مفکرین اس معاملے کو کیسے دیکھتے ہیں۔

لبرل سیکولر فریم ورک کے اصولوں کے اعتبار سے بین الاقوامی قانون کو کیسا ہونا چاہیے، غیر لبرل لوگوں کے ساتھ لبرل لوگوں کو کیا معاملہ کرنا چاہیے، کس کے خلاف کب جنگ جائز ہے وغیرہ، یہ وہ سوالات ہیں جن کے جوابات میں سیکولر مفکرین بہت کچھ کہتے ہیں۔

مشہور زمانہ فلسفی جان رالز اپنی کتاب The Law of Peoples میں ان کا جواب دینے کے لیے لوگوں کو مختلف کیٹیگریز میں تقسیم کرتا ہے اور اس کے لیے رالز "کزانستان" نامی ایک فرضی ملک کی تعبیر استعمال کرتا ہے جہاں اسلام غالب نظریہ حیات ہے اور مسلمانوں کی حکومت ہے۔ (رالز نے یہ کتاب 1990ء کی دہائی میں لکھی جب روس کے بعد اسلامی دنیا امریکی فنڈڈ لبرل ازم کے لیے بڑا چیلنج تھی۔ کتاب کا مقصد امریکہ کو یہ بتانا تھا کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ کیسے معاملہ کرے)۔ چنانچہ رالز "لوگوں" (peoples) کو چار کیٹیگریز میں تقسیم کرتا ہے:
1) لبرل لوگ: یہ وہ لوگ ہیں جو عدل کے اعتبار سے مثالی ہیں اور تمام لبرل اصولوں کی پابندی کرتے ہیں۔

2) ڈیسنٹ لوگ: یہ وہ لوگ ہیں جو اگرچہ لبرل ازم کے قائل نہیں ہوتے لیکن ہیومن رائٹس کی ایک کم سے کم سطح کو قبول و نافذ کرتے ہیں۔ (رالز ان ہیومن رائٹس کی ایک لسٹ دیتا ہے جس کا نفاذ اس کے خیال میں "ڈیسنٹ" ہونے کے لیے لازم ہے)۔ ایسے لوگوں کے معاشرے کو وہ Decent Hierarchical Societies کہتا ہے۔ رالز کہتا ہے کہ لبرل لوگوں کو ایسے ڈیسنٹ لوگوں سے مکالمہ کرنا چاہیے اور ان پر ایسی تنقید سے بچنا چاہیے جو انھیں اکسانے کا باعث بنے کیونکہ اس سے کام خراب ہوجائے گا۔ رالز کا مفروضہ یہ ہے کہ یہ ڈیسنٹ لوگ آہستہ آہستہ اس "حالت فطری" (original position) کے تقاضوں کی طرف لوٹ آئیں گے جو لبرل ازم کے مطابق حق ہے، لہذا ان سے لڑنے کی ضرورت نہیں۔

3) آؤٹ لاڈ (Outlaw) لوگ: یہ وہ لوگ ہیں جو ہیومن رائٹس کو قدر کی نگاہ سے دیکھنے کے بجائے اس کی تحقیر کرتے ہیں اور اس کی کم سے کم سطح کو بھی قبول نہیں کرتے۔ رالز کہتا ہے کہ ایسے لوگوں کے خلاف جنگ کرنا ضروری ہے، کیونکہ یہ دنیا کے لیے خطرہ ہیں، نیز ایسے لوگوں کے ساتھ مکالمہ فضول ہے۔

4) برڈنڈ (burdened) لوگ: یہ وہ لوگ ہیں جو ذرائع کم ہونے یا آبادی زیادہ ہونے کے سبب غربت وغیرہ کے مارے ہوئے ہیں اور ذرائع کی قلت کی وجہ سے لبرل اصولوں و اداروں پر عمل کرنے سے قاصر ہیں۔ رالز کے خیال میں لبرل اور ڈیسنٹ لوگوں کو چاہیے کہ وہ ان لوگوں کی مالی مدد (یعنی تالیف قلب) کریں تاکہ یہ لوگ بھی ان کی طرح لبرل و ڈییسنٹ ہونے لائق ہوسکیں۔

رالز لبرل ازم کے لیے جو انٹرنیشنل قانون پیش کرتا ہے اس میں کئی امور دلچسپی کا محل ہیں، سردست صرف یہ بتانا مقصود ہے کہ لبرل ازم کے مطابق بین الاقوامی قانون کی اقداری حیثیت کیا ہے کیونکہ ہمارے یہاں اسے کوئی ٹیکنیکل چیز ("عالمی معاہدات"، "عرف" وغیرہ) سمجھ کر پیش کیا جاتا ہے۔ لبرل ازم کی رو سے جنگ صرف اس وقت تک ناجائز ہے جب تک غیر لبرل لوگ لبرل اصولوں سے ماخوذ چند کم از کم شرائط کو پورا کریں، اگر وہ ایسا کرنے میں ناکام ہوں تو ان سے جنگ لازم ہے۔ یہاں یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہونی چاہیے کہ رالز کے لبرل ناقدین کے مطابق ڈیسنٹ ہونے (یعنی جنگ بندی) کے لیے رالز جن کم از کم شرائط کی بات کرتا ہے وہ کافی نہیں ہیں بلکہ اس لسٹ میں اضافے کی ضرورت ہے۔

اب ذرا رالز کی اس کتاب کو اور امام سرخسی کی بات کو سامنے رکھ کر ہمیں سمجھایا جائے کہ دونوں کی اقداری حیثیت میں فرق کیا اور کہاں ہے؟ سوائے اس کے کہ امام سرخسی اسلام کو "الحق" جبکہ رالز لبرل ازم کو یہی مقام دیتا ہے؟

Comments

محمد زاہد صدیق مغل

محمد زاہد صدیق مغل

محمد زاہد صدیق مغل نسٹ یونیورسٹی کے شعبہ اکنامکس میں تدریس کے فرائض سر انجام دیتے ہیں۔ قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے معاشیات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ ملکی و غیر ملکی جرائد و رسائل میں تسلسل کے ساتھ تحقیقی آراء پیش کرتے رہتے ہیں۔ ان کی تحقیق کے خصوصی موضوعات میں معاشیات، اسلامی فنانس وبینکنگ اور جدیدیت سے برآمد ہونے والے فکری مباحث شامل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.