''کتاب مر رہی ہے'' کہنے والوں کی خدمت میں - حافظ محمد زبیر

کچھ عرصہ پہلے کسی کتاب کے خرید کر پی۔ڈی۔ایف بنا کر انٹرنیٹ پر شیئر کرنے کے جواز کے حوالے سے کچھ پوسٹیں لگائی تھی، اس وقت سے بعض دوست گاہے بگاہے میسنجر اور واٹس ایپ پر ایسی تحریریں شیئر کرتے رہتے ہیں کہ جن کا عنوان "کتاب مر رہی ہے" یا اس سے ملتا جلتا ہوتا ہے۔ اور اس تحریر کا بنیادی مقدمہ یہ ہوتا ہے کہ اگر کتاب کی پی۔ڈی۔ایف بنا کر شیئر کی جائے گی تو کتاب مر جائے گی کیونکہ ریڈر کتاب نہیں خریدے گا، اور جب ریڈر کتاب نہیں خریدے گا تو کتاب پبلش نہیں ہو گی، اور جب کتاب پبلش نہیں ہو گی تو کتاب مر جائے گی، الا بلا ۔۔۔

تو بھئی، کتاب واقعتا مر جائے گی، اگر تمہیں شک ہے تو یقین کر لینا چاہیے لیکن کتاب وہ مرے گی جس کتاب کی تم بات کر رہے ہو یعنی ہارڈ کاپی۔ جس کتاب کی میں بات کر رہا ہوں یعنی سافٹ کاپی، وہ زندہ رہے گی کہ وہ زمانے کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہے۔ اور تمہارے اچھے اچھے پبلشر پراپرٹی کا کام کریں گے۔ تو میں یہ طنزا نہیں کہہ رہا ہوں، یہ میں نصیحت کے طور کہہ رہا ہوں کہ زمانے اور زمانے کے تقاضوں کو سمجھنے کی کوشش کرو ورنہ بہت پیچھے رہ جاؤ گے اور اپنا نقصان کرو گے۔

ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم پچاس سال تو کجا پانچ سال بعد کی بھی نہیں سوچتے۔ ایک وقت آڈیو کیسٹ اور ویڈیو کیسٹ کا تھا اور اب ہماری نسل کے بچے اسے میوزم میں دیکھا کریں گے۔ تو آڈیو اور ویڈیو کیسٹ کے ختم ہونے سے علم ختم نہیں ہوا اور نہ ہی اس کی نشر واشاعت رکی ہے بلکہ بڑھ گئی ہے، بس ذریعہ بدل گیا ہے۔ یہاں لاہور میں بعض اداروں کے پاس ہزاروں کی تعداد میں دینی کیسٹس کا اسٹاک تھا، انہیں کسی خیر خواہ نے سمجھایا کہ اونے پونے داموں نکال دو، سال چھ ماہ میں کیسٹ مارکیٹ سے آؤٹ ہو جائے گی، وہ ہنسنے لگ گئے کہ ہماری تو اتنی بکتی ہے۔ اور سال بعد سی۔ڈی (CD) آئی اور ہزاروں کا اسٹاک مفت میں بھی کوئی لینے کو تیار نہ تھا کہ کیسٹ کے ساتھ کیسٹ پلیئر بھی مارکیٹ سے غائب ہو چکا تھا۔ وی۔سی۔آر ہی نہیں رہے گا تو آپ کی ویڈیو کیسٹ کس کام آئے گی!

اسی طرح اب ہم سی۔ڈی اور ڈی۔وی۔ڈی سے یو۔ایس۔بی (USB) کے دور میں داخل ہو چکے ہیں اور سی۔ڈی اور ڈی۔وی۔ڈی کا رول نہ ہونے کے برابر رہ گیا ہے۔ اب ڈیٹا ٹرانفسر کرنا ہو یا کاپی کرنا ہو، سیو کرنا ہو یا ونڈو انسٹال کرنی ہو، کارٹونز دیکھنے ہوں یا مووی چلانی ہو، ہر مقصد کے لیے یو۔ایس۔بی استعمال ہو رہی ہے۔ اور کچھ بعید نہیں کہ کچھ ہی عرصے پر سی۔ڈی اور ڈی۔وی۔ڈی بھی مارکیٹ سے بالکل آؤٹ ہو جائے جیسا کہ کم تو ہو ہی گئی ہے۔

اسی طرح اب دنیا جس طرف جا رہی ہے، وہ ای۔پبلشنگ کا دور ہے۔ ایک دور کتابت کا دور تھا جبکہ ہاتھ سے کتابیں لکھی جاتی تھیں اور قلمی نسخے ہی لائبریروں کی زینت بنتے تھے۔ پھر پرنٹنگ پریس کا دور آیا تو بھی کتابت کم از کم اس درجے باقی رہی کہ اصل نسخہ کاتب کے ہاتھ کا لکھا ہوتا تھا، بعد میں اس کی پرنٹنگ ہو جاتی ہے۔ اس سے کاتبوں کا روزگار مانند پڑ گیا لیکن کسی نے نہیں کہا کہ پرنٹنگ پریس نہیں ہونا چاہیے کہ اس سے ہزاروں لوگ بے روزگار ہو گئے ہیں۔ پھر کتابت کا دور ہی ختم ہو گیا اور اب ہاتھ سے لکھنے ہوئے نسخے میوزم میں ایک یادگار کی حیثیت سے رکھنے جانے لگے اور کتابت کے ختم ہونے سے کاتب بھی ناپید ہو گئے کہ ہر چیز کمپیوٹر میں براہ راست لکھی جانے لگی کہ جسے کمپوزنگ کہتے ہیں۔ تو کتابت سے ہم پہلے پرنٹنگ اور پھر کمپوزنگ کے دور میں آئے۔

یہ بھی پڑھیں:   قہوہ کی مہک اور کتاب کی خوشبو - محمد عامر خاکوانی

اور اب ہم ای۔پبلشنگ کے دور میں داخل ہو رہے ہیں۔ نیویارک ٹائمز جیسے اخبارات بھی پرنٹ شدہ اخبار کی فروخت میں نقصان میں جا رہے ہیں اور جتنا کما رہے ہیں، وہ اس کی ای۔پبلشنگ سے کما رہے ہیں۔ زمانے کی چال یہی ہے اور جس نے اس چال کا ساتھ دیا، وہ چلتا رہے گا، باقی منظر سے غائب ہو جائیں گے، یہی تقدیر کا فیصلہ ہے۔ تو ابھی اگرچہ کچھ بوڑھوں اور جوانوں کی تعداد ایسی ہے جو اب بھی برقی کتاب کو نہیں پڑھ پاتے اور شائع شدہ نسخے کی تلاش میں رہتے ہیں لیکن بحث وتحقیق اور ریسرچ کے ذوق اور اس میں تیز رفتاری کے عمل نے کتاب ہارڈ کاپی کو کنسلٹ کرنے کے رجحان کو مانند کر دیا ہے۔ اب کچھ لوگ پڑھنے کے لیے تو کتاب خریدتے ہوں سو خریدتے ہوں لیکن تحقیق اور حوالے یعنی ریفرنسنگ کے لیے کوئی بھی کتاب نہیں خریدتا ہے۔

جس نے بھی کسی اسلامی موضوع پر کتاب یا مقالہ لکھنا ہے، اس کے لیے ممکن ہی نہیں ہے کہ وہ کوئی اچھا کام اس وقت تک سامنے لا سکے جب تک کہ اس موضوع پر بیروت، مصر، سعودی عرب اور ایران وغیرہ سے شائع شدہ کتب حاصل نہ کر لے۔ اور ان کا حصول کسی جاگیردار کے لیے تو ممکن ہے، طالب علم کے لیے نہیں سوائے اس کے کہ وہ وقفیہ جیسی سائیٹس اور شاملہ جیسے سافٹ ویئرز کی کتب کو حوالہ بنائے۔ تو اس پر ریسرچ کر کے دیکھ لیں کہ جتنے لوگ اس وقت ریسرچ کر رہے ہیں، ان کی ریسرچ کے نوے فی صد مصادر ومراجع ایسے ہوتے ہیں جو انہوں نے ای۔بُک کی صورت میں حاصل کیے ہوتے ہیں یا ای۔بُک کی صورت میں ہی ان کا مطالعہ کیا ہوتا ہے، بھلے وہ مصدر ان کے محلے کی لائبریری میں بھی موجود ہو۔

تو اب مستقبل یہی ہے کہ ہماری لائبریری ہمارا اسمارٹ فون ہو گا۔ جس نے اس بات کو سمجھ لیا ہے، انہوں نے دہائیوں پہلے ای۔پبلشنگ شروع کر دی ہے۔ اب ایمازون کیا کام کر رہا ہے، بلین ڈالرز کا کتابوں کا کاروبار ہے، اور وہ بھی سافٹ کاپی فروخت کر رہے ہیں، یا ہارڈ کاپی بھی فروخت کر رہے ہیں تو وہ بھی انٹرنیٹ کو ہی ذریعہ بنا کر۔ تو اب ذریعہ صرف سافٹ ہی رہ جانا ہے، اس بات کو اچھی طرح سمجھنے کی ضرورت ہے۔ میں تو اپنے ایک دوست سے ایک سافٹ ویئر بنوا رہا ہوں کہ جس میں میری سب کتابیں ایک سافٹ ویئر کی صورت میں انٹرنیٹ پر بھی دستیاب ہوں اور پلے اسٹور پر بھی۔ اور یہ سافٹ ویئر اپنے آخری مراحل میں ہے۔اور ہم کوشش کر رہے ہیں کہ اسے ای۔بکس کے ایک بہترین سافٹ ویئر کے طور ڈیزائن کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں:   عالمگیریت اور اہل مذہب کو درپیش چیلنج - محمد عرفان ندیم

تو آپ ہارڈ کاپی پبلش کرتے رہیں گے لیکن کوئی نہیں پڑھے گا، ہارڈ کاپی صرف قرآن مجید اور اس جیسی چند مقدس کتابوں کی باقی رہ جائے گی، باقی ختم ہو جائے گی۔ لہذا اس قسم کے لیٹرز جاری کرنے کا فائدہ نہیں ہے کہ جس نے ہمارے مکتبے کی کوئی کتاب ہماری اجازت کے بغیر اسکین کر کے نیٹ پر دی تو ہم اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کریں گے۔ یہ زمانے سے لڑنے والی بات ہے اور زمانہ آگے ہی آگے جا رہا ہے کہ اس نے آگے ہی جانا ہے، آپ کے لڑنے سے وہ رک نہیں جائے گا بلکہ آپ پیچھے رہ جائیں گے۔

تو اب تو میں نے یہ ارادہ بھی کر لیا ہے کہ اپنی کتابوں کی صرف ای۔پبلشنگ ہی شروع کر دوں اگرچہ وہ تو میں پہلے سے ہی کر رہا ہوں کہ ہر کتاب فیس بک اور واٹس ایپ پر شیئر کر دیتا ہوں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اب اسی مصنف کو پڑھا جائے گا جو یہاں پبلش ہو گا، جہاں دنیا بیٹھی ہے۔ لائبریری میں کون بیٹھا ہے یا اردو بازار کتنے لوگ جاتے ہیں جو آپ کی کتاب کو ریڈر ملیں گے۔ جن کی کوئی ہارڈ کاپی کے اچھے نسخے بک جاتے ہیں، وہ بھی اسی ای۔ایڈورٹزمنٹ کی وجہ سے بکتے ہیں کہ فیس بک پر کسی ایڈ کو اسپانسرڈ کروا لیا وغیرہ، کیسا سمجھ آئی۔ تو اگر بطور مصنف زندہ رہنا چاہتے ہیں تو اپنی کتابوں کی ای۔پبلشنگ کروائیں ورنہ آپ کو کوئی نہیں جانے گا۔ سلف کی چند کتابوں کا حوالہ دینے کی ضرورت نہیں کہ ان کی ہارڈ کاپی شائع ہوتی رہے گی۔ تفسیر طبری اور فتح الباری جتنی لائبریروں کی ضرورت تھی، شائع ہو چکی، اب فرد کے پاس نہ تو اتنا پیسہ ہے اور نہ ہی اسے اس کے خریدنے کی ضرورت رہی ہے لہذا ان مصادر کی بھی مستقبل میں ای۔پبلشنگ ہی ہو گی۔

اب ای۔پبلشنگ میں کچھ سنجیدہ مسائل ہیں جنہیں دیکھنے کی ضرورت ہے، ہماری یونیورسٹی کے ایک پروفیسر ندیم غفور چوہدری صاحب کچھ پروفیسرز کے ساتھ مل کر "ڈیجیٹل ریپوزیٹری" کے عنوان سے ایک پراجیکٹ پر کام شروع کر رہے ہیں کہ جن سے ان مسائل کو ایڈریس کیا جا سکے جو ابھی لوگوں کے ذہنوں میں بھی نہیں ہیں لیکن ان کا حل تلاش کیا جا رہا ہے۔ یہ ہوتا ہے زمانے کے تقاضوں کو سمجھنا اور ان کے مطابق چلنا۔ اللہ سمجھ عطا فرمائے۔