امکانات، ممکنات اور امتحانات - نثار موسیٰ

امکانات، ممکنات اور امتحانات ہماری زندگیوں کے خوبصورت تجربے ہیں۔ انسان کی ساری تگ و دو ہمیشہ بہتری کی طرف ہوتی ہے۔ یہ اس وقت ممکن ہیں جب ہم خواہش سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کریں۔ مگر انساں کبھی کبھی اس بہتری کے لیے امکانات کا سوچنے اور ممکنات ڈھونڈھنے سے ڈرتا اور خوف کھاتا ہے۔

غور کریں ہم لوگ کیوں امکانات اور ممکنات سے دور ہیں حالانکہ زندگی کو آگے کی طرف لے جانے کے لیے ممکنات ڈھونڈھنے سے بڑا اور کوئی کام نہیں۔ یہی وہ چیز ہے جو امید دلاتی ہے اور حرکت میں لاتی ہے۔ کیا کیا چیزیں ممکن ہیں، کن کن چیزوں کے امکانات ہیں۔ معاشروں کی بہتری اور برتری انھی چیزوں سے وابستہ ہے۔ لگے بندے طریقوں پر چلنا اور حاظر و موجود پہ راضی ہوجانے والے کبھی ترقی، کمال، بہتری اور برتری کو نہیں پاسکتے ہیں۔

دوسری جانب امتحانات کا سامنا کرنا انسان کی بہتریں جوہروں میں سے ایک کمال کا جوہر ہے۔ بہادر، نڈر اور جری لوگ ہی معاشروں کی تعمیر و ترقی کے کام سرانجام دے سکتے ہیں۔ حوصلہ مندی اور مثبت انداز میں امتحانات کا سامنا کر نے والے ہی رول ماڈل بنتے ہیں۔

لیکن سوال یہ ہے کہ اگر یہ زبردست چیزیں ہیں تو پھر لوگ کیوں نہیں کرتے؟ اس کا سبب معلوم کرنے کے لیے ہمیں تعلیمی اداروں کو دیکھنا ہوگا۔ ہمارے تعلیمی اداروں میں بالعموم اور اسکولوں میں بلاخصوص جو ماحول ہے وہ طلبہ کو ممکنات ڈھونڈھنے پر لگاتا ہی نہیں ہے، امکانات پر سوچنے کے لیے تیار نہیں کرتا۔ طلبہ کو چیلنج نہیں کرتا کہ وہ مستقبل کی تصویریں دیکھیں۔ اسکولوں کا سارا ڈیزائن ہی مخصوص نصاب پورا کرنا ہوتا ہے۔ ماضی کی معلومات دیکر امتحانات کے مصنوعی مراحل سے گزارنا ہوتا ہے۔

ہمارے ملک، صوبوں، معاشروں اور دنیا میں مسائل کے انبار لگے ہیں۔ ہر طرف کوئی نہ کوئی چیز ایسی ہے جس کو درست اور بہتر کیا جائے مگر کیسے اور کون کرے گا؟ جب ہماری ساری توقعات بچوں سے یہ ہیں کہ انھیں کتنا "یاد" ہے؟ کتنا اور کیسے رٹہ لگا کر دماغ پر محفوظ کر سکتے ہیں؟ پرچوں کو کتنا بھر سکتے ہیں؟ یہی کامیابی کے معیار بھی ہیں۔ اس سے زیادہ نہیں۔ تعمیر، ترقی، تبدیل کرنا، بہتری لانا ہم سمجھتے ہیں کہ طلبہ کے کام نہیں۔ نظم و ضبط، صاف لکھائی، یونیفارم پہنا، فرفر انگریزی بولنا اور جعلی تقریریں کرنا طلبہ کے کام ہیں۔ یہی وہ شخصیتیں ہیں جو اسکولوں سے پڑھ کر آئے ہیں اور کروڑوں کی تعداد میں پڑھ رہے ہیں۔ انھی شخصیتوں نے ہمارے معاشرے کی باگ ڈور سنبھالنی ہے۔ حکومتی ادارے ہوں کہ نجی، کاروباری تنظیمیں ہوں کہ سماجی، تعلیمی ادارے ہوں کہ مذہبی تحریکیں، ہر جگہ یہی لوگ قیادت کر رہے ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   برائیوں سے بھرے معاشرے میں پہلی وحی "اقرا" کیوں؟ عاصم رسول

عجیب بات ہے کہ ہمارے اسکولوں کا سارا نظام، ڈیزائن، نصاب، طریقہ کار اور سرگرمیوں کا مقصد بچوں کو امتحانات کے لیے تیار کرنا ہے۔ طلبہ 16 سال تعلیمی اداروں میں بس یہی کرتے رہتے ہیں۔ دیکھا گیا ہے جب عملی زندگی میں قدم رکھتے ہیں تو امتحانات سے ڈرتے ہیں۔ رسک لینے سے خوف کھاتے ہیں۔ نئے آئیڈیاز سوچنا اور کچھ نیا کرنا اکثر لوگوں کے نہ صرف ایجنڈے میں شامل نہیں ہوتا بلکہ اس کو فضول سمجھا جاتا ہے۔ حالانکہ انھیں امتحاں "لوور" ہونا چاہیے۔ مگر ایسا نہیں ہے۔ اس کی بنیادی وجہ موجودہ امتحانات کا مقصد صرف اور صرف سبجیکٹس میں پاس اور نوکری کا حصول ہوتا ہے۔

عملی زندگی میں طلبہ کو رسک لینے کے لیے تیار کیے بغیر ہم امکانات اور ممکنات کی دنیا کو نہیں سمجھ پائیں گے۔ اگر طلبہ کسی نئی چیز کے بارے میں سوچیں گے اور اس کے حصول کے لیے اقدامات اٹھائیں گے تو لازمی بات ہے ان کو امتحانات درپیش ہوں گے، مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ناکامیاں ملیں گی، بڑے بڑے سیٹ بیک ہوں گے۔ یہی دراصل امتحان ہوتا ہے کہ ہم کس طرح ہمت، حوصلہ مندی، بہادری سے سیکھنے کے عمل سے گزر کر آگے بڑھتے ہیں۔ ہمارے معاشرے کا حال تو یہ ہے کہ جب کوئی بندہ نیا کام کا سوچتا ہے تو اس کو یہ خوبصورت آوازیں سنائی دیتی ہیں: ''او بھائی کیوں اپنے آپ کو امتحان میں ڈال رہے ہو؟"، "یہاں کچھ نہیں ہوتا"، "ارے پاگل ہو کیا! یہ کیا نیا دھندہ شروع کیا ہے؟"۔ یہ صرف چند جملے نہیں ہیں بلکہ ہمارے سماج کی مجموعی سوچ و فکر اور تربیت ہیں جو ہم غیر محسوس طور پر تعلیمی اداروں سے کرتے ہیں۔

بہتر اور تابناک مستقبل کے لیے ہمیں اپنے اسکولوں کے مقاصد، ڈیزائن، ترتیب، طریقہ کار اور بچوں کے تجربوں پر دوبارہ غور کرنا ہوگا۔ بچوں کو آج کے عہد کے مطابق تیار، ان کی شخصیتوں کی تعمیر و ترقی کو عملی زندگی سے جوڑنا ہوگا۔ انھیں ایسا ماحول اور تجربے کرنے کی اجازت دینی پڑے گی جو ان کو ممکنات explore کرنے، امکانات پہ سوچنے اور مشکل حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار کرے۔ ہمارے اسکول آج کے دور میں بچوں کو اخلاق اور کردار سے آراستہ کر کے، عملی زندگی سے جوڑ کر، دماغی صلاحیتوں کے با مقصد استعمال سے معاشرتی مسائل کے حل کرنے والے نرم دل و نرم خو قائد بنا سکتے ہیں۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ آپ میں سے کوئی یہ کام آج سے شروع کرے۔

یہ بھی پڑھیں:   بلوچستان میں تعلیمی ایمرجنسی ضروری کیوں؟ عبدالمتین اخونزادہ

"ممکنات" ایک خیالی تصویر ہے جو "امتحانات" کے راستے سے گزر کر "امکاں" کو حقیقت میں بدل سکتی ہے۔