مجھے آپ سے ایک بات کہنی ہے - عنبرین خان

''مجھے آپ سے ایک بات کہنی ہے۔'' نئی نویلی دلہن نے سر جھکائے دھیمی آواز میں کہا۔ بے خودی کے لمحات میں کسی محبت بھری سرگوشی کا منتظر ذیشان اس کی طرف متوجہ ہوا۔ ''ہاں کہو نا۔ آج سب کہہ دو، کچھ نہ چھپاؤ۔ میں سننے کے لیے بےقرار ہوں۔''

''پہلے آپ وعدہ کریں، ناراض نہیں ہوں گے۔'' وہ بولی۔ ''ارے بالکل نہیں ہوں گا۔ تم کبھی ایسا سوچنا بھی مت کہ میں تم سے ناراض بھی ہو سکتا ہوں۔ چلو بتاؤ شاباش ۔کیا بات ہے؟'' ذیشان نے حنا کا حوصلہ بڑھایا۔ ''وہ اصل میں بات یہ ہے کہ۔۔۔'' حنا چند لمحوں کے لیے خاموش ہوئی۔ ''ہاں بولو نا! کیوں ترسا رہی ہو؟ تم مجھ سے ہر بات بلا جھجھک کر سکتی ہو۔'' ذیشان اس کے ہاتھ تھامتے ہوئے بولا۔

''مجھے نا۔۔۔ آپ کو بس یہ بتانا ہے کہ شادی سے پہلے ایک کزن مجھے بہت پسند کرتا تھا ۔ہماری شادی بھی ہو جاتی اگر بڑوں کے درمیان اختلافات نہ ہوتے۔ میں بس نئی زندگی کہ ابتدا جھوٹ سے نہیں کرنا چاہتی۔ دل پر کوئی بوجھ رکھ کر آگے نہیں بڑھنا چاہتی۔ آپ میری بات سمجھ رہے ہیں نا۔''

حنا گم سم سے ذیشان کو ہلاتے ہوئے بولی۔ ''آپ کچھ بول کیوں نہیں رہے۔ یقین کریں ہمارا رشتہ بالکل پاک تھا۔ اس میں کوئی گندگی شامل نہ تھی۔''
''پاک تھا؟'' ذیشان اپنا ہاتھ چھڑاتے ہوئے چلایا۔ ''میری بیوی شادی کی پہلی رات مجھے اپنے افئیر کے متعلق بتاتے ہوئے کہہ رہی ہے کہ وہ پاک تھا۔ کس قدر بے حیا لڑکی ہو تم۔ تمہیں شرم بھی نہ آئی ایسی بات کرتے ہوئے۔''

''ذیشان! آپ میری بات تو سنیں۔ میں بالکل سچ کہہ رہی ہوں۔ حنا اس کے گڑگڑائی، لیکن ذیشان اسے دھکا دے کر پیچھے ہٹاتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گیا۔ باہر سے آتی ہوئی اس کی اونچی اونچی آوازیں سنتے ہوئے حنا سوچنے لگی کہ آخر اس سے کیا غلطی ہوئی۔ اس کی نیت تو بالکل صاف تھی۔ لیکن وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ معاشرہ کے خود ساختہ اصولوں کے مطابق مرد اپنے کئی افئیر بیوی کو نہ صرف بتا سکتا یے بلکہ ان پر فخر بھی کر سکتا ہے۔ لیکن بیوی کی طرف سے ایسی کوئی بات سننے کا اس میں حوصلہ نہیں ہوتا۔

یہ بھی پڑھیں:   لڑکیاں بھی انسان ہوتی ہیں - عمارہ خان

یہ جملہ کہ "سب بول دو" لوگوں کی زندگیوں میں زہر گھول رہا ہے۔ خاص طور پر نوجوان نسل اور اِن میں بھی خاص الخاص لڑکیوں کی زندگیوں میں۔ میڈیا کی شتر بےمہار آزادی اور والدین کی اولاد کو بےجا ڈھیل دینے کے سبب بچیاں نہ چاہتے ہوئے بھی بہک جاتی ہیں۔ کچھ کو تو بھیڑیے تاک لیتے ہیں، اور کچھ خود ہی اس حسین جال میں پھنسنا چاہتی ہیں جس کو محبت کا نام دیا جاتا ہے۔ محبت بذاتِ خود بری چیز نہیں لیکن اس کی حدود و قیود ہیں۔ اس سے تجاوز کرنا ہمیشہ ہی نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔ نقصان کا تناسب ظاہر ہے کہ لڑکوں میں کم اور لڑکیوں میں زیادہ ہوتا ہے۔

میں جس اہم مسئلہ کی طرف آپ سب کی توجہ چاہتی ہوں، وہ یہ ہے کہ کچھ بےوقوف دوستوں کے کہنے میں آ کر، یا فلموں کے زیرِ اثر بچیاں یہ سمجھتی ہیں کہ شادی کے بعد ان کا سب کچھ اپنے شوہر کو بتانا بےحد ضروری ہوتا ہے۔ نیت یہ ہوتی ہے کہ نیا سفر پوری ایمانداری سے شروع کیا جائے۔ اس وقت یہ بھولی بچیاں یہ بھول جاتی ہیں کہ مرد تو اپنے شادی سے پہلے کے افئیر نہایت فخر کے ساتھ بیان کر سکتا ہے لیکن بیوی کا اٹھایا ہوا ایک بھی غلط قدم اس کو برداشت نہیں۔

نئی زندگی شروع کرنے کے لیے پوری ایمانداری کا آپ کے ذہن میں ہونا کافی ہے۔ توبہ بہت سے راستے آسان کر دیتی ہے۔ اگر آپ شرمندہ ہیں، پچھلی زندگی بھولنا چاہتی ہیں، تو یقین کریں ربِ کریم اس میں آپ کا پورا ساتھ دے گا۔ اللہ پردہ رکھنے والا ہے۔ جس بات کا بھرم اللہ نے رکھا، آپ کو نئے سرے سے زندگی شروع کرنے کا موقع دیا، اس کا بھرم آپ خود مت کھوئیں۔ وہ رب تو اتنی عزتیں رکھنے والا ہے کہ قیامت کے دن بھی بچوں کو ماں کے نام سے پکارے گا نہ کہ باپ کے نام سے۔

یہ بھی پڑھیں:   شادی بیاہ کے نافذ شدہ فرائض - بشارت حمید

تو پیاری بہنو اور بیٹیو! خدارا سب مت بولیں۔ بس دل سے توبہ کریں اور خوشی خوشی نئی زندگی کی شروعات کریں۔ بغیر یہ سوچے کہ آپ اپنے ہم سفر کو دھوکہ دے رہی ہیں، بلکہ یہ سوچیں کہ آپ اپنے آپ کو دوسرا موقع دے رہی ہیں۔ میری اس بات سے ایک بھی بچی کا گھر خراب ہونے سے بچ گیا تو اس تحریر کا حق ادا ہو جائے گا۔ اللہ ہم سب کی بہنوں بیٹیوں کی عزت کی حفاظت کرے۔ آمین