حقوق نسواں یا مغربی ایجنڈا - شازیہ عبدالقادر

دسمبر 2006 مشرف کے دور حکومت میں حقوق نسواں بل کے نام پر باہمی رضامندی سے کیے جانے والے زنا کا شرعی حکم تبدیل کیا جاتا ہے۔ 7 اگست 2009ء کو اقوام متحدہ کے ادارے یو این ایف پی او کے زیر اہتمام ''سیکس ورکرز'' کی اپنی نوعیت کی پہلی ورکشاپ منعقد ہوتی ہے جس میں ''محفوظ سیکس'' کے طریقے سکھائے جاتے ہیں۔ ساتھ ہی بی بی سی اردو پاکستان میں موجود ایسی ورکرز کی تعداد اور انھیں قانونی آزادی حاصل نہ ہونے پر رپورٹ شائع کرتا ہے۔ دینی طبقوں کی جانب سے حسب عادت ہلکا پھلکا احتجاج اور عوام الناس سمیت مقتدر طبقہ کی روایتی بےحسی کے باعث وقت کی گرد میں یہ معاملہ دب جاتا ہے۔ 26 جون 2011ء میں امریکی سفارتخانے اسلام آباد میں ہم جنس پرستوں کا اجتماع ہوتا ہے جہاں ان کو امریکہ کی جانب سے سرپرستی کی مکمل یقین دہانی کروائی جاتی ہے۔ 2015ء میں ہم جنس پرستی کا حق حاصل کرنے کے لیے ایک تنظیم سوشل میڈیا پر متحرک ہونا شروع ہوتی ہے اور ملک کے مایہ ناز لبرلز اس کی سرپرستی کرتے ہیں۔ فروری 2016ء میں تحفظ نسواں بل کے نام پر اپنے محرم مردوں بلکہ والدین تک کو بیٹی، بہو، بیوی، بہن کو کسی بات سے منع کرنے پر تھانے اطلاع دے کر ایک کڑا پہنانے کا قانون بنایا جاتا ہے۔

پچھلے دو عشروں میں وقتا فوقتا جہاں نصاب سے قرآن و سنت اور نظریہ پاکستان سے متعلقہ چیزیں آہستہ آہستہ نکالی جاتی ہیں، وہیں عورت اور سیکس پر مبنی مبہم اور ذومعنی اشیاء شامل کرنے کی بازگشت بھی سنائی دیتی ہے۔ یو این او کے نمائندگان نوعمر بچیوں سے سیکس کے بارے سوالات کرتے بھی سنے جاتے ہیں۔ 2000ء تک پاکستان کی یونیورسٹیوں میں کو ایجوکیشن کے باوجود مختلف ریسرچز یا اسائنمنٹس کے لیے لڑکے لڑکیوں کے الگ گروپس بنانے کا رجحان زیادہ تھا جبکہ آج مخلوط گروپس عام ہیں، جن کی ریسرچ اور اسائنمنٹ کی تیاری، اوقات اور سفر و حضر میں کسی چیز کی پابندی نہیں لگائی جاسکتی۔

سوشل میڈیا اور موبائل فونز کے پیکجز جو ہمسایہ ممالک میں عام نہیں، لیکن پاکستان میں سمارٹ فون کی آسان فراہمی اور انٹرنیٹ و موبائل کمپنیوں کے گھنٹہ پیکج سے، مختلف اکانومی کارڈز میں فری انٹرنیٹ کی سہولت نے اسے مثبت کے بجائے منفی استعمال کا ذریعہ بنا دیا ہے۔ نتیجتا مرد و زن میں جو ایک فاصلہ تھا وہ ختم ہوگیا۔ جو رشتہ دار، دوست احباب کبھی شادی بیاہ میں بھی آمنا سامنا کرنے سے محروم رہتے تھے، اب سوشل میڈیا اور موبائل کی بدولت ان کا اختلاط معاشرتی روایات کے برعکس بڑھنے لگا ہے۔

8 مارچ 2019ء کو ایک طویل کمپین کے بعد پاکستان کے مختلف شہروں میں عورت آزادی مارچ یوم خواتین کی مناسبت سے منایا گیا۔ اس کے سلوگنز پر سوشل میڈیا میں ہر شریف النفس انسان تو سیخ پا ہے ہی، پاکستان کے ہر طبقے اور شعبے سے تعلق رکھنے والی خواتین بھی نالاں نظر آئیں۔ مارچ کی سن گن ملی تو ان کے پیج کا وزٹ کیا۔ جو خواتین اس کی کمپین کر رہی تھیں، ان کے تعارف سے اندازہ ہوگیا کہ یہ لبرلز اور سیکولر موم بتی مافیا "اپنا کھانا خود گرم کرو" والی لبرل آنٹیاں ہیں۔

مارچ میں شامل سلوگنز پر سوشل میڈیا پر مسلسل غصے اور ناراضی کا اظہار کر رہے ہیں، خود خواتین کو اس سے صدمہ پہنچا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ یہ سلوگنز بذات خود عورت کی توہین پر مبنی ہیں۔ مگر اس دفعہ سلوگنز اور نعروں سے آگے بڑھ کر کچھ زیادہ ہوا۔ کراچی کا ایک سیکس ورکر ہیجڑا اس مارچ میں انتہائی قابل اعتراض پوسٹر کے ساتھ پایا گیا، جس کا فیس بک پیج سوشل میڈیا پر موجود افراد نے ڈھونڈھ نکالا، اس پر انتہائی قابل اعتراض تصاویر اور پوسٹس موجود ہیں۔ اسی طرح ہم جنس پرستوں کے بیشتر نمائندے اس مارچ میں شامل تھے، اور باقاعدہ انھی رنگوں اور ہینڈ بینڈ کے ساتھ شریک ہوئے۔ بی بی سی نے سوشل میڈیا اور اپنے چینل پر لمحہ بہ لمحہ اس مارچ کی کوریج کی، جس سے ایک مخصوص ایجنڈے کا اندازہ ہوتا ہے۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ جہیز پابندی بل سے لے کر عورتوں کی مردوں کے برابر تنخواہ، بچوں کی آسان تعلیم، وراثت میں حصہ ملنے، حاملہ و نوزائدہ بچوں کی مائیں جو ورکنگ ویمن ہیں، انھیں تنخواہوں کے ساتھ چھٹی، طالبات کے لیے الگ اسٹیڈیمز اور خواتین کوچز ہائر کرنا، الگ ٹرانسپورٹ سسٹم، آسان گھریلو کاروبار کے مواقع سمیت پاکستان کی خواتین کے اصل مسائل ان تمام نام نہاد حقوق نسواں تحاریک کا کبھی بھی حصہ نہیں رہے۔ یہ ایک تسلسل ہے مغربی تہذیب کو پاکستان میں بڑھاوا دینے اور اخلاقی طور پر مفلوج کرنے، اور ان مارچز کے ذریعے ڈالر بٹورنے کا۔

اس پہلو سے جتنا سوچیں اتنا یہ ابال اٹھتا ہے کہ بس لڑ بھڑ جائیں اور ان سوکالڈ لبرل سیکیولر خواتین جو اسلام اور نظریہ پاکستان کی مخالف ہیں، ان سے نسل نو کو بچالیں، لیکن یہ انٹرنشنل سپورٹ رکھتے ہیں، سائبر وار کے اس دور میں یہ چاہتے ہی یہ ہیں کہ بنیاد پرست لوگ ان کے خلاف احتجاج کر کے اپنی وقت اور قوت ضائع کریں۔ احتجاج کرنا اپنی جگہ اہم ہے لیکن احتجاج کو جس طرح غیر موثر کر دیا گیا ہے، اور بجائے ان کو خاموش کرایا جائے، الٹا ان کی تشہیر کا باعث بنتا ہے۔

اس تناظر میں ضروری ہے کہ کچھ حقیقت پسندانہ اور عملی اقدامات کیے جائیں۔ کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ خاندانی نظام کی مضبوطی پر کوئی سمجھوتہ نہ کریں۔ گھر میں اکھٹے بیٹھنے کا رجحان بڑھایا جائے اور فیملی ٹائم میں آپس کی گفتگو ترجیح ہو۔ سیرت مبارکہ سے بچوں کو جوڑا جائے۔ ان کے ساتھ ایسی کتب کا مطالعہ کیا جائے جس سے وہ ہلکے پھلکے دینی عقائد اور سیرت مبارکہ سے مانوس ہوں۔ اپنے بچوں کو ایسی گیدرنگز میں بھیجیں جہاں دین کسی بھی طریقے سے پڑھا پڑھایا جاتا ہو خواہ خود ان کے ساتھ جانا پڑے۔ قرآن و سنت کی تعلیمات کو آسان فہم اور جدید زبان دے کر عام کیا جائے۔ نئی نسل کو پرانے روایتی طریقوں کی بجائے جدید طریقوں سے اسلام کے قریب لایا جائے۔

نئی نسل کو اس اخلاقی بحران کا شکار ہونے سے بچانے اور اس کے خلاف قوت بنانے کے لیے اپنے طور پر جو کر سکتے ہیں، ضرور کیجیے، کیونکہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے پھولوں کو لولی لنگڑی اخلاقی زوال اور پستی میں ڈوبی تہذیب کا تر نوالہ نہیں بننے دیں گے۔ ان شاء اللہ

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */