خلافت کیا ہے؟ سقوط کیسے ہوا، پھر کب قائم ہوگی؟ عاطف الیاس

خلافت کیا ہے؟
خلافت اسلامی ریاست کا وہ نظام ہے جس میں اسلام طرز زندگی، شریعت سپریم لا، قرآن و سنت قانون کے ماخذ اور اللہ تعالی اقتدارِ اعلی کا مالک یعنی قانون بنانے اور بدلنے کا اختیار رکھنے والا ہوتا ہے۔ اس میں خلیفہ کی حیثیت صرف نائب کی ہے ۔ جو اللہ کی طرف سے نازل کیے گئے قانون کو من و عن نافذ کرنے کا پابند ہوتا ہے۔

خلیفہ کا انتخاب کیسے عمل میں آتا ہے؟
یہ ایک حیران کن چیز ہے کہ آج سے تیرہ سو سال پہلے جب دنیا کے کسی ملک، قوم او رسلطنت میں حکمران کے انتخاب کا رواج نہیں تھا۔ ہر طرف جابرانہ بادشاہتیں قائم تھیں۔ جس میں باپ کے بعد بیٹا ہی تخت نشین ہوتا تھا اور سارا ملک بادشاہ کی ملکیت سمجھا جاتا تھا۔ بادشاہ کے منہ سے نکلا ہوا لفظ قانون سمجھا جاتا تھا۔ اس دور میں مسلمانوں نے خلیفہ کے انتخاب کے لیے مشاورت اور انتخاب کا طریقہ رائج کیا۔ آپ ﷺ کی وفات کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا انتخاب قریش اور انصار کے بڑے سرداروں کی مشاورت سے ہوا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا انتخاب بڑے جید صحابہ کی مشاورت اور مرضی سے ہوا، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا انتخاب مدینہ کے لوگوں کی رائے شماری سے ہوا، حضرت علی رضی اللہ عنہ کا انتخاب مدینہ کے لوگوں نے خود کیا۔ اور یہ تمام خلافتیں مشاورت کے بنیادی نظام پر مبنی تھیں اور اللہ کے قانون کو من و عن نافذ کرتی تھیں۔ ان تمام ادوار میں زمین اور اقتدار اللہ کی امانت تھے، جو لوگوں کے حقوق پورے کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے تھے۔ اگرچہ اس کے بعد انتخاب کے طریق کار، مشاورت اور خلفا کی طرف سے ظلم وستم جیسے مسائل دیکھنے کو ملے لیکن تیرہ سو سال ریاست کا قانون اسلام ہی رہا اور اتھارٹی مسلمانوں کے ہاتھ ہی میں رہی۔ لیکن اب مسلمانوں کو یہ کوشش کرنی ہوگی کہ اب جب وہ دوبارہ خلافت قائم کرنے میں کامیاب ہوں تو ماضی میں کی گئی غلطیوں کی اصلاح کر سکیں۔

کیا خلافت محض تیس سالوں تک رہی؟
یہ خیال ہمارے ہاں ایک حدیث کے غلط فہم اور زیادہ تر مولانا مودودی ؒ کی کتاب "خلافت و ملوکیت" کی وجہ سے پایا جاتا ہے۔ لیکن اپنی ہی ایک دوسری کتاب "رودادِ جماعت اسلامی" میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے، انھوں نے واضح کیا تھا کہ تیس سال تک رہنے والی خلافتِ راشدہ تھی۔ لیکن اس کے بعد آنے والی خلافتوں میں کچھ مسائل مثلا خلیفہ کے انتخاب میں نقص، کچھ خلفا کی طرف سے ظلم و ستم اور اچھے برے خلفا دیکھنے کو ملے لیکن ان سب حکومتوں کا قانون اسلام ہی تھا، وہ سب اسلام ہی کو نافذ کرنے والی اور اسے پھیلانے والی تھیں۔ اس لیے وہ سب خلافت ہی شمار کی جائیں گی۔ گویا خلافتِ راشدہ بہترین ماڈل جبکہ باقی خلافتیں اس معیار پر پورا نہیں اُتر سکیں۔ اس لحاظ سے مجموعی طور پر خلافت کا دورانیہ قریبا تیرہ سو سالوں پر محیط ہے۔ جس میں پہلے تیس سال خلافتِ راشدہ، نوے سال اموی خلافت، پانچ سو سال عباسی خلافت اور قریبا پانچ سو سال ہی عثمانی خلافت قائم رہی۔ جو آخرِکار 3 مار چ 1924ء کو اپنوں اور غیروں کی سازشوں کی نتیجے میں ختم ہوگئی۔ اور پوری دنیا میں مسلمانوں کی ایک ریاست، ایک وجود اور ڈھال کا خاتمہ ہو گیا۔ مسلمان ایک سے زیادہ ملکوں اور وطنوں میں تقسیم کر دیے گئے۔ ان کے درمیان خاردار تاریں لگا کر اور اپنی مرضی کے حکمران مسلط کر کے یقینی بنایا گیا کہ مسلمان کبھی دوبارہ سے خلافت کی صورت میں جڑ نہ سکیں۔

خلافت سے مسلمانوں کی زندگی میں کیا تبدیلی رونما ہوئی؟
ایک طرف مسلمان خلافت میں اسلام کے مطابق اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی گزارتے رہے جو ان پر فرض ہے۔ دوسری طرف خلافت کی صورت میں ان کا عقیدہ اور زندگی ہم آہنگ ہوگئے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پہلے ان کی اپنی زندگیوں میں انقلاب برپا ہوا۔ وہ ایک ایسا وجود بن گئے جس میں مادی اور روحانی دونوں اوصاف یکجا ہوگئے۔ جس کے نتیجے میں ایک زبردست اور پاکیزہ اسلامی معاشرہ وجود میں آیا جس میں اسلام ضابطہ حیات تھا۔ مادی اور روحانی اوصاف کی یکجائی نے اس ریاست اور معاشرے کو ایسی اُٹھان دی کہ پہلے تویہ ریاست آدھی دنیا پر غالب آگئی۔ جو علاقہ، خطہ یا قوم اس کے ماتحت آئی، وہ بھی اس کے رنگ میں رنگ گئی۔ جاہل اور اجڈ قومیں دنیا کی بہترین، مہذب، عالِم اور باشعور قومیں بن گئیں۔ پھر سائنس، ٹیکنالوجی اور علوم و فنون میں ایسی ترقی ہوئی کہ یہ قوم نئے نئے علوم ایجاد کرنے والی، سائنس اور ٹیکنالوجی کو بنیادیں فراہم کرنی والی، مدرسوں اور جامعات کی بنیادیں رکھنے والی، لائبریریاں بنانے والی، ہر قسم کے علوم کی بنیادی کتابیں لکھنے والی اور بہترین معاشرتی نظم و ضبط قائم کرنے والی بن گئی۔ ان کے شہر دنیا کے ترقی یافتہ شہر، بہترین سہولتوں، اعلی ترین تعمیرات اور دس دس لاکھ آبادی والے شہر بن گئے۔ آدھی سے زیادہ دنیا اس دور میں اس نئے تہذیب و تمدن سے اس قدر متاثر ہوئی کہ انھیں کے رنگ میں رنگ گئی، جبکہ اس دور میں دنیا میں کسی بھی میڈیا کا وجود نہیں تھا۔ ان کا حصہ بننے والی قوموں کی اکثریت نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کر لیا اور انھی کے وجود کا حصہ بن گئیں۔ یہ قوم ایک ہزار سال تک دنیا کی سپر پاور رہی۔ ایک طرف یہ دنیا کی سب سے بڑی تہذیبی قوت تھی، دوسری طرف یہ دنیا کی سب سے بڑی سیاسی قوت تھی۔ جہاں ایک طرف مسلمان دنیا کے سب سے زیادہ ترقی یافتہ قومی بنی، وہیں دوسری طرف روم اور ایران جیسی سپر پاوروں کا خاتمہ ہوا۔

خلافت کا خاتمہ کیسے ہوا؟
خلافت کے خاتمے کی بنیادی وجہ اجتہاد کا دروازہ بند ہونا ہے۔ یعنی نئے دور کے مسائل کے حل کے لیے مسلمانوں نے قرآن و سنت کی طرف رجوع کرنے میں تساہل سے کام لینا شروع کیا۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ یورپ کی صنعتی اور سائنسی ترقی کے مقابلے میں مسلمان پیچھے رہ گئے۔ دوسری طرف اٹھارویں صدی کے آغاز ہی سے ساری دنیا میں مسلمانوں کے سیاسی زوال کا آغاز شروع ہوگیا۔ دوسری طرف اسی دور سے یورپ، جو صدیوں سے اسلامی ریاست کو کمزور یا ختم کرنے کی کوششوں میں مصروف تھا، اپنی سازشوں میں کامیاب ہونے لگا۔ خلافت کے آخری ڈیڑھ سو سال ایک کمزور ریاست کا دورانیہ ہے۔ جس میں ایک طرف مغربی قوتیں اسلامی ریاست میں، اپنے جاسوس داخل کرنے میں کامیاب ہوگئیں، وہیں دوسری طرف وہ ایسے غداروں کو خریدنے یا اپنا بنانے میں کامیاب ہوگئیں، جنھوں نے آگے چل کر گرتی ہوئی دیوار کو دھکا دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ آخرِکار 3 مارچ 1924ء کو برطانیہ کے ایجنٹوں مصطفی کمال اتاترک، مکہ کے عرب گورنر شریف حسین اور برطانوی جاسوس لارنس آف عریبیہ کی کوششوں سے خلافت کا ادارہ ختم کر دیا گیا۔

خلافت کے ختم ہونے سے مسلمانوں کو کیا فرق پڑا؟
آپ ﷺ کی ایک حدیث کے مطابق سب سے پہلے اسلام کی حکومت ختم ہوگی اور اس کے بعد مسلمان بتدریج اسلام سے دور ہوتے جائیں گے۔ اور سب سے آخر میں نماز کی فرضیت سے بھی غافل ہوجائیں گے۔ تو خلافت کے ختم ہونے سے پہلا نقصان تو یہ ہوا کہ مسلمانوں کی انفرادی اور اجتماعی زندگی سے اسلام رخصت ہوگیا۔ برطانیہ، فرانس اور روس نے مل جل کر خلافت کو تقسیم کیا اور بہت سے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں بانٹ دیا۔ جس سے مسلمانوں کی طاقت بکھر گئی۔ وہ ایک وجود سے بہت سے حصوں میں تقسیم ہوگئے۔ اس کے علاوہ بہت سے علاقے استعمار کی غلامی میں چلے گئے جن کے وسائل کو مالِ مفت سمجھ کر لوٹا گیا۔ انگریزوں نے یہودیوں کو فلسطین لا کر اسرائیل قائم کرنے میں مدد کی۔ جس نے فلسطین کے ساتھ ساتھ مقدس مقام بیت المقدس پر بھی اپنا قبضہ جما لیا۔ فلسطین، کشمیر، برما، سنکیانگ، عراق، افغانستان، شام، بوسنیا، چیچنیا جیسے مسائل نے سر اُٹھایا۔ جہاں مسلمانوں کا خون پانی کی طرح بہایا گیا۔ ان کی جان، مال اور عزت اس طرح لوٹی گئی جیسے وہ بے قیمت ہو۔ پچھلی صرف ایک صدی میں مسلمان آسمان سے زمین پر آگرے۔ وہ دنیا کی سب سے بہترین قوم سے ذلیل ترین قوم بن گئے۔ ان کی جان، مال اور عزت سب سے سستی شے بن گئی۔ قریب قریب اس ایک صدی میں ایک کروڑ سے زائد مسلمان قتل ہوئے۔ ان کے علاقے چھین لیے گئے۔ انھیں اپنے ہی گھروں سے نکال دیا گیا۔ ان کی زمینوں پر قبضہ جمایا گیا۔ ان کے وسائل بےدردی سے لوٹے گئے۔ جو ملک آزاد بھی تھے ان کے وسائل پر استعماری اداروں آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک جیسے اداروں کی مدد سے قبضے جمائے گئے۔ ان پر ایسے حکمران مسلط کیے گئے جو استعماری ملکوں کی غلامی میں اپنے ہی لوگوں کے دشمن بن گئے۔ الغرض کون سی ایسی قیامت تھی جو مسلمانوں پر نہ ٹوٹ پڑی ہو۔

اب خلافت کب اور کیسے قائم ہوگی؟
رسول اللہ ﷺ کی پیش گوئی کے عین مطابق اور امتِ مسلمہ میں پیدا ہونے والی بیداری کے سبب یہ کہا جاسکتا ہے کہ خلافت کا قیام اب بہت دور نہیں ۔ اگرچہ استعماری ملکوں نے مسلم ممالک کو تقسیم کرنے کے بعد ان کے حکمران، نصاب تعلیم اور میڈیا سب اپنے کنٹرول میں رکھے لیکن صرف ایک صدی بعد ہی مسلمانوں میں اپنی بنیاد اسلام، اسلامی ریاست، اسلامی معاشرے کی تڑپ میں پھر سے خلافت کی پکار بلند کر رہے ہیں۔ امریکی تھنک ٹینک "پیو" کے مطابق پوری دنیا میں مسلمانوں میں سب سے زیادہ چاہت، ریاست خلافت کے قیام کی ہے۔ اس کے لیے بہت سی جماعتیں پوری اسلامی دنیا میں پرامن طور پر کام کررہی ہیں۔ جو اپنی کوششوں اور جدوجہد سے خلافت کے قیام کے لیے رائے عامہ بنانے اور اس کی برکات سے مسلمانوں کو آگاہ کررہی ہیں۔

کیا خلافت اور جمہوریت ایک ہی چیز ہیں؟
نہیں! یہ دونوں ایک دوسرے سے یکسر الٹ ہیں۔ خلافت میں اسلام طرزِ زندگی، شریعت سپریم لا، قرآن و سنت قانون کا ماخذ اور اللہ اقتدارِ اعلی کا مالک ہے، جبکہ جمہوریت میں لبرل ازم طرزِ زندگی، قومی قانون سپریم لا، انسانی عقل قانون کا ماخذ اور انسان اقتدارِ اعلی کا مالک ہے۔ لیکن کچھ لوگ جمہوریت میں مشاورت اور حکمران کے انتخاب کی وجہ سے اسے اسلامی جمہوریت یا خلافت سمجھتے ہیں، جوبالکل غلط خیال ہے۔ کیوں کہ مشاورت اور حکمران کا انتخاب بنیادی چیزیں نہیں۔ یہ قریب قریب ہر نظام میں پائی جاتی ہیں۔ خواہ وہ خلافت ہو، جموریت ہو یا کمیونزم ہو۔

کیا خلافت حضرت مہدیؒ کے آنے پر قائم ہوگی؟
خلافت یعنی اسلام کو بطور قانون اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں نافذ کرنا، مسلمانوں پر فرض ہے۔ اس فرض کو کسی پیش گوئی جیسے حضرت مہدی ؒ کے آنے پر نہیں چھوڑا جاسکتا جیسے نماز کو ترک نہیں کیا جا سکتا۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ مسلمان انتظار کریں کہ حضرت مہدیؒ آئیں گے اور خلافت قائم کریں گے۔ دوسرا حضرت مہدی ؒ کے بارے میں جتنی بھی پیش گوئیاں احادیث میں موجود ہیں، وہ سب اس طرف اشارہ کرتی ہیں کہ مسلمان اپنے امیر کے تقرر یا انتخاب پر اختلاف کا شکار ہوں گے، اور اسی دوران اللہ سبحان و تعالی کی طرف سے اپنے سب سے بہترین آدمی جناب حضرت مہدی ؒ کے لیے ایسے حالات بن جائیں گے کہ امت ان کے خلیفہ بننے پر راضی ہو جائے گی اور اس کے بعد ان کی خلافت میں مسلمان وہ مقام حاصل کریں گے جو ان کا اور اس پوری دنیا کا مقدر ہے، یعنی پوری دنیا پر اسلام کے غالب آنے کا۔ یہ اس گلوبل اسلام کی تکمیل ہوگی جس کے لیے اس دنیا کو بنایا گیا ہے اور حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت محمد ﷺ تک انبیا اور رسول بھیجے گئے۔ اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے لے کر حضرت مہدی ؒ تک خلیفہ آئے یا آئیں گے۔ ان شاءاللہ۔

Comments

عاطف الیاس

عاطف الیاس

عاطف الیاس ایک نجی کالج میں پڑھاتے ہیں. لکھنے پڑھنے، پھرنے پھرانے اور ٹریکنگ کے شوقین ہیں. عالم، فاضل یا دانشور جیسے الفاظ انھیں زیب نہیں دیتے اس لیے محض اپنی طالب علمانہ رائے کا اظہار کرتے ہیں، لیکن بالیقین نظریاتی طور پر عالم اسلام اور تمام انسانیت کے مسائل کا حل اسلام کے عملی نفاز میں دیکھتے ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • ما شاء الله ! بہت عمدہ انداز میں خلافت مسلمہ کے قیام اور اس کے زوال کے اسباب کی وضاحت کی
    مسلمانوں کے زوال کے اسباب میں سے ایک اہم سبب قرآن و سنت کی تعلیمات پر عمل میں کوتاہی کرنا ، اور اپنی ذات و مفاد کو اس پر ترجیح دینا بھی ہے ۔ جب دین کی ترویج میں اغراض و ذاتی شہرت نے جگہ بنا لی الله اور اس کے رسول صلی الله علیہ وسلم کے احکامات رفتہ رفتہ نظر انداز ہونے لگے تو نظام خلافت کمزور پڑتا گیا ۔
    جب تک الله کے بندے اپنی ہر غرض کو الله کی رضا پر قربان نہیں کریں گے اور نبی مکرم صلی الله علیہ وسلم کی شریعت کو نافذ کرنے کے لیے اپنے آپ کو خالص نہیں کریں گے ، اپنی زندگی کے ہر پہلو کو دین اسلام کے تابع نہیں کریں گے اور ہر لمحے معلم اعظم کی سیرت و اخلاق پر عمل کی کوشش نہیں کریں گے تب تک خلافت کا نفاذ کار دشوار ہے ۔
    تبارک الله احسن الخالقین