پھلانگ جاؤ ان حدوں کو جہاں شرم کے پر جلیں - ڈاکٹر رضوان اسد خان

لبرل ازم کا ایک بہت بڑا مظہر یہ بھی ہے کہ بہت سے مذہبی احکام اور معاشرتی روایات کو "ٹَبُو" (taboo) قرار دے کر پس پشت ڈال دیا جائے. لغت کے مطابق ٹبو کا مفہوم یہ ہے:

In any given society, a taboo is an implicit prohibition on something (usually against an utterance or behavior) based on a cultural sense that it is excessively repulsive or, perhaps, too sacred for ordinary people.

"ٹبو، کسی بھی معاشرے میں کسی چیز کے بیان یا کسی مخصوص طرز عمل پر غیر اعلانیہ پابندی کو کہتے ہیں. اس کی بنیاد ایک مخصوص تمدنی احساس پر ہوتی ہے جس کے مطابق کچھ چیزیں یا تو بہت زیادہ مکروہ ہوتی ہیں اور یا پھر اتنی مقدس کہ عام آدمی کو ان پر رائے زنی یا مروجہ رویے کی مخالفت کی اجازت نہیں دی جا سکتی."

لبرل ازم کے آزادی اظہار رائے کے فلسفے کے مطابق کسی ایسی چیز کے وجود کا سرے سے کوئی جواز ہی نہیں ہے کہ جس پر ہر بندہ اپنی رائے نہ دے سکے. یہی وجہ ہے کہ کسی بھی ٹبو کو توڑنا لبرل ازم میں قابل تعریف سمجھا جاتا ہے اور جس جگہ جو ٹبو جتنا مضبوط ہو، اسے پاش پاش کرنا اتنی ہی بڑی بہادری سمجھی جاتی ہے.

بظاہر اس میں کوئی حرج والی بات نظر نہیں آتی اور انبیاء کی بعثت کا مقصد بھی معاشرے کے بہت سے ٹبو توڑنا ہوتا تھا. اس کی سب سے بڑی مثال غالباً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنے منہ بولے بیٹے، زید رضی اللہ عنہ کی مطلقہ سے نکاح ہے. لیکن مسئلہ تب بنتا ہے جب اس چیز کو مذہب کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جائے اور دینی شعائر اور مقدسات کو ٹبو قرار دے کر ان کی توہین کی جائے یا ہنسی مذاق کا نشانہ بنایا جائے. اور اس کی بہت سی مثالیں آپ کو آج جابجا مل سکتی ہیں.

یہ بھی پڑھیں:   خیبر حکومت کاپردہ نوٹی فیکیشن، پلیز ہوم ورک کر لیا کریں - صائمہ اسما

مثلاً،
.. ناموس رسالت کے قانون کو حیلوں بہانوں سے چیلنج کرنا. اس کی سرعام ابتداء سلمان تاثیر نے اسے کالا قانون کہہ کر کی. (نوٹ: کسی قانون کے غلط استعمال کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ وہ قانون ہی "کالا" ہے. پاکستان میں کون سا قانون ہے جس کا غلط استعمال ممکن نہیں؟ لہٰذا اس پوسٹ کے تحت ہم اس بحث میں پڑنے سے گریز کریں گے اور سلمان تاثیر کے قتل کے جواز یا عدم جواز کو بھی زیر بحث نہیں لائیں گے)

.. داڑھی اور پردے کا مذاق اڑانا

.. ہم جنس پرستی کو مختلف حیلوں بہانوں سے فروغ دینا اور اس رویے کو اختیاری کے بجائے جبلی ثابت کرنا اور یوں اس کے شرعی حکم اور شرعی سزا (یعنی سزائے موت) کو ظالمانہ قرار دینا

.. شراب پر پابندی کے خلاف چیخ و پکار

.. رمضان کی حرمت اور روزہ خوری پر پابندی کی مخالفت

.. حج اور قربانی کو فضول خرچی قرار دینا

.. ڈیٹنگ کی شرعی مخالفت کو دقیانوسی قرار دینا

.. حیض کے مسائل پر سرعام احتجاج

اور اس کے علاوہ بھی بہت سے امور....

اگر آپ مجھ سے پوچھیں تو لبرل ازم کے مطابق معاشرے کے سب سے بڑے ٹبو کا نام ہے:

"حیا"

اور اوپر بیان کی گئی فہرست بھی اسی کے تحت آتی ہے، کہ میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم فرما گئے ہیں کہ اگر تم حیا نہ کرو تو پھر جو چاہو کرو.

Comments

رضوان اسد خان

رضوان اسد خان

ڈاکٹر رضوان اسد خان پیشے کے لحاظ سے چائلڈ سپیشلسٹ ہیں لیکن مذہب، سیاست، معیشت، معاشرت، سائنس و ٹیکنالوجی، ادب، مزاح میں دلچسپی رکھتے ہیں، اور ان موضوعات کے حوالے سے سوالات اٹھاتے رہتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.