کم عقل عورت - مدیحہ ریاض

عورت ذات کو اگر سمندر سے تشبیہہ دی جائے تو ہرگز غلط نہ ہو گا۔ عورت کے معنی ہیں چھپی ہوئی اور اس نقطہ سے عورت ذات کی تعریف کچھ اس طرح سے ہوگی، جیسا کہ سہہ جانے والی، برداشت کرنے والی، نظرانداز کر دینے والی، انا کو پس پشت رکھنے والی، محبت کی ترسی ہوئی، عزت کی طلب گار۔

عورت ذات کی زندگی سمندر کی مانند ہے، جیسے سمندر دریا کے منہ زور پانی کو اپنے اندر سمو لیتا ہے بالکل اسی طرح عورت بھی مرد کی ظلم و زیادتی نہ چاہ کر بھی اپنے اندر سمو لیتی ہے، اور اف تک بھی نہیں کرتی۔ عورت کو کم عقل کہنے والا یہ مرد جب زندگی کی کٹھن حقیقتوں سے روشناس ہونے لگتا ہے تو عورت کی آغوش میں پناہ لیتا ہے۔ اور آغوش چاہے پھر ماں کی ہو یا بیوی کی، چٹان سے بھی زیادہ سخت دل رکھنے والا یہ مرد جب عورت کی آغوش میں آتا ہے تو شمع کی مانند پگھلنے لگتا ہے۔ عورت مرد کی آنکھوں کے سیال کو یوں سموتی ہے جیسے سمندر بارش کے قطروں کو اپنے اندر سموتا ہے۔ مرد جب عورت کو کانوں کی کچی اور پیٹ کی ہلکی کہتا ہے تو یہ بات بھول جاتا ہے کہ اگر کبھی اس نے اس کے سیاہ کرتوت دوسروں کے سامنے عیاں کر دیے تو وہ کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہے گا۔ مردانگی کے زعم میں جب وہ بھری محفل میں عورت کے گال پر نشان چھوڑتا ہے تو یہ بھول جاتا ہے کہ وہ عورت کا محتاج تھا، ہے اور رہے گا۔

عورت ذات کے خمیر میں بڑی لچک ہے۔ اسی لچک کے سبب وہ مرد کے بنائے گئے سانچے میں ڈھل جاتی ہے۔ عورت سراپا محبت ہے، محبت کی خاطر وہ مرد پر اپنا تن من وار دیتی ہے۔ تن من وارنے کے بدلے وہ صرف اور صرف عزت چاہتی ہے اور عزت کی ہی متلاشی ہے۔ مرد جب کسی عورت کو عزت اور محبت دیتا ہے تو عورت اسے اپنے دل کی سب سے اوپری مسند پر براجمان کرتی ہے۔ سیانے کہتے ہیں کہ عورت کی عزت چادر اور چاردیواری میں ہے۔ عورت کا دم اس چادر اور چاردیواری میں کبھی نہیں گھبرائے گا، اگر اس کی بنیاد محبت اور عزت پر رکھی گئی ہو۔ عورت کبھی بھی اس کی حرمت پامال نہیں کرے گی۔ اور نہ ہی اسے پھلانگنے کی کوشش کرے گی۔

یہ بھی پڑھیں:   اسلام میں عورت کا مقام اور مغربی پروپیگنڈا - مفتی محمد مبشر بدر

مرد جب گھر سے باہر سکون کی تلاش میں سرگرداں ہو تو اکثر کہا جاتا ہے کہ اس مرد کی عورت اپنے فرائض سے غفلت برت رہی ہے تبھی وہ گھر سے باہر سکون کامتلاشی ہے۔ لیکن جب وہی عورت اسی سکون کی تلاش میں چاردیواری پھلانگ لے تو وہ طوائف کے نام سے جانی جاتی ہے۔ مرد کا بھٹکنا اس کی جوانی کی خوبصورت نادانی سمجھا جاتا ہے۔ جبکہ عورت کا بھٹکنا اس کے دامن کا وہ داغ بن جاتا ہے جسے وہ چاہ کر بھی نہیں دھو سکتی۔ تاعمر وہ اس کو دھوتی بھی رہے تب بھی وہ اس کے دامن سے صاف ہو نہیں پاتا۔ جبکہ مرد صرف ایک غسل سے ہی اپنے اس داغ کو صاف کر لیتا ہے۔

عورت عزت کی طلب گار ہے اور عزت بھی وہاں ملتی ہے جہاں محبت ہو۔ عزت کے بغیر عورت کی زندگی اس درخت کی مانند ہو جاتی ہے جو پھل تو نہیں دیتا لیکن ہمیشہ سایہ فگن رہتا ہے۔ عورت عزت کے بغیر فقط ایک سانس لیتی مشین ہے جو اپنے روزمرہ کے معمولات حسب معمول انجام تو دیتی ہے مگر جذبات و احساسات سے عاری۔ ایسی عورت ایک ایسی زندہ لاش جو اپنی آرزوؤں اور تمناؤں کی قبر پر ماتم کناں ہے۔ عورت کے دل پر اگر محبت کی پھوار پڑنا بند ہو جائے تو اس کے دل کی زمین بنجر ہوجاتی ہے او پھر بنجر زمین پر کبھی ہریالی نہیں اگتی۔