حقوق یا فرائض؟ انس اسلام

دو باتیں فوری طور پہ سمجھنا ہمارے لیے نہایت اہم اور ضروری ہے۔ سب سے پہلی بات تو یہ کہ آپ اپنے حقوق ''کہاں سے'' طے کرواتے ہیں؟ اپنے خالق سے یا مخلوق میں سے کسی سے؟ مخلوق سے طے کروانے کی وجہ؟ کیا مخلوق آپ کی موت و حیات کی خالق و مالک ہے؟ یا یہ کہ مخلوق کو آپ Perfect سمجھتے ہیں؟ انبیاء و رسل (علیہم السلام) کس لیے مبعوث کیے جاتے ہیں؟ جب انبیاء و رسل کو مخلوقِ خدا کے لیے حقوق و فرائض طے کرکے دینے کا حق نہیں، تو کسی اور کو یہ اتھارٹی و مقام کیسے دیا جاسکتا ہے کہ وہ مخلوقِ خدا کے لیے خیر و شر، بھلائی و برائی تخلیق و متعیّن کرے؟ کیونکہ انبیاء و رسل تو خالق و مالکِ کائنات، خدائے احد تعالٰی کے نازل کردہ کو مخلوقِ خدا میں قائم کرنے کے پابند ہوتے ہیں، ان کی سب شان و فضیلت و اہمیت و حیثیت ہی اِس سبب سے ہے۔

لہذا ایک یہ بات کہ انسان سب سے پہلے یہ سمجھے کہ وہ مخلوق ہے ایک خالق کی، خود خالق نہیں کہ وہ اپنے فرائض و حقوق خود طے کرنے لگ جائے! اور نہ ہی وہ مخلوق میں سے کسی اور کو خالق کے ساتھ شریک ٹھہرائے گا کہ کوئی اور اس کے حقوق و فرائض متعیّن کر کے دے۔ یہ سراسر مخلوق کو خالق کا درجہ دے دینے والی جسارت ہے، جسے قرآن ظلمِ عظیم کہتا ہے، کہ جب حقوق و فرائض مخلوق خود تخلیق و طے کرنے لگے تو زمین میں فساد و بگاڑ و خرابی و انتشار پھیل جاتا ہے۔ اللہ تعالٰی یوں فرماتا ہے: ظہر الفساد فی البر والبحر بما کسبت ایدی الناس۔

انسان اپنے لیے حلال و حرام کا خود خالق بن جائے تو دنیا میں امن و سلامتی، برکت و رحمت، اطمینان و سکون، راحت و پاکیزگی، ہمدردی و اکرام، احترام و الفت اور محبت و اتحاد و یگانگت، سب ختم ہوجاتا ہے۔ انسان کو اپنے لیے صحیح و غلط، خیر و شر، بھلائی و برائی، نیکی و بدی، فطری و غیر فطری، حقیقی و جعلی ، اصلی و نقلی، یہ سب صرف اور صرف اپنے خالق سے پوچھنا ہے۔

دوسری بات؛ جو بڑی اہم ہے، جسے ہماری ایجوکیٹڈ کلاس نے بھی نہیں سمجھا، جس وجہ سے وہ بھی جدید فریم ورک کا شکار ہوگئے، جو مخلوق ہی نے تشکیل دیا تھا، اور وہ بھی مخلوق میں سے بدترین و Character Less آرٹسٹوں نے۔ وہ یہ کہ اسلامی پیراڈائم کی بنیاد حقوق کے بجائے فرائض پر رکھی گئی ہے۔ اللہ تعالٰی انسان کو اس کے فرائض بتاتا ہے، اور فرائض کی ادائیگی کے احکامات دیتا ہے۔ اللہ تعالٰی جب ایک دوسرے کے حقوق کی ادائیگی کی بات کرتا ہے تو دراصل اللہ تعالٰی انسان کو فرائض کی ادائیگی کا حکم دے رہا ہوتا ہے۔ اسلام کا فوکس فرائض ہوتے ہیں۔ لہذا ہم یہ کہتے ہیں کہ
عورت اپنے حقوق جاننے کے بجائے صرف اپنے فرائض سمجھے، اور پھر اپنے فرائض کی ادائیگی کے لیے ہی پریشان ہو، اور مرد اپنے حقوق کے بجائے اپنے فرائض کی ادائیگی کے لیے خود کو مصروف کرے۔

یہ بھی پڑھیں:   نماز کی فرضیت اور احکام - خطبہ مسجد نبوی

یہ ایک بنیادی اور نہایت اہم فرق ہے، اسے معمولی خیال کرنے سے،مسائلِ انسانی کی روک تھام ممکن نہیں۔ ہر کوئی جب اپنے فرائض ادا کرے گا تو بتائیے یہاں کون اپنے حقوق کے لیے ایک دوسرے سے نالاں و ناراض، شکایتی و ناشکرا اور بے صبرا بن کر پیش آئے گا؟

یہ جو معاشروں میں بے تحمّلا و جنگی ماحول انسانی حقوق کے نام پر مغربی پیراڈائم نے بنا رکھا ہے، اسلام اس سے مکمل طور بری ہے، اسلام کے پاس ایسے معاشروں کے دکھوں کے مداوے کے لیے کوئی حل نہیں۔ کیوں؟ کیونکہ اسلام جب مرد و عورت کو حقوق عطا کرتا ہے تو وہ دراصل ہر ایک کو چند فرائض کا پابند بناتا ہے۔ وہ انسان جو اپنے خالق سے اپنے فرائض جان کر، اپنی مکمل زندگی ان فرائض کو حکمِ خداوندی کی تعمیل میں رضائے الٰہی کے حصول کے لیے اد کرنے میں سرگرم رہتے ہیں، ایسے معاشرے میں بھلا مسائل و فساد و جرائم ہوسکتے ہیں؟ نمونے کے طور پر قرونِ اولٰی کو دیکھ لیجیے۔

نیز ایک ایسا اسٹرکچر جس کی بنیاد ہی ناحق و غیر فطری ہو، اسلام سب سے پہلے اس فریم ورک کو بدلنے کا حکم دیتا ہے، اللہ کا پسندیدہ دین سب سے پہلے اس فریم ورک کی تشکیل کرتا ہے، جس میں سب کو ان کے حقوق میسر ہوں۔ علاوہ ازیں اسلام جو حقوق و فرائض بتاتا ہے، ان حقوق و فرائض کی ادائیگی ایک غیر شرعی و لادین و غیر فطری اسٹرکچر میں قطعاً ممکن نہیں۔ یعنی اس سارے معاملے میں جو سب سے بنیادی بات محو ہوچکی ہے، وہ ہے فریم ورک، اسٹرکچر و پیراڈائم کا مسئلہ؛ اور وہ اساسی اصولِ واحد؛ جس اصول سے کوئی پیراڈائم تعمیر ہوتا ہے، کہ عورت کے حقوق ''مطلقاً و طے شدہ'' کبھی بھی بیان نہیں ہوئے۔ یعنی آپ عورت کے حقوق طے کریں، اور پھر انہیں ''کسی بھی فریم ورک'' میں ایکسرسائز کروا لیں؟ ایسا کبھی نہیں ہوا، اور نہ ایسا ممکن ہی ہے۔

حقیقت بات یہ ہے کہ اسے آپ جس فریم ورک میں لائیں گے، اس کے حقوق اس فریم ورک کے مطابق ہی تشکیل پاجائیں گے۔ آپ برہنہ ڈانس بار میں چلے جائیں، وہاں آپ کو ایک نظم اور عورت کے حوالے سے خاص قسم کے حقوق اسٹیبلش نظر آئیں گے۔ آپ فحش جگہوں پہ جاتے ہیں تو وہاں طوائف کے خاص حقوق طے ہیں۔ آپ فیکٹریوں میں جھونک دی گئی خواتین سے پوچھ لیں، وہاں ان کے الگ حقوق مقرر ہیں۔ صنعت، کارپوریٹ کلچر، ملٹی نیشنل کمپنیاں اور عقیدۂ ترقی و آزادی کی بنیادوں پر قائم، ساری کی ساری جدید ادارتی صف بندی عورت کو اس کے حقوق بتاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   اسلام ہی عورت کا اصل محافظ ہے - عابد محمود عزام

آپ فرعون سے پوچھ لیں، اس نے عورتوں کے حقوق متعین کر رکھے تھے۔ آپ قومِ لوط کو دیکھ لیں، وہاں عورتوں کے منفرد حقوق موجود تھے۔ بغیر حقوق کے حضرات؛ عورت کبھی رہی ہی نہیں۔ ہاں البتہ اس کے حقوق ہمیشہ بدلتے رہے، اور ہمیشہ قائم و نافذ، مسلط و اسٹیبلش اور غالب حکومتی ڈسکورس نے ہی اس کے حقوق ترتیب دیے۔ اور عورت ہمیشہ انہی حقوق کو اپنے حقیقی حقوق سمجھ کر طلب کرتی رہی۔ مگر ایک کمی سی اس کے اندر ہمیشہ رہی، اس نے ہمیشہ یہی محسوس کیا کہ مجھے میرا مقام نہیں مل رہا۔ وجہ یہ کہ ہر دور کا پیراڈائم عورت کی فطری ساخت و روح ہی کے برخلاف و متصادم رہا۔

جب اسلام آیا تو اس نے آ کر یہ نہیں کیا کہ مردوں کو عورتوں کے حقوق بتا دیے اور حقوق ادا ہونے لگے۔ ہرگز نہیں۔ اسلام نے سب سے پہلے مرد و عورت، ہر دو کے لیے ایک فریم ورک و اسٹرکچر تعمیر و تشکیل دیا، اور حکم دیا کہ کسی ایک کے لیے بھی دوسرے کی مشابہت سخت حرام ہے۔ خبرادر! عورت اپنے فریم ورک میں رہے، اور مرد اپنے دائرے میں فرائض نبھائے۔

حضرات! یہ تھی وہ چیز جس نے ہر ایک کو اس کے حقوق عطا فرما دیے۔ اور یہ صرف ہم نہیں کہہ رہے، ہر غیر اس بات کو تسلیم کرنے پر مجبور ہے۔ آپ یہ بات آج کی اسلام قبول کرنے والی خواتین سے پوچھ لیں، وہ آپ کو بتائیں گی کہ وہ کس فریم ورک کے لیے ترس رہی ہیں۔ کیونکہ عورت کے اندر کی فطری آواز اسے بتاتی ہے کہ اِس اسٹرکچر میں مقام و مرتبے و حقوق حاصل نہیں ہوسکتے۔ اگلی بیس صدیاں بھی اگر یہ جدید فریم ورک و اسٹرکچر و پیراڈائم اسٹیبلش رہا تو عورت اگلی بیس صدیوں میں بھی اپنے حقوق ہی مانگ رہی ہوگی۔

اِس دن کا ہونا اس بات کی علامت ہے کہ عورت کو عصرِ حاضر کے موڈ فریم ورک میں اس کے حقوق نصیب نہیں ہوسکتے۔ اسلامی تہذیب میں عورت کے نام پر کوئی دن مقرر نہ تھا، کیونکہ مرد و عورت اپنے فرائض ادا کر رہے تھے، چنانچہ حقوق نصیب ہورہے تھے۔ جبکہ آج نظامِ سرمایہ داری اس سے اس کے حقوق بھی چھین چکا ہے اور ایک عالمی دن اس کے نام کا رکھ کر اسے مزید پگلی بنائے رکھنے کا مستقل اہتمام بھی کرچکا ہے۔ اور یہ ہے کہ
کروڑوں روپیہ Monthly لینے والے آرٹسٹوں کے پیچھے لگ رہی ہے۔