لبرل آنٹی! شکریہ بہت بہت شکریہ - محمد عاصم حفیظ

ویمن ڈے کے حوالے سے لاہور اسلام آباد اور کراچی میں ہونے والے مظاہروں کی تصاویر سوشل میڈیا کا ہاٹ ایشو بن چکی ہیں۔ سنجیدہ حلقے انتہائی پریشان دکھائی دیتے ہیں اور نصیحت آموز تحریریں لکھی جا رہی ہیں۔ میری ذاتی رائے میں اس سارے ہنگامے کا ایک مثبت زاویہ بھی ہے جس پر کچھ زیادہ توجہ نہیں دی جا رہی۔ ان مظاہروں نے تو ایک بڑا مسئلہ حل کر دیا ہے، ایک خفیہ ایجنڈے کو بے نقاب کیا ہے۔

دراصل مغربی فنڈڈ این جی اوز وقفے وقفے سے ایسے ہنگامے برپا کرتی رہتی ہیں۔ میرا جسم میری مرضی، کھانا خود گرم کرو، کم عمر شادی کیخلاف مہم اور اسی طرح کچھ زینب کیس، قندیل بلوچ اور اس جیسے معاشرتی واقعات کو لے کر عورت کی مظلومیت اور آزادی و حقوق کا ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے۔ اسلام پسند اور مشرقی روایات کے پیروکار دفاعی پوزیشن پر ہوتے ہیں۔ لمبی لمبی نصیحت آموز تحریریں اور قرآن و حدیث کے حوالے دیکر لکھنا پڑتا ہے کہ عورت کی آزادی کا جو مغربی تصور یہ این جی اوز زدہ لبرل طبقہ پیش کر رہا ہے، اس کے اصل مقاصد کیا ہیں۔ یہ دراصل مغربی طرز معاشرت چاہتے ہیں جس کے لیے خاندان کی تباہی اور عورت کو آزادی کے نام پر اپنی عیاشی کے لیے استعمال کرنے کی منصوبہ بندی ہے۔ لیکن یقین مانیں یہ ساری تحریریں اتنا اثر نہیں ڈالتیں اور مغربیت و ماڈرن ازم سے متاثرہ طبقے کو اتنا متاثر نہیں کرتیں جتنا ان حیا باختہ پوسٹرز نے کیا ہے۔

خواتین کی آزادی اور حقوق کے موضوع پر لکھتے ہوئے "تنگ نظری"، ''مردانہ سوچ" جیسے طعنوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بعض روایتی گھرانوں کی نوجوان لڑکیاں بھی فیشن کے طور پر ان نعروں سے متاثر دکھائی دیتی تھیں لیکن اس بار این جی اوز کے اصل ایجنڈے کی نقاب کشائی نے سارا مسئلہ ہی حل کر دیا ہے۔ دین بیزار، ماڈرن ازم کی طرف راغب اور محض فیشن کے طور پر عورت کی آزادی کے مغربی تصورات کی حمایت کرنے والے طبقے اس بار منہ چھپاتے پھر رہے ہیں۔ ان کے پاس ان فحش اور بےہودہ پوسٹرز اور نعروں کا کوئی جواب نہیں۔ اس بار کسی نصیحت آموز تحریر کی ضرورت نہیں۔ عاجزی و انکساری اور قرآن و حدیث سے اسلامی دلائل دینے کی بھی ضرورت نہیں۔ مسئلہ خود بخود حل ہو گیا ہے۔ ایجنڈا واضح ہے کہ لبرل آنٹیاں ماضی میں جو مطالبے گھما پھرا کر کرتی تھیں، اب سرعام اعلان کر دیا گیا ہے۔ یہ واضح ہو گیا ہے کہ مساوات، حقوق، شادی کی عمر بڑھانا، ملازمتوں کے مطالبے اور بڑے بڑے ہوٹلوں کے سیمینارز کے اصل مقاصد کیا ہیں؟ جو نوجوان لڑکیاں اس طبقے سے جانے انجانے میں متاثر ہو رہی تھیں، انہیں بھی خوب پتہ چل گیا ہے کہ لبرل آنٹیاں دراصل انہیں کہاں لے جانا چاہتی ہیں؟

آپ کو اب اصل مقاصد بتانے کے لیے کسی قسم کے دلائل کی ضرورت نہیں، بس ان نعروں اور پوسٹرز کی وضاحت پوچھ لیں۔ ان کو کوئی الزام نہ دیں اور نہ بحث کریں۔ ان سے ضرور پوچھیں: "میں آوارہ میں بدچلن"، "ہم بے شرم ہی صحیح"، "میں اکیلی آوارہ آزاد"، ''چادر اور چار دیواری ذہنی بیماری ذہنی بیماری"، "شادی کے علاوہ بھی اور بہت کام ہیں"، ''رشتے نہیں حقوق چاہییں''، " اپنا بستر خود گرم کر لو"، "ناچ میری بلبل ناچ تجھے کوئی کچھ نہیں کہے گا"، "میری شادی کی نہیں آزادی کی فکر کرو"، اگر دوپٹہ اتنا پسند ہے تو آنکھوں پر باندھ لو''، ''میری شرٹ نہیں تمھاری سوچ چھوٹی ہے''
مرد میرے سر کا تاج نہیں ہے''۔

یہ چند نعرے تھے۔ اس کے علاوہ تصاویر سے فحش ترین پورٹریٹ بھی بنائے گئے۔ " کھانا خود گرم کر لو" کے ساتھ ہی عاصمہ جہانگیر کی بہن حنا جیلانی کے ساتھ کھڑی ایک لبرل آنٹی نے "مجھے ٹائر بدلنا آتا ہے" کا پوسٹر بھی پکڑ رکھا تھا۔ " اپنا ٹائم آ گیا " کے پوسٹر پر بنے ہاتھوں میں سگریٹ بھی تھی اور فحش اشارے بھی۔ "بستر گرم" کرنے سے لیکر ماہواری تک کی تشہیر بھی کی گئی۔ ٹائر بدلنے کا ہنر جاننے والی آنٹی موزہ ڈھونڈنے سے انکار کرتی دکھائی دی۔ خیر ان پوسٹرز میں اور بھی بہت کچھ تھا جو کہ ان تمام عزائم کا اظہار تھا کہ این جی اوز اور لبرلزم و ماڈرن بنتے اس طبقے کے نزدیک ازادی نسواں اور عورت کے حقوق سے مراد کیا ہے۔

یقینا یہ چھوٹا سا طبقہ پورے معاشرے کا عکاس نہیں ہے، ہاں البتہ یہ پہلی مرتبہ ہوگا کہ خواتین کے بنیادی حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والے سنجیدہ حلقے یہ کہتے پائے گئے کہ یہ بےلگام اور آوارہ گرد و بے شرم ہونے کی دعویدار این جی اوز والی آنٹیاں خواتین کی اصل نمائندہ نہیں ہیں۔ ہم تو پہلے ہی کہتے تھے کہ ان کے مقاصد کچھ اور ہیں لیکن کچھ حلقوں کو یہ بات سمجھ نہیں آتی تھی۔ شکر ہے اب انہیں بھی احساس ہو جائے گا۔

کوئی بھی معاشرہ خواتین کے حقیقی کردار کے بغیر ترقی نہیں کر سکتا، اور کوئی بھی ان سے انکار نہیں کر سکتا لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اس سب کا تعین معاشرتی و دینی روایات کے دائرے میں ہی ممکن ہے۔ بےلگام ازادی اور آوارہ ذہن انتشار کا باعث ہے جبکہ عورت کے حقوق کا مغربی تصور ہماری معاشرتی روایات کا عکاس نہیں۔ یہ سب خواتین کے حقوق کے کھوکھلے نعرے کا اظہار تھا جس کی نمائش سڑکوں پر کر دی گئی۔ حکومتی اداروں کے لیے لمحہ فکریہ ہونا چاہیے کہ یہ سرگرمیاں معاشرتی انتشار کا باعث بنتی ہیں۔ جس طرح نیشنل ایکشن پلان کے تحت نفرت آمیز مواد کو کنٹرول کیا گیا بالکل اسی طرح انتشار اور فحاشی و بے راہ روی کے ان مظاہروں کو بھی کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے۔

ایک سبق مغربیت و ماڈرن ازم سے متاثر ہونے والی نوجوان نسل کےلئے بھی ہے کہ اس مغربی طرز معاشرت کی معراج یہی وہ سب کچھ ہے جس کے نعرے یہ لبرل آنٹیاں لگاتی رہی ہیں۔ انہیں خوب سوچ لینا چاہیے کہ کس طرز زندگی کے ساتھ چلنا ہے، خود کو فخریہ علی الاعلان بدچلن، آوارہ اور بےشرم قرار دینے والوں کے ساتھ یا ایک باوقار، باعزت خاندانی نظام کے زیر سعادت بھری زندگی۔ یقین مانیں انتہائی درد بھرے لہجے میں صرف درخواست ہی ہے اور ان کی ہدایت و اصلاح کے لیے صدق دل سے دعا بھی ۔ آئیے ایک باعزت، باوقار اور محفوظ زندگی کی طرف۔ آپ کو حقوق بھی ملیں گے اور آزادی بھی۔