تم مردوں کا کھلونا نہیں ہو - صہیب جمال

یہ واقعہ کل کی عورت پریڈ پر یاد آیا۔ ہمارے بہت ہی مشہور اشتہارات کے ڈائریکٹر نوید تھانوی بہت ہی تخلیقی فرد ہیں۔ کام کام کام دن رات کریں ہم کام، ڈنگ ڈونگ ببل انہی کی تخلیق ہے۔ ہوا یہ کہ ایک شوٹ کے دوران ایک خاتون ماڈل اس بات پر معترض تھیں کہ خواتین کو مردوں کے برابر نہیں سمجھا جا رہا ہے، کافی شکایت کر رہی تھیں، ان کی شکایات بڑھتی گئیں اور بدتمیزی کی حد تک پہنچ گئیں۔

نوید بھائی کو تو جیسے موقع مل گیا، انہوں نے اس سے ہمدردی کا اظہار کیا اور کہا "آپ کی یہ شکایت دور کردی جائے گی۔" ان خاتون کو قریب بلا کر کندھے پر کہنی رکھ کر بے تکلف ہوگئے، پھر ان خاتون سے گفتگو کرتے ہوئے اس کے جسم پر ہاتھ بھی مارنے لگے۔ پھر مذاق کرتے رہے تو ساتھ میں اس کو محبت میں گالیاں بھی دینے لگے، اب ان کے ہاتھ مزید سفر کرنے لگے، تھوڑی دیر میں مذاقاً اس سے مصنوعی ریسلنگ شروع کردی۔ جس پر خاتون آگ بگولہ ہوگئیں اور ان کو آخر کار کہہ دیا کہ وہ بدتمیزی کر رہے ہیں، ضروری نہیں مردوں سے ہاتھا پائی بھی کی جائے۔ تو نوید بھائی نے اس بات پر اتفاق کیا اور کہا کہ واقعی کچھ مرد حضرات سے ہاتھوں کا مذاق نہیں ہوتا۔ پھر انہوں نے وہ وہ لطیفے سنائے کہ تھوڑی دیر میں خاتون اٹھ کر دور چلی گئیں، انہوں نے آواز اور بلند کر دی۔ پھر خاتون کو اپنے پاس بلایا اور بہت پیار سے کہا "بیٹا جو فطرت اور اللّٰہ نے تم کو مردوں کے مقابلے میں عزت دی ہے وہ نعمت ہے، برابری کی بات نہ کرو، انصاف کی بات کرو، حقوق کی بات کرو ، جو تمہارا جائز حق ہے وہ مانگو۔" خاتون کو سمجھ آ گیا کہ مرد و خواتین دو مختلف جنس ہیں تو حقوق بھی مختلف ہیں، ضروریات بھی مختلف ہیں، روزمرہ کی گفتگو اور مشاغل بھی الگ ہیں۔

کل کچھ خواتین کے پلے کارڈ دیکھے، یقین کریں رحم آیا، کراچی فرئیر ہال میں یہ تقریب ہوئی اور روز میں گزرتا ہوں جا نہ سکا۔ ان پلے کارڈز پر پاکستان کی ننانوے اعشاریہ ننانوے فیصد خواتین نے شرمندگی و ناراضگی کا اظہار کیا، ایک نے کہا کہ "میں اپنے بھائی کو ضرور کہتی ہوں مجھے کیا پتہ تمہارا موزہ کہاں ہے، ضرور اپنے شوہر کو کہتی ہوں مجھے کیا پتہ تمہاری چابی کہاں ہے؟ مگر ڈھونڈنے میں مدد دیتی ہوں اور کیوں نہ مدد کروں وہ بھائی جو سخت سردی و گرمی، بارش و خراب حالات میں مجھے اسکول، کالج، سہیلی اور ٹیوشن سے لائے لے جائے، وہ شوہر جو دن بھر محنت کر کے میرے نخرے اٹھائے، مجھے اچھا پہنائے، اس کی مدد کیوں نہ کروں؟ کھانا کیوں نہ گرم کروں؟"

ایک خاتون کہتی ہیں، "ہمارے گھر میں لڑکیاں تو لڑکیاں لڑکوں کو بھی پاؤں سمیٹ کر اور بڑوں کے سامنے ادب سے بیٹھنا سکھایا گیا ہے تو میں کیوں کالج یونیورسٹی تقریبات میں اپنی رومالی دکھاؤں؟" یوٹیوب لگائیں اور بڑی بڑی ماڈرن ایکٹریس اور مختلف شعبہ جات میں مثالی خواتین کا انٹرویو دیکھیں، پاؤں سمیٹ کر بیٹھی ہوتی ہیں۔ اب کم از کم یہ نیا انداز تو نہ سکھاؤ، خواتین پر یہ ایک نئی مصیبت آ جائے گی، رومالی بھی برانڈڈ ہو جائے گی اور بوجھ مردوں کی جیب پر پڑے گا۔ ان بیچاری بیوقوف لڑکیوں کو کوئی یہ سمجھائے، ائیر ہوسٹس، نرس بن کر تو غیر مرد کی خدمت کر سکتی ہو تو گھر کے مرد کے لیے کیوں نہیں، کبھی آفس میں باس کوئی فائل مانگے، کوئی رپورٹ مانگے، اس کو کہہ سکتی ہو کہ مجھے کیا پتہ فائل کہاں ہے؟ سیاست میں ہو تو کیا اپنے لیڈر کو کہہ سکتی ہو کہ خود ہی کام کرو؟

سنو! مجھ جیسے ''ٹھرکی'' چاہتے ہیں کہ تم آزاد رہو اور میری خواہشات کو پورا کرتی رہو اور یہ اس وقت تک ممکن نہیں ہوگا جب تک تمہارے گھر کے مرد تمہارے سر پر ہوں گے تو پہلے ان کو تمہاری نظر میں بےتوقیر کرنا ہوگا، غیر اہم بنانا ہوگا۔

میں بہت چھوٹا تھا، ضیاء دور کی بات ہے جب ٹی وی پر خواتین کے سر پر دوپٹہ لازمی قرار دیا گیا تھا، مگر مجھے یاد ہے بیگم رعنا لیاقت علی خان نے مزارِ قائد پر دوپٹے، برقعے و چادر جلائی تھیں، مجھے جنگ اخبار کے پہلے صفحے پر وہ تصویر یاد ہے، مجھے یاد ہے تمہارے اس کارواں کی رہمنا شیما کرمانی کو ضیاء دور میں ٹی وی پر آنا منع تھا، اٹھاسی میں بینظیر دور میں اس کا رقص ٹی وی پر دکھایا گیا جو ہم سب کے لیے اچھنبے کی بات تھی، یہ شیما کرمانی پرانی محرومیوں کا بدلہ اب تمہارے جوان جسم سے لینا چاہتی ہے، مگر تم اس دور کی عورت ہو، کم از کم اتنا تو سمجھ لو کہ تم بھانت بھانت کے مردوں کے لیے کھلونا نہیں ہو۔