زندگی میں سکون کے لیے - رومانہ گوندل

زندگی ایک پراسرار چیز ہے جس کو بہترین گزارنے کے لیے کچھ راز جاننا ضروری ہے، اس لیے لوگ زندگی کے کچھ راز جاننے کے لیے ہمیشہ سے ہی دانشوروں کا رخ کرتے رہے ہیں۔ ایسے ہی ایک دانشور اشفاق احمدگزرے ہیں جن کا پروگرام ''زاویہ'' کافی عرصہ پاکستان ٹیلی ویژن کی زینت بنا اور ان کی دانشمندانہ باتوں سے لوگ مستفید ہوتے رہے۔ انہوں نے آسان الفاظ میں لوگوں کو زندگی کے بہت سے گر بتائے۔

سکون کی تلاش بھی انسانی زندگی کا ایک ایسا ہی معمہ ہے جسے حل کرنے کے لیے مختلف طریقے اپنائے جاتے رہے ہیں۔ اکیسویں صدی میں اکثریت اس سے محروم نظر آتی ہے، اس لیے نیند کی گولیوں اور اینٹی ڈیپریشن داوئیوں کا استعمال اور اسی طرح کے کئی طریقے اپنائے جاتے ہیں۔ زیادہ تر لوگ اپنا سکون چھنینے کا ذمہ دار دوسروں کو ٹھہراتے ہیں، اس لیے سکون کی تلاش میں اپنے اردگرد کے لوگوں سے لڑتے پھرتے ہیں۔ اور یہی سب سے بڑی غلطی کرتے ہیں۔

اشفاق احمد کہتے تھے کہ زندگی میں سکون کے لیے ہمیں ایک جنگجو کی پوزیشن سے نکلنا ہوگا۔ ہم بےسکون اس لیے بھی رہتے ہیں کیونکہ ہم ہمیشہ حالتِ جنگ میں ایک واریئر کی پوزیشن میں ہوتے ہیں اور ہماری جنگ کیا ہوتی ہے؟ فلاں نے مجھے کل ایسے کہا تھا، آج مجھے اسے ایسے ایسے جواب دینا ہے، کسی کی ایک بات کو اپنے دل میں لمبا عرصہ سنبھال کے رکھتے ہیں کہ موقع ملے گا تو یہ طعنہ تو ہر حال میں دینا ہے۔ یہ جنگ کی حالت ہے، اور جنگ کی حالت میں کبھی سکون نہیں ہوتا۔ کسی نے مجھے ایک سنائی تھی میں اسے چار سناؤں تو ہی غصہ ٹھنڈا ہوگا۔ پھر کئی کئی دن اس بات کو اپنے دماغ میں رکھ کے جلتے کڑھتے رہتے ہیں۔ اس ایک لڑائی سے اگلی لڑائی تک ہم خود کو غصے، حسد اور نفرت کے ہتھیاروں سے لیس کرتے رہتے ہیں۔ وقت کے ساتھ ان ہتھیاروں کا بوجھ اتنا بڑھ جاتا ہے کہ ہماری شخصیت اس بوجھ تلے کہیں دب جاتی ہے۔ اس نفرت کے بیج کو تناور درخت بنانے کے لیے کتنے مثبت کام چھوڑ کے صرف ایک منفی جذبے کی دیکھ بھال میں لگا دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   میں اور وہ - جویریہ ندیم

پرسکون زندگی کے لیے، ایک مثبت شخصیت کے لیے سب سے پہلے اس جنگ سے خود کو نکالنا ضروری ہے، کیونکہ اس زندگی میں اچھے اور برے لوگ ہمیشہ ہمارے اردگرد رہتے ہیں، یہ دنیا ہے جنت نہیں جہاں سب اچھے لوگ ہی ہوں، اور اچھے انسان کے منہ سے بھی کبھی کبھار کوئی ایسی بات نکل سکتی ہے جو ہمیں مناسب نہیں لگتی، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ وہ بات یہاں ختم نہیں ہوتی، کیونکہ ہم انسان کو مارجن آف ایرر دینے کے لیے تیار ہی نہیں ہوتے، اور پھر ایک نہ ختم ہونے والی جنگ شروع ہو جاتی ہے۔ جب تک ہم اس حقیقت کو تسلیم نہیں کریں گے کہ انسان سے غلطی ہو جانا فطری عمل ہے، تب تک پرسکون ہونا اور دوسروں سے خوش ہونا مشکل ہی رہے گا۔ اس لیے دوسروں کی کچھ غلطیاں نظرانداز کر کے خود کو پر سکون رکھنے کی پریکٹس کریں اور جو باتیں، جو حرکتیں دوسروں کے لیے غلط سمجھتے ہیں، انہیں اپنے اندر سے بھی ختم کریں۔ بحیثیت انسان غلطی ہو سکتی ہے اور ہو بھی جاتی ہیں، لیکن کرنے کا کام یہ ہے کہ اس غلطی کو غلطی رہنے دیں، ایک بار ہو جائے تو پھر چھوڑنے کی کوشش کریں، نہ کہ ضد اور ہٹ دھرمی میں آ کے عادت ہی بنا لیں اور اپنا اور دوسروں کا سکون تباہ کرتے رہیں۔