اسلام ہی عورت کا اصل محافظ ہے - عابد محمود عزام

8 مارچ کو دنیا بھر میں خواتین کے عالمی دن کے طور پر منایا گیا ہے۔ مختلف ممالک میں خواتین کے حقوق کے حوالے سے سرکاری و غیرسرکاری سطح پر سیمینارز اور تقریبات کا انعقاد کیا گیا، جن میں خواتین کے حقوق اور مختلف معاشروں میں ان کی کمزور حیثیت پر اظہارِ خیال کیا گیا اور خواتین کے حقوق کے تحفظ کا عہد بھی کیا گیا۔ مختلف این جی اوز کی مٹھی بھر خواتین نے مادر پدر آزادی کی ترغیب دیتے بینرز کے ساتھ احتجاج کرتے ہوئے خواتین کا مقدمہ اس بھونڈے انداز میں پیش کیا کہ جس سے خود خواتین کے سر شرم سے جھک گئے۔ اغیار کے ٹکڑوں پر پلنے والی این جی اوز کی اپنے مقام سے نابلد خواتین نے معاشرے میں خواتین کو درپیش حقیقی مسائل کے حل کا مطالبہ کرنے کی بجائے صرف مغرب کی عورت کی طرح آزاد ہونے پر زور دیا، جسے سارا دن کام کاج کا بوجھ اٹھانے کے ساتھ روزانہ ہزاروں ہوسناک نظروں کا نشانہ بننا پڑتا ہے۔

دنیا بھر میں عورت کے ساتھ ہونے والا برتائو مختلف معاشروں اور تہذیبوں میں ہمیشہ سے زیر بحث رہا ہے۔ ہر سال دنیا بھر میں عورتوں سے جنسی زیادتی کے ڈھائی لاکھ واقعات پیش آتے ہیں، ہر سال 40 لاکھ خواتین کو عصمت فروشی پر مجبورکیا جاتا ہے۔ جاگیردارانہ نظام میں خواتین کو وراثت کا حق دینے کا کوئی تصور نہیں ہے۔ شادی بیاہ کے فیصلوں میں عموماً ان سے نہیں پوچھا جاتا۔ نام نہاد غیرت کے نام پر ہر سال ہزاروں خواتین کو موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے۔ کاروکاری، چھوٹی بچیوں کی بوڑھوں سے شادی، جائیداد خاندان سے باہر جانے کے خوف سے عورتوں کی شادی نہ کرنا، انھیں جائیداد کا حصہ نہ دینا، عورت کے چہرے پر تیزاب پھینکنا، بلاوجہ طلاق، شکوک و شبہات کی پاداش میں عورت کو قتل کردینا، جہیز نہ لانے یاکم جہیز لانے پر اسے ظلم کا نشانہ بنانا، چھوٹی چھوٹی رنجشوں یا غلطیوں پر عورتوں کی پٹائی کرنا اور جہالت پر مبنی اسی قسم کے بہت سے واقعات ہمارے معاشرے کا حصہ ہیں، جو آج کے ترقی یافتہ انسان کے منہ پر زور دار طمانچہ ہے۔ عورتوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے یہ بھیانک رویے نہ صرف انسانیت کے نام پر دھبہ ہیں، بلکہ مذہب اسلام کی اصل روح ، روایات اور تعلیمات کے بھی سراسر خلاف ہے۔ ایسے مکروہ رویوں کو ختم کرنے کے لیے معاشرے میں اسلامی تعلیمات کو فروغ دینا ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   ابنِ مریم ہوا کرے کوئی - مہوش نعمان

ہمارا معاشرہ عورت کی حیثیت واہمیت کے حوالے سے دو طبقوں میں تقسیم ہے۔ ایک طبقے نے عورت کو دوسرے درجے کے شہری جتنی حیثیت دی، جب کہ دوسرے طبقے کے نزدیک عورت کا آزادانہ اختلاط پر مبنی معاشرہ ہی اصل معیار ہے۔ دونوں طبقات کے نظریات نہ صرف اسلامی تعلیمات سے متصادم ہیں، بلکہ خود عورت کے حقوق کے لیے بھی انتہائی نقصان دہ ہیں۔ ایک طرف جاہلانہ رسوم و روایات کی بنا پر عورتوں پر جسمانی و نفسیاتی تشدد عام ہے، جب کہ دوسری جانب خود کو انتہائی مہذب کہلانے والے مغربی معاشروں میں عورت کا استحصال اپنی بد ترین شکل میں موجود ہے۔ مغرب میں عورت کی حیثیت ”بازاری جنس“ کی ہو کر رہ گئی ہے۔ عورت کے حوالے سے دونوں رویے افراط وتفریط کا شکار ہوئے ہیں۔ اس ضمن میں سب سے معتدل نظریہ اسلام کا ہے۔ اسلام کی نظر میں مرد و زن برابر ہیں۔ البتہ جہاں ان دونوں صنفوں کے درمیان حیاتیاتی فرق ہے، وہاں دین نے دونوں کے درمیان انصاف کے ذریعے ان کے حقوق وفرائض کو متوازن کر دیا ہے۔ اسلام نے خواتین کو انتہائی زیادہ عزت بخشی ہے۔ فرمانِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: ”تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے ساتھ بھلا سلوک کرے۔“ محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان کا مفہوم ہے: ”جس کے ہاں لڑکیاں پیدا ہوں، وہ اچھی طرح ان کی پرورش کرے تو یہی لڑکیاں اس کے لیے دوزخ میں آڑ بن جائیں گی۔“ اسی طرح کئی دوسری جگہوں پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عورت کی حیثیت کو بہتر بنانے اور عورت کے ساتھ بہتر سلوک کرنے کے لیے مردوں کو بار بار تاکید فرمائی ہے۔ اسلام کی نظر میں اگر عورت بیوی ہے تو یہ شوہر کا لباس اور دنیا کا سب سے بڑا خزانہ ہے۔ اگر بیٹی ہے تو اس کی بہترین پرورش کے عوض آتش دوزخ سے بچانے کا وسیلہ، آنکھوں کی ٹھنڈک اور جنت کی بشارت ہے ۔ اگر ماں ہے تو اس کے پائوں تلے جنت ہے۔ اگر بہن ہے تو اس کے باعث صدقہ وجہاد کا ثواب حاصل ہوگا اور اگر بیوی ہے تو یہ شوہرکا لباس ہے۔ اسلام نے عورت کو چاہے وہ ماں ہو، بیٹی ہو، بہن ہو یا بیوی ہو ہر حیثیت میںانتہائی تکریم و اعزاز کا مستحق گردانا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   ماں سے معاشرہ - عائشہ یاسین

اسلام نے صرف فکری اور نظری اعتبار سے ہی عورت کا مقام و مرتبہ بلند نہیں کیا، بلکہ قانون کے ذریعے سے بھی عورتوں کے حقوق کی حفاظت کی اور مردوں کے ظلم کی روک تھام کا موثر انتظام کیا ہے۔ جہاں مرد کو ناگزیر حالت کی بنا پر طلاق دینے کا اختیار سونپا گیا ہے، وہیں عورتوں کو بھی کسی معقول وجہ کے باعث مرد سے طلاق لینے کا اختیار دلایا ہے اور اس طرح فریقین کو ایک مکمل مساوات پر لاکھڑا کیا ہے۔ اسلام نے عورت کو تحصیل علم میں مرد کے برابر اجازت دی۔ وراثت میں حصہ دار بنایا۔ اسلام سے پہلے عورت کی گواہی معتبر نہ تھی۔ اسلام نے اس کی گواہی کو معتبر کیا اور عورت کی عصمت کو حدود اللہ میں شمار کیا۔اسلام نے عورت کو اظہار خیال کی آزادی دی۔ اسلام میں عورت کو ملنے والے حقوق کے اعتبار سے آج تک دنیا کی کوئی ترقی یافتہ قوم اسلام کی گرد بھی نہ پا سکی ہے۔ اسلام نے زندگی کے کسی موڑ پر بھی عورت کو تنہا نہیں چھوڑا، بلکہ قدم قدم پر اس کی حفاظت و عزت کا انتظام کیا ہے، جو لوگ عورت کو اس کا اصل مقام نہیں دیتے وہ اسلامی تعلیمات سے نابلد اور سراسر غلطی پر ہیں۔ عورت کو جو مقام اسلام نے دیا ہے، دنیا کے کسی معاشرے میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ یورپ میں خواتین کی بڑی تعداد صرف اسلامی تعلیمات اور اسلام کے خاندانی نظام سے متاثر ہوکر اسلام قبول کر رہی ہے۔ مغرب سے مرعوب کچھ لوگ عورت کی حفاظت و عزت پر مبنی اسلامی تعلیمات کو پس پشت ڈال کر پاکستانی معاشرے میں بھی عورت کے حوالے سے مغرب کی غیرمحفوظ ثقافت کے نفاذ کے لیے کوشاں ہیں، جو نہ صرف معاشرے کے لیے مضر ہے، بلکہ ان کے نفاذ سے خود مشرق کی عورت بھی مغرب کی عورت کی طرح غیر محفوظ ہوجائے گی۔

Comments

عابد محمود عزام

عابد محمود عزام

عابد محمود عزام 2011ء سے شعبہ صحافت میں میگزین رپورٹر، فیچر رائٹر اور کالم نویس کی ذمہ داریاں سرانجام دے رہے ہیں۔ روزنامہ ایکسپریس اور اسلام میں مستقل کالم لکھ رہے ہیں۔ معاشرے میں تعمیری اور مثبت سوچ کا فروغ ان کا مشن ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.