پلوامہ حملہ؛ پاکستان اب کیا کرے - ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

حکومت کا اصرار ہے کہ کالعدم تنظیموں کے خلاف حالیہ کریک ڈاؤن اور گرفتاریاں وہ محض نیشنل ایکشن پروگرام پر عملدرآمد کے لیے کر رہی ہے اور اس کی وجہ کوئی بیرونی دباؤ نہیں۔ میرا کہنا یہ ہے کہ اگر یہ سب بیرونی دباؤ پر بھی ہے تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ بلکہ ایک لحاظ سے تو یہ نادر موقع ہے کہ پاکستان دنیا کی توجہ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے چند باتیں صاف کر لے۔

اس سلسلہ میں پلوامہ واقعہ کو ہی بنیاد بنانا چاہیے کیونکہ اسی کی آڑ میں بھارت نے تمام حدود پار کرتے ہوئے ایک انتہائی قدم اٹھایا۔

دنیا کو بتایا جائے کہ بندے ہم نے پکڑ لیے۔ اب ثبوت لائیں تاکہ آگے بڑھا جا سکے۔ ان ثبوتوں کو روس، چین، امریکہ یا پھر اقوام متحدہ کے کسی بندوبست کے سامنے رکھا جائے اور وہ ان کے متعلق یا غیر متعلق ہونے پر مسلمہ بین لاقوامی اصولوں پر اپنی رائے دیں۔ اگر یہ ثبوت عمل درآمد کے کسی پیمانے پر پورے نہیں اترتے تو پھر دو باتوں کا جواب دیا جائے۔ اول یہ کہ بھارت نے کس بنیاد پر پاکستان کی فضائی حدود کو پامال کیا اور اس کی سرزمین پر بمباری کی؟ بھلے اس سے کوئی نقصان نہ ہوا ہو لیکن فضائیہ کی جارحیت بجائے خود نہایت گمبھیر مسئلہ ہے۔ بھارت کو اس کا جواب دینا ہوگا۔ دوسرا یہ کہ اب ان افراد کو کیونکر زیر حراست رکھا جائے اور کس بنیاد پر؟

پاکستان لاکھ ان تنظیموں کو کالعدم قرار دیتا رہے، بھارت ان کو کبھی کالعدم نہیں ہونے دے گا۔ تجربہ یہ بتاتا ہے کہ جب کبھی کوئی واقعہ ہوگا، خواہ اصل ہو یا False Flag Operation وہ فوراً پاکستان پر الزامات کی بارش کر دے گا یا جنگی جنون کو ہوا دینا شروع کر دے گا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ کشمیر میں بھارت کی پوزیشن بہت خراب ہے اور اب اس کے پاس ایک ہی راستہ بچا ہے کہ وہ کسی نہ کسی طور کشمیر میں جاری صورتحال کو نہ صرف دہشت گردی سے جوڑتا رہے بلکہ اس دہشت گردی کا مرکز پاکستان کو بتائے تاکہ دنیا کو یہ تاثر دیا جا سکے کہ یہ کشمیریوں کی داخلی تحریک نہیں بلکہ پاکستان کی مسلط کردہ پراکسی وار ہے۔ آپ تنظیموں کو کالعدم کر دیں، ان کے سو فیصد لوگوں کو پابند سلاسل بھی کر دیں تو اگلی بات یہ آ جائے گی کہ یہ سب آئی ایس آئی کے Rogue Elements کروا رہے ہیں۔ گویا پرنالہ وہیں کا وہیں رہے گا۔

یہ بھی پڑھیں:   درسگاہیں بنی رقص گاہیں اور برقعے کا نیا استعمال - محمد عاصم حفیظ

اس لیے یہ بات کلیدی اہمیت کی حامل ہے کہ پاکستان دنیا کے سامنے یہ بات رکھے کہ کسی بھی واقعہ کے ہنگام آگے بڑھنے کے اصول و ضوابط طے کیے جائیں۔ یہ نہیں کہ جھٹ الزام لگایا اور پٹ دھمکیاں شروع۔ کیا کسی بھی راست اقدام کے لیے اتنا جواز ہی کافی ہے کہ کوئی کسی تنظیم کا نام لے دے یا کوئی نامعلوم ذرائع اس کی ذمہ داری قبول کر لیں؟ یہ پاکستان کی سیکیورٹی کا مسئلہ ہے اور اس رویہ کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ کسی کا الیکشن آ جائے تب یہ مسئلہ، اندرونی حالات کی سنگینی سے توجہ ہٹانا ہو تب یہ خطرہ، مذاکرات سے راہ فرار اختیار کرنا ہو تب یہ سلسلہ، پاکستان تو ہر وقت کٹہرے میں ہی کھڑا رہے گا۔ اس لیے Rules of Verification and Engagement طے ہونا لازم ہیں۔

پاکستان اپنی معیشت کے حوالے سے ایک فیصلہ کن دور سےگزر رہا ہے اور کسی بھی طور غیر یقینی صورتحال کا شکار ہونے یا شکار رہنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اس وقت یہ بات پاکستان کی سیکیورٹی و معیشت اور کشمیر میں جاری تحریک آزادی ، دونوں کے لیے ضروری ہے کہ ان دونوں کو دہشت گردی سے جوڑنے کی بھارت کی ہر کوشش کو ناکام بنایا جائے۔

پاکستان کو چاہیے کہ اس معاملے میں بھارت کو کٹہرے میں لائے اور ثابت کرے کہ اصل مسئلہ بھارت کی بدنیتی ہے۔ بغیر کسی ٹھوس ثبوت وہ پاکستان اور کشمیریوں کو بدنام کر رہا ہے تاکہ وہاں اس کے اپنے گھناؤنے کردار پر پردہ پڑا رہے۔ نہ پاکستان مقبوضہ کشمیر میں ملوث ہے اور نہ ہی وہاں کی تحریک دہشت گردی سے جڑی ہے۔ پاکستان اگر ایسا کر پائے تو کشمیریوں کے حقِ خود ارادی کے لیے گزشتہ ستر برس میں یہ اس کی اہم ترین سفارتی اور اخلاقی مدد ہو گی۔

Comments

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش کی دلچسپی کا میدان حالاتِ حاضرہ اور بین الاقوامی تعلقات ہیں. اس کے علاوہ سماجی اور مذہبی مسائل پر بھی اپنا ایک نقطہ نظر رکھتے ہیں اور اپنی تحریروں میں اس کا اظہار بھی کرتے رہتے ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.