‎آزادئ نسواں کہ زمرد کا گلوبند - جویریہ اللہ دتہ

پنج ستارہ ہوٹل کے ہال کو رنگ برنگی غباروں اور پھولوں سے سجایا گیا تھا۔ کانفرنس میں تاحد نگاہ خواتین موجود تھیں جنھوں نے خوب بناؤ سنگھار کر رکھا تھا اور مہنگے لباس زیب تن کیے ہوئے تھے، اسٹیج پر ایک جہاز سائز کا پینافلیکس لگا تھا جس پر خواتین کے حقوق اور عالمی دن کی مناسبت سے تحریر درج تھی۔ آج پاکستان سمیت پوری دنیا میں خواتین کا عالمی دن منایا جا رہا تھا اور اسی مناسبت سے مقامی این جی او نے یہ تقریب منعقد کی تھی۔ اس میں خواتین کی حقوق گنوائے جا رہے تھے۔

میں جو اپنے ادارے کی جانب سے اس تقریب کو کور کرنے گئی تھی، سوچ رہی تھی کہ ہر سال 8 مارچ کو پوری دنیا میں خواتین کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس کا مقصد خواتین کے حقوق، معاشرے میں ان کی عزت و مقام اور سماجی حیثیت کو تسلیم کرنا بتایا جاتا ہے، اور اس کے حصول کے لیے سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کی طرف سے فائیو سٹار ہوٹلوں میں کانفرنسوں کا انعقاد کیا جاتا ہے اور اس میں خواتین کے حق میں قراردادیں اور سفارشات پیش کی جاتی ہیں، لیکن یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ فیکٹریوں اور بھٹوں پر ﻣﺰﺩﻭﺭﯼ کرتی ﺑﮯﭼﺎﺭﯼ ﻣﻌﺼﻮﻡ عورت ﮐﻮ ﭘﺘﮧ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺣﻘﻮﻕ ﮐﮯ لیے ﺑﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﻥ ﻣﺘﻌﯿﻦ ﮨﮯ۔

حقوق نسواں کا پہلا قومی دن 1909 میں تھریسا سربر کے کہنے پر سوشلسٹ پارٹی آف امریکہ نے منایا، تھریسا اپنے عہد کی معروف مصنفہ اور سماجی کارکن تھیں۔ ایسے ہی پھر یہ سلسلہ آسٹریا، جرمنی، ویانا، پیرس اور سوویت یونین تک جا پھیلا۔ 1917ء کے انقلاب روس میں خواتین پہ ڈھائے جانے والے ظلم اور استبداد کے خلاف روس نے باقاعدہ اس دن سرکاری تعطیل کا اعلان کر دیا جو اس بات کا ثبوت تھا کہ مرد بھی عورت کے ساتھ کھڑے ہیں۔ بالآخر اقوام متحدہ نے 1975ء میں 8 مارچ کو یوم خواتین باقاعدہ بین الاقوامی طور پر منانے کا اعلان کیا۔

اسلام نے آج سے 1400 سو سال قبل عورتوں کے بطور بہن، ماں، بیوی الغرض باندیوں تک کے حقوق کو اس وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے کہ اس کی مثال حقوق نسواں کے علمبردار اور این جی اوز لانے سے قاصر ہیں۔ مغرب ایک دن عورت کے نام کرتا ہے، ہمارا دین سال کا ہر دن عورت کے عزت و وقار اور حقوق کے نام کرتا ہے۔ عصر حاضر میں اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں بہت ساری غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں یا قصدا پیدا کی گئ ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ اسلام نے عورت کو مرد کے برابر حیثیت نہیں دی ہے اور اس پر کئی طرح کی پابندیاں اور بندشیں عائد کرکے اسے ترقی کی دوڑ میں مردوں سے بہت پیچھے کر دیا ہے۔ حالانکہ اگر تعصب کی عینک اتار کر بہ نظر غائر دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اسلام نے سب سے پہلے مساوات مرد و زن کا علم بلند کیا۔ ‎مسلم عورت کو مسٹر پیریٹس اس طرح خراج پیش کرتے ہیں۔ ''محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی توجہ سے برقع پوش مسلم خواتین کو ہر شعبہ زندگی میں وہ حقوق حاصل ہوگئے ہیں جو بیسویں صدی میں ایک تعلیم یافتہ عیسائی عورت کو حاصل نہیں.'' (اعتراف حق. ص. ۹۰۲) اس حقیقت کے باوجود نام نہاد حقوق نسواں کے علمبردار اس تصورِ مساوات کو غلط سمجھتے ہیں، ان کے نزدیک دونوں کو ایک میدان کار کی اجازت ہونی چاہیے، اس کے بغیر ان کے درمیان مساوات باقی نہیں رہ سکتی۔ اصل میں وہ عورت کی حرمت و عظمت کو مساوات کے نام پر چھینے کے درپے ہیں۔

‎عورت دراصل اسلامی تہذیب کا سب سے مستحکم قلعہ ہے جسے خوشنما نعروں کا فریب دے کر اس کے اصل اور فطری مقام سے بیگانہ کرنے کی سازش کی جا رہی ہے. نہ صرف خاندانی نظام کی تباہی بلکہ قوموں کی سمت تبدیل کرنے کی منصوبہ بندی استعماری قوتوں کا ایجنڈا ہے۔ اس کے تحت عورت کے تقدس اور وقار کو پامال اور معاشرتی انتشار کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ ان کے لیے عورت ایک ایسی گری پڑی مخلوق ہے جو صرف اور صرف تجارتی اشیاء کی خرید و فروخت کے لیے استعمال کی جاتی ہے، اس سے وہ مفاد پرستی جنم لیتی ہے جس نے بےحیائی کی ساری حدیں پار کر لی ہیں۔

‎عورت نے آزادی نسواں کے نعرے کے فریب میں آکر جب گھر سے نکل کر مردوں کے شانہ بشانہ کام کرنا شروع کیا تو اسے ہوٹلوں میں ریسیپشن پر، ہوائی جہازوں میں بحیثیتِ ایئر ہوسٹس، تھیٹروں، ریستورانوں، بار ہوٹلوں، کلبوں میں لا کھڑا کیا گیا۔ فحش رسائل و اخبارات میں ان کی ہیجان انگیز عریاں تصویریں چسپاں کرکے مارکیٹنگ کا وسیلہ بنا دیا گیا۔ گھر اور خاندانی نظام سے محروم کرکے، غیر مربوط اور خود غرض معاشرتی نظام کی بنیاد رکھ دی گئی۔ یورپی کمیشن کی جاری کردہ رپورٹ جسے اسپیشل یوروبیرومیٹر کے 344 کے نام سے ریلییز کیا گیا ہے۔ ڈائریکٹوریٹ جنرل برائے قانون، آزادی اور تحفظ کے زیرِ اہتمام کی جانے والی اس سروے رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ہر چار میں سے ایک عورت، گھریلو تشدد کا شکار ہے۔ یورپی یونین کے ستائیس ملکوں سے جمع کی جانے والی ان معلومات کے مطابق 78% یورپی گھریلو تشدد کو عمومی مسئلہ سمجھتے ہیں۔ 2010ء میں جاری ہونے والی اس رپورٹ میں جنسی اور جسمانی تشدد کا سبب گھریلو ناچاقیوں کو قرار دیا گیا۔ یورپی یونین کے بنیادی حقوق کے ادارے کے 2014 کے سروے نتائج کے مطابق یونین میں شامل ممالک کی تقریباً ایک تہائی خواتین 15 برس کی عمر سے جسمانی یا جنسی تشدد کا شکار رہی ہیں۔ یہ تعداد چھ کروڑ 20 لاکھ کے لگ بھگ بنتی ہے۔ سروے میں کہا گیا ہے کہ یہ اس موضوع پر لیا جانے والا اب تک کا سب سے بڑا جائزہ ہے اور اس کے لیے 42 ہزار خواتین کے انٹرویوز کیے گئے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی آج عورت کو وہ تمام معاشی و معاشرتی حقوق حاصل ہوگئے ہیں؟ اور مغرب جس نے گھر کی عورت کو بازاری کی عورت بنانے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی، وہ کہاں تک عورت کو اس کا مقام دینے میں کامیاب ہوا؟ ان تمام سوالات کے جوابات انتہائی بھیانک اور چونکا دینے والے ہیں۔

‎ آج پوری دنیا میں حوا کی بیٹی مظلومی و مقہوری کی زندگی بسر کر رہی ہے۔ یہ جنسی تشدد کا شکار ہے۔ اسے معاشرے میں جنسی لذت حاصل کرنے کا ایک آلہ قرار دیا جاتا ہے۔ اسے فحاشی و عریانی کے اڈوں کی زینت بنا دیا گیا ہے۔ خواتین کے اس طبقے میں خواتین منشیات کا استعمال کثرت سے کر رہی ہیں اور خودکشی کا رحجان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﮐﯽ ﻋﺼﻤﺖ ﺩﺭﯼ ﺍﻭﺭ ﻗﺘﻞ ﮐﯽ ﻭﺍﺭﺩﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺣﯿﺮﺕ ﻧﺎﮎ ﺣﺪ ﺗﮏ ﺍﺿﺎﻓﮧ ﮨﻮ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ، ﺍﻭﺭ ﺍﺏ ﺗﻮ ﻣﻌﺼﻮﻡ ﺍﻭﺭ ﻧﻨﮭﯽ ﮐﻠﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﺍٓﺑﺮﻭ ﺭﯾﺰﯼ ﺟﯿﺴﮯ ﮔﮭﻨﺎؤﻧﮯ ﻭﺍﻗﻌﺎﺕ ﺑﮭﯽ ﺭﻭﻧﻤﺎ ﮨﻮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﻧﺴﺎﻧﯿﺖ ﮐﻮ ﺷﺮﻣﺴﺎﺭ ﮐﺮﺩﯾﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﯾﺴﮯ ﻭﺍﻗﻌﺎﺕ ﺍﺏ ﯾﻮﺭﭖ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﺍﯾﺸﺎﺋﯽ ﻣﻤﺎﻟﮏ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﮨﻮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ۔

ﺍﺳﻼﻡ ﻧﮯ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﻮ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﮐﺎ ﻣﺮﮐﺰ ﻗﺮﺍﺭ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ ﺟﺒﮑﮧ ﻣﻐﺮﺏ اپنے ذرائع اور وسائل استعمال کرکے ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﮐﮯ ﻭﺟﻮﺩ ﮐﻮ ﭨﮑﮍﮮ ﭨﮑﮍﮮ ﮐﺮ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﺧﻼﻗﯽ ﺑﮯ ﺭﺍﮦ ﺭﻭﯼ، ﻣﺮﺩ ﻭ ﺯﻥ ﮐﺎ ﺁﺯﺍﺩﺍﻧﮧ ﺍﺧﺘﻼﻁ ﺍﻭﺭ ﻣﺎﺩﮦ ﭘﺮﺳﺘﯽ ﮐﯽ ﻟﮩﺮ ﮐﻮ ﺍﺟﺎﮔﺮ ﮐﺮﮐﮯ ﻣﺮﺩ ﺍﻭﺭ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﻮ ﺑﺎﮨﻢ ﻣﺘﺤﺎﺭﺏ ﻗﻮﺕ ﮐﮯ ﻃﻮﺭ ﭘﮧ ﻻ ﮐﮭﮍﺍ ﮐﯿﺎ گیا ﮨﮯ۔ ﺟﻮ ﯾﻘﯿﻨﺎً ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﺍﻭﺭ ﻧﺘﯿﺠﺘﺎً ﺍﻧﺴﺎﻧﯽ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﮐﯽ ﺗﺒﺎﮨﯽ ﮐﺎ ﺳﺒﺐ ﮨﮯ۔ ﺍﻭﺭ ﺍٓﺝ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﻨﻔﯽ ﺍﺛﺮﺍﺕ ﻇﺎﮨﺮ ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﮐﯽ ﮔﮭﺮﯾﻠﻮ ﺍﻣﻮﺭ ﻣﯿﮟ ﺩﻟﭽﺴﭙﯽ ﮐﻢ ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﯽ ہے۔ ﻧﺘﯿﺠﺘﺎً ﺧﺎﻧﺪﺍﻧﯽ ﻧﻈﺎﻡ ﺩﺭﮨﻢ ﺑﺮﮨﻢ ﮨﻮ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ۔ ﺯﻭﺟﯿﻦ ﮐﮯ ﻣﺎﺑﯿﻦ ﺍﻓﮩﺎﻡ ﻭ ﺗﻔﮩﯿﻢ ﮐﺎ ﻓﻘﺪﺍﻥ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮ ﺭﮨﺎ ہے ﺍﻭﺭ ﺑﭽﮯ ﺗﺮﺑﯿﺖ ﺳﮯ ﻣﺤﺮﻭﻡ ﮨﻮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﻋﻮﺭﺕ اپنے ﺣﻘﻮﻕ ﮐﯽ ﻓﮑﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﺠﺎﻧﮯ ﮐﺘﻨﮯ ﻓﺮﺍﺋﺾ ﺑﮭﻮﻝ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ۔ ﺍٓﺝ اﺳﮯ ﮔﮭﺮﯾﻠﻮﮞ ﺫﻣﮧ ﺩﺍﺭﯾﺎﮞ ﺑﻮﺟﮫ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﯽ ﮨﯿﮟ۔

ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﮐﮯ ﺣﻘﻮﻕ ﻭ ﺗﺮﻗﯽ ﮐﺎ ﻏﻠﻐﻠﮧ بلند ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﯾﮧ ﺩﻥ ﻓﯽ ﺍﻟﺤﻘﯿﻘﺖ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﺳﮯ ﺟﮍﮮ ﺧﻄﺮﺍﺕ ﻭ ﺧﺪﺷﺎﺕ ﮐﺎ ﻗﻠﻊ ﻗﻤﻊ ﮐﺮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﻠﯽ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﻧﺎﮐﺎﻡ ﮨﮯ۔ ﻣﻨﻄﻘﯽ ﺳﻮﺍﻝ ﯾﮧ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﮐﮯ ﺣﻘﻮﻕ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﯾﮏ ﻃﺮﻑ ﺗﻮ ﺍﯾﻦ ﺟﯽ ﺍﻭﺯ ﮐﯽ ﺗﻌﺪﺍﺩ ﻣﯿﮟ ﻣﺴﻠﺴﻞ ﺍﺿﺎﻓﮧ ﮨﻮ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ، ان کے چلانے والے کے بنک بیلنس بھی بڑھ رہے ہیں مگر عملی طور پر صورتحال میں کوئی فرق واقع نہیں ہو رہا۔ ﺗﺤﻘﯿﻖ ﻭ ﺗﺠﺰﯾﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺗﻮ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﺳﮯ ﺟﮍﮮ ﺍﻥ ﻣﺴﺎﺋﻞ ﻣﯿﮟ ﺍﺿﺎﻓﮧ ﮨﯽ ﮨﻮ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ۔ ﻧﺎﻡ ﻧﮩﺎﺩ ﺭﻭﺷﻦ ﺧﯿﺎﻝ ﺟﺎﮨﻠﯿﺖ ﻣﯿﮟ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﮐﻮ ﺁﺯﺍﺩﯼ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﺳﮯ ﺍﺳﯽ ﻇﻠﻢ ﻭ ﺳﺘﻢ، ﻧﺎﻗﺪﺭﯼ، ﺫﻟﺖ ﻭ ﺭﺳﻮﺍﺋﯽ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺩﮬﮑﯿﻞ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﮔﺮ ﯾﮩﯽ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﯽ ﺁﺯﺍﺩﯼ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺣﻘﻮﻕ ﭘﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﻋﻼﻣﺖ ﮨﮯ ﺗﻮ اس ﭘﺮ ﻧﻈﺮﺛﺎﻧﯽ کی ضرورت ہے۔ ﺍﻭﺭ ﺁﺯﺍﺩﯼ ﻧﺴﻮﺍﮞ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﻋﻮﺭﺕ ﭘﺮ ﭼﮭﻮﮌﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺧﻮﺩ ﺳﻮﭼﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻟیﮯ ﺑﮩﺘﺮ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ۔ ﺑﻘﻮﻝ ﺍﻗﺒﺎﻝ


ﺍﺱ ﺭﺍﺯ ﮐﻮ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﯽ ﺑﺼﯿﺮﺕ ﮨﯽ ﮐﺮﮮ ﻓﺎﺵ

ﻣﺠﺒﻮﺭ ﮨﯿﮟ ﻣﻌﺬﻭﺭ ﮨﯿﮟ ﻣﺮﺩﺍﻥ ﺧﺮﺩ ﻣﻨﺪ

ﮐﯿﺎ ﭼﯿﺰ ﮨﮯ ﺁﺭﺍﺋﺶ ﻭ ﻗﯿﻤﺖ ﻣﯿﮟ ﺯﯾﺎﺩﮦ

ﺁﺯﺍﺩﺉ ﻧﺴﻮﺍﮞ ﮐﮧ ﺯﻣﺮﺩ ﮐﺎ ﮔﻠﻮﺑﻨﺪ