رُوح کیا ہے؟ ایک سائنسی نظر - مجیب الحق حقی

روح کیا ہے؟ انسانوں کی اکثریت روح کے تصوّر سے آشنا ہے لیکن مادّہ پرست روح سے انکاری ہیں۔ روح ہے یا نہیں یا کیا ہے؟ اس کی تشریح محض اپنی تمنّا پر نہیں کی جاسکتی بلکہ کائنات اور حیات کے تناظر میں اس کا عقلی جائزہ ہی کسی قابل قبول رائے تک پہنچائے گا کیونکہ کسی بھی مؤقف کی درستگی کے لیے دلیل ہی جواز بنتی ہے۔

کیا سائنس اور الحاد کے پاس حیات کا کوئی ٹھوس سائنسی جواز ہے؟ کیا سائنس انسان کے اندر موجود متعدّد میکینزم کی سائنسی تشریح کا فریضہ انجام دے چکی؟ حیات کے جواز کے علاوہ کچھ اہم ذیلی سوالات بھی اپنے جواب جدید سائنس سے مانگ رہے ہیں۔ مثلاً: شعور کیا ہے؟ عقل کیا ہے؟ حواس کیوں ہیں؟ خیال کی حقیقت کیا ہے؟ یہ کیوں پیدا ہوتے ہیں؟نیند اور خواب کیوں آتے ہیں؟ یادداشت کیا اور کیوں ہے؟

یہ سوالات اُن مظاہر کے بارے میں ہیں جو طبعی وجود نہیں رکھتے، لیکن جن کا انکار نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ انسان ان کو محسوس کرتا ہے۔ آپ کو جدید علوم کے تئیں ان سوالات کے جواب میں کسی ٹھوس جواز کے بجائے اُس متعلّقہ مظہر کی صرف تشریح ملے گی، یعنی ان کی موجودگی کی لفظی وضاحت۔ جواز کے اصرار پر یہی جواب ملے گا کہ یہ ناقابل وضاحت مظاہر ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ جدیدمحقق یا اسکالر ان سوالات کے جوابات اپنے علم کی روشنی میں پانے میں ناکام ہو کر ان کو نظرانداز کر دیتا ہے اور دلیل یہ دی جاتی ہے کہ ان سوالات کا جواب سائنس کبھی نہ کبھی ڈھونڈ لے گی۔ ان کی یہ بات درست بھی ہو سکتی ہے لیکن ان سوالات کا جواب کیا ملے گا؟ اس کا پتہ نہیں اور نہ یہ ضمانت کہ کسی کی مرضی کا ہی ملے۔ لہٰذا مستقبل کا انتظار تو وہ کریں جنہوں نے آب ِحیات پی لیا ہو کیونکہ ہمارے سامنے تو مذہب ہمارے طرز ِعمل کے تئیں ثواب و عذاب کے حوالے سے فکر مند کر دینے والا نظریہ لیے کھڑا ہے۔ ہمیں کسی انجانے مستقبل میں نہیں بلکہ آج اپنی زندگی میں ہی ان سوالات کے جوابات تلاش کرنا ہیں تاکہ ہم اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کریں نہ کہ چندپُر امّید افراد کے فلسفے کی نظر کردیں جن کی نظر میں فی الوقت انسان ایک بلبلے کی طرح ظاہر اور فنا ہو رہا ہے۔

آئیں تو پھر ایک اہم پہلو پر غور کریں، وہ یہ کہ انسانی جسم کسی نامعلوم وجہ سے سوچتا، حرکت اور کام کرتا ہے۔ ان حرکیات کو ہم اس جسم کے زندہ ہونے سے تعبیر کرتے ہیں۔ فی الوقت ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ انسان کو باعمل، باشعور، باحواس اور دانشمند بنانے والا عامل کیا ہے؟ مگر اس سے پہلے حیات کی مروّجہ تعریف جانیں کہ جدید فکر کا نقطۂ نظر کیا ہے۔

ایک ماہر طبعیات حیات کا یہ فعّال نظریہ لایا کہ زندگی اس لیے ہے کیونکہ تھرمل انرجی میں بےترتیب تبدیلیوں کا قانون entropy مادّے کو اس صورتحال میں لے جاتا ہے کہ وہ حیات کی مانند طبعی شکل حاصل کرلیتا ہے۔
https://www.scientificamerican.com/article/a-new-physics-theory-of-life

برٹرینڈ رسل کی نظر میں زندگی ایک ایٹمی حادثہ ہے۔ اسٹیون ہاکنگ کے بقول طبعی قوانین نے نہ صرف کائنات بنائی بلکہ ہمارے اذہان بھی!
https://creation.com/stephen-hawking-meaning-to-life

عموماً زندگی کی وضاحت کم و بیش سطحی یا انتہائی پیچیدہ علمی مفروضات کی تشریحات ہوتی ہیں مگر بےجان مادّے میں زندگی ظاہر ہی کیوں ہوتی ہے؟ اس کی سائنسی وضاحت ابھی تک کہیں نہیں ملتی۔ حیات کی عاقلانہ تعریف میں ناکامی کی وجہ مادّہ پرست کی فکری محدودیت ہے، جس کے باعث جدید علوم حیات کے منبع اور موجودگی کا کوئی ٹھوس جواز دینے سے قاصر ہیں۔ یہ جواز ہمیں اسی وقت ملے گا جب ہم اپنی سوچ کے اطراف کھینچی مادّیت کی فصیل کو ڈھا کر ایک کھلے ماحول میں غور کریں گے۔ اب یہی دیکھیں کہ تصّورات اور جذبات جیسے خوشی، غم، محبت، شہرت یا صفت وغیرہ طبعی وجود نہ رکھے بغیر بھی ہمیں قبول ہیں، کیونکہ ہم انہیں محسوس کرتے ہیں تو اسی تناظر میں کیا کچھ ایسی چیزیں موجود نہیں ہو سکتیں، جنھیں نہ صرف ہم بلکہ ہمارے موجودہ سائنسی آلات ابھی ڈھونڈ نہ پائے ہوں! یہ بھی مدّ نظر رہے کہ ایسی کسی بھی صورت میں جبکہ کوئی غیر مرئی شے عقل اور منطق سے اپنا جواز ثابت کرتی ہو تو سائنسی ردّعمل یہی ہوتا ہے کہ مفروضات hypothesis کے بموجب اس کی تلاش کی جاتی ہے کیونکہ ایسے کسی اسرار کا بلا استدلال مسترد کرنا علمی تنگ نظری ہوگا۔ اس کی بہترین مثال ہگز فیلڈ higgs field کی دریافت ہے۔ سائنسدان پریشان تھے کہ جب ایٹم توانائی ہے تو اس سے بنی چیز میں وزن mass کیسے آتا ہے۔ اس پر ایک سائنسدان نے یہ منطقی نظریہ پیش کیا کہ کائنات میں کوئی ایسی فیلڈ ہوسکتی ہے جس سے مس ہو کر ہر ایٹم کو وزن ملتا ہو۔ پھر اس نظریے پر تحقیق ہوئی اور آخرکار اس فیلڈ کی تصدیق تجربات سے ہوگئی۔ روح اور مذکورہ بالا سوالات کے تئیں ہم مذہبی عقائد کو ایک طرف کر کے فطری حقائق اور انسان کی ہی تخلیقات اور تعمیرات کی روشنی میں اس مفروضے hypothesis پر چھان بین کرتے ہیں کہ:
"کیا ہگز فیلڈ کی طرح انسان کے اندر کوئی پس پردہ کثیر جہتی multidimensional سسٹم یا کسی انہونی قوّت کا مقناطیسی حصار موجود ہے جو اندرونی نظام میں پیوست ہوکر پراسرار عوامل کو کنٹرول کرتا ہے؟"

ہم آگے اسی مفروضے hypothesis کے قابل قبول ہونے کے لیے طبعی حوالوں کی تلاش کرتے ہیں جو اِسے شواہدکی بنیاد پر مزید منطقی اور عقلی وزن دے۔

انسان کا مشاہدہ اور تجربہ اس کا مکمّل یا ادھورا علم بنتا ہے۔ زندگی کا ایک وصف کام کرنا ہے اور انسان نے ایسے اوزار بنائے جو اس کے کام کو آسان کرتے ہیں اور کچھ مشینیں ایسی بھی بنائیں جو خودکار ہوتی ہیں۔ ان مشینوں کی ساخت اور کارکردگی کے پیچھے انسان کا علم ہی عملی پیرائے میں کام کرتا ہے۔ سڑک پر چلتی گاڑی اپنے اندر میکینکل انجینئرنگ کے لاتعداد اسباق کا عرق لیے ہوتی ہے۔ ایک مصوّر کی بنائی تصویر اپنے پیچھے تصوّرات کے بےشمار جھماکوں کا عکس ہوتی ہے۔ کیا ہم اس علم کو دیکھ سکتے ہیں جو کسی تجربے، کوشش یا مشاہدے کے بموجب کسی مشین کی تیّاری یاکسی تصویر کی مینا کاری میں استعمال ہورہا ہے؟ نہیں، اس لیے کہ علم تجریدی ہے۔ ہم روزمرہ کی ایسی چیزوں پر نہ غور کرتے ہیں اور نہ ہی کوئی سوال اُٹھاتے ہیں، کیونکہ ہم ان کے تعمیری مراحل کو جانتے ہیں۔ ہمیں معلوم ہے کہ کوئی چیز بنانے سے پہلے کسی انسانی ذہن میں اس کا تصوّر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کی تکمیل کی منصوبہ بندی ہوتی ہے اور علم کے بموجب تعمیر کا عمل ہونے کے بعد چیز تیّار ہوتی ہے۔

ایسی کسی ساخت کی تفصیل میں جائیں تو مزید حقائق سامنے آتے ہیں جیسے کمپیوٹر اور روبوٹ اپنی ساخت میں تین مختلف پیرایوں کا مجموعہ ہیں، ایک طبعی جس میں ہارڈوئیر تیار کیا جاتا ہے جو ایک بےجان چیز ہوتی ہے لیکن اس کی تکنیکی ساخت ایسی ہوتی ہے کہ الیکٹرک کرنٹ سے توانائی پاکر سوفٹ وئیر کے اشارات سمجھ کر بےشمار کام کرسکے۔ اس ضمن میں اس سے کام لینے کے لیے مخصوص اشارات یا سوفٹ وئیر کی تخلیق ایک حسابی علم کے ذریعے کی جاتی ہے۔ اس طرح کمپیوٹر کے بننے کے عمل میں مرئی اور غیر مرئی لوازمات کی ایک تکون بنتی ہے جسے ہم تعمیری یا پیداواری تکون manufacturing triangle کا نام دے سکتے ہیں جس میں ایک طرف مادّی لوازمات (ہارڈوئیر)، دوسری طرف تجریدی اشارے (سوفٹ وئیر) اور تیسری طرف قوّت (پاور) ہوتے ہیں جو تعمیر کا عمل مکمّل ہونے پر ایک ہم آہنگ پیرائے میں عمل پذیر ہو کر کام انجام دے سکتے ہیں۔ یہ سارے اجزاء مل کر ہی کمپیوٹر اور روبوٹ وغیرہ بناتے ہیں جو مذکورہ کسی بھی ایک جز کی کمی سے ناقابل استعمال ہوگا۔ اس ضمن میں آپ دیکھیں گے کہ اس تعمیر میں سوفٹ وئیر ایک ایسا عنصر ہے جو تجریدی یعنی نظر نہ آنے والا ہے۔ کاغذ پر لکھے یا کی بورڈ سے کمپیوٹر کے دماغ میں ہدایات کا مجموعہ فیڈ کرنے کے باوجود ہم سوفٹ وئیر کا طبعی ادراک نہیں کرسکتے۔ دیکھیں جناب اگر کوئی یہ کہے کہ صرف ہارڈ وئیر میں کرنٹ گزارنے سے کمپیوٹر چل پڑا تو کوئی یقین نہیں کرے گا کیونکہ ہمارا مشاہدہ یہی ہے کہ سوفٹ وئیر کے بغیر ایسا ممکن نہیں۔ نرم ہدایات کا مجموعہ نظر نہیں آتا مگر کمپیوٹرکی کارکردگی ہی اس بات کا ثبوت ہوتی ہے کہ اس کے اندر اس کو جگانے اور چلانے والی کوئی چیز ہے جو اور کچھ نہیں انسان کا علم ہے جو خاص ماحول میں اپنی عملی جھلک دکھا تا ہے۔

اب ہم اپنے موضوع کی طرف آتے ہوئے انسان کی صفات اور خواص کے تئیں دیگر پیچیدہ عوامل کو نظر انداز کرتے ہوئے صرف روح کے تناظر میں اپنی بحث کو محدود رکھتے ہیں۔ تعمیری عمل کی مذکورہ مثلث کے حوالے سے اب انسان کی اندرونی ساخت کی طرف متوجّہ ہوتے ہیں کہ گوشت پوست کا یہ "سپر حیاتیاتی روبوٹ" بھی کسی سہ فریقی تنظیم میں جکڑا تو نہیں؟ انسان میں بظاہر تو ہارڈ وئیر (جسم) اور قوّت (سانس و غذا سے حاصل توانائی) تو سامنے ہیں لیکن کسی تیسرے رکن یعنی کسی سوفٹ وئیر یا سسٹم کا ہمیں ادراک نہیں جبکہ اس کا ہونا عملی و سائنسی ضرورت ہے۔
آئیے دیکھیں کہ لا مذہب سائنس انسان کے زندہ اور فعّال رہنے کی کیا علمی توجیہ پیش کرتی ہے۔

"ہر خلیے میں یہ خاصیت ہوتی ہے کہ ایندھن کو قابل استعمال توانائی میں تبدیل کر سکے، اس لیے خلیات نہ صرف زندہ چیزوں کو بناتے ہیں بلکہ خود بھی زندہ ہوتے ہیں۔"
https://www.dummies.com/education/science/biology/understanding-cells-the-basic-units-of-life/

سائنس سیل کو حیات کی بنیادی اکائی fundamental unit of life کہتی ہے۔ واضح ہو کہ انسانی جسم سینتیس سے لیکر ستر کھرب سیل سے تعمیر ہوتا ہے جس کا سائنسی تخمینہ انسان کے وزن اور حجم سے کیا جاتا ہے۔ خلیات میں میٹابولزم یا غذا کا جزو بدن ہونے کا عمل ہی ہمیں زندہ رکھتا ہے۔ یہ مختلف کیمیکل ری ایکشن کا مجموعہ ہے جو سوچنے، بڑھنے، چلنے پھرنے، بات کرنے، نسل بڑھانے، سانس لینے غرض ہر عمل میں انسان کا مددگار ہوتا ہے۔ یعنی خلیات سے جسم بنا اور ہر خلیہ توانائی پیدا کرنے کا کارخانہ ہے جو انسان کو تمام کاموں کے لیے مسلسل توانائی فراہم کرتا ہے۔ اب اس عمل کو ذرا وضاحت سے دیکھتے ہیں کہ انسان کیسے زندہ رہتا ہے۔

انسان میں زندہ رہنے کے لیے ایک زیادہ ترقی یافتہ نیم خودکار نظام بہت منظم سطح پر روبہ عمل ہے جس میں انرجی کے لیے ایندھن باہر سے آتا ہے یعنی سانس اور غذا کے ذریعے۔ بیرونی دنیا میں انسان کی غذا خام اور تیّار دونوں حالتوں میں موجود ہوتی ہے اور انسان اپنی خواہش پر غذا کھا کر جسم کے نظام ہضم میں پہنچاتا ہے جہاں سے یہ انزائم اور ایسڈ کی کیمیا ترکیبی کے بعد کاربوہائیڈریٹس میں تبدیل ہو کر خون کے ذریعے سیل میں پہنچتی ہے جہاں اس کو توانائی میں تبدیل کیا جاتا ہے اور اس توانائی سے انسان اپنے کام کرتے ہیں۔ خون کی گردش ایندھن کی متحرّک سیّال کارگو cargo بیلٹ ہے جو ایندھن سے لدی جسم میں گردش کرتی ہے۔ مختلف اسٹیشنوں پر ایندھن اتارا جاتا ہے اور استعمال شدہ ایندھن کا فضلہ اُٹھایا جاتا ہے۔ اب سوال یہی ہے کہ: کیا توانائی کی فراہمی بغیر کسی ہدایات اور کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کے ہوسکتی ہے؟ اوراسی تناظر میں کیا انسان کے تمام اندرونی سسٹم کوئی مرکزی کنٹرول نہیں رکھتے جو غذائی توانائی کو مربوط طور پر کام میں لائے یعنی فیصلہ کرے کہ غذا سے حاصل کل توانائی کا استعمال کس عضؤ میں کس مقدار سے صرف ہونا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   میں نے جان اللہ کو دینی ہے - طارق حبیب

یہاں سوال یہ بھی ہے کہ یہ فیصلہ کون کرتا ہے کہ کس جگہ کتنے ایندھن کی ضرورت ہے؟ یہ سوال اس لیے اُٹھا کہ تحقیق کے مطابق انسانی جسم میں محض تین پاؤنڈ کا دماغ کل انرجی کا بیس فیصد استعمال میں لیتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس کا فیصلہ نہ خلیات خود کرسکتے ہیں اور نہ دماغ؟ اسی طرح انسان کے اندر مختلف انتہائی پیچیدہ نظام مختلف اعضاء میں انسان کی پیدائش کے ساتھ کام کرنا شروع کر دیتے ہیں لیکن جدید سائنس لاعلم ہے کہ یہ تمام نظام کہاں سے کنٹرول ہوتے ہیں یا کہاں سے احکام لیتے ہیں۔ یعنی دل، گردے، پھیپھڑے اور دیگرحواسی اعضاء اپنے اپنے کام کی ہدایت کہاں سے لیتے ہیں؟ ہمیں اسی کمانڈ اینڈ کنٹرول کے کسی نظم کو انسان کے جسم میں تلاش کرنا ہے جو اندرونی عضوء اور عضلاتی نظام کو انسان کے ارادے کے بغیر رواں رکھتا ہے۔

اس بارے میں انسان سے مشابہ روبوٹ Humanoid Robot انسان کے اندرونی غیر مرئی سسٹم کو سمجھنے میں ہماری مدد کر سکتے ہیں کیونکہ یہ مصنوعی ذہانت کے حامل بھی ہوتے ہیں۔ ان کی نظیر لینے کی ایک ٹھوس وجہ یہ ہے کہ ورلڈ روبوٹک ساکر فیڈریشن نے یہ دعویٰ کر رکھا ہے کہ سال ۲۰۵۰ تک وہ ایسے روبوٹ کی فٹبال ٹیم تیّار کر لیں گے جو ورلڈ چیمپین ٹیم کو ہرانے کی صلاحیت کی حامل ہوگی! یعنی انسان کے مقابل مصنوعی انسان!
https://www.robocuphumanoid.org/

مصنوعی ذہانت کی کارکردگی کی ایک مثال یہ ہے کہ ۱۹۹۷ میں IBM کمپیوٹر Deep-Blue نے شطرنج کے عالمی چیمپین گیری کسپاروو کو شطرنج میں شکست دی تھی. جس سے یہ ثابت ہوا کہ انسان کی بنائی ذہانت فی الوقت کم از کم کسی ایک شعبے جیسے کھیل میں انسان کو زیر کرنے کی صلاحیت کی حامل ہو سکتی ہے۔
https://chessbee.com/deep-blue-beat-g-kasparov-1997/
https://www.metro.news/deep-blue-vs-kasparov-how-a-chess-match-started-the-big-data-revolution/598948/

ہیومنائڈ روبوٹ humanoid robot انسان کا تیّار کنندہ مشینی انسان ہے جس کی تیّاری میں الیکٹریکل، میکینیکل، کمپیوٹر، ٹیلی کیمونیکیشن اور کچھ دوسری انجینیئرنگ کو سموئے ہوئے علم میکاٹرونکس mechatronics سے مدد لی جاتی ہے۔ اس کا اندرونی نظام بہت پیچیدہ ہوتا ہے۔ یہ روبوٹ مصنوعی ذہانت کا حامل ہونے کی وجہ سے فیصلہ کرنے کی محدود قوّت بھی رکھتا ہے۔ یہ حواس جیسی صلاحیّت اور محدود پیمانے پر انسانوں کی طرح چل پھر کر بہت سے کام کرنے کی صفت بھی رکھتا ہے۔ اس کی تعمیر و ساخت میں بھی مذکورہ تعمیری تکون نظر آتی ہے یعنی ہارڈوئیر، سوفٹ وئیر اور انرجی۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ یہاں سوفٹ وئیر وہ کمانڈ اینڈ کنٹرولنگ مینیجر ہے جس کے ذریعے پروگرامر روبوٹ کے جسم کے ہر حصّے کی کارکردگی کی حدود اور ضروری قواعدکو معیّن کرتا ہے۔ اس کے اندر ایسے ٹرانزسٹر اور مزاحمتی آلات resistants ہوتے ہیں جو اس میں دوڑتے کرنٹ کی مقدار کو مختلف نتائج کے لیے کو کنٹرول کرتے ہیں۔ یہاں غور طلب یہ نکتہ ہے کہ جب ایک مشینی انسان جس کا ہر چھوٹا بڑا جز بغیر الیکٹرانک ہدایات کے کام نہیں کر سکتا تو انسان بغیر کسی سُپرپروگرام کے کس طرح زندہ اور متحرّک ہو سکتا ہے؟ کیا انسان کائنات میں ظاہر ہونے والے مظاہر میں کوئی منفرد مقام رکھتا ہے؟ مگر کیوں؟

دوستو!
الحادی فلسفے کا اصرار ہے کہ کائنات خود بنی اور معیّن قوانین پر چل رہی ہے جو ناقابل تبدیل ہیں یعنی اس کے قوانین اٹل ہوں گے اور ان میں یکسانیت ہوگی۔ اس سے ایک نتیجہ تو یہ نکلا کہ کائنات ایک بےجان مظہر ہے جس میں شعور، عقل و حواس نہیں۔ دوسرا یہ کہ اس نظریہ کے بموجب اگر تخلیقی اور تعمیری اصول و قوانین بھی کائنات کے ساتھ اچانک ظاہر ہو گئے تو وہ بھی فطرت کا حصّہ ہو گئے اور کائنات میں بننے والی یا ظاہر ہونے والی ہر چیز اِن ہی معیّن اصولوں پرہی بنے گی۔ وضاحت یہ ہے کہ فطرت کی کوئی آنکھ، دماغ یا شعور نہیں کہ وہ ایک ہی طرح کے نتائج دینے والی تعمیر یا تخریب کے لیے مختلف قوانین ترتیب دے۔ ایک جیسی سرشت رکھنے والے مظاہر یا چیزیں ایک ہی اصول پر پیدا ہوں گی۔ ایک جیسی ساخت یا ایک جیسی صلاحیت کے حامل ایک جیسے تخلیقی عمل یا تعمیر کا نتیجہ ہوں گے مثلاً دیکھنے، سننے، چلنے پھرنے اور غوروفکر کے بعد فیصلہ کرنے کی صلاحیت ایک ہی طرح کے فطری نظم میں ہی جنم لے گی، اگر ایسا نہیں ہوگا توکائنات کا وجود اچانک تخلیق spontaneous-creation نہیں بلکہ ذہین تخلیق intelligent-creation ہوگا جو سائنس فی الوقت نہیں مانتی کیونکہ اس کا ماننا الحادی فکر کی شکست ہوگی۔

اس استدلال سے یہاں ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ اگر کائنات خود بنی اور خود چل رہی ہے تو یہ یکساں لاگو ہونے والے طبعی قوانین کے تحت ہی چلے گی لیکن ایسی صورت میں انسان بھی اِس تعمیری تکون کے فطری قفل سے مبرّا ّ نہیں ہو سکتا ہے کہ جہاں حرکت پذیر چیز کی تعمیر ہوگی وہاں تین عوامل مادّہ، توانائی اور ٹیکنالوجی(علم) لازم ہوں گے، لہٰذا الحادی سائنس اور جدید فکر کے بموجب اس ضمن میں انسان کو استثنیٰ ملنے کا کوئی عقلی جواز نہیں بنتا۔ ہیومنائڈروبوٹ کیونکہ ایک انسان کی طرح سوچتا اور عمل کرتا مظہر ہے، اس لیے انسان کے اندر بھی وہی سسٹم ہونا فطری ہوگا جو روبوٹ میں انسان نے تخلیق کیا۔ یہاں ہم پھر یہی زور دیتے ہیں کہ جیسا کہ ہم نے جانا کہ خود فطرت شعور سے نابلد ہے، اس لیے فطرت میں حیات اور مصنوعی حیات کے لیے جدا اصول نہیں ہوں گے۔ اگر تقریباً ہر حیوانی زندگی شعور، حواس، ارادے اور عمل کے رنگ لیے ہوگی تو یہی"باشعور حیات" کی بقا کا فطری قانون ہوگا، اور اس کے بموجب ہر مصنوعی باشعور حیات بھی ایسے ہی معیّن پیرایوں میں عمل انگیز ہوگی۔ دیکھیے زندہ رہنے کے لیے انسان و حیوان کے اندر مطلوب توانائی خاص راستوں یعنی شریانوں میں سفر کرتی ہے تو اسی اصول پر روبوٹ کے جسم میں بھی الیکٹرک باریک تاروں میں دوڑتی ہے! اسی طرح انسان کی ساخت میں اگر کئی طرح کی سپرانجینئرنگ ہے تو روبوٹ میں بھی ایسا ہی کرنا پڑا۔

خودکار دّعمل:
انسان کا ہر عمل شعور اور حواس کے بموجب تکمیل پاتا ہے لیکن انسان کے اندر بے اختیاری ردّعمل reflex-action کا خودکار نظم ایک ایسا متوازی اندرونی نظام ہے جو انسانی شعور ی اور حواسی ردعمل سے قبل محدود پیمانے پر انسان کی فوری حفاظت کرتا ہے۔ کسی خطرے کی صورت میں اچانک حفاظتی ردعمل بغیر کسی سسٹم کے نہیں ہو سکتا کیونکہ اس میں دماغ کے بجائے ریڑھ کی ہڈّی کے مہرے سے ایک اضطراری قوس reflex-arc عضلات کو فوری ردعمل پر اُکساتی ہے۔ اس لیے انسان میں شعور سے اوپر کسی بہت ترقی یافتہ نظم کی موجودگی سے انکار عقل کے تقاضوں کے منافی ہوگا۔ ابھی ہم نے روبوٹ میں دیکھا کہ ایک سوفٹ وئیر پروگرام ہے جو غیر مرئی ہوتے ہوئے روبوٹ کے سارے سسٹم کو کنٹرول کرتا ہے، تو پھر انسان کے اندر ایسا کیا ہے یا ہوسکتا ہے جو تعمیری یا تخلیقی تکون کے نظم میں سوفٹ وئیر کی جگہ لے سکے؟ نتیجہ یہی اخذ ہوتا ہے کہ انسانی جسم کے فعّال ہونے میں انسان کے اندر کسی انجانے کنٹرولنگ مظہر کا ہونا عین فطری اور سائنسی ضرورت ہے۔ اسی لیے یہ سوال اہم ہیں کہ انسان کا اپنا اندرونی مینیجنگ اینڈ کنٹرول سسٹم کہاں ہے؟ کیا ہے؟

یہی وہ دوراہا ہے جہاں زندگی اور روح کے حوالے سے مذہب اور لادینیت کا علمی وعقلی ٹکراؤ ہے۔ روح کے لیے آئن اسٹائن نے کہا: کیونکہ ہمارے اندرونی تجربات ہمارے حواس کے مجموعی تاثرات کا حاصل ہوتے ہیں، اس لیے جسم کے بغیر روح کا تصوّر لایعنی نظرآتا ہے۔ یعنی اگر جسم نہیں تو روح نہیں۔
(http://www.eoht.info/page/Einstein+on+the+soul)

سائنس روح کے الگ تشخّص کو مسترد کر کے ہی نہ صرف انسانی زندگی بلکہ مختلف حیاتیاتی صفات جیسے شعور و جذبات کی تشریح سے قاصر رہی جبکہ یہاں پر مذہب ایک عقلی نقطۂ نظر کا حامل ہوتے ہوئے سائنس پر غلبہ دکھاتا ہے۔ مذہب عقلی اور منطقی وضاحت دیتا ہے کہ انسان کے اندر اس کے جسمانی نظام کو چلانے والی ایک انجانی شے ہے جو روح ہے یعنی یہ کسی سپر سائنس کی سپر ٹیکنالوجی ہے جس کے فنکشن کو انسان جان تو نہیں پایا مگر یہی انسان کی زندگی اور موت کا ذریعہ ہے۔ جس طرح کسی کمپیوٹر میں اس کا آپریٹنگ سسٹم جیسے ونڈوز ان انسٹال کر دی جائے تو وہ مردہ ہو جاتا ہے، اسی طرح اگر روح جسم سے الگ ہو جائے تو انسان مردہ ہوجاتا ہے۔ یعنی روح کا ہونا فطری اور سائنسی ضرورت بھی ہے ورنہ انسان کے اندر موجود کئی اَسرار کی وضاحت ممکن نہیں۔ اب اگر سائنس مذکورہ بالا اندرونی عوامل کو چکرادینے والے معمّے کہہ کر ان کی توجیہ سے دست کش ہوتی ہے تو ہم ان کو مذہب کی تشریح پر ہی جانچیں گے۔

لہٰذا اب ہم قرآن کے حوالے سے بات کرتے ہیں جس میں خالق روح کے حوالے سے مخاطب ہے۔ و یسَئلو نک عَنِ الرّوح قُلِ الرُّوح مِن اَمرِ ربّی وماَ اوُتیتُم مِنَ العِلمَ اِلَّا قَلیلا ً۔ (۱۷:۸۵) اور یہ لوگ تم سے روح کے بارے میں پوچھتے ہیں، کہہ دو کہ روح میرے پروردگار کا حکم ہے اور جو تمہیں علم دیا گیا ہے وہ بس تھوڑا سا ہی علم ہے۔

ربّ کائنات واضح کرتا ہے کہ روح کا علم انسان کو کم دیا گیا، یہ اعلان دائمی بھی ہوسکتا ہے اور وقتی بھی کیونکہ یہ نہیں کہا گیا کہ روح کا علم نہیں دیا، اس کا مطلب یہ ہوا کہ محدود علم مل بھی سکتا ہے یعنی ہو سکتا ہے کہ مستقبل میں انسان اپنے جسم میں موجود کسی اچھوتے مظہر کی اتنی جانکاری حاصل کرلے کہ وہ کس طرح انسان کے اندر مختلف نظام ہائے اعضاء کو کنٹرول کرتا ہے اور اندرونی معمّوں یعنی شعور، جذبات، نیند، خیالات وغیرہ وغیرہ کی آفرینش کا ذمّہ دار بھی ہے۔ اگر ایسا ہوا تو وہ وقت یقیناً انسان کوان نشانیوں کے قریب کردے گا کہ جس کا وعدہ قرآن میں کیا گیا ہے کہ انسان کو اس کے اندر اور کائنات میں ایسی نشانیاں دکھا دی جائیں گی کہ وہ کہہ اٹھے گا کہ یہ ہی سچ ہے۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے : "انہیں اپنی نشانیاں کائنات میں بھی دکھائیں گے اور خود ان کے اپنے وجود میں بھی، یہاں تک کہ ان پر یہ بات کھل کر سامنے آجائے کہ یہی حق ہے، کیا تمہارے ربّ کی یہ بات کافی نہیں ہے کہ وہ ہر چیز کا گواہ ہے؟ یاد رکھو کہ یہ لوگ اپنے ربّ کا سامنا کرنے کے معاملے میں شک میں پڑے ہیں۔ یاد رکھو کہ وہ ہر چیز کو احاطے میں لیے ہوئے ہے" (۴۱:۵۳۔۵۴)

یہ بھی پڑھیں:   “نہیں، قرآن نہ سنو” عابدہ بانو

ان نشانیوں کا ہمیں پتہ نہیں لیکن قیاس کیا جاسکتا ہے کہ بہت سے کائناتی معمّوں اور مذکورہ بالا اسرار کی (جن کا جواز آج کے سائنسدان ڈھونڈنے سے قاصر ہیں) حقیقت کا پتہ چلنا ہی اللہ کے عرفان کی طبعی اور علمی آگاہی کے دروازے کھولے گا۔ بادی النظر میں روح ہی کوئی سپرسوفٹ وئیر یا اس جیسا مظہر ہے جو انسان اور اس میں موجود بہت سے غیر حل شدہ معمّوں کے حل فراہم کرتا ہے۔ یعنی انسان جسم اور روح کا مجموعہ ہے، روح وہ جوڑنے والا مظہر ہے جو انسانی جسم اور توانائی کو اس طرح یکجا کیے رکھتا ہے کہ انسان ایک ذی نفس کی طرح چلتا پھرتا، دیکھتا سنتا، ہنستا روتا، سوچتا فکر کرتا اور بڑھتا ہے۔ ہمارے دماغ میں اس کی سرایت ہی سے شعور، خیالات اور جذبات جنم لیتے ہیں۔ یہ کنٹرولنگ سسٹم انسان پر نیند طاری کرتا ہے اور خواب بھی۔ دیکھیں جناب درخت بھی ایک زندگی ہے جس کی شاخیں بےترتیب بڑھتی ہیں لیکن انسان کے دو ہاتھ اور دو پیر بالکل ایک طرح بڑھتے ہیں، ان کے بڑھنے کو کیا کہیں سے کنٹرول نہیں کیا جاتا؟ انسانی اعضاء جیسے دل، دماغ، گردے، جگر وغیرہ مختلف کام کا قرینہ کہاں سے سیکھتے ہیں؟ روح عین اسی طرح انسان کے اندر سرایت رکھتی ہے جیسے ہیومنائڈ روبوٹ میں اس کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سوفٹ وئیر۔ گویا روح ایسا انجانا مظہر یا اجنبی سپر سوفٹ وئیر ہے جو ان گنت ڈائمنشن رکھتے ہوئے پورے انسانی جسم میں سرایت رکھتا ہے اور جسم کے ہر حصّے اور عضوء کی کارکردگی کے حوالے سے نہ صرف کمانڈ رکھتا ہے بلکہ اس کے توانائی کے نظام کو کنٹرول کرتا ہے۔

انسانی حیات کے قائم رہنے میں غذا کا بدن کا جز بننا ہی بنیادی عنصر ہے اور بظاہر یہی میٹابولزم یا توانائی کا پیداواری عمل روح اور جسم کو جوڑے رکھتا ہے۔ بُڑھاپے میں عمر کے ساتھ انسان کا میٹابولزم کمزور ہونا شروع ہو جاتا ہے، سیل زیادہ تیزی سے مرنے یا فنا ہونے لگتے اور جب سیل مردہ ہونے سے میٹابولزم کا عمل رک جاتا ہے تو روح جسم سے الگ ہوجاتی ہے۔ یعنی روح، جسم اور طاقت تینوں مثلث کی دیواروں کی طرح ایک دوسرے کو تھامے حیات کا تانا بانا جوڑے رکھتے ہیں ۔ روح زندگی کی وہ غیر مرئی کڑی ہے جو بہت سے معمّوں کو حل کرنے والی چابی رکھتی ہے۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ مصنوعی ذہانت کا حامل روبوٹ بھی نہیں جانتا کہ کس سسٹم یا سوفٹ ویئر کی وجہ سے وہ کام کرتا ہے، یعنی وہ بھی لاعلمی کے ایک بھنور میں ہوتا ہے الّا یہ کہ اس کا خالق انسان ہی اس پرکچھ ظاہر کرنا چاہے۔ یہاں خالق کی اپنی علمی صلاحیت کا بھی اظہار ہوتا ہے کہ وہ کس حد تک اپنے ہونے کا احساس اپنی تخلیق میں ودیعت کر سکے! سائنس ابھی تک روح کی موجودگی کو مادّی پیرایوں میں ڈھونڈ نہیں پائی لیکن سائنس کی وقتی ناکامی کا مطلب یہ بھی نہیں کہ ہم انسان میں موجود کسی سپر سائنسی مظہر کا انکار کریں بلکہ سائنسدانوں کو اس کی کوئی نہ کوئی مناسب منطقی تشریح تو کرنی پڑے گی کیونکہ روح ہی حیات کے پزل کا گمشدہ رکن ہے جس کو قبول کرنے سے جسم کے نظام کی سائنسی تشریح آسانی سے ہوسکتی ہے۔

انسان کیا ہے؟
روح ہی انسان کی شخصیت ہے جو جسم کے ذریعے خود کو عیاں کرتی ہے۔ روح اور جسم کا آمیزہ ہی انسان ہے۔ انسان کے جسم کو موت ہے لیکن روح یعنی شخصیت کو موت نہیں۔ روح ہی وہ انجانا مقناطیس بھی ہوسکتا ہے جو انسان کے اعمال کا کوئی عکس اپنے اندر جذب کرتارہتا ہے اور انسان کی موت کے ساتھ تمام اعمال کے ڈیٹا بینک کا ایک بیک اپ لیکر خالق کی طرف روانہ ہوتا ہے جو وہاں پر کسی رجسٹر میں درج ہمارے اعمال سے قیامت میں منطبق ہوگا کہ انسان اس کو جھٹلا نہیں پائے گا۔جب انسان دوبارہ زندہ کیا جائے گا تو روح کو جسم ملے گا، وہی پرانا یا نیا اس سے فرق نہیں پڑتا کیونکہ سوفٹ ڈیٹا جس مشین میں بھی انسٹال کیا جائے وہ اپنے ہی رنگ لیے ظاہر ہوگا۔ مزید یہ کہ غالباً روح میں محفوظ یہ ہمارے اعمال کی یادداشت ہی ہوگی کہ ہر عضوء خود انسان کی بد اعمالیوں کی گواہی دے گا۔ یعنی روح کے سوفٹ وئیر میں پنہاں کوئی خفیہ کمانڈ کوڈ جو قیامت میں ایکٹیو active ہو کر اعضاء کے اعصاب کو گویائی کی قوّت بھی دے دے گا۔ گویا یہ بھی کبھی ثابت ہونا بعید از قیاس نہیں کہ خلیاتcell حواس بھی رکھتے ہیں۔ تو مشتری ہوشیار باش!

اس بحث سے منطقی، علمی، مشاہداتی اور عقلی طور پر ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ انسانی جسم کے متعدّد اندرونی پیچیدہ نظم کی سائنسی وضاحت کی غیر موجودگی میں مذہب کا روح کی بابت بیانیہ ٹھوس عقلی بنیاد رکھتا ہے۔ شعور، خیال، جذبات،نیند ،خواب اور دوسرے عوامل جیسے اعضاء کی کارکردگی روح سے منسلک مظاہر ہیں جن کی موجودگی اور ابھرنے کی بابت انسان اسی وقت جان پائے گا جب روح کے پیرایوں کو جان لے گا۔ ایک بائیولوجسٹ فی الوقت یہ سمجھنے سے قاصر ہوگا کہ فزکس اور روحانیت کا ملاپ بھلا کیسے ممکن ہے، اسی طرح ایک مذہبی فکر والا بھی خلجان میں مبتلا ہوگا، اس کی وجہ یہ ہے کہ مذہب اور سائنس کو جدا کر کے انسان دو گروہوں میں نہ صرف مذہبی و غیر مذہبی طور پر بٹا بلکہ علمی طور پر بھی تقسیم ہوا جو غیر فطری تھا۔ اس طویل رقابت نے طبعیات اور مابعد الطبعیات کے ایک فطری تعلّق کو بظاہر غیر فطری بنایا اور خاص طور پر سائنسی ذہن کو ایک خاص فریم آف مائنڈ کا اسیر کر دیا جس میں احساس برتری کا غلبہ ہوا جبکہ مذہبی فکر بھی ایک دائرے میں محبوس ہوگئی۔ دیکھیں جناب انسان تو ایک ہستی ہے جس کی ساخت کئی پہلو رکھتی ہے تو پھر اس ہستی کے پہلوؤں سے منسلک اعمال اور علم جدا کیسے ہوسکتے ہیں۔ یہ ہماری کوتاہ نظری تھی جس نے مختلف وجوہات کی بنا پر علم کے راستے کو تقسیم کر دیا۔ انسان ایک ہستی ہے اور اس سے منسلک تمام علوم کا آپس میں ہم آہنگ ہونا عین فطری اور منطقی ہے۔ لہذا یہ گمان کہ طبعیاتی اور مابعدالطبعیاتی علوم کسی مرحلے پر ہم آہنگ ہوجائیں گے نہ صرف عقلی، منطقی، فطری بلکہ علمی سہارے رکھتا ہے۔

انسان یہ جان لے کہ ضروری نہیں کہ زندگی ویسی ہی اشکال میں ہو جیسی ہم جانتے ہیں۔ اس بات کو ایک بڑے کینوس یعنی کائنات پر لاگو کریں تو یہ کائنات بھی ایک زندہ "شے" کا رنگ لیے ہے۔ کائنات ہر لمحہ کسی ترتیب پرپھیل رہی ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہاں پس پردہ کوئی ارادہ ہے۔ کائنات بھی بے حساب حرکت کرتے سسٹم اور اجسام کو لیے کہیں چلی جا رہی ہے تو بغیر کسی توانائی کے نہیں بلکہ انسان نے جب کھوج لگایا تو چار قوّتوں سے واقف ہوا جو اس نظام کے چلانے کی ذمّہ دار ہیں۔ یہ قوتیں (ثقل، مقناطیسی اور کمزور و طاقتور ایٹمی) گویا اس کائنات کی روح ہیں لیکن کیا کوئی جان پایا یہ توانائیاں آ کہاں سے رہی ہیں؟ یعنی ہماری تعمیری مثلث میں کائناتی نظام کی مکمّل تشریح اسی وقت ممکن ہوگی جب ہمیں اس علم یا ٹیکنالوجی کا بھی پتہ ہو جو ان قوّتوں کو جنم دے رہا ہے اور ان سے کام لے رہا ہے۔ سائنس نے کائنات کو جاری و ساری رکھنے والے مگر حواس سے ماورا خفیہ سسٹم ڈھونڈ نکالے تو اس کی بنیاد انسان کا تجسسّ تھا جو عقل کے تئیں حواس کی سرحدوں کو عبور کر کے اِن غیر مرئی اشیاء تک جا پہنچا۔ اسی طرح جس دن انسان روح کی طرف متوجّہ ہوا تو اس کے بھی کچھ پیرائے ڈھونڈ سکتا ہے۔

اب تک کی بحث ہمارے مفروضے کی جانچ کے لیے مناسب شواہد کی نشان دہی کرتی ہے جو روح کے موجود ہونے کی دلیل بنتے ہیں۔ امّید افزا بات یہی ہے کہ سچّائی اپنے آپ کو منواتی ہے۔ وہ وقت اہم موڑ ہوگا جب جنیاتی سائنس انسانی جین میں چھپے ایسے کوڈ دریافت کرلے جو مابعد الطبعیاتی وصف رکھتے ہوں اور روحانیت سے کسی طبعی رابطے کی اساس بنیں۔ اُس سسٹم کی سائنسی توجیہ یا تشریح ہی نہ صرف انسانی جسم کے کسی خفیہ نظم کی نشان دہی کرپائے گی بلکہ کائنات کے کسی بڑے راز کو آشکارہ بھی کر جائے گی۔ غالبا یہی وہ دریافت ہوسکتی ہے جو سائنسدانوں کو حقیقت کبریٰ کی کسی پیمانے پر ایسی سمجھ دے دے کہ ان کے پاس الحاد کو خیر باد کہنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ رہے۔ لہذا ہم انتظار کرتے ہیں اس وقت کا کہ جب انسان حیات اور اپنے آپ میں موجود معمّوں کے منبع کی تلاش میں بھٹکتے بھٹکتے روح کی کسی انجانی اور نیم طبعی ڈائمنشن کے دروازے پر دستک دے اور وہ کھل جائے۔
خْلِقَ الاِنسَانْ مِن عَجَل ٍ سَاْوریکِْم اٰیاتی فَلَا تَستَعجِلْونِ (الانبیاء: آیت۳۷) ''انسان جلد بازی کی خصلت لے کر پیدا ہوا ہے۔ میں عنقریب تمہیں اپنی نشانیاں دکھلادوں گا، لہٰذا تم مجھ سے جلدی مت مچاؤ۔''

وما علینا اِلّا البلاغ

Comments

مجیب الحق حقی

مجیب الحق حقی

مجیب الحق حقّی پی آئی اے کے ریٹائرڈ آفیسر ہیں۔ اسلام اور جدید نظریات کے تقابل پر نظر ڈالتی کتاب Understanding The Divine Whispers کے مصنّف ہیں۔ اس کتاب کی اردو تشریح " خدائی سرگوشیاں اوجدید نظریاتی اشکال " کے نام سے زیر تدوین ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.