آگے کی کون سوچے گا؟ خواجہ مظہر صدیقی

دماغ کے بارے میں کسی سیانے کا کہنا ہے کہ دماغ کا مسئلہ یہ ہے کہ دماغ کا کوئی دماغ نہیں ہوتا، سو اس کے من میں جو آئے کر گزرتا ہے. نفع و نقصان کی پرواہ دماغ کو نہیں ہوتی. گزرے کچھ دنوں سے کچھ سوالات میرے دماغ اور ذہن میں پیدا ہو رہے ہیں. یہ سوالات عمرو عیار کی زنبیل کی طرح بڑھتے ہی جا رہے ہیں. پاکستانی عوام کل پڑوسی ملک کے ہماری حدود میں گھس آئے جہازوں کو مار گرانے کے کارنامے اور بھارت کو اس کی زبان میں جواب دینے پر بہت مسرور ہیں. پاک فضائیہ کی کامیاب کارروائی نے مودی سرکار کو پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے. کنٹرول لائن کی خلاف ورزی کرنے والے جہاز کو بروقت کارروائی کے نتیجے میں تباہ کرنے پر پاک فضائیہ کے جوان شاباش کے مستحق ہیں. اس موقع پر بھارتی پائلٹ ابھے نندن پاک گرفتار ہوا، جس سے پوری دنیا میں نریندر مودی اور بھارت رسوائی کا شکار ہوئے اور پاکستان نے پائلٹ کو رہا کرکے دنیا بھر میں عزت کمائی. ابھے نندن نے خود اعتراف کیا کہ پاک فوج کی کارروائی متاثر کن رہی.

وزیراعظم عمران خان نے قوم اور پھر پارلیمنٹ سے خطاب میں کہا صورتحال کا تقاضا ہے بھارت عقل و حکمت سے کام لے، کیونکہ دونوں ممالک جس طرح کے ہتھیاروں سے لیس ہیں، کسی غلط اندازے کے متحمل نہیں ہو سکتے. انہوں نے کہا کہ مجھے احساس ہے کہ پلوامہ میں ہلاکتیں ہوئی ہیں اور اس کی تحقیقات کے لیے ہم تعاون کے لیے حاضر ہیں. وزیراعظم پاکستان عمران خان نے کہا کہ مسائل کا حل بیٹھ کر بات چیت کرنے میں ہے.

ادھر ہمارے عوام تب سے پاک فوج کو خراج تحسین پیش کرتے تھک نہیں رہے. ہماری فوج کا مورال اس جرات مندانہ اقدام سے بلند ہوا ہے. ہمارے سپاہی ہیرو بنے ہیں. عوام کو یقین ہے کہ پاک فوج ہر قسم کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی اہلیت، صلاحیت اور قابلیت رکھتی ہے. ہم دیکھ رہے ہیں کہ پوری قوم افواج پاکستان کے دلیر، بہادر اور کفن پوش سپاہیوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے. سول سوسائٹی اپنی افواج کے ساتھ یکجہتی کا اظہار ریلیاں نکال کر اور مٹھائیاں تقسیم کر کے کر رہی ہے.

یہ بھی پڑھیں:   چکور خوش ہے کہ بچوں کو آگیا اڑنا - شبیر بونیری

اب ان سوالات کا ذکر ہو جائے جو ذہن و دماغ پر ہتھوڑے برسا رہے ہیں. پہلا سوال یہ ہے کہ کیا اس واقعہ کے بعد جنگ بڑھنے کے امکانات ختم ہو گئے ہیں؟ حالانکہ نریندر مودی کی ساری انتخابی مہم اس جنگی جنون کے گرد چلائی جا رہی ہے، جبکہ بھارتی میڈیا پر جنگ کا سماں ہے. ایک طوفان برپا ہے. ٹینشن بڑھانے کی ذمہ داری اس نے اپنے ذمہ لے لی ہے. جنگ جنگ کے الفاظ تکرار کے ساتھ بول بول کر اینکر منہ سے جھاگ اگل رہے ہیں اور ان کی زبانوں سے شعلے برس رہے ہیں. تین تین فٹ کی اینکرز چھ چھ فٹ اچھل اچھل کر جنگ جنگ اور جنگ کی گردان کر کے نفرت کو فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں. نفرت کی گولہ باری ہے کہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی. ہمارے حکمران اور فوج واضح کر چکے ہیں کہ جنگ مسائل کا حل نہیں ہے اور نہ ہم جنگ چاہتے ہیں. لیکن دونوں طرف کے شر پسند عناصر جنگ ہی کی طرف مائل پرواز ہیں. لگتا یہی ہے کہ یہ عناصر جنگ کے حالات پیدا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے.

دوسرا سوال یہ کہ جس پڑوسی ملک سے ہماری کشیدگی عروج پر ہے. دونوں ممالک کے عوام میں بے چینی ہے کہ بڑھتی جا رہی ہے. وہ ملک ہم سے بڑا ہے. فوج تعداد میں اس کی بڑی ہے. ملک میں اسلحہ کے ذخائر بھی بڑی تعداد میں اس کے پاس موجود ہیں، حتی کہ جنگی ساز و سامان کی اس کے پاس کمی نہیں، وہ پڑوسی ملک ہمیں جنگ کی طرف دھکیل کر لایا ہے. اس ملک کے وزیراعظم کے ذہن و دماغ پر وحشت، بربریت اور سفاکیت جنگی جنون بن کر سوار ہو چکی ہے. وہ اس معاملے میں کسی بھی سطح پر گر سکتا ہے. ان کے ماضی کی تاریخ بھی اس بات کی گواہی دیتی ہے.

اب تیسرا سوال یہ بھی ہے، کیا وہ ملک اب اپنے نقصان کا بدلہ لینے کی تیاری نہیں کر رہا ہوگا؟ کیونکہ اس کی عزت و وقار پر آنچ آئی ہے. اسے دنیا بھر میں رسوائی کا سامنا کرنا پڑا ہے. تو کیا وہ بدلے کے لیے ہماری طرف لپکے گا نہیں؟ زخمی سانپ بھی لڑائی سے فرار حاصل نہیں کرتا وہ خوب لڑتا ہے. لڑتے لڑتے جان کی بازی ہار بیٹھتا ہے. زخمی جانور جب ایسا کرتے ہیں تو یہ دشمن کب پیچھے ہٹنے اور رسوائی گلے لگانے پر آمادہ ہوگا. جنگ اور لڑائی کی نفسیات ہے کہ اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جاتا ہے. دشمنی کی ہر لکیر کو پار کیا جائے. جنگ حکمت اور دانش کو پیچھے چھوڑ دیتی ہے. اندھا کر دیتی ہے. انتقام کی آنکھیں نہیں ہوتیں یہ اندھا ہوتا ہے.

یہ بھی پڑھیں:   ابابیلوں کا لشکر نہیں آنے والا - قادر خان یوسف زئی

اس لیے وقت اور حالات کا درست اندازہ کرنے کی ضرورت ہے. یہ جوش کے ساتھ ہوش کا متقاضی ہے. دشمن کو کمزور نہ سمجھتے ہوئے اس نازک وقت میں قوم کو جو یکجا ہو گئی ہے. اسے جنگ کی صورت حال میں اس کے کردار کے بارے میں کچھ بتانے کی اشد ضرورت ہے. قوم کی اس صورت حال میں تربیت کس کی انداز میں کرنی چاہیے. یہی وقت ہے، کہ ادارے ادراک و شعور کو عام کریں. قوم کی تربیت کریں. اس کا قبلہ درست نہیں، اسے صحیح سمت دیں. قوم خوش فہمیاں نہ پالے بلکہ عملی حفاظتی اقدامات کی تربیت سیکھنے کی کوشش کرے. اگلے لمحوں، دنوں اور ہفتوں میں کچھ بھی ہو سکتا ہے. اپنے دشمن کو کمزور نہ سمجھا جائے. دوران جنگ میں شہریوں کو اور قوم کے رضا کاروں کو جو تربیت اور ہدایات جاری کی جاتی ہیں اس سے غفلت نہ برتی جائے. کبوتر کے بلی کو دیکھ کر آنکھیں بند کر لینے سے بلی کو حملہ کرنے اور شکار کو دبوچنے میں آسانی مل جاتی ہے. یاد رہے کہ جنگ کی تیاری حالت امن میں کی جاتی ہے. لیکن اب تو ہم پر زبردستی جنگ مسلط کی جا رہی ہے. اور ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ہم سب اس وقت حالت جنگ میں ہیں.

Comments

خواجہ مظہر صدیقی

خواجہ مظہر صدیقی

خواجہ مظہر صدیقی بچوں کے ادیب، کالم نگار، تربیت کار و کمپیئر ہیں۔ تین کتابیں بعنوان نئی راہ، دھرتی ماں اور بلندی کا سفر، شائع ہو چکی ہیں۔ تجارت پیشہ ہیں، ملتان سے تعلق ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.