حجاز ریلوے سے حرمین ریلوے تک‬ - عدیل سلیم جملانہ

گیارہ اکتوبر 2018ء کو مملکت سعودیہ عربیہ کی طرف سے مکہ اور مدینہ منورہ کے درمیان ’’حرمین ریلوے‘‘ کے نام سے ایک ریلوے سروس شروع کی گئی ہے، جس نے حرمین شریفین کے ساتھ ساتھ حجاز کے ساحلی شہر جدّہ کو بھی ایک ٹرین نیٹ ورک سے منسلک کر دیا ہے۔ اس طرح عازمین حرمین شریفین حج اور عمرے کے لیے ’’حرمین ریلوے‘‘ استعمال کریں گے۔

اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے لیے ٹرین سروس شاید پہلی مرتبہ شروع کی گئی ہے، مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ تاریخ میں تقریباً ایک سو دس سال قبل عازمین حج اور عمرے کے لیے ٹرین سروس قائم کی گئی تھی جو گردش زمانہ تلے آکر جلد ہی بند ہوگئی اور آج بہت کم لوگ اس ٹرین سروس کے بارے میں علم رکھتے ہیں جسے تاریخ کی کتابوں میں ’’حجاز ریلوے‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

حجاز ریلوے:
حجاز ریلوے حرمین شریفین کے ساتھ ساتھ عظیم ’’سلطنت عثمانیہ ‘‘ کی تاریخ کا بھی ایک روشن اور تابناک باب ہے۔ یہ وہ سروس تھی کہ جس نے زائرین حرمین کا دو ماہ کا سفر کم کر کے یکایک 55 گھنٹوں تک محدود کردیا تھا اور اس مناسبت سے سفری اخراجات بھی دس گنا گھٹا دیے تھے۔
’’حجاز ریلوے‘‘ کی تعمیر کا آغاز یکم ستمبر 1900ء میں عثمانی فرمانبردار سلطان عبدالحمید ثانی کے تخت نشین ہونے کی پچیسویں سالگرہ کے موقع پر کیا گیا اور آٹھ سال بعد اسی تاریخ یعنی یکم ستمبر1908ء کو دمشق سے مدینہ منورہ تک 1320 کلو میٹر طویل ریلوے لائن مکمل ہوئی اور پہلی ٹرین عثمانی عمائدین سلطنت کو لیے دمشق سے روانہ ہوئی۔ مکمل منصوبہ دمشق سے لے کر مکہ مکرمہ تک ریلوے لائن بچھانے کا تھا۔ مگر پہلی جنگ عظیم کی وجہ سے یہ لائن مدینہ منورہ سے آگے نہ بڑھ سکی۔

حجاز ریلوے کا پسِ منظر:
دور جدید میں حجاج کرام کا حرمین شریفین کے لیے سفر جتنا آرام دہ اور پُرسکون ہے، دورِ قدیم کے حجاج اتنی سہولیات کا تصور بھی نہیں کرسکتے تھے۔ دورانِ سفر بے شمار آزمائشیں حجاج کرام کی منتظر ہوتی تھیں۔ لق و دق صحرا، بپھرتے دریا، فلک پوش پہاڑ، لٹیروں کے گروہ، سامانِ خورد و نوش اور پانی کی کمیابی اور جنگلی جانوروں سے ٹکراؤ جیسی مشکلات سے نبردآزما ہو کر حجاج کے قافلے سفر حج مکمل کرکے جب گھر واپس لوٹتے تو اہل خانہ خوشیاں مناتے۔ سفر حج سے قبل اہل خانہ اور دوستوں سے معافی تلافی کروانے کا رواج اسی صورت حال کی عکاسی کرتا ہے۔ زمانہ قدیم میں اکثر اوقات بادشاہ جب اپنے کسی امیر سے نالاں ہوجاتا اور اس سے جان چھڑانے کا فیصلہ کرلیتا تو اسے حرمین کے سفر پر روانہ کردیتااور راستے میں ہی بادشاہ کے کارندے اس امیر کو قتل کرکے کسی ویرانے میں ڈال دیتے اور اس کے اہل خانہ اس کا انتظار ہی کرتے رہ جاتے۔ (مغل شہنشاہ اکبر اعظم نے اپنے اتالیق بیرم خان سے یہی سلوک کیا تھا۔)

زمانہ قدیم میں بلادِ عرب اور اس کے اطراف کے علاقوں سے حجاج کے قافلے شام کا رُخ کرتے اور دمشق میں اکٹھے ہو کر ’’محمل شامی‘‘ کے مرکزی قافلے میں شامل ہوجاتے۔ محمل شامی کے قافلے کا سالار جسے امیر الحج کہا جاتا تھا حجاج کو راستے میں بدوی قبائل کے حملوں سے بچانے اور مدینہ منورہ لے جانے کا ذمہ دار ہوتا تھا۔دمشق سے مدینے کا راستہ دو ماہ پر مشتمل تھا۔ راستے میں دیگر دشواریوں کے ساتھ ساتھ سب سے بڑا خطرہ بدوی قبائل کے حملوں کا ہوتا تھا جو حجاج کرام کو زادِ راہ سے محروم کردیا کرتے تھے۔

حجاج کرام کو بہترین سفری سہولیات پہنچانے اور دورانِ سفرلاحق خطرات پر قابو پانے کے لیے ہر دور میں مسلم سلاطین نے ہر ممکن کوششیں کی ہیں۔ کاروانی راستوں پر حفاظتی چوکیاں بنوائی گئیں، پانی زخیرہ کرنے کے لیے حوض قائم کیے گئے ، کاروان کے اونٹوں کے لیے چارے کے گودام بنائے گئے اور بدوی قبائل پر قابو پانے کے لیے کئی اقدامات کیے گئے۔ ہجوم در ہجوم ذائرین حرم اور قطار درقطار اونٹوں کے قافلے جب چلتے تو بے آب و گیا صحرا میں رونقیں بکھیر دیا کرتے تھے۔ یہ قافلے جہاں قیام کرتے وہاں ایک شہر سا بس جایا کرتا۔ صحرا کے بدوی قبائل ان قافلوں کا سال بھر انتظار کرتے اور پھر معاشی تنگ دستی کے نام پر ان قافلوں کو نہ صرف لوٹ لیتے بلکہ بعض اوقات حجاج کو تاوان کے لیے گرفتار بھی کرلیا کرتے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:   ترکی نے قطر میں نئے فوجی اڈے کی تعمیر شروع کردی

عثمانی سلاطین نے ان قافلوں کی حفاظت کے لیے امیر الحج کے ساتھ رقوم اور جواہرات ساتھ بھیجنا شروع کیے جو‘ ان قبائل کو بطور تحائف پیش کیے جاتے جس کے بعد حجاج کے قافلوں سے تعرض نہیں کیا جاتاتھا۔ بعد میں عثمانی افواج کا دستہ اور توپ خانہ بھی دمشق سے ’’محمل شامی‘‘ کے قافلے کے ساتھ جانے لگا۔

اس پس منظر میں انیسوی صدی عیسوی کے اواخر میں عثمانی سلطان عبدالحمید ثانی کے مشیروں جن میں عزت پاشا، شاکر پاشا، منیر پاشا اور دیگر شامل تھے، انہوں نے سلطان کو مشورہ دیا کہ موجودہ استنبول تا دمشق ریلوے لائن کی توسیع کی جائے اور اسے مدینہ منورہ سے ہوتے ہوئے مکہ مکرمہ اور جدّہ کی بندرگاہ تک لے جایا جائے۔ اگست 1898ء میں عثمانی عمائدین کی مجلس میں مجوزہ ریلوے لائن کے منصوبے کے قابل عمل ہونے پر مشاورت شروع کی گئی اور یکم ستمبر 1900ء کو اس منصوبے کا عملی آغاز ہوگیا اور اسے ’’حجاز ریلوے‘‘ کا نام دیا گیا۔

حجاز ریلوے کی تعمیر:
Ottomam Railway Network میں استنبول تا دمشق ریلوے لائن موجود تھی اور اب حجاز ریلوے کے تحت اس کی توسیع کا آغاز ہوا۔ ابتدا میں ترک انجینئر حاجی مختار بے نے دمشق تا مدینہ زمینی سروے کیا اور پٹریوں کے لیے زمین پر نشانات لگانے شروع کیے یہ تمام کام تر ک انجینئرز سے لیا گیا ۔ پھر جون1901ء میں معروف جرمن انجینئر Meissner Pasha میسنر پاشا کے زیر نگرانی تعمیراتی کام شروع ہوا۔ اس کام میں جرمن انجینئرز کے ساتھ ساتھ اطالوی اور مونٹی نیا گرو کے ہنرمندوں نے بھی حصہ لیا۔ ان کے ساتھ ترک افواج کے ساتھ سات ہزار سپاہی بھی حجاز ریلوے کے تعمیراتی منصوبے میں شامل تھے۔ العلاء سے مدینہ منورہ تک صرف مسلمان انجینئر اور مزدور ہی تعینات کیے گئے۔ دمشق سے مدینہ منورہ تک 1302 کلو میٹر ریلوے لائن کے لیے عثمانی فوج کی تین بٹالین متعین کی گئی۔

بدو قبائل اور کاروانوں کے مالکان کی مزاحمت:
شتر بان کاروانوں کے مالکان کو اندازہ تھا کہ حجاز ریلوے کے بعد ان کے کاروانی کاروبار پر براہِ راست اثر پڑے گا۔ مزید یہ کہ مقامی بدو قبائل بھی حجاز ریلوے کو اچھی نگاہ سے نہیں دیکھتے تھے اسی لیے انہوں نے حجاز ریلوے کے تعمیراتی کام میں رکاوٹیں ڈالنی شروع کردیں۔ مزدوروں پر حملے کیے ، پٹریاں اکھاڑ دیں اور انجینئروں کی رہائش گاہوں میں حملے کرکے انہیں خوفزدہ کرنے کی کوشش کی۔ ترک حکومت کو اس مزاحمت کا اندازہ تھا اسی لیے اس نے باقاعدہ ترک فوج اسی کام کے لیے متعین کی تھی۔ ترک سپاہ نے ان حملوں کو ناکام بنایا اور حجاز ریلوے کا منصوبہ کامیابی کے ساتھ بے آب و گیا گھاٹیوں اور ریگستانوں میں تکمیل پاتا رہا۔

حجاز ریلوے کی تکمیل:
تعمیر کے آغاز کے آٹھ سال بعد حجاز ریلوے کو مکمل کرلیا گیا اور سلطان عبدالحمید ثانی کے جشن تاجپوشی کے دن یکم ستمبر 1908ء کو اس کا باقاعدہ افتتاح کیا گیا۔ اس دن نہ صرف عثمانی سلطنت بلکہ تمام عالم اسلام میں خوشیاں منائی گئیں۔ اس طرح دمشق سے مدینہ منورہ کا سفر جو اونٹوں کے ذریعے تقریباًدو ماہ میں طے ہوتا تھا اور اس پر اوسطا ً40 عثمانی پونڈ خرچ آتا تھا وہ سفر صرف 55 گھنٹوں اور ساڑھے چار عثمانی پونڈ کرائے تک سمٹ گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک عرصے تک قدامت پسند حجاج حجاز ریلوے کو سفر حج کے لیے ناپسند کرتے رہے کیونکہ ان کے خیال میں اونٹوں کا روایتی طریقہ سفر ہی اس مبارک سفر کے لیے مناسب ہے اور یہ ’’آہنی اونٹ‘‘ شرعاً ممنوع ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   انقرہ میں یومِ آزادی پاکستان کی تقریب

حجاز ریلوے بطور وقف:
حجاز ریلوے کی تعمیر کے دوران عثمانی خلافت کی طرف سے عالم اسلام سے اس کے تعمیری اخراجات میں حصہ لینے کے لیے اپیل کی جاتی رہی تھی۔ اس لیے اس کی تعمیر میں دنیا بھر کے مسلمانوں کی رقم شامل تھی اور پھر سلطان عبدالحمید نے اسے عالم اسلام کی ملکیت تسلیم کرتے ہوئے1913ء میں حجاز ریلوے کو ’’اسلامی وقف‘‘ قرار دے دیا۔ عرب دنیا کے نامور مورخ فواد المغامسی کے مطابق حجاز ریلوے کے لیے سب سے زیادہ عطیات بر صغیر ہندوستان کے مسلمانوں کی طرف سے دیے گئے تھے۔ اس ضمن میں ریاست دکن کے نظام خاندان کا نام نمایا ں تھا۔

جنگ عظیم اوّل اور حجاز ریلوے کی تباہی:
حجاز ریلوے زائرین حرمین کے ساتھ ساتھ عام مسافروں کے لیے بھی ایک انقلاب ثابت ہوئی۔ دو ماہ تک صحرائی مشقتیں جھیلنے والے مسافر صرف 55 گھنٹوں میں مدینہ منورہ پہنچنے لگے۔ براستہ دمشق سلطنت عثمانیہ کا رابطہ دارالحکومت قسطنطنیہ سے مدینہ منورہ تک ہوگیا۔ اس طرح عالم اسلام کے کثیر سرمائے سے قائم ہونے والی حجاز ریلوے جو زائرین حرمین کے لیے ایک نعمت تھی وہ مسلمانوں کے ہی ہاتھوں عصبیت کا شکار ہوکر برباد ہوگئی۔

معاہدہ سیورے (Treaty of Servers) جس کے تحت جنگِ عظیم اول کے بعد شکست خور دہ عثمانی سلطنت کی مقبوضات کی اتحادی طاقتوں میں بندر بانٹ کی گئی اس میں عظیم حجاز ریلوے کی تنصیبات بھی عرب علاقوں کے ساتھ ہی تقسیم کردی گئیں۔ مگر پھر بھی حجاز ریلوے دوبارہ مکمل طور پر نہیں چل سکی۔

حجاز ریلوے کے احیاء کی کوشش:
جون 1926ء میں مکہ مکرمہ میں منعقدہ اسلامی کانفرنس میں واشگاف انداز میں اعلان کیا گیا کہ حجاز ریلوے اسلامی وقف ہے اور جنگ عظیم کی فاتح اقوام اس کا انتظام مسلمانوں کے حوالے کردیں تاکہ مسلمانوں کی ایک تنظیم بنا کر حجاز ریلوے کو دوبارہ فعال کیا جاسکے مگر کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ 1931ء میں مفتی اعظم فلسطین نے اعلان کیا کہ حجاز ریلوے کی تنصیبات مسلمانوں کے حوالے کر دی جائیں مگر عرب مقبوضات پر قابض برطانوی اور فرانسیسی حکومت نے نہ مانا۔

1945ء میں شام نے آزادی حاصل کی تو حجاز ریلوے کو ایک وقف بورڈ کے تحت شروع کرکے آثار پیدا ہوئے۔ مگر بدقسمتی سے 1948ء میں عالم عرب کے سینے پر خنجر گھونپتے ہوئے اسرائیل کی ریاست قائم کردی گئی۔ اس طرح دریائے اردن کے پار کی تنصیبات صیہونی قبضے میں آگئیں اور حجاز ریلوے کی بحالی کا امکان دم توڑگیا۔ 1954ء اور 1955ء میں سعودی حکومت کے خرچ پر شام اور اردن کے درمیان ریلوے ٹریک کی مرمت کی گئی۔ اس ٹریک پر ایک چھوٹی سی ٹرین آج بھی دمشق سے اردن کی سرحد تک مال برادری کے لیے استعمال ہوتی ہے۔

بی بی سی کی رپورٹ :
بی بی سی اردو سروس نے 16جون 2006ء کی اشاعت میں اپنا ایک نامہ نگار کے حوالے سے حجاز ریلوے کی موجودہ صورت حال پر ایک رپورٹ شائع کی جس کے کچھ اقتباسات پیش خدمت ہیں:

’’حجاز ریلوے میں نے پہلی مرتبہ دمشق کے خادم ریلوے اسٹیشن پر دیکھی ۔ ٹرین کی آمد کے ساتھ ہی ہر طرف بھاپ ہی بھاپ اور تیل کی بُو تھی ۔ بھاپ سے چلنے والی یہ ٹرین 1900ء میں بنائی گئی تھی اور اب یہ دمشق سے اردن کی سرحد تک سامان لے جانے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔‘‘

’’ٹرین کے انچارج انجینئر نے بتایا کہ اس زمانے میں بنائی گئی گیارہ ٹرینوں میں سے صرف یہ ایک قابل استعمال ہے۔ ساتھ ہی اس نے اشارے سے بتایا کہ بقیہ دس انجن اور ڈبّے یہاں تھے۔ گھاس اور جھاڑیوں میں گھری وہ جگہ پرانے انجن اور ڈبوں کا قبرستان معلوم ہوتی تھی۔‘‘

’’انہیں میں ایک ٹرین کا ڈبّہ ایسا تھا جسے مدینہ پہنچنے کے لیے ریگستان میں پانچ روزہ طویل سفر کے دوران ممکنہ حملوں سے نبرد آزما ہونے کے لیے بنایا گیا تھا اور اس میں سیکورٹی افراد کے گولی چلانے کے لیے سوراخ تھے۔‘‘

Comments

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • آپ کے اس مضمون سے کافی معلومات ملیں، بہت اچھی تحریر ہے۔ اللہ تعالی آپ کو جزائے خیر سے نوازے۔

  • عدیل سلیم جملانہ تاریخ پر بہت عمدہ لکھتے ہیں ۔۔۔
    مزید لکھیں دلیل پر۔