مصروفیت یا جدوجہد - نثار موسیٰ

انسانی زندگی سرگرمیوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ انسان اپنی فطرت میں تحرک پسند ہے۔ کوئی نہ کوئی کام کرنا چاہتا ہے، مصروف رہنا چاہتا ہے۔

انسانی زندگی میں حرکت دو طریقوں سے ہوتی ہے۔ کچھ لوگ آپ کو ہمیشہ مصروف اور کچھ لوگ جدوجہد کرتے ہوئے نظر آئیں گے۔ مصروف لوگ بس سرگرم رہنا چاہتے ہیں۔ جدوجہد کرنے والے کوئی بڑا مقصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ کسی منزل پر خود اور دوسروں کوپہنچانا چاہتے ہیں۔

مصروفیت وقتی ہے، ہر دن کسی بہانے، کسی پیش آنے والی ضرورتوں کے تحت، کسی واقعہ کے ردعمل (Reaction) کے طور پر سرگرم ہوجانے کا نام ہے جو دراصل انسان کو وقتی سکون، شہرت و خود نمائی دے دیتی ہے۔ جبکہ جدوجہد ایک خاص مقصد، مشن و نصب العین کے لیے منصوبہ بندی، تسلسل اور حکمت کے ساتھ آہستہ آہستہ آگے بڑھنے کا نام ہے۔ آپ غور کریں گے تو جدوجہد کر نے والے لوگ کسی بڑے معاشی، سماجی، تعلیمی، مذہبی اور ماحولیاتی مسئلے کا "حل" پیش کر رہے ہوتے ہیں اور اسی حل کو حقیقت بنا رہے ہوتے ہیں۔ جدوجہد اپنی تمام تر صلاحیتوں، وسائل و ہنر اور قوت کو بامقصد سرگرمیوں میں استعمال کرنے کا نام ہے۔

بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں افراد، ادارے، تحریکات، حکومتیں، تنظیمیں اور کاروباری ادارے مصروفیت والے Paradigm میں اپنی زندگی بسر کر رہے ہوتے ہیں اور شکوہ کر تے ہوئے پائے جاتے ہیں کہ ہمیں اس تمام مصروفیت کے باوجود نتائج نہیں ملتے۔

اچھا! سوال یہ ہے کہ لوگ جدوجہد کیوں نہیں کرتے؟ اس کی بنیادی وجہ ہمارا نظام تعلیم، ہماری سماج کی ترتیب و تربیت اور مقاصد زندگی ہیں۔ تعلیمی اداروں میں ہمیں صرف پڑھایا جاتا ہے، زندگی کے مسئلوں کا "حل" تلاشنا نہیں سکھایا جاتا۔ ہم مسئلوں کے حل ڈھونڈنے کے بجائے "حل شدہ" زندگی گزارنے کے عادی بن جاتے ہیں۔ حل شدہ پیپرز، حل شدہ پریکٹیکلز، حل شدہ نوکریاں۔ بس ہماری زندگی "حل شدہ" میں ہی گم ہو کر رہ جاتی ہے۔ منصوبہ بندی نہیں سکھائی جاتی جس کا نقصان یہ ہوا ہے کہ ہم مجموعی طور پر جلد باز ہو گئے ہیں۔ ہم بحیثیت معاشرہ سرگرم رہنے کو "کمال" سمجھتے ہیں۔ بسا اوقات جن واقعات کو نظرانداز کرنا ہی اچھا ہوتا ہے ہم غیر ضروری طور پر میدان میں اترتے ہیں، اور اپنے وسائل، وقت، قوت و صلاحیت کو ضائع کردیتے ہیں۔ بہترین ٹیم کو بھی تھکا دیتے ہیں جس کی وجہ سے مصروفیت مایوسی میں بدل جاتی ہے۔ انسان کمزور ہونا شروع ہوجاتا ہے کیونکہ وہ سرگرمی صرف وقتی ہوتی ہے، دور رس نتائج اور مقاصد والی نہیں۔

دوسری جانب جدوجہد کرنے والا انسان نہیں تھکتا کیونکہ اس کو معلوم ہوتا ہے کہ سفر لمبا ہے، بےشمار وسائل اور تسلسل کا متقاضی ہے۔ چھوٹی چھوٹی کامیابی کے ساتھ آگے بڑھنا ہوتا ہے۔ مصروفیت والوں کو وقتی شاباشی تو ضرور ملتی ہوگی مگر کچھ وقت کے بعد لوگ ان سے اکتا جائیں گے۔ جدوجہد کرنے والےاکثر شروع میں لوگوں کی حمایت، داد، حوصلہ افزائی سے محروم ہوتے ہیں مگر آہستہ آہستہ جب لوگوں کو مسئلے کا حل ملنا شروع ہو جاتا ہے تو لوگ جدوجہد والوں کے ساتھ ملنا شروع ہو جاتے ہیں۔ اس طرح قافلے بنتے ہیں اور کارواں منزلوں کی طرف گامزن ہو جاتے ہیں۔ انساں اپنی فطرت میں جلدباز ضرور ہے مگر بےمقصد نہیں۔