جہادی تنظیمیں، پاکستان اور کیا کرے؟ آصف محمود

بھارتی سورما جہاز تباہ کروا کے چائے کا کپ پی کر واپس پدھارے ہیں تو اب کچھ مقامی سورما میدان میں آ گئے ہیں۔ واردات وہی ہے لیکن طریقہ واردات بڑا دردمندانہ ہے۔ یہ بظاہر بڑے دردِ دل سے سوال اٹھا رہے ہیں کہ دیکھیے ایک دو جہادیوں کے لیے بھلا بھارت سے جنگ لڑنا کوئی عقلمندی ہے؟ کیا ہم اب مسعود اظہر اور حافظ سعید کی خاطر ایٹمی جنگ کا خطرہ مول لے لیں اور کیا صرف ایک جہادی کے لیے چین سے ویٹو جیسی غیرمعمولی مدد طلب کرنا کوئی مناسب کام ہے؟ تاہم اس سے قبل کہ آپ کوئی جواب دیں یہ فیصلہ بھی سنا دیتے ہیں: ’’دیکھیں جی ایک بات طے ہے۔ ان جہادیوں کا بوجھ اٹھا کر اب ریاست دنیا کے ساتھ نہیں چل سکتی۔ دو ایٹمی قوتیں آمنے سامنے آ کھڑی ہوئی ہیں۔ اب پاکستان کو گو مگو کی کیفیت سے نکل کر ان عناصر کے خلاف بھرپور کارروائی کرنا ہو گی‘‘۔ یہ سوالات نئے ہیں نہ ان کی شان نزول، ہاں سائلین میں اس بار کچھ ایسے معقول لوگ بھی شامل ہو گئے ہیں جو این جی اوز کا نہیں اپنی محنت کا کھاتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ان معاملات کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے۔

سب سے پہلے پس منظر جان لیجیے۔ سوویت یونین کے خلاف جنگ کے دوران جہادی تنظیمیں بنیں، یہ ایک حقیقت ہے۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے اس کا ذمہ دار صرف پاکستان نہ تھا۔ پاکستان سے یہ غلطی ضرور ہوئی کہ ان نے اپنے شہریوں کو اس میں جھونک دیا۔ بھارت فاٹا سے لے کر بلوچستان تک دہشت گردی میں ملوث رہا لیکن بھارت نے کوئی لشکرِ خاران یا جیش قلات نہیں بنائی۔ اسی طرح ایران بھی افغانستان کے معاملات میں پوری قوت سے دخیل رہا لیکن اس نے اپنے شہریوں کو اس میں ملوث نہیں ہونے دیا۔ پاکستان اپنے شہریوں کو اس سے دور نہ رکھ سکا، یہ اس کی بہت بڑی غلطی تھی۔ لیکن یہ سب اب ماضی ہے۔

موجودہ صورت حال مختلف ہے۔ پاکستان اب اپنی پالیسی بدل چکا ہے۔ یہ عمل اتنا آسان نہ تھا۔ بہت قربانی دینا پڑی۔ سب سے زیادہ شہادتیں ہماری ہوئی ہیں۔ پاکستان سے اب کوئی جنگجو ایل او سی کراس نہیں کرتا۔ پچھلے کتنے ہی سالوں سے بھارت دراندازی کا ایک الزام تک عائد نہیں کر سکا۔ جہادی تنظیموں کو نہ رضاکار بھرتی کی اجازت ہے نہ خیالات کی ترویج کی۔ وہ انتظامی طور پر بھی پابندیوں کا شکار ہیں۔ حافظ سعید عرصہ ہوا نظربند ہیں۔ مسعود اظہر برسوں سے کہیں دکھائی نہیں دیے۔ پاکستان اور کیا کرے؟ کیا وہ ان سب کو لائن میں کھڑا کر کے گولی سے اڑا دے؟

یہ بھی پڑھیں:   ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑہ - حبیب الرحمن

یاد کھیے جب پالیسی بدلی جاتی ہے تو حکمت سے کام لیا جاتا ہے اور جنگجوؤں کی قومی دھارے میں واپسی کی گنجائش کھی جاتی ہے۔ یہی کام امریکہ نے طالبان کے ساتھ کیا ہے۔ وہ امریکہ سے اس وقت تک لڑ رہے ہیں لیکن امریکہ ان سے مذاکرات کر رہا ہے اور انہیں قومی دھارے میں لانا چاہتا ہے ۔ امریکہ یہ کام کر سکتا ہے تو پاکستان کیوں نہیں کر سکتا؟

ایک بڑا الزام یہ عائد کیا جاتا ہے کہ کالعدم جہادی تنظیمیں حقیقت میں کالعدم نہیں ہوتیں۔ وہ نام بدل کر اگلے ہی روز کام کرنا شروع کر دیتی ہیں۔ لشکر طیبہ پر پابندی لگتی ہے تو جماعت الدعوہ بن جاتی ہے۔ اس پر انگلیاں اٹھتی ہیں تو فلاح انسانیت فاؤنڈیشن بن جاتی ہے۔ سوال یہ ہے اس میں حرج ہی کیا ہے؟

ہمیں دیکھنا یہ چاہیے کہ نام بدل کر جو نئی تنظیمیں بنتی ہیں کیا وہ وہی پرانا کام کرتی ہیں یا کام کی نوعیت بھی بدل چکی ہوتی ہے؟ کیا فلاح انسانیت فاؤنڈیشن وہی کام کر ررہی ہے جو لشکر طیبہ کرتی تھی؟ اس کا جواب ظاہر ہے کہ نفی میں ہے۔ ایک جنگجو تنظیم اگر خدمت خلق کے میدان میں آنا چاہے تو اس پر کیسا اعتراض؟ کیا ان سے جینے کا حق ہی چھین لیا جائے؟ ان کو قتل کرنا مقصود ہے یا ان کو ایک نیا میدان عمل دے کر قومی دھارے میں شامل کرنا؟

یہ بات بھی جان لیجیے کہ ان تنظیموں کا ایک ڈھانچہ ہے، نظم ہے اور افرادی قوت ہے۔ اسے اگر کھڑے کھڑے منتشر کر دیا جائے تو کون جانے ان میں سے کون کہاں جائے اور کیا کرے؟ اس بات کا امکان بھی موجود ہے کہ رد عمل میں کچھ لوگ داعش وغیرہ میں شامل ہو جائیں۔ ایک متبادل سرگرمی دے کر گویا اس خطرے سے بھی نبٹا جا تا ہے۔ کل کی لشکر طیبہ جمہوریت کو حرام سمجھتی ہے، آج اس کے وابستگان ملی مسلم لیگ کے پلیٹ فارم پر آئین کے تحت سیاست کرنا چاہتے ہیں۔ کیا یہ خوش آئند بات ہے یا ان کے لیے تمام راستے بند کر دینا چاہیں؟ ایک تربیت یافتہ جنگجو پر قومی دھارے میں واپسی کے تمام راستے بند کرنے کا نتیجہ کیا ہو سکتا ہے، کیا ہمیں معلوم ہے؟ جو لوگ ان تنظیموں کی متبادل ناموں کے ساتھ متبادل سرگرمیوں پر بھی معترض ہیں کیا وہ یہ چاہتے ہیں کہ ریاست پاکستان ٹی ٹی پی سے لڑ کر فارغ ہوئی ہے تو اب اپنے لیے ایک نیا محاذ کھول لے؟

یہ بھی پڑھیں:   مسئلہ لوٹی ہوئی رقم کی تقسیم کا - حبیب الرحمن

بھارت کا معاملہ بھی اچھی طرح سمجھ لیجیے۔ بات چند جہادیوں کی نہیں ہے۔ پاکستان بھی اگر مسععود اظہر کے لیے چین سے ویٹو کرواتا ہے تو اسی لیے کرواتا ہے کہ اسے معلوم ہے معاملہ محض مسعود اظہر کا نہیں بلکہ پاکستان کو گھیرنے کا ہے۔ چین سے جہاندیدہ قوت کون ہو گی؟ چین اگر مسعود اظہر کے معاملے کو ویٹو کرتا ہے تو اس کا مطلب ہے وہ بھی جانتا ہے معاملہ فرد واحد کا نہیں، پاکستان کے گھیراؤ کا ہے۔ مسعود اظہر تو ابھی بلیک لسٹ پر بھی نہیں اور حافظ سعید کے خلاف عدالتوں میں کون سا الزام ثابت ہوا ہے؟ محض بھارت کی خوشنودی کے لیے پاکستان ان گروہوں کے خلاف طاقت کیوں استعمال کرے جبکہ یہ گروہ اس وقت پاکستانی آئین اور قانون کے دائرے میں کام کر رہے ہیں؟ پاکستان کا موقف بہت واضح ہے۔ پاکستان کی سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہو سکتی۔ پلوامہ پر بھی یہی موقف ہے، بھارت ہمیں ثبوت دے ہم کارروائی کریں گے۔

یہی پاکستان کی باٹم لائن ہے۔ جو ہوا سو ہوا۔ جو گروہ ہتھیار رکھ چکے ان کے خلاف کارروائی نہیں ہو سکتی ۔ یہ باٹم لائن انتہائی ضروری ہے۔ ورنہ بھارت کے مطالبات بڑھتے جائیں گے اور البدر کے ساتھ جو بنگلہ دیش میں ہوا ، جس طرح پھانسیاں دی گئیں وہی کام بھارت بھی کرنا چاہے گا۔ پاکستان کس کس کو بھارت کے حوالے کرتا پھرے گا ۔ بھارت کا کیا ہے، ابھی ہم نے جے ایف سیون ٹین تھنڈر استعمال کیے لیکن بھارت کہہ رہا ہے ایف سولہ استعمال ہوئے اور اس نے گرا لیا۔ جیسے اس نے ایف سولہ’’گرا لیا‘‘ ایسے ہی انکشافات وہ ہر دو ماہ بعد کرنا شروع کر دے کہ لشکر طیبہ نے یہ کر دیا اور جیش نے وہ کر دیا تو ہم کیا ہر بار اپنے لوگ پکڑ پکڑ کر بھارت کو دیتے رہیں گے؟

Comments

آصف محمود

آصف محمود

آصف محمود اسلام آباد میں قانون کی پریکٹس کرتے ہیں، روزنامہ 92 نیوز میں کالم لکھتے ہیں، روز نیوز پر اینکر پرسن ہیں اور ٹاک شو کی میزبانی کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنی صاف گوئی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.