اک اور دریا کا سامنا ہے- سجاد میر

تین باتیں عرض کرنا ہیں جنہیں میں ابتدا ہی میں بیان کئے دیتا ہوں۔ 1۔ ہم اس وقت بھارت کا الیکشن نہیں لڑ رہے ہیں کہ مودی کو جتانے یا ہرانے کی کوشش کریں۔ ہمارے بعض انداز سے ایسے ہی جھلک رہا ہے گویا ہم ہندوستان کا الیکشن لڑ رہے ہیں۔ 2۔ یہ جنگ کا زمانہ تو گزر جائے گا لیکن ایک زمانہ اس کے بعد آنا ہے۔ ہمارے اپنے اندر بھی ایک جنگ شروع ہو سکتی ہے۔ یہ صورت حال خاصی خطرناک ہوتی ہے۔ ہمیں اس کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ 3۔ اور سب سے آخری بات یہ کہ دنیا بالخصوص بھارت ہمارے بارے میں کچھ تصورات اور عزائم رکھتی ہیں۔ کیا صلح صفائی ہونے کے بعد وہ یہ سب بھول جائیں گے۔ نہیں تو ہمیں اس کے لیے بھی تیار رہنا ہوگا۔ اب سلسلہ وار ان نکات پر گفتگو کئے لیتے ہیں۔آسان باتوں کو ہم نے سب سے پہلے لینا ہے تاکہ ابتدائی مراحل آسانی سے گزر جائیں۔ یہ جو ہم نے اس جنگ میں بھارت پر بات کرنے کے بجائے مودی کو ہدف بنا رکھا ہے تو کیا ہم یہ اس کا الیکشن لڑ رہے ہیں۔

ہم کس کو سمجھا رہے ہیں کہ مودی ایک نہایت ہی موذی شخص ہے۔ اگر بھارتیوں کو سمجھا رہے ہیں تو شاید ہماری غلطی ہے۔ مودی تو انہیں ہی بتائے گا کہ دیکھو، پاکستان کا نشانہ میں ہوں، اس لیے کہ میں بھارت کے مفادات کی بات کرتا ہوں۔ بالفرض ایسا نہ بھی ہو تو کیا آنے والے ہمارے دوست ہوں گے۔ یہ برصغیر کے مسئلے انہی کانگریسیوں ہی کے تو پیدا کردہ ہیں۔ کشمیر سے لے کر پاک بھارت کا ہر زائچہ ان کا تیار کردہ ہے۔ اس سے بھی زیادہ بھارت کی اسٹیبلشمنٹ ہے۔ بھارتی اسٹیبلشممنٹ صرف فوج نہیں۔ اس میں صرف دفتر خارجہ کا اضافہ نہیں، وہاں کا کارپوریٹ سیکٹر نہیں بلکہ بہت کچھ ہے۔ اس کی خصلت میں جو پاکستان دشمنی یا پاکستان کی مخالفت ہے کیا وہ ختم ہو جائے گی۔ بھارت کے کئی وزرائے اعظم نے معاملات طے کرنے کے پیامات دیئے، مگر پھر کیا ہوا۔

خفیہ نامہ و پیام تو چھوڑیئے، من موہن سنگھ کس طرح یوسف رضا گیلانی سے بات آگے بڑھانے کا وعدہ کر کے گیا مگر بھارت جاتے ہی مکر گیا۔ کتنے برس اقتدار میں رہا مگر بات چیت کا آغاز نہ کرسکا۔ اس لیے کہ وہاں اسٹیبلشممنٹ نہیں چاہتی تھی۔ سیاچن پر پاکستان اور بھارت کے زعما ایک نتیجے پر پہنچے پھر کیا وجہ ہے کہ بات وہیں کی وہیں ہے۔ پرویز مشرف تاریخ بدلنے کاارادہ کر کے بھارت گیا۔ مجھے یاد ہے کہ وقت بھی طے پا گیا کہ ساڑھے بارہ بجے دونوں ملکوں کے درمیان معاہدے کا اعلان ہوگا، ہم نے وہ جگہ بھی دیکھ لی جہاں پر پریس کانفرنس ہونا تھی۔ معاہدہ کے مندرجات بھی طے تھے۔ پھر کیا ہوا، مشرف کو رات گئے تیزی کے ساتھ نامراد لوٹنا پڑا۔ اس لیے کہ واجپائی صرف یہ بتا رہا تھا کہ اس کے لوگ نہیں مان رہے۔

وہ لوگ کون ہیں۔ ہم صرف میڈیا یا چند افراد کو الزام دے کر بات ٹال دیتے ہیں۔ صورتحال اتنی سادہ نہیں ہے۔ ہمیں اس بات کو سمجھ لینا چاہیے اور اللہ توفیق دے تو اس صورت حال کی گہرائی میں بھی اترنا چاہیے۔ دوسری بات اگرچہ جملہ معترضہ ہے۔ مگر ہے بہت ضروری۔ ایوب خان 65ء میں کیسے ہیرو بن گیا تھا۔ پھر کیا ہوا کہ تین سال کے اندر گلی گلی میں اس کے خلاف نعرے لگنے لگے۔ صرف تاشقند یا ترکی نہیں، ہمیں اچھی طرح سوچنا چاہیے کہ اختلافات کیسے ابھرتے ہیں۔ اس وقت سب پارٹیاں ایک ہیں۔ ظاہر ہے یہ ایک نہیں رہیں گی۔ یہ تو ٹھیک ہے مگر نئے جھگڑے شروع ہو جائیں گے۔ اس وقت ہی ایک طرف یہ شروع ہو گیا ہے کہ سب کچھ عمران خان کی بصیرت کا نتیجہ ہے، اسے نوبل انعام دینے کی قرارداد اسمبلی سے پاس کرائی جائے۔ دوسری طرف خواجہ آصف کہتے ہیں کہ ہم حکومت کے ساتھ ہیں، مگر یہ جو آپ بتا رہے ہیں کہ عمران مودی کو فون کر رہے ہیں وہ جواب نہیں دے رہا اگر یہی کام نوازشریف نے کیا ہوتا تو اسے مودی کا یار کہا جاتا۔ ہر پارٹی اور ہر ادارہ جب کریڈٹ لینے کی کوشش کرتا ہے تو خرابی پیدا ہوتی ہے۔ ہمیں اس حوالے سے احتیاط برتناہوگی۔

ہم نے تو یہ وقت بھی دیکھا ہے جب ہمارے ایک ریٹائرڈ جرنیل نے پہلی بار اس طرح کی تفریق پیدا کی تھی پھر یہ کہا جانے لگا تھا کہ یہ مشرف اور کیانی کی فوج نہیں راحیل شریف کی فوج ہے۔ میرے جیسوں نے شور مچایا کہ ایسی بات نہ کہو، ہمارے ہاں یہ بیانیہ کبھی تشکیل نہیں دیا گیا۔ ہم فوج کو ایک ادارہ سمجھتے ہیں، اسے کسی فرد سے منسوب نہیں کرتے۔ وقت بدلنے کے ساتھ بعض اوقات پالیسیاں بدلتی ہیں۔ کل کلاں کو وقت بدلا تو ہم دیکھیں گے کہ ہماری پالیسیاں بدلتے حالات کی ہم نوا ہوں گی۔ پھر ایسا بھی ہوا۔ خدا کے لیے اداروں کو سیاست میں نہ گھسیٹئے۔ یہ وقت گزر جائے تو اس کا فائدہ آنے والے دنوں کو منتقل کیجئے نہ کہ نئے فتنہ و فساد کی طرح ڈال دیجئے۔ بعض لوگوں کے تو دماغ ابھی سے ایسے خراب ہونے لگے ہیں کہ فیصل واوڈا کی طرح کفر بکنے لگے ہیں۔ ہر پارٹی، ہر ادارے، ہر فرد کو محتاط ہونا پڑے گا۔ راہ میں خطرات کے کانٹے بکھرے پڑے ہیں۔ تیسری اور آخری بات یہ عرض کی تھی کہ دنیا بالخصوص بھارت جو ارادے رکھتا ہے کیا اس میں کوئی تبدیلی آئے گی۔

ہمارا مسئلہ تو حل نہیں ہوگا ہمیں جو چیلنج درپیش ہیں وہ تو سر اٹھائے سامنے کھڑے ہوں گے۔ میں اس پر زیادہ تفصیل سے بات نہیں کرنا چاہتا، یہ ایک طویل داستان بھی ہے اور اہم بھی۔ اس سے واقف بھی ہیں مگر گزشتہ دنوں ایک ٹی وی پروگرام میں میرے ساتھ شریک ایک کھرے اور سچے پاکستانی ڈاکٹر ابراہیم مغل نے بڑے پتے کی بات کی۔ اس بات کی مختلف تشریحیں اور وضاحتیں ہو سکتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا بھارت اور دنیا ہم سے چھ باتوں کا تقاضا کر رہی ہے۔ 1۔ اسرائیل کو تسلیم کرلو، 2۔ سی پیک کو رول بیک کردو، 3۔ دینی پروگرام ختم کرو،4۔ کشمیر کو زیادہ سے زیادہ اپنی موجودہ صورت میں قبول کر کے اس مسئلے کو ختم کرو۔ 5۔ قادیانیوں کے خلاف آئینی شق کا خاتمہ کرو (بلکہ توہین رسالت کے قانون کو بھی)۔ 6۔ سیکولرزم کو اپنا چلن بنائو۔ میرا خیال ہے، یہ وہ باتیں ہیں جو گاہے گاہے، سب کے ذہن میں آتی ہیں۔

اس کے بارے میں ہمارا ردعمل بھی ہوتا ہے گاہے شدید گاہے نرم۔ بعض ایسی باتیں ہیں جن کے بارے میں ہمارے لبرل فاشسٹ ہم نوا ہو جاتے ہیں۔ اس وقت ہم جس حکمت عملی پر گامزن ہیں، اس میں بعض باتوں پر شکوک ابھرتے ہیں۔ ان شکوک کا پیدا ہونا ہی ہماری قومی سلامتی اور یکجہتی کے لیے نقصان دہ ہے۔ معاف کرنا، کبھی ہم کہتے ہیں، اسرائیل کا طیارہ اسلام آباد آیا تھا، اسے عرب ممالک سے اپنے تازہ تعلقات کے پس منظر میں دیکھنے لگتے ہیں۔ بہت دور تک سوچتے ہیں۔ مشرف کے زمانے میں اپنے وزیر خارجہ کی ترکی میں اسرائیلی وزیر خارجہ سے ملاقات کا ذکر کرتے ہیں۔ ایٹمی طاقت کے بارے میں امریکی اور بھارتی عزائم کا تذکرہ صرف جنرل حمید گل ہی نہ کرتے تھے، بہت سی غیر ملکی تحریروں میں ان کا ذکر ہوتا رہتا ہے۔ کشمیر کے بارے میں بھارت کے ارادے ہم سے پوشیدہ نہیں، یہ ہمارے درمیان اصل وجہ نزاع ہے۔ قادیانی مسئلے پر تو ابھی گزشتہ برس ہم ایک قومی بحران سے گزرے ہیں اور اس میں تو کوئی شک نہیں کہ سی پیک امریکہ اور بھارت کو ایک آنکھ نہیں بھاتا۔

ہماری تازہ اقتصادی پالیسیوں کو اسی آنکھ سے دیکھا جارہا ہے کہ ہم نے سی پیک کو پس پشت ڈال دیا اور اسی کے بدلے ہمیں امداد مل رہی ہے۔ اب اس کے ساتھ اسرائیل بھی جوڑ دیا گیا ہے اور اس میں بھی شک نہیں کہ ان طاقتوں کو ہمارا اسلامی کردار بھی ایک آنکھ نہیں بھاتا۔ یہ جو او آئی سی کے اجلاس میں اس بار ہوا ہے یہ قومی سطح پر ایک نیا جھگڑا پیدا کرنے یک کوشش ہے کہ کہاں ہے وہ شے جسے ہم ’’امہ‘‘ کہتے ہیں۔ کیا یہ ایک فقرہ ہی بہت کچھ کہنے کے لیے کافی نہیں ہے۔ اگر کوئی سمجھتا ہے کہ اس ایک جنگ نے پہلے ہی ہلے میں ان تمام عالمی اور بھارتی ارادوں سے توجہ ہٹا دی ہے تو یہ جان لینا چاہیے ایسا نہیں ہے۔ ہمیں یہ جنگ ایک لمبے عرصے تک لڑنا پڑے گی۔ ہمیں اس جنگ کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ ابھی ہمیں ایک اور دریا کا سامنا ہے بلکہ اصل دریا تو موجود ہے، سمندر جیسا پھیلا ہوا دریا، جہاں ہمیں کئی نہنگوں کا سامنا ہے۔