آئیں دکھ کوخود پہ نازل کرکے سوچتے ہیں _ عالم خان

سوشل میڈیا پہ آتے ہی یقین نہیں آتا کہ میرے سامنے موجود تحریریں اور ویڈیوز ان پاکستانیوں کے ہیں جو چودہ اگست پہ “اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں” کے گیت گاتے ہیں، اللہ تعالی کے بندو سیاست، نسل، زبان سے نکل کر چند منٹوں کے لیے آنکھیں بند کرکے سوچ لیں۔ آپ ذیشان ہیں جو خو کو سنوارتے ہوئے اپنی بیٹی کے استفسار پہ جواب دیتا ہے کہ بیٹا میں دوست کے ساتھ گاوں جا رہا ہوں وہاں شادی ہے چند دن بعد واپس آؤں گا، اور وہ ضد کرتی ہے نہیں بابا مجھے بھی ساتھ جانا ہے آپ کے انکار پہ وہ ناراض ہوتی ہے آپ اس کو منا لیتے ہیں دیکھو بیٹا آپکو سکول کا ہوم ورک کرنا ہے یاد ہے نا آپ سے کہا تھا نا میری گڑیا ڈاکٹر بنے گی اور پھر اس پری کو گلے لگا کر پیار کرکے نکلتے ہیں۔

دوست کے ساتھ گاڑی میں بیٹھتے ہیں اور راستے میں آپکو گولیوں سے بھون دیا جاتا ہے اور ریاست کی طرف سے مقدمہ بھی آپ پر درج کیا جاتا ہے کہ داڑھی والا تھا دہشت گرد تھا اور یوں گھر میں ڈاکٹر بننے کا خواب لیے بیٹی یتیم ہوجاتی ہے۔ آپ خلیل ہیں نبیلہ سے کہتے ہیں جلدی کریں لیٹ ہو رہے ہیں دیکھو ذیشان بھائی بھی انتظار کر رہا ہے، نبیلہ بچوں کو تیار کرتی ہے اور بچے خوشی خوشی سے گھر سے دوڑ کے نکلتے ہیں، آپ گاڑی سٹارٹ کرتے ہیں پتہ لگتا ہے اریبہ بیٹی ابھی تک تیار نہیں ہوئی ہے۔

آپ دوبارہ گاڑی سے نکلتے ہیں نبیلہ کہتی ہے اریبہ سے کہیں کہ میں فیڈر بھول گئی ہوں ٹیبل پے پڑا ہے اسکو بھی ساتھ لے آنا آپ خود گھر کے اندر جاتے ہیں اریبہ اور فیڈر کو ساتھ لے آتے ہیں اور گاڑی میں بچوں اور دوست کے ساتھ خوشی سے بسم اللہ کرکے سفر شروع کرتے ہیں، ساہیوال کے مین شاہراہ پہ سائرن سنتے ہی پولیس کے حکم پے گاڑی پارک کرتے ہیں آپ نکلتے ہے لیکن وہ آپکو نکلنے نہیں دیتے ہیں آپ معافی مانگتے ہیں کوئی سنتا نہیں اور گولیوں کی تڑتڑاہت شروع ہوجاتی ہے، آپ کبھی دوست تو کبھی بیوی اور بچوں کی طرف بے بسی سے دیکھتے ہیں اور یہ بے رحم گولیاں سب کے جسموں کو چیرتے ہوئے نکلتی ہیں اور آپ جام شہادت نوش کرتے ہیں اور آپ کی ریاست آپ کے بچوں کے اغوا کا الزام آپ پے لگاتی ہیں، اور یوں کبھی آپکو اغوا کار اور کبھی دہشت گرد قرار کر آپریشن کو کامیابی سے پورا کرنے کا اعلان کیا جاتا ہے۔

آپ خیسور وزیر ستان کے حیات خان ہیں، آپ کا بھائی اور والد اداروں کی طرف سے اٹھائے جاتے ہیں، اور جب بابا اور بھائی گھر سے ہتھکڑیوں میں نکلتے ہیں تو پیچھے مڑ کر کہتے ہیں بیٹا گھر کا خیال رکھنا گھر میں آپ کے سوا صرف خواتین ہیں چند دن گزرتی ہیں کہ تفتیش کے نام پے وردی میں ملبوس آپ کے اپنے ملک کے فوجی جوان بغیر اجازت ہر دوسرے روز آتے ہیں اور گھر کے اندر ڈیرے ڈالتے ہیں اور آپ کی چادر اور چار دیواری کی عزت اور تقدس پامال کرتے ہیں اور آپ بے بسی کی تصویر بنی ہوئی ہیں کچھ کہہ بھی نہیں سکتے۔

آپکو افسوس اس پہ ہیں کہ گھر کے اندر آنے والوں کا تعلق امریکن یا اسرائیلی فوج سے نہیں اور آپ کا تعلق شام، عراق، فلسطین اور افغانستان نہیں، بلکہ آپ اپنے مملکت خداد پاکستان میں ہیں اور فوجی آپ کے اپنے مسلمان بھائی ہیں جن کے سینوں پہ آپ کے ملک کا سبز ہلالی پرچم لگا ہوا ہے بتائیں آپ شکایات کس سے کریں گے۔

جب آپ آنکھیں کھولیں گے تو یقیناً آپکو احساس ہوا ہوگا کہ یہ مسئلہ پٹھان، سندھی، بلوچی اور پنجابی کا ہے نہ مسلم لیگ، پی پی، پی ٹی آئی، جمعیت علماۓ اسلام اور جماعت اسلامی کا بلکہ یہ مسئلہ سبز ہلالی پرچم کے سائے تلے پاکستانیوں کا ہے، فوج ہماری ہے پولیس اور دیگر سیکورٹی ادارے ہمارے ہیں ان میں کوئی بھی انڈیا، اسرائیل اور امریکہ سے نہیں سب ہمارے اپنے پاکستانی بھائی ہیں لیکن ان کے اندر راو انور جیسے بعض درندے موجود ہیں جو ان اداروں کو بدنام اور کمزور کرنے کے ساتھ ساتھ ہم پے ظلم کر رہے ہیں ان چند عناصر کے خلاف اواز اٹھانی ہے پاکستان کی خاطر ، اپنے بچوں کے مستقبل اور حفاظت کی خاطر ان ظالموں کے خلاف مظلوم کا ساتھ دینا ہے۔

Comments

عالم خان

عالم خان

عالم خان گوموشان یونیورسٹی ترکی، میں فیکلٹی ممبر اور پی ایچ ڈی کے طالب علم ہیں۔ اسلام اور استشراقیت ان کی دلچسپی کا موضوع ہے۔ دلیل کے مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.