"قرآن محفوظ نہیں اور خدا موجود نہیں" یاسر ندیم الواجدی

ایک ملحد کے ساتھ مکالمہ :
میرے فیس بک پیج پر مختلف لوگ اپنے مسائل کے لیے وقتا فوقتاً مجھ سے رابطہ کرتے رہتے ہیں۔ دو روز پہلے ایک میسج آیا کہ "میں قرآن کو محفوظ نہیں مانتا اور اس تعلق سے آپ سے بات کرنا چاہتا ہوں"، مجھے جب یہ معلوم ہوا کہ سوال کرنے والا انڈیا سے تعلق رکھتا ہے تو میں نے اس سے فون پر بات کرنا مناسب سمجھا۔ میری حیرت کی اس وقت انتہا نہ رہی، جب مجھے یہ معلوم ہوا کہ سوال کرنے والا صرف 19 سال کا لڑکا ہے اور علیگڑھ کے ماحول میں رہتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس شخص نے انٹرنیٹ پر موجود بہت سی ویڈیوز دیکھی ہیں اور تھوڑا بہت مطالعہ بھی کیا ہے۔ ذیل میں، میرے اور اس شخص کے درمیان ہونے والا مکالمہ ملاحظہ فرمائیں۔

ملحد: آپنے ایک ویڈیو میں یہ دعوی کیا ہے کہ قرآن محفوظ ہے، جبکہ میرا دعوی یہ ہے کہ قرآن غیر محفوظ ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ (حضرت) عائشہ کی ایک روایت ہے جس کو مسلم نے اپنی صحیح میں ذکر کیا ہے کہ 10رضعات کو پانچ رضاعت والی آیت نے منسوخ کردیا اور یہ آیت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت تک پڑھی جاتی رہی۔ مجھے بتائیے کہ قرآن میں وہ آیت کہاں ہے؟۔

مجیب: پہلی بات تو یہ ہے کہ اس حدیث میں یہ کہاں ہے کہ وفات کے بعد تک پڑھی جاتی رہی؟ وفات تک پڑھے جانے کا مطلب وفات کے بعد تک پڑھا جانا غلط خلاف واقعہ ترجمہ ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ "پڑھا جانا" عربی زبان کے قاعدے کے مطابق مجہول کا صیغہ ہے اور مجہول کا صیغہ کسی چیز کے کمزور ہونے کو بیان کرنے کے لیے آتا ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اس حدیث سے یہ بتانا چاہتی ہیں کہ چونکہ پانچ رضاعت والی آیت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور کے آخر میں منسوخ ہوئی، اس لئے سب لوگوں کو اس کا علم نہیں ہوسکا اور کچھ لوگوں کو وفات کے بعد تک وہ آیت یاد تھی اور وہ با آسانی پڑھ سکتے تھے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ اگر یہ آیت قرآن کا حصہ ہوتی تو حضرت عائشہ سب سے پہلے اپنے والد حضرت ابوبکر کے اوپر اعتراض کرتیں کہ انہوں نے جب قرآن کریم کو جمع کیا تو اس آیت کو شامل کیوں نہیں کیا اور اس کے بعد حضرت عثمان پر اعتراض کرتیں، جبکہ حضرت عائشہ کی وفات حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے بعد ہوئی ہے۔

ملحد: یہ تو آپ تاویل کر رہے ہیں ورنہ تو شیخ البانی نے اس حدیث کو سلسلہ الاحادیث الصحیحہ میں ذکر کیا ہے۔
مجیب: اول تو میں نے اس حدیث کی صحت کا انکار نہیں کیا بلکہ اس کے وہ معنی بیان کیے جو درحقیقت درست ہیں، جبکہ آپ اس کے وہ معنی سمجھ رہے ہیں جو درست نہیں ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ میں یہ بھی بتا دوں کہ کسی حدیث کے سند کے اعتبار سے صحیح ہونے کا مطلب ہر گز یہ نہیں ہے کہ وہ ہمیشہ قابل عمل بھی ہو گی۔ بہت سی احادیث ایسی ہیں جو سند کے اعتبار سے بہت مضبوط ہیں، لیکن وہ منسوخ ہیں اس لیے قابل عمل نہیں ہیں، بلکہ امام ترمذی نے ایک حدیث تو ایسی نقل کی ہے کہ جو ان کے نزدیک صحیح ہے۔ اس حدیث کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں رہتے ہوئے بغیر کسی عذر کے، ظہر اور عصر کی نماز جمع فرمائی۔ خود امام ترمذی کے مطابق یہ حدیث قابل عمل نہیں ہے جبکہ وہ اس کی صحت کے قائل ہیں۔

ملحد: لیکن مولانا زبیر علی زئی نے تو اپنی ویڈیو میں یہ کہا ہے کہ یہ حدیث بھی قابل عمل ہے۔
مجیب: ہم امام ترمذی کی بات مانیں یا مولانا زبیر علی زئی کی۔ دوسرے یہ کہ مجھے صرف یہ بات ثابت کرنی ہے کہ امام ترمذی کے زمانے تک اس حدیث پر عمل نہیں ہوا، جبکہ اس حدیث کی سند پر کوئی غبار نہیں ہے۔ اس سے میرا یہ پوائنٹ ثابت ہوتا ہے کہ سندا اگر کوئی حدیث صحیح ہو تو یہ ضروری نہیں ہے کہ وہ ہر حال میں قابل عمل بھی ہو۔ رہی بات اس حدیث کی جس کا آپ حوالہ دے رہے ہیں وہ سندا صحیح بھی ہے اور قابل عمل بھی ہے البتہ اس کے وہ معنی ہیں جو میں نے بیان کیے۔ اگر آپ کے بیان کردہ معنی درست ہوتے تو ثابت کیجئے کہ حضرت عائشہ نے بعد میں حضرت ابوبکر یا حضرت عثمان پر بھی اعتراض کیا تھا۔
لیکن قبل اس کے کہ ہم آگے بڑھیں، میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ آپ ملحد کیسے بنے؟ وہ کون سا سوال تھا کہ جس نے آپ کو مذہب کے بارے میں تردد اور شک میں ڈال دیا۔

ملحد: مجھے اس سوال کا آج تک کوئی جواب نہیں ملا کہ اگر اس کائنات کو اللہ نے بنایا تو پھر اللہ کو کس نے بنایا۔
مجیب: مجھے حیرت ہے کہ آپ نے قرآن اور حدیث اور اسی طریقے سے تاریخ کا تھوڑا بہت مطالعہ کیا ہے، لیکن آپ اتنے بنیادی سوال میں اٹک گئے۔ اس کا جواب تو بہت آسان ہے۔
ملحد: آسان جواب ہے تو آپ دیجیے۔
مجیب: میں ایک مثال سے آپ کو سمجھاتا ہوں۔ تصور کیجیے کہ آپ ایک لڑکی سے اس کا ہاتھ مانگنے گئے اور اس سے کہا کہ کیا تم مجھ سے شادی کروگی؟ اس لڑکی نے جواب دیا کہ میں اپنی والدہ سے پوچھ کر بتاؤں گی۔ تو گویا کہ اس لڑکی کا ہاں کرنا اس کی والدہ کے جواب دینے پر منحصر ہوا۔ مگر والدہ نے کہا کہ وہ اپنی ماں سے پوچھ کر بتائے گی اور اس کی ماں نے کہا کہ وہ اپنی ماں سے پوچھ کر بتائے گی اور اس کی ماں نے کہا کہ وہ اپنی ماں سے پوچھ کر بتائے گی اور یوں یہ سلسلہ چلتا رہا، تو مجھے بتائیے کہ کیا آپ کی کبھی شادی ہو پائے گی؟ اسی طرح اگر اس کائنات کو اللہ نے بنایا ہے اور سامنے والا یہ سوال کرے کہ اللہ کو کس نے بنایا اور جواب ہوں کہ فلاں نے بنایا، تو فلاں کے بارے میں بھی یہی سوال ہوگا کہ اس کو کس نے بنایا اور یہ سلسلہ یونہی چلتا رہے گا اور کائنات کبھی بھی وجود میں نہیں آئے گی جب کہ کائنات موجود ہے۔ اسی چیز کو عربی میں تسلسل اور انگریزی میں infinite regress کہتے ہیں۔

ملحد: تسلسل کا یہ فارمولا صرف وہاں لاگو ہوتا ہے جہاں دو چیزیں کسی جگہ اور مکان میں موجود ہوں۔ تو کیا آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ اللہ بھی کسی جگہ پر موجود ہے کائنات اس کے مقابلے میں دوسری جگہ پر؟
مجیب: اول تو آپ کا یہ دعویٰ بلا دلیل ہے۔ پھر آپ نے یہ دعویٰ اس لیے کیا کیونکہ آپ نے اس فارمولے کو علم ریاضی میں پڑھا ہے۔ علم ریاضی میں انہی چیزوں پر گفتگو ہوتی ہے جو معدودات کے قبیل سے ہوں جب کہ اللہ تعالی معدودات کے قبیل سے نہیں ہے اور نہی اللہ کی ذات علم ریاضی کا موضوع ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ جب آپ نے خود اللہ کو مخلوق مان لیا تو وہ بھی معدودات کے قبیل سے ہو گیا اور اب اس پر بھی تسلسل کا یہ فارمولا نافذ ہوگا اور تسلسل غیر منطقی اور باطل ہے۔
ملحد: ٹھیک ہے میں نے مان لیا۔ میرا دوسرا سوال یہ ہے کہ اگر یہ کائنات مخلوق ہے اور ایک خاص وقت میں اللہ نے اس کائنات کو پیدا کیا ہے، تو اس کائنات کو پیدا کرنے سے پہلے اللہ کیا کر رہا تھا۔

مجیب: ہمیں تو اللہ کی ذات کا بھی تفصیلی علم نہیں اور نہ ہی تفصیلا یہ معلوم کہ کائنات کو پیدا کرنے کے بعد سے اللہ تعالی کیا کر رہا ہے، چہ جائے کہ ہمیں یہ معلوم ہو کہ پیدا کرنے سے پہلے وہ کیا کر رہا تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ "اللہ کیا کیا کرتا ہے" کا جاننا غیر محدود علم ہے اور انسان اپنی ذات اور اپنے علم کے اعتبار سے محدود ہے تو ایک محدود چیز غیر محدود علم کیسے رکھ سکتی ہے۔

ملحد: ٹھیک ہے میں آپ کی بات مانتا ہوں، لیکن آپ نے ایک ویڈیو میں یہ کہا ہے کہ قرآن کو شروع سے لے کر آج تک کسی نے بھی غلط قرار نہیں دیا، جبکہ آپ ہی کی حدیثوں کی کتابوں میں لکھا ہوا ہے کہ دو لوگ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں قرآن کی کتابت کیا کرتے تھے مرتد ہوگئے تھے اور انہوں نے یہ کہا تھا کہ محمد پر کوئی وحی نہیں آتی، بلکہ وہ اپنی طرف سے قرآن لکھواتے ہیں. آپ اس کا کیا جواب دیں گے؟

مجیب: میں نے اپنی کسی ویڈیو میں یہ دعوی نہیں کیا کہ قرآن کو شروع سے لے کر آج تک کسی نے غلط نہیں کہا ہے۔ میں یہ دعویٰ کیسے کرسکتا ہوں جبکہ مجھے معلوم ہے کہ خود نزول قرآن کے دور میں مشرکین قرآن کو غلط کہا کرتے تھے۔ میرا دعوی یہ ہے کہ قرآن کی جو معجزانہ فصاحت و بلاغت ہے اس کا جواب آج تک کوئی نہیں دے سکا ہے۔ رہی بات دو تین لوگوں کا مرتد ہوجانا اور یہ دعوی کرنا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی وحی نازل نہیں ہوتی، بلکہ وہ اپنی طرف سے قرآن لکھواتے ہیں تو اس میں کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ ایسی بات تو آپ بھی کہہ رہے ہیں۔ رہی بات کہ وحی لکھنے والوں میں ایک شخص مرتد ہوا، تو دراصل وہ اسلام لایا ہی تھا کسی لالچ میں اور جب اس کی مراد پوری نہیں ہوئی تو وہ اپنے مذہب پر لوٹ گیا، لیکن اپنے اس عمل کو صحیح قرار دینے کے لیے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹا الزام لگایا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے اس الزام کو ثابت نہیں کر سکا اور یہ دعویٰ محض دعویٰ ہی رہا۔ اس لیے کسی کے مرتد ہونے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔

ملحد: لیکن میرا ماننا یہ ہے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نبی نہیں تھے بلکہ (العیاذ باللہ) ایک جنگجو تھے۔ کیونکہ انہوں نے مختلف قبیلوں کو جمع کرکے حکومت پر قبضہ کیا اور پھر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ان کی تیارکردہ جماعت نے حکومت کے لیے آپس میں جنگیں کی اور پڑوسی حکومتوں پر بھی قبضہ کر لیا۔
مجیب: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں گفتگو بعد میں ہوگی۔ پہلے آپ یہ ثابت کیجیے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب کی کس حکومت کو ختم کیا تھا۔
ملحد: لیکن صحابہ نے تو پڑوسی حکومتوں کو ختم کیا۔
مجیب: میں نے پہلے ہی کہا کہ صحابہ کے بارے میں گفتگو بعد میں ہوگی۔ آپ نے یہ دعوی کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم العیاذ اللہ جنگجو تھے اور انہوں نے عرب کی حکومت کو ختم کیا، تو مجھے اس حکومت کا نام بتائیے جس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ختم کیا تھا۔
ملحد: قبیلوں کو اس مقصد سے جمع تو کیا؟
مجیب: مختلف قبائل کو حکومت قائم کرنے کیلئے جمع ضرور کیا، لیکن کسی حکومت کو ختم کرنے کے لیے نہیں، کیونکہ اس دور میں عرب میں کوئی حکومت تھی ہی نہیں۔

ملحد: چلیے مان لیا کہ حکومت قائم کرنے کے لیے ہی قبیلوں کو جمع کیا، لیکن آپ کے صحابہ نے پڑوسی ممالک پر حملہ کیوں کیا؟
مجیب: پہلے آپ اس بات کو تسلیم کریں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی حکومت پر قبضہ نہیں کیا، بلکہ ایک حکومت قائم کی۔
ملحد: تسلیم کرلیا۔
مجیب: یہ بھی تاریخی حقیقت ہے کہ جو حکومت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قائم کی وہ نبوت ملنے کے تیرہ سال بعد قائم کی۔ پہلے ہی سال قائم نہیں کی تھی۔
ملحد: وہ اس لئے قائم نہیں کی تھی کیوں کہ مکہ میں حالات ساز گار نہیں تھے۔
مجیب: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مشرکین کی طرف سے سرداری کی آفر تھی، نیز اگرآپ چاہتے تو ابتدا میں ہی حبشہ ہجرت فرما دیتے یا وہاں کے بادشاہ سے کہتے اور حبشہ کے کچھ فوجی مکہ کے مشرکین کے خلاف چڑھائی کر دیتے۔ یہ بھی نہ ہوتا تو کم ازکم اتنا ہی کرسکتے تھے کہ مدینہ کے وہ انصار جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لا چکے تھے، آپ علیہ الصلاۃ والسلام ان سے کہتے کہ وہ اپنے قبیلے کو مکہ لاکر مشرکین پر حملہ کردیں۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی گوارا نہیں کیا، بلکہ خود ہجرت فرمائی اور مدینہ جاکر جہاں کوئی حکومت نہیں تھی ایک حکومت قائم فرمائی۔

ملحد: چلیے مانتا ہوں لیکن پھر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صحابہ نے پڑوسی ملکوں پر حملہ کیوں کیا؟
مجیب: جب ایک حکومت قائم ہو گئی تو اب اس حکومت کے تحفظ کی ذمہ داری بھی حکومت کے سربراہ پر عائد ہوتی ہے۔ اگر سربراہ کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ حکومت اور اس کے تحت بسنے والی رعایا کے جان ومال خطرے میں ہیں، تو سربراہ کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس خطرے سے نمٹے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جتنی جنگیں ہوئی وہ سب اسی فلسفے کے تحت ہوئی ہیں۔ فارس و روم پر اگرچہ اقدامی حملے ہوئے ہیں لیکن وہ مستقبل کے خطرے کو سامنے رکھ کر ہوئے ہیں۔ اگر ان دونوں سپرپاورز پر حملے نہ ہوتے تو عرب کی یہ حکومت نیست ونابود کر دی جاتی اور یہاں کے لوگ بڑی تعداد میں قتل کیے جاتے۔

ملحد: ابوبکر کے زمانے میں خود ان مسلمانوں پر جنہوں نے زکوۃ دینے سے منع کردیا تھا فوج نے حملہ کیا، کیا وہ جنگجو ذہنیت کا عکاس نہیں ہے۔
مجیب: جب مدینہ کی ریاست ایک قانونی ریاست مان لی گئی، تو اب ریاست کے خلاف کسی بھی اجتماعی عمل کو بعض مرتبہ طاقت سے کچلنا پڑتا ہے۔ کیا آپ انڈیا کی سطح پر نکسلیوں کا ساتھ دیں گے یا حکومت ہند کا؟
ملحد: اور صحابہ کے درمیان آپس میں جو جنگیں ہوئی ہیں؟
مجیب: ہم نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ صحابہ انبیاء تھے جن سے کبھی کوئی غلط فیصلہ صادر نہیں ہوسکتا۔ اگر صحابہ سے کبھی بھی کوئی غلطی نہ ہوتی، تو اللہ تعالی کا قائم کردہ نبوت کا نظام مشکوک ہوجاتا۔ کیونکہ جب نبی اور غیر نبی دونوں میں سے کوئی بھی غلطی نہیں کرسکتا تو نبی کی کیا فضیلت رہی؟ اس لیے صحابہ کے یہ اختلافات اپنے تمام تر خلوص کے باوجود اللہ کے تکوینی نظام کا حصہ ہیں۔ نیز صحابہ کے درمیان جو اختلافات ہوئے وہ حکومت حاصل کرنے کے لئے نہیں، بلکہ اس بنیاد پر ہوئے کہ حکومت کس طرح چلانی ہے اور کس طرح نہیں۔
لیکن آپ کو ان سب معاملات میں پڑنے کی اس لیے ضرورت نہیں کیونکہ آپ تو خدا کے وجود کے ہی منکر ہیں۔ نبوت اور صحابیت تو بعد میں آتے ہیں۔ پہلے تو خدا کے وجود پر بات ہونی چاہیے۔

ملحد: جی نہیں۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر پہلے گفتگو اس لیے ہوگی کیونکہ آپ نے اللہ کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ہی جانا ہے۔
مجیب: ہم نے اللہ کے احکام کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ جانا ہے۔ اگر خدا کی معرفت مطلقا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر موقوف ہوتی، تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کوئی بھی خدا کو نہ جان پاتا۔ اس سے ثابت ہوا کہ اصل خدا ہے، نبوت کا درجہ بعد کا ہے اور صحابیت کا درجہ اس کے بھی بعد۔ لہذا آپ جب بھی گفتگو کریں تو خدا تعالی کے وجود کے تعلق سے گفتگو کیجیے۔ آگے کی گفتگو کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے اپنے ذہن میں اسلام کے غلط ہونے کا ایک مفروضہ قائم کر لیا۔ اب اس مفروضے کو ثابت کرنے کے لئے آپ مختلف دلائل حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
ملحد: چلیے ٹھیک ہے میں آپ کے اس مشورے پر عمل کروں گا لیکن اب بقیہ گفتگو اگلی نشست میں ہوگی۔

اس طرح یہ طویل گفتگو ختم ہوئی اور میں یہ سوچنے لگا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حدیث مبارکہ میں جو بات فرمائی تھی وہ کتنی سچ تھی۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ "آخر زمانے میں کچھ لوگ آپس میں گفتگو کریں گے۔ ان میں سے ایک شخص یہ کہے گا کہ اگر اللہ نے کائنات کو پیدا کیا تو پھر اللہ کو کس نے پیدا کیا۔ اگر کسی کے ذہن میں شیطان یہ وسوسہ ڈالے تو وہ شخص فورا سورہ اخلاص پڑھے اور بائیں طرف تھوکے"۔ حدیث میں اس شیطانی وسوسے کا علاج اس لیے بتایا گیا، کیونکہ یہیں سے الحاد اور ارتداد کی راہ ہموار ہوتی ہے۔
علی گڑھ کے اس انیس سالہ لڑکے کے ذہن میں بھی یہی سوال سب سے پہلے آیا تھا کہ اگر اللہ نے اس کائنات کو پیدا کیا ہے تو اللہ کو کس نے پیدا کیا۔ سوال کے غلط ہونے کے باوجود اس شخص نے اس سوال کو منطقی تسلیم کر لیا اور جب جواب نہیں مل پایا تو اپنے ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔

میں اپنی اس تحریر کے پڑھنے والے ہر قاری سے درخواست کروں گا کہ وہ اس لڑکے کے ایمان کے لیے دعا کریں۔ ہم دلائل کے ذریعہ سامنے والے کو خاموش تو کرسکتے ہیں، لیکن ہدایت دینے والا صرف اللہ ہی ہے۔ میں جب بھی کسی ملحد سے گفتگو کرتا ہوں تو بہت دیر تک اضطرابی کیفیت رہتی ہے اور دل میں یہ سوال بار بار آتا ہے کہ آخر کب ہم اجتماعی سطح پر اس تعلق سے سنجیدہ ہوں گے اور نوجوان لڑکے لڑکیاں جو علما سے بے تعلق ہوکر انٹرنیٹ پر اسلام مخالف مواد پڑھ اور دیکھ رہے ہیں اور دین سے بیزار ہورہے ہیں، اس زہریلے اور جھوٹے مواد کے مقابلے ہمارا صداقت پر مبنی مواد اسی انداز اور زبان میں کب آئے گا۔