کیا خدا کو ماننا پیچیدہ و ارتقاء کو ماننا سہل ہے؟ - محمد زاہد صدیق مغل

برادر عمار نے "عقلی استدلال کے دائرہ کار" اور "ماقبل عقل وجودی حالت" کے تناظر میں یہ واضح کیا کہ یہ احوال کن کن طرق سے عقلی استدلال کے لئے راھنمائی فراہم کرتے ہیں۔ ان طرق میں سے ایک نظرئیے کی "خالی جگہوں کو پرکرنا" (گیپ فلنگ) ہوتا ہے۔ اس ضمن میں انہوں نے نظریہ ارتقاء کی عمومی مثال پیش کی۔ یہاں اسی گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے نظریہ ارتقاء ہی سے "گیپ فلنگ" کی ایک مثال کا خلاصہ پیش کیا جاتا ہے۔

نظریہ ارتقاء کے مطابق انسانی عقل کے عمل دخل و صلاحیتوں کو زیادہ سے زیادہ "سروائیول" تک محدود کیا جاسکتا ہے جیسے حیوانات کی عقل۔ لیکن یہ جو انسانی عقل میں "استنباط" (deduction)، "حق و باطل میں تمیز"، "ڈسکور (دریافت) کرلینے کی جستجو" و "جمالیاتی حظ" جیسی صلاحیتیں ہیں ان کی کیا توجیہہ ہے جبکہ ان تمام صفات کا بقا سے کچھ لینا دینا نہیں؟ آخر نظریہ ارتقاء کے اندر ان لازمی انسانی صفات کی توجیہہ کیسے ممکن ہے؟ نظریہ ارتقاء کے لئے یہ نہایت مشکل سوال ہے اور اس سوال کا جواب دینے (یعنی "گیپ کو بھرنے") کے لئے نظریہ ارتقاء والے complexity theory کا سہارا لیتے ہیں جس کے مطابق چند اجزاء کے ملنے سے بسا اوقات ایسے نتائج و صفات ابھر آتی ہیں جو نہ تو متوقع ہوتی ہیں اور نہ ہی اجزاء میں شامل ہوتی ہیں (انہیں emergent properties کہتے ہیں)۔ چنانچہ ان کا کہنا ہے کہ انسانی دماغ کے تمام پراسسز پر ابھی تک ہمیں پوری طرح رسائی حاصل نہیں ہوسکی اور ہمیں امید رکھنی چاھئے کہ مستقبل میں اس اصول کے تحت ایسی تحقیق ہوجائے گی جو ان تمام مشکل معاملات و سوالات کو حل کردے گی کہ یہ صفات کیسے ابھر آئیں۔

درج بالا بیان کے اندر بہت سے قابل غور پہلو ہیں۔ پہلا یہ کہ نظریہ ارتقاء اب تک انسانی زندگی اور وجود سے متعلق نہایت اہم سوالات کا جواب دینے سے قاصر ہے لیکن اپنے مومنین کو یہ "پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ" کی بنیاد پر "پر امید" رہنے ہی کی دعوت دیتا ہے۔ کسی بھی نظام و علمیت کی بقا کے لئے لازم ہوتا ہے کہ اس کے ماننے والے "پرامید" رہیں اور نظریہ ارتقاء بھی اس سے کچھ مختلف نہیں۔ دوسری بات یہ کہ برادر حمزہ زیروٹز کے ایک سوال کے جواب میں مشہور ملحد ڈاکنز کہتا ہے کہ کائنات کی ابتداء کو سمجھنے کے لئے خدا جیسی پییچیدہ ھستی (جو دعائیں سنتی و گناہ معاف کرتی ہے وغیرہ) کو ماننے سے آسان تر یہ مان لینا ہے کہ یہ کائنات کسی تکے سے خود ہی بن گئی ہوگی۔

ڈاکنز جیسے ملحد عام لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے عوامی فورمز پر اسی قسم کی باتیں کیا کرتے ہیں کہ دیکھو ہمارے نظریات و اصول کتنے سادہ ہیں جبکہ مذھبی ایمانیات کتنی پیچیدہ۔ درج بالا مثال سے واضح ہوتا ہے کہ نظریہ ارتقاء کے تحت صرف ایک انسانی وجود سے متعلق ہی چند صفات کی توجیہہ کرنے کی خاطر میتھمیٹکس کی ایک نہایت پیچیدہ برانچ Chaos theory (جس کے اصول و ماڈلز کو اس دنیا میں اعشاریہ ایک فیصد سے بھی کم لوگ سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، یہاں تک کہ ایم ایس سی میتھس کے طلباء کی بھی عظیم اکثریت انہیں سمجھنے سے قاصر ہوتی ہے) کا سہارا لینا پڑتا، اور وہ بھی صرف بطور مثال کیونکہ اب تک اس کے ذریعے بھی ان انسانی صفات کی کوئی توجیہہ فراہم نہیں کی جاسکی (نظریہ ارتقاء کی پیچیدگی کی مزید پیچیدہ جہات بھی ہیں جن کا احاطہ یہاں ممکن و مقصود نہیں)۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ ڈاکنز کا یہ کہنا سراسر دھوکہ ہے کہ نظریہ ارتقاء کو مان لینا مذھبی ایمانیات کو مان لینے سے سہل و آسان تر ہے۔